بلدیاتی سیاست کا بدلتا نقشہ؛ ذات، مذہب اور طاقت کی سیاست میں الجھا مہاراشٹر
پیسے، پولرائزیشن اور سیاست کے دوران مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے دور رس اثرات
مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق بی جے پی ریاست کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جس نے پچیس شہروں میں اقتدار حاصل کر لیا ہے۔ کئی شہروں میں بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے جب کہ بعض مقامات پر چند نشستوں کے لین دین کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونے کی پوزیشن میں ہے۔ان انتخابات میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ریاست کا سب سے بڑا شہر ممبئی رہا جہاں گزشتہ دو دہائیوں سے شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اقتدار میں رہی تھی۔ لیکن اس مرتبہ شیو سینا کا یہ مضبوط قلعہ منہدم ہو گیا اور اقتدار اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ یہ تبدیلی مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کو بھی ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ایسے شہر جہاں کانگریس برسوں سے بلا شرکتِ غیرے اقتدار میں تھی وہاں سے اس کا مکمل صفایا ہو چکا ہے۔ نتائج نے یہ واضح کر دیا کہ کانگریس کا روایتی ووٹ بینک شدید دباؤ اور تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ان بلدیاتی انتخابات کا ایک نمایاں پہلو مسلم سیاست کے ابھرنے کی صورت میں سامنے آیا جو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی شکل میں دکھائی دیا۔مجلس کو پہلی مرتبہ مہاراشٹر میں اس قدر بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ریاست کے مختلف شہروں سے مجلس کے 127 کارپوریٹرز منتخب ہوئے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہندو اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کو واضح برتری حاصل ہوئی، وہیں مسلم اکثریتی علاقوں میں مجلس نے نمایاں کامیابی درج کی۔ان نتائج کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس مرتبہ ووٹروں نے مقامی ترقیاتی مسائل کے بجائے بڑی حد تک ذات پات اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر ووٹنگ کی ہے۔ پورا سماج واضح طور پر دو خانوں میں بٹا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ دلت سماج جو اپنی الگ سماجی و سیاسی شناخت رکھتا ہے، سیاسی طور پر ایک آزاد قوت بننے کے بجائے بڑی حد تک ہندو سیاسی دھارے میں ضم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مجلس کی کامیابی میں اس کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جارحانہ اور مسلسل انتخابی مہم نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس دلت سماج کی نمائندگی کرنے والی نمایاں سیاسی جماعت ونچت بہوجن آگھاڑی، جس کی قیادت ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے پڑپوتے ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر کر رہے ہیں، ریاست بھر میں بھرپور انتخابی میدان میں اترنے کے باوجود خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ چند گنے چنے شہروں میں اس کے چند کارپوریٹرز منتخب ہوئے لیکن مجموعی طور پر وہ ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر خود کو منوانے میں ناکام رہی۔اس صورتحال سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے دانستہ طور پر مہاراشٹر کے سماج کو دو واضح حصوں میں تقسیم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی، جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہیں۔ بی جے پی کو بلدیاتی اداروں میں اقتدار سے روکنے کے لیے سیکولر جماعتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ان کی تمام کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ممبئی میں جہاں گزشتہ بیس برسوں سے ایک دوسرے کے سخت سیاسی مخالفین شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) اور مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے اپنی پرانی دشمنی کو بھلا کر اتحاد کیا تھا تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے روکا جا سکے۔دونوں جماعتوں نے ممبئی سمیت ریاست کے پانچ شہروں میں مشترکہ طور پر انتخابات لڑے اور جارحانہ تشہیری مہم چلائی۔ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ بی جے پی کس طرح ذات پات کی سیاست کی آڑ میں شہری وسائل کو نجی کمپنیوں اور چند کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کر رہی ہے مگر اس کے باوجود بی جے پی کی پیش قدمی کو روکا نہ جا سکا۔
