عدالتیں اور حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے سے گریزاں
ہجومیت کے مقابلے میں شہری اتحاد: سماج کو دوبارہ جوڑنے کی ضرورت
کرناٹک کا نفرت مخالف قانون امید کی ایک کرن مگر غلط استعمال کا خطرہ
نور اللہ جاوید،کولکاتا
بھارت میں نفرت انگیزی اب محض انتخابی حکمتِ عملی نہیں رہی بلکہ بتدریج ایک ’’طرزِ حکمرانی‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ کے معروف تحقیقی ادارے ’’ہیٹ لیب ٹریکر‘‘ کے انڈیا چیپٹر ’’انڈیا ہیٹ لیب‘‘ کے مطابق بھارت میں نفرت انگیز بیانیے صرف مقامی ہندوتوا کارکنوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس میں ہندوتوا سے وابستہ سرکردہ مذہبی رہنما، وزرائے اعلیٰ اور حتیٰ کہ مرکزی وزیرِ داخلہ جیسے اہم آئینی عہدوں پر فائز افراد بھی شامل ہیں۔
بھارتی حکومت انسانی حقوق سے متعلق عالمی اداروں کی ان رپورٹوں کو خاطر میں نہیں لاتی جو اس کے نظریے اور پالیسیوں سے متصادم ہوں یا جو اس کی شبیہ کو نقصان پہنچاتی ہوں۔ اس کے برعکس جن عالمی رپورٹوں سے حکومت کی معاشی یا سیاسی پالیسیوں کی تائید ہوتی ہے، انہیں بھرپور طریقے سے قومی سطح پر اجاگر کیا جاتا ہے۔
دنیا میں بھارت کی معاشی ترقی اور استحکام کا اعتراف کیا جا رہا ہے مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ نہایت شرم ناک ہے کہ امریکہ میں قائم ’’یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم‘‘—جو عالمی سطح پر ایک معتبر ادارہ مانا جاتا ہے—نے اپنی سالانہ تحقیقی رپورٹ میں بھارت کو میانمار، سوڈان اور چاڈ جیسے ممالک کی صف میں شامل کیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس وقت بھارت میں ان ممالک جیسی صورتِ حال نہیں ہے لیکن اگر بر وقت تدارکی اقدامات نہ کیے گئے تو بھارت میں مذہبی اور لسانی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے واقعات رونما ہونے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ بھارت جو کبھی گنگا جمنی تہذیب، تنوع میں اتحاد، جمہوری تسلسل اور سیکولر روایات کی علامت سمجھا جاتا تھا آج اس خطرناک دہانے تک کیسے پہنچ گیا ہے؟
پہلی رپورٹ ’’ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین‘‘ کی ہے جس کے مطابق 2025 میں کم از کم پچاس مسلمانوں کو ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے تیئیس افراد سکیورٹی اور پولیس فورسز کے ہاتھوں، جبکہ ستائیس افراد ہندوتوا ہجوم کے تشدد میں مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ دیہی علاقوں میں ہونے والے کئی واقعات قومی میڈیا تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔
ماورائے عدالت قتل قانون کی بالادستی کے زوال کی سب سے خطرناک علامت ہیں۔ جب ریاستی ادارے قانون کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دینے لگیں تو آئین اور عدالتی نظام بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور شہری یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی زندگی کا فیصلہ عدالت نہیں بلکہ بندوق کرے گی۔ پولیس اور دیگر ادارے محافظ کے بجائے خطرے کی علامت بن جاتے ہیں اور معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ایسے اقدامات کے ذریعے ریاست یا اس کی حمایتی تنظیمیں اور جماعتیں وقتی طور پر مخصوص طبقات کو خاموش کر سکتی ہیں مگر طویل مدت میں یہ ریاست، معاشرے اور انسانیت—تینوں—کو تباہ کر دیتے ہیں۔
دوسری رپورٹ ’’انڈیا ہیٹ لیب‘‘ کی ہے جو 140 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی تجزیہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں نفرت انگیز بیانیے کا معمول بن جانا، اس کی منظم تکرار اور اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اکسانا ایک نئے اور نہایت خطرناک مرحلے کا آغاز ہے۔ 2025 میں نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 تصدیق شدہ واقعات ریکارڈ کیے گئے جو 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نفرت انگیزی محض انتخابی حربہ نہیں بلکہ سیاسی حکم رانی کا مستقل ہتھیار بن چکی ہے۔
