بمباری، سردی اور ناکہ بندی کے بیچ امن کے دعوے محض سفارتی فریب!
کمیٹیوں کے سائے میں غزہ ؛ جب امن منصوبے بھی ایک نیا بحران بن جائیں
نام نہاد غزہ جنگ بندی کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر پٹی کے طول و عرض میں بمباری، ڈرون پروازیں اور فائرنگ رکنے کے بجائے روز مرہ کا معمول بنی ہوئی ہے۔ اسکولوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جبالیہ، وسطِ شہر، دیرالبلاح، البریج اور النصیرات کے علاقوں میں قائم عارضی اسکولوں اور خیمہ بستیوں پر فائرنگ سے پانچ افراد جاں بحق اور پہلی جماعت کی ایک بچی شدید زخمی ہوگئی۔ اگر پرائمری اسکولوں کے بچے بھی محفوظ نہ رہیں تو جنگ بندی کی اصطلاح اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جنگ کب رکے گی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جنگ کبھی رکی بھی تھی؟ جب زمینی حقیقت آگ اور خون سے لکھی جا رہی ہو تو سیاسی بیانات اور سفارتی اعلانات محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔
سردی، ناکہ بندی اور منجمد ہوتی زندگیاں
بھوک، بمباری اور فائرنگ کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مسلسل ناکہ بندی کے باعث گرم کپڑوں، کمبلوں، رہائشی کنٹینرز اور ادویات تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ بارہ جنوری کو دیرالبلاح میں سات دن کے محمود الاقریٰ کا جسم اس کی ماں کی گود میں عملاً منجمد ہوگیا۔ اسی دن دو ماہ کا محمد ابو حربید الرنتیسی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ سخت سردی اور خیمے میسر نہ ہونے کے باعث بہت سے لوگوں نے بمباری سے کھنڈر بنے شکستہ مکانات میں پناہ لے رکھی ہے۔ غزہ شہر میں ایسا ہی ایک مخدوش گھر بارش اور تیز ہوا سے منہدم ہوگیا اور وہاں پناہ گزین ایک پندرہ سالہ بچی ملبے میں زندہ دفن ہوگئی۔ اسکولوں کے ساتھ ہسپتال اور شفاخانے بھی ہدف ہیں۔ خان یونس میں ایک ایمبولینس کو ڈرون نے نشانہ بنایا اور اسپتال کے لیے محوِ سفر زخمی زندہ جل گیا۔
ٹرمپ امن منصوبہ، امید یا نیا بحران
دوسری طرف صدر ٹرمپ کے بائیس نکاتی امن منصوبے پر کام جاری ہے۔ قومی کمیٹی برائے نظمِ غزہ (NCAG) کا 16 جنوری کو قاہرہ میں پہلا اجلاس ہوا۔ غزہ کے عبوری انتظام کے لیے قائم کی جانے والی فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) پر مشتمل یہ پندرہ رکنی کمیٹی مقتدرہ فلسطین (PA) کے سابق نائب وزیر علی شعث کی قیادت میں کام کرے گی۔ بورڈ آف پیس کی جانب سے بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے سفارت کار نکولائی ملادینوف اس کمیٹی کے نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی اور بورڈ آف پیس کی تشکیل پر ایک سرسری نظر ہی اس منصوبے میں مضمر خرابی کو نمایاں کر دیتی ہے۔ غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دینے کی دھمکی دینے والے امریکی تاریخ کے سب سے پرجوش اسرائیل دوست ڈونالڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس کے سربراہ ہیں۔ امریکی صدر کی غزہ کو پرتعیش ساحلی تفریح گاہ بنانے کی خواہش بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سونے پر سہاگہ، نکولائی ملادینوف کا انتخاب ہے۔ کیا واقعی خطے کی حقیقت، زبان اور دکھ کو سمجھنے کے لیے کسی عرب یا مسلم سفارت کار کا انتخاب ممکن نہ تھا؟ یا فیصلہ سازی ایک بار پھر انہی ہاتھوں میں رکھی جا رہی ہے جو خود اس بحران کا حصہ رہے ہیں؟
کمیٹی اور بورڈ کے کھیل
کمیٹی کے قیام کے بعد Founding Executive Board (FEB) اور Gaza Executive Board (GEB) قائم کر دیے گئے ہیں۔ قصرِ مرمریں سے جاری اعلامیے کے مطابق FEB سفارت کاری، غزہ کے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف، دامادِ اول جیرڈ کشنر اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ غزہ ایگزیکیٹو بورڈ شفاف طرزِ حکم رانی کے لیے کام کرے گا۔ اسٹیو وٹکاف، جیرڈ کشنر، ٹونی بلیئر کے علاوہ ترک وزیر خارجہ، قطری سفارت کار علی توحیدی، مصری انٹیلیجنس کے سربراہ حسن رشاد اور اماراتی وزیر ریم الہاشمی اس کمیٹی کے ارکان ہیں۔ اعلان سے ایسا لگ رہا ہے کہ جناب نکولائی ملادینوف تمام کمیٹیوں کے روحِ رواں ہوں گے۔ خبروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب، طیب رجب ایردوان اور مصر کے جنرل السیسی کو بھی بورڈ آف پیس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اسرائیل کو غزہ میں ترکیہ اور قطر کا کردار پسند نہیں اور اسرائیلی جنگی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں امن بورڈ میں قطر اور ترکیہ کی شرکت پر شدید ناگواری کا اظہار کیا گیا۔
اسی کے ساتھ یہ مژدہ بھی سنایا گیا کہ امریکی مرکزی کمان کے آپریشنز کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفر بین الاقوامی استحکامی دستے (ISF) کے سربراہ ہوں گے۔ بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ ISF کی بنیادی ذمہ داری امن و امان اور امدادی سرگرمیاں منظم کرنی ہوں گی۔ اس دوران مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔
سفارتی بساط پر غزہ کی قیمت
