تازہ ترینمختصر مختصر: ہندوستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 60،000 کے قریب، تمل ناڈو اور دہلی میں زبردست اضافہ
مختصر مختصر: ہندوستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 60،000 کے قریب، تمل ناڈو اور دہلی میں زبردست اضافہ
دعوت نیوز9 مئی 2020
تازہ ترینمختصر مختصر: ہندوستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 60،000 کے قریب، تمل ناڈو اور دہلی میں زبردست اضافہ
ریاستیںمرکز جھوٹ بول رہا ہے، بنگال نے مہاجروں کو واپس لانے کے لیے آٹھ ٹرینوں کا منصوبہ بنایا ہے: ٹی ایم سی نے امت شاہ کو جھٹلایا
ریاستیںپولیس نے 60 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور 60 کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
ٹرین سے کٹ کر 16 تارکین وطن مزدوروں کی موت پر NHRC کا مہاراشٹر حکومت کو نوٹس
اعلی مسلم رہنماؤں کا ڈاکٹر ظفر الاسلام کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ
احوالِ وطن’’ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ رہنا سیکھنا چاہیے‘‘: وزارت صحت
احوالِ وطنجولائی کے آخر تک ہندوستان میں کورونا وائرس کے معاملات عروج پر ہوں گے: ڈبلیو ایچ او
احوالِ وطنکوویڈ 19 کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1،981 ہوگئی, متاثرین کی تعداد 59،662 سے تجاوز
ناانصافیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اضلاع میں وکلا کا پینل تشکیل دیں: آئی پی ایس عبد الرحمان
قانون کےمطابق پولیس ڈاکٹر خان کو پوچھ تاچھ کے لئے تھانے جانے پر مجبور نہیں کرسکتی، کیونکہ انکی عمر 65 سال سے زیادہ ہے
٭اگر لاک ڈائون باقی رہتا ہے تو جو چنیدہ حضرات مسجد کو آباد کئے ہوئے ہیں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا اہتمام فرمائیں۔\n٭جو لوگ گھر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔وہ لوگ گھر کا ایک گوشہ طے کرکے کچھ خاص اوقات میں یکسوئی سے عبادات میں اپنا وقت لگائیں۔
اس شادی میں کل 4 افراد شریک ہوئے تھے۔ دولہا دلہن کو پہنانے کے لیے پھولوں کے ہار نہ مل سکے تو پلاسٹک کے ہار پہنائے گئے۔ شادی کے وقت ہیڈ کانسٹیبل سنجیو نے پوجا کو چنری اور ناریل تحفے میں دیا اور خوشحال نے بدلے میں سنجیو اور انیل کو ایک ایک سینیٹائزر اور ماسک گفٹ کیا۔
کورونا وائرس دوبارہ حملہ کر سکتا ہے یا پھر اور کوئی وباء آ سکتی ہے۔ اس طرح حکومتوں کو بہانہ ملتا رہے گا وہ کہہ سکتی ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کی صحت کے لیے فکر مند ہیں اس لیے وہ مسلسل نگرانی کے ذریعے ان کی جسمانی کیفیت سے باخبر رہنا چاہتی ہیں اور آئندہ کورونا وائرس جیسی کسی اور وباء کو پھیلنے سے قبل روکنا چاہتی ہیں۔
یکم اپریل کو ضلع تھانے کے وسئی میں رہائش پذیر انصاف علی نے اتر پردیش میں اپنے گھر والوں سے ملنے کی خاطر 1500 کلو میٹر پیدل چلنے کا ارادہ کیا۔ لاک ڈاون کی رکاوٹوں کے سبب راستے میں اس کو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دوکانوں کے بند ہونے کی وجہ سے کھانے اور پانی کے لیے کافی دقت پیش آئی لیکن اس کا سفر جاری رہا۔ 15 دن کی طویل مسافت کے بعد وہ پیدل چل کر ضلع شراوستی میں اپنے گاؤں کے قریب پہنچا۔
سحری کے لیے جب بیدار ہوں تو دعاؤں کا بھی اہتمام کریں بالخصوص سال رواں میں پوری عالم انسانیت عام طور پر اور عالم اسلام خاص طور پر جن سیاسی و اقتصادی نشیب وفراز اور وبائی امراض میں مبتلا ہے ان حالات میں رب ذوالجلال کی بارگاہ میں آہ وزاری اور نادم بن کر اللہ کے حضور سچی اور خالص توبہ کی اشد ضرورت ہے
سیرت میں قبیلہ جہینہ کی عورت کا واقعہ آتا ہے کی جب اسکو زنا کی وجہ سے حمل آ گیا تو وہ محمّد صلہ وسلمل کے پاس آئی اور اپنا گناہ قبول کیا اور سزا کی گذارش کی لیکن رسول صلہ وسلمل نے بچے کے پیدا ہونے کے بعد آنے کو کہا اور جب وہ بچہ پیدا ہونے کے بعد آئی تو رسول صلہ وسلمل نے اُسے سنگسار کر دیا اور نماز جنازہ پڑھائی تو حضرت عمر (رض) نے نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا تو محمد صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینے کے ستر (۷۰) آدمیوں پر
آج جب دنیا ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف روا سلوک کے خلاف بول رہی ہے، ہندوستانی مسلمان پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ بحران سے نمٹنے کے لیے امدادی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلا لحاظِ مذہب وذات مسلمان ایک مثبت انداز میں اپنی انتھک محنتوں سے سوسائٹی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن یہ جاننا غیر اہم نہ ہوگا کہ مستقبل میں اس اخلاص اور محنت کا ہندوستانی مسلمانوں کو کیا صلہ دیا جائے گا۔
ایک طرف مزدور طبقہ بھوک مٹانے کے لیے دانے دانے کو ترس رہا ہے بلکہ بھوک سے تڑپ کر جانیں جا رہی ہیں یا مالی پریشانیوں سے لوگ خود کشیاں تک کر رہے ہیں تو دوسری طرف اضافی کورونا ٹیکس کے باوجود شراب خانوں کے سامنے لوگوں کی کئی کئی کلو میٹر طویل قطاریں اشارہ دے رہی ہیں کہ عوام کے پاس فاضل دولت کی کمی نہیں ہے۔ پچھلے دو ماہ کے دوران بھارت کی کارپوریٹ کمپنیاں ملک کی ناگفتہ بہ صورتحال سے انجان، دنیا میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی تھیں۔ ملک کے سب سے بڑے کارپوریٹ گروپ ریلائنس کی جیو موبائل میں فیس بک نے ق
سروے میں پتا چلا ہے کہ اس اسکیم کے تحت اہل 13 خاندانوں میں سے صرف 11 افراد کو اس ماہ کے لیے پنشن ملی ہے باقی کوئی ایڈوانس ملنے کا یقین نہیں ہے، اور نہ کسی بھی خاندان کو کوئی مزید رقم موصول ہوئی ہے۔ دریں اثنا مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کے ذریعہ شروع کی گئی ‘‘پروکشیتا’’اسکیم 33 افراد میں سے کسی تک نہیں پہنچی ہے۔ اس اسکیم کے تحت لاک ڈاؤن کے دوران دیہاڑی مزدوروں کو ایک ہزار روپے ماہانہ کی امداد دی جانی تھی۔