رپورٹ میں ’’لو جہاد‘‘، ’’حلال جہاد“ اور ’’تھوک جہاد‘‘ جیسی سازشی تھیوریوں کو ہندو اکثریتی ذہن میں اقلیتوں کے خلاف خوف اور محاصرے کا احساس پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ رجحانات اسٹوکیسٹک دہشت گردی (Stochastic Terrorism) کی کلاسیکی مثال ہیں جہاں نفرت انگیز بیانیہ بالواسطہ طور پر تشدد کو جنم دیتا ہے۔ یہ بیانیہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ریاست اور قوم کے لیے مستقل اندرونی خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد 2025 میں نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ دراصل ایک اسٹریٹجک ردِعمل ہے جس کا مقصد آئندہ ریاستی اور قومی انتخابات کے لیے فرقہ وارانہ ماحول کو مزید ہموار کرنا ہے۔
141 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے چند حصے انتہائی اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ نفرت انگیزی میں وہ افراد بھی سرفہرست ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری قانون اور آئین کی نگہبانی اور اپنے شہریوں کی حفاظت ہے۔ ملک میں نفرت انگیزی کرنے والے سرفہرست دس سیاسی لیڈروں میں اتر اکھنڈ اور اتر پردیش کے وزرائے اعلیٰ اور ملک کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ جیسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ جب آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو بھی اپنی حکم رانی قائم رکھنے کے لیے نفرت انگیزی کا سہارا لینا پڑے تو عام سیاسی کارکن کیا کچھ نہیں کریں گے—اس کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں عدالتی تضادات اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی کو کنٹرول نہ کرنے کے حکومتی عزائم پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنے کے حوالے سے ریاستی رویّے کا ایک نہایت اہم مگر متضاد مرحلہ ثابت ہوا۔ عدالتی اور قانون ساز سطح پر ہونے والی پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ منظم فرقہ وارانہ نفرت کو روکنے کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے درکار ادارہ جاتی عزم کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو چکی ہے۔
مرکزی حکومت نے پورے سال ادارہ جاتی گریز (Institutional Evasion) کی پالیسی اختیار کر رکھی۔ مارچ میں لوک سبھا کے اجلاس کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ درگا پرساد سروج کی جانب سے سیاست دانوں کی نفرت انگیز تقاریر میں اضافے اور نئے قوانین کی ضرورت سے متعلق سوالات پر مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کوئی اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے جواب دہی کو دانستہ طور پر ریاستی حکومتوں پر منتقل کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’’امنِ عامہ‘‘ اور ’’پولیس‘‘ ریاستی معاملات ہیں۔
مرکز کی اس ذمہ داری سے فرار کی روش کو ریاستی سطح پر پیش آنے والے واقعات نے مزید تقویت دی، جہاں قانون ساز اور انتظامی اداروں میں اقلیت مخالف رویّوں کو معمول بنا دیا گیا۔ مثال کے طور پر مارچ میں راجستھان اسمبلی کے اجلاس کے دوران بی جے پی کے رکنِ اسمبلی گوپال شرما نے ایوانی بحث کے دوران مسلم رکنِ اسمبلی رفیق خان کو بار بار ’’پاکستانی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ اسی طرح گجرات اسمبلی میں بھی بی جے پی کے اراکین نے مسلم برادری کے خلاف کھلے عام نفرت انگیز بیانات دیے۔
