بھارت میں گائے کے گوشت پر جاری بحث درحقیقت مذہبی عقیدے سے زیادہ اقتدار اور طاقت کی سیاست سے متعلق ہے۔ یہ سوال عقیدے کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ کون سیر ہو کر کھاتا ہے، کون بھوکا رہتا ہے، کون تجارت کرتا ہے، کون نفع کماتا ہے اور کس کو سزا دی جاتی ہے؟ گاؤ رکھشا کے شور و غوغا سے بھرے اس تماشے کے پسِ پردہ ایک خاموش سیاسی و معاشی نظام کار فرما ہے جو دیہی محرومی کو شہری سرمائے کے ارتکاز سے، ذات پات کے استحقاق کو فرقہ وارانہ تشدد سے اور غذائی محرومی کو اخلاقی لفاظی سے جوڑتا ہے۔ جب گائے کا گوشت کھانا جرم قرار دیا جاتا ہے تو درحقیقت گائے کی حفاظت نہیں کی جاتی بلکہ ایک غیر مساوی سماجی نظام کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ابتدا کسی مذہب کی توہین سے نہیں ہوئی تھی بلکہ ابتدا لوگوں سے ان کا کھانا چھین لینے سے ہوئی ہے۔
آج کا دیہی بھارت شہری بھارت کے مقابلے میں زیادہ غریب، زیادہ بھوکا اور غذائی اعتبار سے زیادہ محروم ہے اور یہ خلیج کم ہونے کے بجائے برقرار ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) کے مطابق دیہی علاقوں میں تقریباً 35 تا 37 فیصد بچے نشوونما کی کمی (stunting) کا شکار ہیں جب کہ شہری علاقوں میں یہ شرح تقریباً 30 تا 31 فیصد ہے۔ دیہی خواتین میں 57 فیصد سے زائد خون کی کمی (anaemia) پائی جاتی ہے اور دیہی مرد بھی پروٹین کی دائمی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان دیہات کی روز مرہ غذائی تنگی کی عکاسی کرتے ہیں جہاں دالیں، دودھ اور سبزیاں یا تو ناقابلِ خرید ہیں یا دستیاب ہی نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں بیف جو سستا ہونے کے ساتھ ساتھ پروٹین اور آئرن سے بھر پور ہوتا ہے—تاریخی طور پر دلتوں، آدیواسیوں، بے زمین مزدوروں اور دیہی مسلمانوں کے لیے تغذیہ کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔
لیکن یہی غریبوں کی غذا سیاسی ہتھیار بنا دی گئی ہے۔ دیہی بھارت کے کروڑوں افراد کے لیے گائے کا گوشت کوئی ثقافتی عیاشی نہیں بلکہ غذائی ضرورت ہے۔ ایک کلو گائے کا گوشت بیشتر اناج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پروٹین اور آئرن فراہم کرتا ہے اور مرغی یا بکری کے گوشت سے کہیں سستا پڑتا ہے۔ قبائلی خطوں، خشک سالی سے متاثرہ علاقوں اور دیہی مہاجر مزدوروں کے درمیان گائے کا گوشت بقا کی غذا کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ کسی متبادل، سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کیے بغیر اسے جرم قرار دینا دراصل ریاستی سرپرستی میں شہریوں پر غذائی قلت مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ شہری بھارت، جو اپنی قوتِ خرید اور متنوع غذا کی بدولت محفوظ ہے اس محرومی کو شاذ ہی محسوس کرتا ہے۔ شہر اخلاقی وعظ اس لیے کر سکتا ہے کہ گاؤں خاموشی سے بھوکا رہتا ہے۔