اسی طرح پونے اور پمپری-چنچوڑ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دونوں دھڑوں (شرد پوار اور اجیت پوار گروپ) نے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحدہ طور پر انتخابی میدان میں اتر کر اپنا برسوں پرانا اقتدار بچانے کی کوشش کی لیکن وہاں بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس پارٹی نے کئی شہروں میں بی جے پی کو روکنے کے لیے ونچت بہوجن آگھاڑی کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکا جا سکے، اگرچہ ماضی میں یہ اتحاد ممکن نہ ہو سکا تھا لیکن اس مرتبہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دونوں جماعتوں نے اختلافات کے باوجود سیٹوں کی تقسیم پر سمجھوتہ کیا مگر اس کے باوجود کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کی کوشش صرف اپوزیشن جماعتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاستی حکومت میں شامل اس کی اتحادی جماعتوں، شیو سینا (شندے گروپ) اور این سی پی (اجیت پوار گروپ) نے بھی بھرپور محنت کی لیکن وہ بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ نتیجتاً بی جے پی نہایت جارحانہ انداز میں آگے بڑھتی رہی اور آج ریاست کے بیشتر شہروں میں اس نے اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ بی جے پی کی اس غیر معمولی کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم عنصر پیسے کا بے تحاشا استعمال ہے۔ اطلاعات کے مطابق چھوٹے شہروں میں ایک ووٹ کے لیے دو ہزار سے پندرہ ہزار روپے تک خرچ کیے گئے۔ کھلے عام ووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی رہی جبکہ پولیس اور انتظامیہ محض تماشائی بنی رہی۔ کئی مقامات پر پیسوں کی تقسیم کی تصاویر منظرِ عام پر آئیں اور بعض جگہوں پر بی جے پی کے نمائندے بڑی رقم کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے بھی گئے مگر اس کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ غریبی اور معاشی تنگی کے شکار ووٹروں نے اپنے بنیادی مسائل اور اصولی سیاست کو پسِ پشت ڈال کر وقتی مالی فائدے کو ترجیح دی، جس کا براہِ راست اثر انتخابی نتائج پر پڑا۔ بی جے پی کی کامیابی کا ایک اور سبب ای وی ایم میں مبینہ بے ضابطگیوں کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ای وی ایم، ووٹر لسٹ، بوگس ووٹروں اور ڈبل ووٹنگ سے متعلق جو اعتراضات اٹھائے گئے انہیں دور کرنے کے بجائے نظر انداز کیا گیا۔ اس مرتبہ مستقل سیاہی کے بجائے مارکر کا استعمال کیا گیا جسے آسانی سے مٹایا جا سکتا تھا۔ اسی طرح وی وی پی اے ٹی کے مکمل استعمال اور ای وی ایم کو ایک اضافی ڈیوائس سے جوڑنے پر بھی شدید اعتراضات کیے گئے مگر الیکشن کمیشن نے ان پر کوئی خاطر خواہ وضاحت یا کارروائی نہیں کی۔ بی جے پی کی کامیابی میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ کانگریس کا روایتی ووٹ بینک جس میں دلت، مسلم، پسماندہ طبقات اور مراٹھا سماج شامل تھا اس مرتبہ بکھر گیا۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد نے کانگریس کے بجائے مجلس کا ساتھ دیا جبکہ دلت اور پسماندہ طبقات پیسے اور دیگر اثرات کے تحت بی جے پی کی طرف مائل ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیکولر جماعتیں بری طرح متاثر ہوئیں۔
بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی کا تیسرا اور نہایت اہم سبب یہ رہا کہ اس نے اپنے مخالف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ اور اثر و رسوخ رکھنے والے لیڈروں کو اقتدار میں شراکت کا لالچ دے کر اور ساتھ ہی شمولیت سے انکار کی صورت میں ای ڈی، سی بی آئی اور دیگر مرکزی جانچ ایجنسیوں کے خوف کا سہارا لے کر اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ اس حکمتِ عملی نے بی جے پی کو مقامی سطح پر مضبوط قیادت فراہم کی جو کسی بھی انتخابی کامیابی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی پارٹی کو اسی وقت بڑی اور فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوتی ہے جب اس کے پاس مقامی سطح پر عوامی مقبولیت رکھنے والی مضبوط قیادت موجود ہو۔ قیادت کے بغیر جماعتیں بہت جلد اندرونی انتشار، گروہ بندی اور خانہ جنگی کا شکار ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں عوام ایسی جماعتوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ مہاراشٹر کے ناندیڑ اور لاتور اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ناندیڑ میں گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے دوران جب سابق وزیرِ اعلیٰ اشوک چوہان کانگریس میں تھے تو ان کی قیادت میں کانگریس نے اکیاسی میں سے تہتر نشستیں جیت کر غیر معمولی اور یکطرفہ کامیابی حاصل کی تھی اور بلا شرکتِ غیرے اقتدار پر قابض ہو گئی تھی۔ لیکن جیسے ہی اشوک چوہان نے کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ناندیڑ میں کانگریس کی سیاسی بنیادیں کم زور پڑنے لگیں۔ نتیجتاً اس مرتبہ کانگریس محض دس نشستوں تک محدود ہو گئی، جبکہ اشوک چوہان کی قیادت میں بی جے پی نے پچھلے انتخابات میں چند نشستوں سے ابھر کر پینتالیس سیٹیں جیت لیں اور واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار پر قبضہ جما لیا۔