قانونی بے عملی اس حد تک بڑھ گئی کہ مارچ 2025 میں بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ بی جے پی کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت نے بی جے پی کے سابق ریاستی نائب صدر وکرم پاواسکر کے خلاف نفرت انگیز تقاریر سے متعلق دو مقدمات میں استغاثہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
عدلیہ کا ردِعمل بھی تضادات سے بھرپور رہا۔ ایک جانب براہِ راست مداخلت سے منظم پسپا نظر آتی ہے تو دوسری جانب نفرت انگیز تقاریر کے ہدفی اور امتیازی کردار کا اعتراف بھی کیا گیا۔ سپریم کورٹ جو ماضی میں عدالتی فعالیت (Judicial Activism) کے لیے جانی جاتی تھی، 2025 میں نمایاں طور پر عدالتی احتیاط (Judicial Restraint) کی طرف مائل دکھائی دی۔ نومبر میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے واضح کیا کہ وہ ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے ہر واقعے کی نگرانی نہیں کر سکتی اور درخواست گزاروں کو ہائی کورٹس اور مقامی پولیس سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
اس کے برعکس، مئی میں سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے واضح طور پر کہا کہ نفرت انگیز تقریر کو بنیادی حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے کچھ قبل، اپریل میں سپریم کورٹ کے جسٹس اے ایس اوکا نے ایک نہایت اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کی اکثریت ’’مذہبی اقلیتوں یا پسماندہ ذاتوں، بالخصوص درج فہرست ذاتوں‘‘ کے خلاف ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اکثریتی طبقے کو دانستہ طور پر مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو اس امر کا ثبوت ہے کہ نفرت انگیز بیانیہ ایک منظم سیاسی اشتعال انگیزی کا ذریعہ بن چکا ہے۔
اقلیت مخالف سیاسی سرپرستی عدلیہ کے اندرونی رویّوں تک بھی در آئی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر کمار یادو نے دسمبر 2024 میں وی ایچ پی کے ایک پروگرام کے دوران مسلم مخالف زبان استعمال کی اور یہ دعویٰ کیا کہ ملک ’’اکثریت کے مطابق‘‘ چلنا چاہیے۔ اگرچہ جون 2025 میں راجیہ سبھا کے پچاس سے زائد اراکین نے ان کی برطرفی کے لیے تحریک پر دستخط کیے، تاہم یہ مواخذہ نوٹس پورا سال لوک سبھا اسپیکر کے سامنے زیرِ التوا رہا۔ یہ تاخیر دراصل عدالتی نظام میں اکثریتی فرقہ واریت کے داخلے پر سیاسی چشم پوشی کی عکاس ہے۔
عدالتی تضاد کی ایک اور مثال 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق نفرت انگیز تقاریر کی عرضیوں میں تاخیر کی صورت میں سامنے آئی جہاں نومبر میں دہلی ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا حالانکہ اس سے قبل سپریم کورٹ ان مقدمات کے ’’فوری‘‘ تصفیے پر زور دے چکی تھی۔
اپریل میں ایک اور تشویش ناک فیصلہ سامنے آیا جب ہریدوار کی ایک مقامی عدالت نے 2021 کے ہریدوار دھرم سنسد کیس میں جتیندر تیاگی کو بری کر دیا، حالانکہ اس اجتماع میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی کھلی اپیلیں کی گئی تھیں۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے حیران کن طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’’نفرت انگیز الفاظ کا براہِ راست متاثرہ فرد کی موجودگی یا سماعت میں کہا جانا ضروری ہے‘‘۔
پورے سال پولیس کی جانب سے بھی سنگین ناکامیاں دیکھنے میں آئیں۔ متعدد معاملات میں یا تو ایف آئی آر درج نہیں کی گئیں یا تحقیقات کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ نومبر میں ممبئی کے ایک وکیل نے ممبئی پولیس کمشنر کو قانونی نوٹس ارسال کیا، جس میں ایک بی جے پی رکنِ اسمبلی کی مسلم مخالف نفرت انگیز تقریر کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا۔