یہ دیہی محرومی شہری اور برآمدات پر مبنی گوشت کی پھلتی پھولتی معیشت سے یکسر متضاد ہے۔ APEDA کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت حالیہ برسوں میں دنیا میں سب سے زیادہ گائے کا گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے، جہاں سالانہ برآمدات کی مالیت تقریباً 3.5 تا 4 ارب امریکی ڈالر رہی ہے۔ یہ گوشت ویتنام، ملائیشیا، مصر، انڈونیشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس تضاد کی سنگینی حیران کن ہے: ایک طرف گوشتِ گاؤ ریفریجریٹڈ کنٹینروں میں ملک سے باہر جاتا ہے اور دوسری طرف دیہی باشندوں کو سائیکل پر اسے لے جانے کے جرم میں پیٹا جاتا ہے۔
اس بحث کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس ساری تجارت پر اصل کنٹرول کن ہاتھوں میں ہے۔
مذہبی پرہیزگاری کے علانیہ دعوؤں کے باوجود، مذبح خانوں، پروسیسنگ یونٹس، کولڈ چین اور برآمدی کمپنیوں کا بڑا حصہ اعلیٰ ذات والے ہندو کاروباری طبقے کی ملکیت یا مالی سرپرستی میں ہے—وہی طبقہ جو بلند آواز میں سبزی خوری اور پاکیزگی کے دعوے کرتا ہے۔
باتوں میں گائے مقدس ہے، مگر کاروبار میں منافع کا ذریعہ۔ ذبح کا کام ہو یا اس کی بدنامی اور خطرہ—سب کچھ مسلمانوں، دلتوں اور مال بردار مزدوروں کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
یہاں بات محض ایک ضمنی پہلو کی نہیں بلکہ ایک گہرے اور ساختی تعلق کی ہے۔ مسلمان بھارت کی گوشت کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں—ذبیحہ خانوں سے لے کر نقل و حمل، چمڑا سازی، برآمدات، صفائی، لوڈنگ اور یومیہ اجرتی مزدوری تک۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کی پوری کی پوری مقامی معیشتیں اسی سلسلے پر کھڑی ہیں۔ مگر جیسے ہی گائے کے نام پر ہجوم پر تشدد بھڑکتا ہے، مسلمانوں کے روزگار کی بنیادیں ایک ہی جھٹکے میں ہل جاتی ہیں۔ دکانیں بند ہو جاتی ہیں، حمل و نقل رک جاتی ہے، قرض کی سہولت ختم ہو جاتی ہے اور خاندان عدمِ تحفظ کے بھنور میں جا گرتے ہیں۔ یہ محض جسمانی تشدد نہیں ہوتا بلکہ منظم اقتصادی دہشت ہوتی ہے۔
یہ تباہی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی ثانوی نوعیت کی ہے۔ ہجوم کا تشدد صرف جانیں نہیں لیتا، وہ محنت کو قابو میں لانے کا ہتھیار بھی بنتا ہے۔ مزدوروں کو رات کے راستے چھوڑنے پڑتے ہیں، دکانیں بند کرنی پڑتی ہیں، جبری ہجرت یا استحصالی شرائط قبول کرنا معمول بن جاتا ہے۔ خوف آہستہ آہستہ مزدوری کی منڈی کا بنیادی اصول بن جاتا ہے۔ جب ٹرانسپورٹر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور گوشت فروش غائب ہو جاتے ہیں تو اس کی پہلی اور سب سے بھاری قیمت غریب چکاتا ہے—آمدنی گھٹتی ہے، قرض بڑھتا ہے اور غذائی عدم تحفظ گہرا ہو جاتا ہے۔ عورتیں کم کھانے پر مجبور ہوتی ہیں، بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں اور بیماری روزمرہ کا حصہ بن جاتی ہے۔ یوں فرقہ واریت ایک ثقافتی تنازع نہیں رہتی بلکہ اقتصادی کنٹرول کا مؤثر ذریعہ بن جاتی ہے۔
