جامع مشترکہ قانونی فریم ورک کی ضرورت ۔بین الاقوامی اداروں کے درمیان تال میل کا فقدان
پالکی شرما بھارت کی مشہور صحافی ہیں، گزشتہ برس انہیں آکسفورڈ یونین کے مشہور زمانہ مباحثہ میں تقریر کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔پالکی شرما نے بھارت کی معاشی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب میں یہاں آ رہی تھی تو ائیرپورٹ تک میں نے کئی جگہ دیکھا کہ روڈ کنارے ٹھیلہ پر دکان لگانے والے شخص کے پاس بھی ’’کیوآر کوڈ‘‘ ہے اور وہ اس سے مالی لین دین کررہا ہے۔ پالکی شرما کے بقول یہ بھارت کی اکانومی ٹرانسفرم اور بھارت کی جدید معاشی حالت کی عکاسی کرتی ہے۔مالیاتی ڈیجیٹلائزیشن کو بھارت کی ابھرتی ہوئی معیشت سے جوڑنے کے معاملے میں پالکی شرما اکیلی نہیں ہے۔بہت سارے افراد ایسے مل جائیں گے جو ’’مالیاتی ڈیجیٹلائزیشن‘‘ کو بھارت کی سب سے بڑی اقتصادی کامیابی مانتے ہیں ۔بلاشہ ’’مالیاتی ڈیجیٹلائزیشن‘‘ مالی شمولیت کو وسعت اور جدت کو متحرک کرتی ہے اور شفافیت لانے میں اہم کرادار ادا کرتی ہے۔اس کی وجہ سے بیکنگ نظام سے وہ علاقے بھی جڑے ہیں جہاں بینک کم ہیں اورلین دین میں آسانی ہوئی ۔یہ توسیع شدہ رسائی کم آمدنی والے افراد اور چھوٹے کاروباریوں کو بچت، کریڈٹ تک رسائی اور انشورنس حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، اقتصادی شراکت کو فروغ دیتی ہے۔تاہم یہ دعویٰ کرنا کہ مالیاتی ڈیجٹیلائزیشن نے بھارت کے دیہی علاقے کی معیشت میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس پر معاشی ماہرین کی آراء مختلف ہیں اور یہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔بلکہ نقدی کی قلت نے چھوٹے کاروباریوں کو بحران میں مبتلا کردیا ہے۔علاوہ ازیں سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزی کے واقعات نے عدم تحفظ کے احساس کو اضافہ کردیا ہے۔ایک سروے کے مطابق انتالیس فیصد بھارتی خاندانوں نے گزشتہ تین برسوں میں آن لائن مالی دھوکہ دہی کے کسی نہ کسی قسم کا سامنا کیا ہے۔ ان میں سے صرف ایک چوتھائی کو اپنے فنڈز واپس مل سکے ہیں اور باقی تین چوتھائی افراد اپنے مال سے محروم ہوگئے ہیں ۔یہ سروے بتاتاہے کہ عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ مالیاتی ڈیجیٹل لائزیشن سے گریز کریں گے ۔ایسے میں بھارت کی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے یہ سوال اپنے آپ میں کافی بڑا ہے اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ عدم تحفظ کے احساسات کو ختم کرنے کے لیے حکومت کیا اقدامات کررہی ہیں ۔اس کے علاوہ دوسرا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، انفراسٹرکچر، اور ڈیجیٹل خواندگی میں عدم مساوات، پسماندہ کمیونٹیوں کواب بھی باہر کررہے ہیں ۔ممکنہ طور پر مالیاتی اخراج اور علاقائی عدم مساوات کو تقویت دے سکتی ہے۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں بینک اکاونٹس اور ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اب بھی ایک بڑی آبادی رسمی مالی نظام سے باہر ہے۔‘‘ ڈیجیٹل انڈیا‘‘ ’جن دھن‘، آدھار موبائل (JAM) وکی سہولت، براہِ راست منتقلی (DBT) اور یو پی آئی جیسے اقدامات نے مالی شمولیت کو تیزی سے فروغ دیا ہے اور سرکاری خدمات کو زیادہ سے زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا گیاہے۔ انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور بینکاری نظام میں ای گورننس کے نفاذ سے غریب اور چھوٹے کاروبار مالی نظام کا حصہ بنے ہیں۔ اس کے باوجود ڈیجیٹل خلیج، نقدی پر انحصار، کم مالی خواندگی، انفراسٹرکچر کی کمی اور صنفی تفاوت جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔
کم مالی خواندگی، انفراسٹکچر کی کمی اور صنفی تفاوت جیسے مسائل وقت کے ساتھ بہتر ہورہے ہیں اور حکومت ان خامیوں کو درست بھی کررہی ہے ۔مالیاتی ڈیجیٹل فراڈ کے واقعات میں اضافے نے کئی حکومت کے لیے کئی بڑے چیلینجس پیدا کردیے ہیں۔بلکہ یہ کہا جائے کہ ’’ڈیجیٹل اکانومی‘‘ نے جدید اور منظم سائبر مجرموں کے لیے نئے راستے بھی کھول دیے ہیں تو مبالغہ نہ ہو گا۔ صرف 2024 میں ہی بھارتی شہریوں کو سائبر مجرموں کے ہاتھوں 22,845.73 کروڑ روپے کا نقصان ہوا جو 2023سال کے مقابلے میں 206 فیصد زیادہ ہے۔ ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ میں یہ غیر معمولی اضافہ ہے جو محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے مالیاتی نظام کی سالمیت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر عوامی اعتماد کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔یہ بحران صرف انفرادی نقصانات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں ایسے نظامی خطرات بھی شامل ہیں جو ملک کے ڈیجیٹل معیشت کے خواب کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قانونی اور پالیسی ردِعمل کی ضرورت ہے جو روک تھام، نفاذِ قانون اور متاثرین کے تحفظ کو کثیر فریقی تعاون کے ذریعے یقینی بنائے۔
نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (NCRP) کے مطابق 2024 میں 36.37 لاکھ مالیاتی فراڈ کے معاملات درج ہوئے جبکہ 2023 میں یہ تعداد 24.42 لاکھ تھی۔ یہ اضافہ صرف تعداد میں نہیں بلکہ فراڈ کے طریقوں کی پیچیدگی میں بھی نمایاں ہے۔مرکزی حکومت نے ایک آن لائن ’سسپیکٹ رجسٹری‘ تیار کی ہے جس میں مالیاتی فراڈ اور سائبر جرائم سے وابستہ چودہ لاکھ مشتبہ افراد کا ڈیٹا موجود ہے، جو ان جرائم کے منظم اور منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔
مالی نقصان بھی انتہائی تباہ کن رہا ہے۔ 2021 میں 551 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024 میں یہ نقصان 22,812 کروڑ روپے تک جا پہنچا جو کسی بھی جائز معاشی ترقی سے کہیں زیادہ ہے۔ اگرچہ Citizen Financial Cyber Fraud Reporting and Management System (CFCFRMS) نے 17.82 لاکھ شکایات کے ذریعے 5,489 کروڑ روپے بچائے، تاہم یہ مجموعی نقصان کا صرف ایک حصہ ہے، کیونکہ کئی جرائم رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
آج کے ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ عام فشنگ ای میلز سے کہیں آگے جا چکے ہیں۔ AI پر مبنی فراڈ میں 2024-25 کے دوران خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور سال کے اختتام تک نقصان بیس ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔یو پی آئی فراڈ کے معاملات FY 2021-22 میں چوراسی ہزار سے بڑھ کر FY 2022-23 میں پچانوے ہزار ہو گئے ہیں۔ عام طریقوں میں جعلی یو پی آئی ریکویسٹ، فشنگ، نقصان دہ ایپس، کیو آر کوڈ فراڈ، بینک اہلکاروں کی نقالی اور ریموٹ ایکسس اسکام شامل ہیں۔جعلی سرمایہ کاری ایپس، جیسے ShareHash ایپ کیس اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح جعلی منافع کے وعدے کر کے سرمایہ کاروں کو لوٹا جاتا ہے۔انتالیس فیصد بھارتی خاندانوں نے سروے میں تصدیق کی کہ گزشتہ تین سالوں میں آن لائن مالی دھوکہ دہی کا کسی نہ کسی قسم کا سامنا کیا؛ ان میں سے صرف ایک چوتھائی کو اپنے فنڈز واپس مل سکے۔