ان حالات کے درمیان دسمبر 2025 میں منظور کیا گیا کرناٹک نفرت انگیز تقریر اور نفرت پر مبنی جرائم (انسداد) بل 2025 ایک اہم قانون ساز سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بھارت میں ریاستی سطح پر پہلی جامع کوشش ہے جو نفرت انگیز تقریر کی واضح تعریف اور اس کے لیے سزائیں متعین کرتی ہے۔ اس وقت بھارت میں نفرت انگیز تقریر سے متعلق کوئی مخصوص قومی قانون موجود نہیں بلکہ بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی عمومی دفعات—جیسے دفعہ 196 (گروہوں کے درمیان دشمنی پھیلانا) اور دفعہ 299 (مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی دانستہ کارروائیاں)—استعمال کی جاتی ہیں۔
بل میں نفرت انگیز تقریر کو کسی بھی ایسے عوامی اظہارِ رائے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو تحریر، تقریر، علامت، بصری اظہار یا الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت، دشمنی یا بدخواہی کو فروغ دے۔ اگرچہ بل میں فنونِ لطیفہ، علمی تحقیق اور صحافتی رپورٹنگ کے لیے استثنا کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس کی تعریف کو وسیع اور مبہم قرار دیا جا رہا ہے جس کے غلط استعمال کا شدید خدشہ موجود ہے۔
بل کے تحت پہلی بار جرم پر ایک سے سات سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوبارہ جرم پر دو سے دس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ جرائم ناقابلِ ضمانت اور قابلِ گرفتاری قرار دیے گئے ہیں جبکہ ایگزیکٹیو مجسٹریٹس اور سینئر پولیس افسران کو پیشگی کارروائی کے وسیع اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔
ان وسیع اختیارات کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اسی طبقے کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں جس کے تحفظ کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے، جس سے اختلافِ رائے دبنے اور آئینی آزادیِ اظہار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ مستقبل میں کوئی بھی حکومت اس قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔
لہٰذا جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اس قانون کو نقطۂ نظر کی غیر جانب داری (Viewpoint Neutrality) اور ہنگامی اصول (Emergency Principle) کے مطابق محدود کیا جائے تاکہ اظہارِ رائے پر پابندی صرف اسی صورت میں عائد ہو جب وہ فوری، حقیقی اور سنگین نقصان کا باعث بن رہی ہو۔
اگرچہ کرناٹک بل ایک اہم اور مستقبل بیں قدم ہے، تاہم سپریم کورٹ کی نگرانی سے دستبرداری، انتظامیہ کی جانب سے سیاسی تحفظ اور پولیس کی عدم فعالیت جیسے عوامل نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر نفاذ کو شدید طور پر کمزور کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں بھارت میں نفرت کے پنپنے کے امکانات مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی ناکامی اور منظم نفرت کا پھیلاؤ
ملک میں نفرت انگیزی میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیں۔ رپورٹ میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر پھیلائی جانے والی نفرت انگیزی کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی جانب سے منظم نفاذ سے بچنے (Networked Enforcement Evasion) کو روکنے میں مسلسل ناکامی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بھارت کے تناظر میں موجودہ مواد کی نگرانی (Content Moderation) کے نظام بنیادی طور پر ناکافی ہیں۔
اس ناکامی کی واضح مثال یہ ہے کہ پابندی لگنے کے فوراً بعد انہی عناصر کی سرگرمیاں دوبارہ منظم ہو جاتی ہیں اور انتہائی دائیں بازو کی تنظیمیں گاؤں کی سطح تک اپنے نیٹ ورکس پھیلا دیتی ہیں۔ ان تنظیموں کا نفرت انگیز اجتماعات کے انعقاد، تشدد پر اکسانے، اسلحہ تقسیم کرنے اور حملوں و انہدامی کارروائیوں کو کھلے عام سراہنے میں ثابت شدہ کردار رہا ہے۔ ایسے حالات میں محض جزوی یا تدریجی مواد نگرانی کے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے۔