اس تشدد کے اصل شکار کون ہیں، یہ سمجھنا مشکل نہیں۔ دلت نہ صرف اپنا روزگار کھو دیتے ہیں بلکہ وہ پیشے بھی چھن جاتے ہیں جو نسلوں سے ان کے ساتھ جڑے رہے ہیں اور پہلے ہی سماجی بدنامی کا بوجھ اٹھا رہے تھے۔ آدیواسی، جن کے لیے گوشت غذائی بقا کا لازمی جز ہے، اپنے ہی علاقوں میں مشکوک قرار دیے جاتے ہیں۔ مسلمان مزدور—جو گوشت کی پروسیسنگ، نقل و حمل اور فروخت میں بڑی تعداد میں موجود ہیں—مسلسل چھاپوں، گرفتاریوں اور عوامی رسوائی کا سامنا کرتے ہیں۔ چھوٹے اور بڑے شہروں کے محنت کش—گلی فروش، چھوٹے ہوٹلوں کے مالک، یومیہ مزدور—اخلاقی پولیسنگ کے نام پر، جو قانون کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے عوامی جگہ سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔
گائے کے نام پر ہونے والا یہ تشدد دراصل روزگار پر ایک مستقل حملہ ہے۔ گلی دھاڑنا، دھمکیاں، رات کے چھاپے، گاڑیوں کی ضبطی اور انتخابی پولیسنگ نے ان غیر رسمی معیشتوں کو برباد کر دیا ہے جو لاکھوں خاندانوں کا سہارا تھیں۔ مویشیوں کی کھال اتارنا، چمڑے کو تیار کرنا، گوشت کی ترسیل، ذبیحہ خانوں میں کام کرنا اور پکا ہوا گوشت بیچنا—وہ مشاغل جو نسل در نسل منتقل ہوتے آئے—اب خطرناک اور جرم سے جڑی سرگرمیاں بنا دی گئی ہیں۔ جو کبھی محنت تھی، اب جرم کے زمرے میں ڈال دیے گئی ہے۔
شہری متوسط طبقہ اس حقیقت کو شاذ ہی سمجھ پاتا ہے کیونکہ اس کے لیے گوشت ایک اخلاقی یا نظری مسئلہ ہے، روزگار کا سوال نہیں۔ ایک چھوٹے شہر میں مسلمان گوشت فروش کے لیے پابندی کا مطلب ہے آمدنی کا خاتمہ، پولیس کی ہراسانی، رشوت ستانی اور مستقل خوف۔ دلت مزدور کے لیے ذبیحہ خانہ بند ہونے کا مطلب ہے بے روزگاری—وہ بھی بغیر کسی معاوضے کے۔ دیہی مسلمان مویشی تاجر کے لیے یہ صدیوں پر محیط وراثتی روزگار کا جرم قرار پانا ہے۔ اس کے برعکس، برآمدات سے حاصل ہونے والا منافع بدستور اوپر کی سطحوں تک پہنچتا رہتا ہے، جہاں اسے کارپوریٹ ڈھانچوں اور سیاسی سرپرستی کا تحفظ حاصل ہے۔
یہیں ذات پات کی منافقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے۔ وہ اعلیٰ ذات طبقے جو عوامی سطح پر گوشت خوری کی مذمت کرتے ہیں، اکثر براہِ راست یا بالواسطہ اسی صنعت سے فائدہ اٹھاتے ہیں—کبھی لوجسٹکس کے ذریعے، کبھی مالی اعانت، ریئل اسٹیٹ یا برآمدی سہولت کاری کے ذریعے۔ سبزی خوری اخلاقی برتری کی علامت بن جاتی ہے، جبکہ ’’ناپاک‘‘ محنت مسلمانوں اور دلتوں کے حصے میں ڈال دی جاتی ہے۔ سماجی ڈھانچہ جوں کا توں رہتا ہے: اوپر پاکیزگی، نیچے آلودگی اور درمیان میں منافع۔
شہری بھارت اس معاملے میں محض خاموش تماشائی نہیں۔ گائے کے تحفظ کی سیاست کو اس متوسط طبقے نے پورے جوش کے ساتھ اپنایا ہے جو بھوک کے کرب سے بہت دور ہے۔ یہی طبقہ بڑھتی ہوئی زمینوں کی قیمتوں، سستے مہاجر مزدور اور عالمی غذائی نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ان قوانین کی تائید بھی کرتا ہے جو دیہی مسائل کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک تلخ سچائی کی صورت میں سامنے آتا ہے: شہری خوشحالی دیہی بھوک کی قیمت پر قائم ہے اور اخلاقی قوم پرستی دراصل اقتصادی استحصال کا پردہ بن چکی ہے۔
