احوالِ وطنکورونا وائرس: روز ہو رہا ہے متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، معاملات کی مجموعی تعداد 1,25,101 سے تجاوز
کورونا وائرس: روز ہو رہا ہے متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، معاملات کی مجموعی تعداد 1,25,101 سے تجاوز
دعوت نیوز23 مئی 2020
احوالِ وطنکورونا وائرس: روز ہو رہا ہے متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، معاملات کی مجموعی تعداد 1,25,101 سے تجاوز
ریاستیںدہلی: مہاجر مزدوروں پر جراثیم کُش دواؤں کا چھڑکاو، میونسپل کارپوریشن نے اسے ’’غلطی‘‘ قرار دیا
دنیا بھر میں مسلمان جو اپنی تہذیبی اور اخلاقی وراثت کو باقی رکھے ہوئے ہیں وہ محض خاندانی نظام کی حفاظت کی وجہ سے ہے۔ لیکن خدشہ ہے کہ صارفیت، مہنگی شادیاں، شہری زندگی کی چکا چوند اور پاپولر کلچر جس تیزی سے مسلمانوں کو متاثر کر رہا ہے اس سے کہیں ان کے خاندان کا قلعہ منہدم نہ ہوجائے۔
مجھے اپنے اس فیصلے پر خدشہ تھا کہ جب والدین کو اس بات کا علم ہوگا تو وہ خفا نہ ہوجائیں ۔ لیکن ان کے بزرگ والد کا یہ جواب حوصلوں کو مزید جلا بخش گیا کہ اگر تم جان بچاتے ہوئے اپنی جان کھو بھی دیتے تو مجھے غم نہ ہوتا اس لیے کہ شہادت پر غم کیسا !\nڈاکٹر زاہد
انوکھی عید - ہو کے افسردہ مری شومیٔ تقدیر نہ دیکھ
ہم قرآن کو ایسے پڑھیں کہ نہ صرف یہ ہمارے اندر جذب ہو بلکہ اس کے ساتھ قلب وروح کا تعلق گہرا ہو جائے اور دل دماغ تن من سب تلاوت میں شریک ہو جائیں
عید پر نظم ونثر میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ شاید زمانے کے نشیب وفراز نے ایسی عید کبھی دیکھی نہ کبھی سنی ہوگی جو اس مرتبہ ہم منا رہے ہیں۔ کوویڈ-19 وبا کی وجہ سے اس مرتبہ مساجد اور عیدگاہیں بند کردی گئیں۔ عید کی خوشیاں تو سب سے مل کرحاصل ہوتی ہیں لیکن ملنے کی پابندی ہے۔ قارئین ہفت روزہ دعوت کے لیے اسی تناظر میں ایک مضمون پیش کیا جا رہا ہے جس میں اشعار عصر حاضر کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان بچوں کی بے حسی اور نڈر پن کا یہ عالم ہے کہ جب ان کی گفتگو منظر عام پر آگئی اور ان پر ہر طرف سے پھٹکار ہونے لگی تب انہوں نے فوری ایک دوسرا گروپ بنالیا اور اس میں قانونی چارہ جوئی اور سزا سے بچنے کے پہلؤوں پر بات کرنے لگے۔
فی ا لحال یہ ایک اَن کہی کہانی ہے لیکن جب کبھی وقت کا مورخ اسے الم ناکیوں کے قلم اورمحرومیوں کی سیاہی سے لکھ کر سامنے لائے گا تو پڑھنے والوں کے دل دہل جائیں گے۔ تاریخ کی یہ دلدوز کہا نی ضرور بتائے گی کہ یوپی، بہار، بنگال، اوڑیسہ اور دیگر ریاستوں کے یومیہ مزدور کہیںکام کاج سے فارغ اور کہیں نوکری سے برخواست بے سر وسامانی، بھوک،بے نوائی اور بے گھری کی کڑی مار سہہ رہے تھے اوریہ بے خانمان لاکھوں لوگ جا بجا سینکڑوں ہزاروں میل پیدل مارچ کر کے گھرواپسی کا جان لیواجوکھم اُٹھارہے تھے۔
مودی جی کو چاہیے کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے اس مرحلے پر ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے اپنے ہی حامیوں کے خلاف مثالی قانونی کارروائی کا حکم دیں، جو فرقہ وارانہ وائرس کو پھیلاتے ہوئے ماحول کو خراب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
حکومت نے اس کے بعد کی اپنی سیاسی حکمتِ عملی پہلے ہی بنا رکھی ہے۔ عوام زبان نہیں کھول سکیں گے۔ واقعی بعض مبصرین بجا طور پر کہہ رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے بعد ایک نئی دنیا وجود میں آئے یا نہ آئے لیکن نیا بھارت ضرور وجود میں آئے گا۔
واضح رہے کہ کچھ کٹر ہندوتوا ذہنیت کے حامل افراد بھارت کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی مسلمانوں کے خلاف خوب زہر افشانی کر رہے ہیں
سال 2018کے دسمبر مہینے تک انڈیا کی 1,339 جیلوں میں 4,66,084قیدی بند ہیں۔ ملک کی جیلوں میں اوسطاً قیدیوں کی تعداد 117.6فیصد ہے۔ اتر پردیش اور سکم میں یہ شرح بالترتیب 176.5فیصد اور 157.3فیصد ہے۔\n (نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو)
تازہ ترینیوں تو جیل کا ہر دن ایک جیسا ہی ہوتا ہے لیکن جب عید کا موقع آتا ہے تو جیل سے باہر کی دنیا میں خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں جب کہ جیل کی دنیا میں غم مزید چھایا ہوا ہوتا ہے۔ سبھی قیدی اپنے پرانے دنوں کو یاد کر رہے ہوتے ہیں کچھ رو رہے ہوتے ہیں تو کچھ اپنے غم کو چھپانے کے لیے زبردستی مسکرانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں
دنیانہیں میں یہ چادر نہیں اتار سکتی کیوں کہ میں نے اسلام قبول كرلیا ہے، اس وقت جب کہ میں انتہاء پسندوں كى قید میں تھى۔ انہوں نے میرے ساتھ كوئى زور زبردستى نہیں كى بلکہ میں نے اپنى مرضى سے دین اسلام كو اپنایا ہے۔ انہوں نے تو میرے ساتھ انسانیت كا معاملہ كیا اور حسن سلوك سے پیش آئے - سیلفیا رومانو
اصحاب کہف نے اللہ کی خاطر سماج سے علحیدگی اختیار کی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ حالات صحیح اور سازگار ہونے پر وہ سماج سے پھر سے جڑ جائیں گے اور نوع انسانیت کے لیے نفع بخش ثابت ہوں گے اور اس گوشہ نشینی کے دوران اپنے معبودِ حقیقی سے تعلق کومضبوط کریں گے۔ \nجب کوئی کچھ عرصے کے لیے لوگوں سے الگ ہو کر اپنے خالق سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خالق سے نہایت قریب ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا تعلق پیدا کرنے کا آج ہمارے لیے سنہری موقع ہے
اِس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ مقبول ’’موبائل آپریٹنگ سسٹم‘‘ گوگل اینڈرائیڈ سسٹم ہے۔ یہ ’’آپریٹنگ سسٹم‘‘ لی نیکس کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کا سورس بھی گوگل نے جاری کررکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس وقت ’’گوگل اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم‘‘ دنیا بھر میں موبائل فونز بنانے والی کمپنیوں اور ڈیویلپرز کا پسندیدہ تر ’’آپریٹنگ سسٹم‘‘ ہے۔