ماہرین کے مطابق واحد مؤثر حل یہ ہے کہ پرتشدد ہندو قوم پرست تنظیموں کو میٹا (Meta) کی Dangerous Organizations and Individuals (DOI) پالیسی کے تحت، خصوصاً ’’ٹئیر-1‘‘ میں شامل کیا جائے۔ میٹا کی ڈی او آئی پالیسی کے مطابق ایسے افراد یا تنظیمیں، جو تشدد میں ملوث ہوں یا اس کی کھلی حمایت کریں، پلیٹ فارم پر موجود رہنے کی اہل نہیں ہوتیں۔
ٹئیر-1 میں وہ عناصر شامل کیے جاتے ہیں جو شہریوں کے خلاف تشدد میں ملوث رہے ہوں، محفوظ شناختی گروہوں کو غیر انسانی انداز میں پیش کرتے ہوں یا منظم مجرمانہ سرگرمیوں میں شریک ہوں۔ دستاویزی شواہد کے مطابق بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، ہندو یووا واہنی، شری رام سینا، درگا واہنی، ہندو جاگرن منچ اور دیگر متعدد تنظیمیں ان معیارات پر پورا اترتی ہیں۔
ان تنظیموں کی میٹا پلیٹ فارموں پر موجودگی حقیقی دنیا میں نقصان کو ممکن بناتی ہے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم تشدد کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ ماہرین اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ ٹئیر-1 درجہ بندی کے ساتھ سخت اور مسلسل نفاذ ناگزیر ہے۔ اگر جامع نفاذ اور ٹئیر-1 درجہ بندی پر فوری عمل نہیں کیا گیا تو میٹا کے پلیٹ فارموں منظم نفرت کے لیے ایک ’’فورس ملٹیپلائر‘‘ بنے رہیں گے جس سے نفرت انگیز نیٹ ورکس ڈیجیٹل طور پر مزید مضبوط ہوں گے اور زمینی سطح پر تشدد کو وسعت اور معمول بنانے میں مدد ملتی رہے گی۔
تیسری رپورٹ یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت آئندہ دو برسوں میں اپنے بعض شہری گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کے سنگین خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں بھارت کو 168 ممالک میں سے ان چار ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں اجتماعی تشدد کے خطرات سب سے زیادہ ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت ان 168 ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے جن کا جائزہ ’’انٹراسٹیٹ‘‘ (ریاست کے اندر) بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے امکان کے حوالے سے لیا گیا۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت ان ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہے جہاں ابھی تک بڑے پیمانے پر تشدد شروع نہیں ہوا لیکن وہاں اس کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔
میوزیم کے ارلی وارننگ پروجیکٹ کی رپورٹ ’’ریاست کے اندر بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے خطرے سے دوچار ممالک: 2025–26‘‘ کے تخمینے کے مطابق 2026 کے اختتام سے قبل بھارت میں شہریوں کے خلاف دانستہ بڑے پیمانے پر تشدد کے 7.5 فیصد امکانات ہیں۔ محققین اس طرح کے تشدد کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ ’’مسلح گروہ ایک سال کے اندر کم از کم ایک ہزار غیر مسلح افراد کو ان کی گروہی شناخت (نسل، مذہب، سیاست یا جغرافیہ) کی بنیاد پر قتل کر سکتے ہیں۔‘‘
رپورٹ میں تین ممالک بھارت سے اوپر ہیں۔ جنوبی ایشیا کا ایک اور پڑوسی ملک میانمار پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد چاڈ اور سوڈان ہیں۔ تاہم فرق یہ ہے کہ میانمار اور سوڈان سمیت کئی اعلیٰ درجہ بندی والے ممالک پہلے ہی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا شکار ہیں جس کی وجہ سے بھارت کی پوزیشن ایک نئے ممکنہ ’’فلیش پوائنٹ‘‘ (تشدد کے مرکز) کے طور پر نمایاں ہو جاتی ہے۔
میوزیم کے ’’سائمن سکجوڈٹ سنٹر فار دی پریوینشن آف جینوسائیڈ‘‘ کے ریسرچ ڈائریکٹر لارنس ووچر نے رپورٹ کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ اس پروجیکٹ کا مقصد حکومتوں اور تنظیموں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دینا ہے کہ روک تھام کے لیے وسائل کہاں مرکوز کیے جائیں۔ اس بات کی نشان دہی کرتے ہوئے کہ ’’ہولوکاسٹ کو روکا جا سکتا تھا‘‘، ووچر لکھتے ہیں کہ ’’انتباہی علامات پر توجہ دے کر اور بروقت کارروائی کر کے، افراد اور حکومتیں جانیں بچا سکتی ہیں‘‘۔