گائے کے لیے جاگنے والی’ بھیڑ سیاست‘ ایک گہرا سیاسی مقصد بھی پورا کرتی ہے۔ یہ دیہی یکجہتی کو توڑ دیتی ہے جو کسانوں، بے زمین مزدوروں، دلتوں، مسلمانوں اور آدیواسیوں کو مشترکہ اقتصادی مصائب کے گرد متحد کر سکتی تھی۔ خوراک کو فرقہ وارانہ اختلاف کی بنیاد بنا کر کم ہوتی ہوئی زرعی آمدنی، زرعی قرض، بے روزگاری اور صحتِ عامہ کے زوال سے توجہ ہٹا دی جاتی ہے۔یوں گائے ایک تماشا بن جاتی ہے، جبکہ بھوک غیر مرئی رہتی ہے۔
اس لیے جو خطرہ ہے وہ مذہبی جذبات کا نہیں بلکہ خوراک، روزگار اور وقار کا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو گوشت برآمد کرتا ہے اور غریب کو کھانے پر جیل بھیجتا ہے، وہ الجھا ہوا نہیں بلکہ شدید طور پر غیر منصفانہ ہے۔ ایک ریاست جو بھیڑ کو غذا کی نگرانی کرنے دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وہ غذائی قلت سے لڑ رہی ہے، وہ نا اہل نہیں بلکہ نظریاتی طور پر متاثر ہے۔
اگر بھارت واقعی بھوک ختم کرنے کا سنجیدہ ارادہ رکھتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ غذائیت کو اعلیٰ ذات کے جذبات کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ پروٹین مذہب نہیں پہچانتا، آئرن نظریہ کی تعمیل نہیں کرتا۔ غذائی پالیسی کو سائنس، affordability اور رسائی پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ مصنوعی غصے پر؟
آخری سچائی تکلیف دہ ضرور ہے، مگر اس سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ گوشت کے خلاف سب سے بلند آوازیں عموماً انہی لوگوں کی ہوتی ہیں جو نہ مویشی پالتے ہیں اور نہ ہی اپنی بقا کے لیے گوشت پر انحصار رکھتے ہیں۔ وہ نظریات پر پلتے ہیں، جب کہ غریب وہی کھاتے ہیں جو انہیں زندہ رکھ سکے۔ جب تک اس الٹ پھیر کو بے نقاب نہیں کیا جاتا، بھارت کے دیہی غریب—دلت، آدیواسی اور مسلمان—ایسی اخلاقیات کی قیمت چکاتے رہیں گے جو انہوں نے گھڑی نہیں، اور ایسی معیشت کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے جس پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔
اسی معنی میں گائے کوئی مذہبی علامت نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی بن چکی ہے۔ اور جب تک اسے بھوکے کو قابو میں رکھنے اور طاقتور کو مزید مالا مال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا، اس کے گرد گھومتی سیاست عقیدے سے کم اور اس سوال سے زیادہ جڑی رہے گی کہ بھارت میں باوقار زندگی گزارنے کا حق آخر کس کو حاصل ہے۔
(بشکریہ امید ڈاٹ کام )
بھارت میں بیف پر بحث، عقیدے کا معاملہ نہیں ہے
بھارت میں گائے کے گوشت پر بحث عقیدے کا نہیں بلکہ اقتدار کا مسئلہ ہے— کون سیر ہو کر کھاتا ہے، کون بھوکا رہتا ہے، کون تجارت کرتا ہے، کون منافع کماتا ہے اور کس کو سزا دی جاتی ہے؟