غزہ کے لہو پر بچھائی جانے والی سفارتی بساط کے بارے میں اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ بورڈ آف پیس کی مدت تین سال ہوگی اور ہر رکن ملک کو ایک ارب کی رکنیت فیس ادا کرنی ہوگی۔ ان اطلاعات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس مد میں جمع ہونے والی رقوم غزہ کی تعمیرِ نو پر خرچ ہوں گی یا یہ بورڈ کے انتظامی اخراجات کی نذر ہو جائیں گی۔ غزہ کو اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین نے مٹی میں ملایا ہے لیکن اس کی تعمیرِ نو کی قیمت عرب و اسلامی دنیا سے وصول کی جائے گی۔
غربِ اردن: قبضہ، گرفتاری اور امید کی نخلستانیں
غزہ کے ساتھ غربِ اردن میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ آبائی مکانات کی مسماری، گرفتاریوں اور تشدد کے ساتھ پناہ گزین کیمپوں میں تفریحی مقامات کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ بیت اللحم کے قریب عائدہ پناہ گزین کیمپ میں علاقے کے واحد فٹبال گراؤنڈ کو گرانے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ محض ایک کھیل کا میدان نہیں بلکہ تنگ اور کھچاکھچ بھرے کیمپ میں فلسطینی بچوں کے لیے سانس لینے، دوڑنے اور مسکرانے کی واحد جگہ ہے۔ اس میدان کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ یہاں لڑکیاں فٹبال کھیلتی ہیں۔ کیا بچوں کی ہنسی اور کھیل بھی خطرہ بن چکے ہیں؟
بے رحم جبر اور پر عزم صبر
ان مظالم کے باوجود فلسطینی شہری ہار ماننے کو تیار نہیں۔ مشرقی یروشلم کے فخری ابوذہب کا گھر اسرائیلی فوج نے مسمار کر دیا لیکن فخری نے ہجرت کے بجائے وہیں ملبے پر خیمہ ڈال لیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فخری ابو ذہب کی اہلیہ نے کہا: "گھر مسمار کر دیا گیا تو کیا ہوا، ہم ملبے پر زندگی گزار دیں گے لیکن اپنا وطن نہیں چھوڑیں گے۔"
برطانیہ نے اسرائیلی کمپنی کا معاہدہ معطل کردیا
انتقامی کارروائیاں اور بد سلوکی اپنی جگہ لیکن فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے والوں کی ثابت قدمی کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے برطانوی حکومت نے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی سے معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ برطانیہ نے ایلبٹ سسٹمز یو کے (Elbit Systems UK) سے دو ارب پاونڈ مالیت کا معاہدہ کیا تھا جس کے خلاف فلسطین ایکشن کے کارکنوں نے بھوک ہڑتال کر دی۔ موت کے منہ تک پہنچ جانے کے باوجود حِبا مراتسی، کامران احمد اور عمر خالد نے بھوک ہرٹال جاری رکھی اور آخرکار حکومت نے معاہدہ نہ دینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ان لوگوں نے بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ یہ واقعہ اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ تشدد کے شور میں دب جانے والی پرامن آوازیں اگر مستقل، منظم اور اخلاقی بنیادوں پر ہوں تو وہ اقتدار کے ایوانوں تک سنی جا تی ہیں۔
اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ امریکہ کے اسرائیل نواز سیاست داں کا اعتراف
قانونی و پرامن عوامی دباؤ کی ایک اور مثال امریکی سیاست میں نظر آئی۔ ریاست کیلیفورنیا سے کانگریس کے امیدوار سینیٹر اسکاٹ وینر (Scott Wiener) نے صاف صاف کہا 'وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے'۔ گزشتہ برس تک موصوف اسرائیل کے پُرجوش حامی سمجھے جاتے تھے۔ اکتوبر 2023 کے واقعات کی دوسری برسی پر انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں اسرائیل کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسرائیل مخالف آوازوں کو یہودیوں کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ یہ ’’ماہیتِ قلب‘‘ محض ذاتی فکری ارتقا نہیں بلکہ سوشل میڈیا نے زمینی حقائق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، جس سے رائے عامہ پر پڑنے والا اثر اب نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عرب دنیا میں گھٹن و زباں بندی
دوسری طرف عرب دنیا میں جبر کے ہتھکنڈے برقرار ہیں۔ بحرین کی ایک عدالت نے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن اور جمعیۃ العمل الوطنی الديمقراطی (وَعْد) کے سابق جنرل سکریٹری ابراہیم شریف کو اسرائیل سے تعلقات پر تنقید کے الزام میں چھ ماہ قید اور دو سو بحرینی دینار جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
زمین پر جب آگ بجھانے کے بجائے شعلوں کو ہوا دی جا رہی ہو تو اجلاسوں، کمیٹیوں اور منصوبوں سے معجزے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ امن کی پہلی اور بنیادی شرط مکمل فائر بندی اور محاصرے کا خاتمہ ہے۔ اس کے بغیر ہر نیا ڈھانچہ محض کاغذی امید رہے گا۔ اس سب کے بیچ، غزہ کی ایک نوجوان لڑکی کے ہاتھ میں تھاما ہوا پلے کارڈ We Are Still Here شاید سب سے سادہ اور سچی گواہی ہے کہ تباہی کے باوجود لوگ موجود ہیں، اور موجود رہنے کا یہی اصرار اصل مزاحمت ہے۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com
غزہ جنگ بندی : کمیٹیوں کے سائے میں جاری المیہ
امن کے دعوے، زمینی حقیقت اور فلسطینیوں کا بے مثال صبر