یہ تمام رپورٹس مل کر اس خطرناک حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں کہ بھارت میں نفرت اب محض ایک سماجی رویہ نہیں رہی بلکہ ایک ’’ادارہ جاتی نظام‘‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے جسے سیاسی سرپرستی، ریاستی خاموشی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی بے عملی مزید تقویت دے رہی ہے۔ جب کسی ریاست میں نفرت کو سیاسی حکمتِ عملی بنا دیا جائے، ہجوم کو اخلاقی جواز مل جائے اور ماورائے عدالت قتل معمول کا حصہ بن جائیں تو یہ محض قانون کی ناکامی نہیں ہوتی بلکہ ریاست اور قوم کی مجموعی ناکامی کی علامت بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے آج بھارت اسی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
بھارت کا آئین قانون کی بالادستی، مساوی شہریت اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ اب انصاف عدالتوں میں نہیں بلکہ سڑکوں، سوشل میڈیا ٹرائلز اور ہندوتوا ہجوم کے فیصلوں سے طے ہونے لگا ہے۔ جب قتل کرنے والوں کو ہار پہنائے جائیں اور مقتولین ہی کو مشکوک بنا دیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ریاست نے اپنی آئینی غیر جانب داری ترک کر دی ہے۔
انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، بالخصوص مسلمان اور عیسائی سب سے زیادہ زد میں ہیں۔ ان دونوں کمیونٹیوں کے لیے اب مسئلہ محض شہری حقوق کا نہیں رہا بلکہ ’’وجودی بقا‘‘ کا بن چکا ہے۔ جب کسی ملک میں ایک طبقہ صرف اس بنیاد پر قتل ہو کہ وہ اکثریتی شناخت سے مختلف ہے تو وہاں جمہوریت محض ایک فریب بن کر رہ جاتی ہے۔
ریاستی اداروں کی خاموشی اور بعض اوقات شراکت داری اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے کتراتی ہے، استغاثہ کو کم زور کیا جاتا ہے، اور عدالتیں ’’ثبوت نہ ہونے‘‘ کا سہارا لے کر قاتلوں کو بری کر دیتی ہیں۔ یہ سب کچھ حادثاتی نہیں بلکہ ایک منظم بے حسی کا نتیجہ ہے جس میں قانون طاقت کے تابع ہو چکا ہے۔
اس صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ تشدد کا دائرہ کبھی ایک طبقے تک محدود نہیں رہتا۔ آج اقلیتیں نشانے پر ہیں، کل صحافی، طلبہ، سماجی کارکن اور سیاسی مخالفین ہوں گے—بلکہ ان طبقات کو نشانہ بنانے کا عمل کب کا شروع ہو چکا ہے۔ تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ نفرت کا ہتھیار بالآخر اپنے ہی خالقوں کو زخمی کرتا ہے۔
جب ریاست اور ہجوم کے درمیان حدِ فاصل مٹنے لگے جب تشدد کو قوم پرستی کا نام دیا جائے اور نفرت کو حب الوطنی کا مترادف بنا دیا جائے تو پھر قانون، اخلاق اور انسانیت سب ثانوی ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے معاشرے آخرکار یا تو آمریت کی طرف بڑھتے ہیں یا اندرونی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بھارت جیسے کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ملک کے لیے یہ راستہ نہ صرف خطرناک بلکہ خود کشی کے مترادف ہے۔
نفرت، ہجومیت اور ماورائے عدالت قتل کو روکنا کسی ایک طبقے کے حق کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر آئین، قانون اور انسانی وقار کو فوری طور پر مرکزِ توجہ نہیں بنایا گیا، تو یہ آگ صرف کم زوروں تک محدود نہیں رہے گی—یہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
اس صورتِ حال نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اس کی کوئی خاص پروا نہیں کی جا رہی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت کہاں جا رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا بھارت کو اس راستے سے واپس لانے کا کوئی سنجیدہ ارادہ بھی موجود ہے؟
***


