مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی جانب سے فاصلاتی طرز پر شروع کیا گیا دو سالہ ایم بی اے پروگرام ملک بھر میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور معیاری تعلیمی اقدام ہے، جس کے لیے یونیورسٹی کو رواں سال باضابطہ منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ ڈسٹنس موڈ میں ایم بی اے کی تکمیل کے بعد طلبہ نہ صرف بہتر روزگار کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں میں بھی اپنی تعلیمی پیش رفت جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ دو روزہ پروگرام مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم سے وابستہ اساتذہ اور معاون تدریسی عملے کے لیے گزشتہ دو برسوں میں پہلی مرتبہ منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ریجنل سنٹرس، سب ریجنل سنٹرس اور لرنر سپورٹ سنٹرس سے وابستہ ریجنل ڈائرکٹرز، اسسٹنٹ ریجنل ڈائرکٹرز اور کوآرڈینیٹرز شرکت کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پدم شری وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ آن لائن ایجوکیشن (سی ڈی او ای) ’مانو‘ کے زیرِ اہتمام دو روزہ پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے صدارتی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’مانو‘فاصلاتی نظامِ تعلیم کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں طلبہ کو اردو ذریعہ تعلیم سے مستفید کر رہی ہے، جس میں لرنر سپورٹ سنٹرس کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ملک گیر سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سنٹرس کے لیے دی جانے والی انعامی رقم کو دوگنا کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ طلبہ کو اردو میں تعلیمی مواد فراہم کیا جاتا ہے، تاہم اس مواد کی تیاری کے لیے اعلیٰ علمی و فکری صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سی ڈی او ای کے ڈائرکٹر پروفیسر رضااللہ خان بہترین اساتذہ اور ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کے لیے حتی المقدور جامع اور معاون نصاب تیار کروا رہے ہیں۔
دو روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی پروفیسر گھنٹہ رمیش نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ فاصلاتی تعلیم آج ملک کے تعلیمی منظرنامے کو بدلنے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے، کیونکہ یہ نظام نہ صرف آسانی سے قابلِ رسائی ہے بلکہ کفایتی اور مؤثر بھی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1980 کی دہائی میں ملک کی پہلی فاصلاتی یونیورسٹی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نام سے حیدرآباد میں قائم کی گئی تھی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے تعلیمی سفر کا آغاز بھی اسی شہر سے فاصلاتی نظامِ تعلیم کے تحت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’مانو‘کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ ملک کی واحد اردو یونیورسٹی ہے جو فاصلاتی اور روایتی، دونوں طرزِ تعلیم فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’مانو‘کے لرنر سپورٹ سنٹرس جموں و کشمیر کے لداخ خطے سے لے کر کیرالا تک تقریباً ہر ریاست میں قائم ہیں، جبکہ یونیورسٹی کا تدریسی مواد معیاری اور طلبہ کے لیے سہولت بخش ہے۔ انہوں نے ڈسٹنس موڈ سے وابستہ تمام اساتذہ اور معاون عملے کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں اور انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ ریگولر طلبہ سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے فاصلاتی و آن لائن تعلیم کے تحت مزید نئے کورسز متعارف کروانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈائرکٹر سی ڈی او ای پروفیسر رضااللہ خان نے خیر مقدمی کلمات پیش کیے۔ پروگرام کی کارروائی ڈاکٹر وسیم پٹھان نے چلائی، جبکہ اختتام پر پروفیسر نکہت جہاں نے کلمات تشکر پیش کیے۔
خبر کرئیر : مانو ‘کا فاصلاتی طرز میں ایم بی اے پروگرام’
اردو طلبہ کے لیے ایک بڑی سہولت