تیئیس فیصد افراد کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ دھوکہ دہی کا شکار ہوئے۔دس فیصد نے اے ٹی ایم کارڈ دھوکہ دہی کا اشارہ کیا جبکہ دس فیصد نے بینک اکاؤنٹ دھوکہ دہی کی تصدیق کی۔ تیرہ فیصد نے خرید و فروخت/کلاسیفائیڈ سائٹ صارفین کی طرف سے دھوکہ دہی کی تصدیق کی، تیرہ فیصد نے پروڈکٹس کے لیے پیسے لینے والی ویب سائٹس کے دھوکہ دہی کے شکار ہوئے۔ چوبیس فیصد جواب دہندگان نے شکایت درج کی اور فنڈز واپس حاصل کیے جبکہ ستر فیصد نے کہا کہ ان کی شکایت کا کوئی حل نہیں نکلا ۔کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ سے متعلق دھوکہ دہی کا سامنا کرنے والے شہریوں میں پانچ فیصداضافہ دیکھا گیا لیکن بینک اکاؤنٹ سے متعلق دھوکہ دہی میں انیس فیصد کمی دیکھی گئی
مجرم ڈیپ فیک ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی جیسی شخصیات کی جعلی ویڈیوز بنا کر جعلی سرمایہ کاری اسکیموں کی تشہیر کر رہے ہیں۔ڈیجیٹل گرفتاری اسکام ایک نہایت خطرناک رجحان بن چکا ہے، جس میں فراڈیے خود کو پولیس یا تفتیشی افسر ظاہر کر کے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر پیسے منتقل کرواتے ہیں۔ 2024 کے صرف پہلے تین مہینوں میں ان اسکامز سے 120.3 کروڑ روپے ٹھگ لیے گئے۔ان جرائم کے مراکز میں جھارکھنڈ کا دیوگھر، راجستھان کے دیگ، الور، جے پور اور جودھ پور، ہریانہ کا نوح، اتر پردیش کے متھرا اور گوتم بدھ نگر، مغربی بنگال میں کولکاتا، گجرات کا سورت، بہار کے نالندہ اور نوادہ، کرناٹک کا بنگلورو اور کیرالا کا کوزی کوڈ شامل ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں کمزوریاں موجود ہیں۔
ڈیجیٹل مالیاتی اسکیم کے واقعات میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے۔موجودہ قانونی فریم ورک، بنیادی کوریج فراہم کرتے ہوئے، ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اہم اپ ڈیٹس کی ضرورت ہے جن میں AI سے چلنے والے فراڈ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور جدید ترین منی لانڈرنگ شام ہے۔ 2021 میں 551 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024 میں 22,812 کروڑ روپے کا نقصان ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا موجودہ قانونی فریم ورک اورجانچ ایجنسیوں کا نظام اس طرح کے مالیاتی فراڈ کو روکنے میں ناکام ہے ۔بھارت میں مالیاتی تحفظ کے لیے صارفین کی چوکسی پر انحصار کرنے کی کوشش رہتی ہے جب کہ ضرورت پورے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ڈیجیٹل مالیاتی جرائم کی ابھرتی ہوئی نوعیت سے نمٹنے کے لیے جامع قانون سازی کی کی ضرورت ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ میں ترمیم کی جانی چاہیے تاکہ AI سے چلنے والے فراڈ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور کرپٹو کرنسی سے متعلق جرائم کے لیے مخصوص دفعات شامل کی جائیں۔
قومی سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کا قیام جس میں مالیاتی جرائم کی مخصوص اکائیاں مہارت اور وسائل کو مرکزیت دے گی۔ اس ایجنسی کے پاس مخصوص مالیاتی حد سے زیادہ مقدمات کو حل کرنے کے اختیار ہونا چاہیے اور چھوٹے مقدمات پر ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہم آہنگی ہونی چاہئے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور مالیاتی شعبے کے پیشہ ور افراد کے لیے صلاحیت سازی کے پروگرام ضروری ہیں۔ تربیتی ماڈیولز میں ڈیجیٹل فرانزک، کرپٹو کرنسی تحقیقاتی تکنیک، بین الاقوامی تعاون کے طریقہ کار اور ابھرتے ہوئے فراڈ کے طریقوں کا احاطہ کرنا چاہیے۔