اسی طرح لاتور میں بھی کانگریس کے سرکردہ لیڈر امیت دیشمکھ کی قیادت میں پارٹی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ستر میں سے تیتالیس نشستیں جیت کر بلدیاتی کارپوریشن پر اقتدار حاصل کیا تھا۔یہ مثال اس حقیقت کو تقویت دیتی ہے کہ مضبوط اور با اثر مقامی قیادت کس طرح انتخابی نتائج کو یکسر بدل سکتی ہے۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر اشوک چوہان بی جے پی میں شامل نہ ہوتے تو ناندیڑ میونسپل کارپوریشن میں بھی اس مرتبہ کانگریس کا پرچم پچھلے انتخابات کی طرح لہرا رہا ہوتا۔ لیکن بی جے پی نے نہایت منصوبہ بند انداز میں کانگریس اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ لیڈروں کو یا تو سیاسی مفادات کا لالچ دے کر یا پھر مرکزی ایجنسیوں کے چھاپوں کا خوف دلا کر اپنے ساتھ ملا لیا۔
کسی بھی سیاسی جماعت کا سرکردہ لیڈر جب ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہوتا ہے تو وہ اکیلا نہیں جاتا بلکہ اپنے ساتھ اس جماعت کے مضبوط، سرگرم اور اثر و رسوخ رکھنے والے کارکنوں اور لیڈرشپ کو بھی لے جاتا ہے۔ اس اجتماعی ہجرت کا سب سے بڑا نقصان اس پارٹی کو ہوتا ہے جسے لیڈر چھوڑ کر جاتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف اپنی قیادت بلکہ تنظیمی ڈھانچہ، زمینی طاقت اور عوامی اعتماد بھی کھو بیٹھتی ہے۔ نتیجتاً وہ پارٹی سیاسی طور پر کم زور اور غیر مؤثر ہو جاتی ہے اور ناندیڑ میں یہی ہوا۔ جیسے ہی سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ویسے ہی کانگریس کی تنظیمی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔ اشوک چوہان کے ساتھ کانگریس کے چالیس سے زائد سابق کارپوریٹروں اور کئی اہم عہدیداروں نے بھی بی جے پی کا دامن تھام لیا، جس کے نتیجے میں ناندیڑ میں کانگریس تقریباً قیادت سے محروم ہو گئی۔ اسی سیاسی تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو یہ رہا کہ کانگریس کے جو مسلم کارپوریٹرز تھے ان کے لیے نظریاتی اور سماجی وجوہات کی بنا پر بی جے پی میں جانا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے متبادل سیاسی راستے کے طور پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ جانا بہتر سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ناندیڑ میں ایک طرف غیر مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی تو دوسری طرف مسلم اکثریتی بستیوں میں مجلس نے غیر معمولی کامیابی درج کی۔ اس طرح شہر کا سیاسی نقشہ واضح طور پر مذہبی بنیادوں پر منقسم نظر آیا۔
اس کے برعکس لاتور کی صورت حال مختلف رہی۔ وہاں کانگریس کے پاس امیت دیشمکھ کی شکل میں ایک مضبوط، متحرک اور مقبول قیادت موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف غیر مسلم علاقوں بلکہ مسلم بستیوں میں بھی کانگریس اپنا اثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ نتیجتاً لاتور میں مجلس کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور کانگریس نے اپنی سیاسی گرفت قائم رکھی۔ یہ دونوں مثالیں اس حقیقت کو پوری طرح واضح کرتی ہیں کہ بلدیاتی اور مقامی سیاست میں مضبوط قیادت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ جہاں قیادت بکھر جاتی ہے وہاں ووٹ بینک بھی تقسیم ہو جاتا ہے اور جہاں قیادت مضبوط رہتی ہے وہاں سیاسی وفا داریاں بڑی حد تک قائم رہتی ہیں۔ یوں بی جے پی نے ان لیڈروں کے ذاتی سیاسی اثر و رسوخ، مقامی گرفت اور تنظیمی ڈھانچے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف کانگریس بلکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اندر سے کم زور کیا اور اسی حکمتِ عملی کے ذریعے ریاست بھر کے بلدیاتی اداروں پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ عمل صرف انتخابی کامیابی نہیں بلکہ مہاراشٹر کی سیاست میں طاقت کے توازن کو یکطرفہ طور پر بدل دینے کا سبب بھی بنا۔ بلدیاتی انتخابات کے یہ نتائج آئندہ دنوں میں ریاست کے شہروں پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کریں گے۔ جن شہروں میں اب تک گنگا جمنی تہذیب، ہندو مسلم بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کی مثالیں دی جاتی تھیں، وہاں شدت پسندی اور مذہبی منافرت کے بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یہ نتائج نہ صرف بلدیاتی سیاست بلکہ مہاراشٹر کے مجموعی سماجی اور سیاسی مستقبل کے لیے بھی ایک سنگین انتباہ سمجھے جا رہے ہیں۔
مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات: بی جے پی کی پیش قدمی، سیکولر سیاست کی پسپائی اور سماجی تقسیم کا نیا مرحلہ
29 میونسپل کارپوریشنوں کے نتائج: اقتدار بی جے پی کے ہاتھ، کانگریس کو شدید دھکا، مجلس کا تاریخی ابھار