نیشنل سائبر فراڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام دھوکہ دہی کے رجحانات کا مسلسل تجزیہ، انسدادی اقدامات کی ترقی اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی فراہم کر سکتا ہے۔ اس ادارے کو ٹیکنالوجی کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری برقرار رکھنی چاہیے۔تمام مالیاتی اداروں، ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹروں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو مربوط کرتے ہوئے ایک جامع قومی فراڈ کی روک تھام کا پلیٹ فارم تیار کرنا چاہیے۔ اس پلیٹ فارم کو پورے مالیاتی ماحولیاتی نظام میں حقیقی وقت میں معلومات کا اشتراک، خودکار خطرے کا پتہ لگانے اور مربوط جوابی صلاحیتوں کو فعال کرنا چاہیے۔
دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے AI، مشین لرننگ اور بلاک چین سمیت جدید ٹیکنالوجیوں میں سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔ حکومت کو فراڈ کی روک تھام کی ٹیکنالوجیوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے مراعات فراہم کرنی چاہئیں ۔ہائی ویلیو ٹرانزیکشنز میں بائیو میٹرک تصدیق کے لیے لازمی معیارات کے نفاذ سے سیکیوریٹی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
بین الاقوامی مالیاتی فراڈ روکنے کے لیے بھارت کو سائبر کرائم کی تحقیقات اور اثاثوں کی بازیابی کے لیے بڑے دائرہ اختیار کے ساتھ دو طرفہ اور کثیر جہتی معاہدوں پر بات چیت کرنی چاہیے۔ ان معاہدوں میں ریئل ٹائم معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں، اور سائبر کرائم کیسز کے لیے تیزرفتار حوالگی کا طریقہ کار شامل ہونا چاہیے۔سائبر کرائم کی روک تھام کے بین الاقوامی اقدامات میں شرکت اور بہتر عالمی طریقوں کو اپنانے سے بھارت کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، انٹرپول اور دو طرفہ قانون نافذ کرنے والے تعاون کے معاہدوں جیسی تنظیموں کے ساتھ فعال طور پر مشغول ہونا چاہیے۔
سنگاپور، یو کے اور یوروپی یونین نے مالیاتی فراڈ کو روکنے کے لیے بہتر اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک میں اسکیم میں کمی آئی ہے۔ان ممالک نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں’’مشترکہ ذمہ داری کے فریم ورک‘‘، ’’متاثرین کے معاوضے کے طریقہ کار‘‘، ’’مصنوعی ذہانت‘‘، بلاک چین ٹیکنالوجی اور بایومیٹرک تصدیق سمیت کئی ٹیکنالوجی شامل ہیں ۔
مرکزی حکومت نے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ کو روکنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ تاہم چونکہ منظم فراڈی گروہ اپنی ٹیکنالوجی اور طریقۂ کار کو مسلسل بدلتے رہتے ہیں اور اس پر بڑی سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں، اس لیے آئندہ کے لیے ایک کثیرالجہتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے، جس میں قانون سازی کی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، تکنیکی پیش رفت اور بین الاقوامی تعاون شامل ہوں۔ حقیقی کامیابی کے لیے حکومت، مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور سول سوسائٹی کے مستقل عزم اور باہمی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ جب تک شہری جدید ترین مالیاتی جرائم کا شکار بنتے رہیں گے، تب تک ڈیجیٹل معیشت کا خواب مکمل طور پر شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے ڈیجیٹل مستقبل کے تحفظ کے لیے مضبوط اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔
مالیاتی ڈیجیٹل فراڈ بھارت کے لیے ڈراؤنا خواب
مالیاتی لین دین میں عدم تحفظ کے احساسات میں اضافہ

