سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے تشویش بڑھا دی۔فراڈ اور بھاری ٹیکس کے خوف سے تاجر دوبارہ نقد لین دین کی طرف مائل
ملک میں ڈیجیٹل انقلاب نے جہاں زندگی کے بے شمار شعبوں کو آسان بنایا ہے وہیں اس نے جرائم کی ایک نئی شکل کو بھی جنم دیا ہے۔ خاص طور پر یوپی آئی (UPI) اور آن لائن پیمنٹ سسٹم کے ذریعے ہونے والا مالی لین دین آج شہری اور دیہی، دونوں معاشروں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ چند برس قبل جو کام بینکوں کی قطاروں میں کھڑے ہو کر انجام دیے جاتے تھے، وہ آج موبائل فون کے چند کلکس میں مکمل ہو جاتے ہیں۔تاہم، اس تیز رفتار سہولت کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بھی جنم لے چکا ہے، اور وہ ہے آن لائن دھوکہ دہی۔ آئے دن ملک کے مختلف حصوں سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں عام شہری سائبر مجرموں کے جال میں پھنس کر لاکھوں روپے سے محروم ہو رہے ہیں۔ پولیس محکمے کے سائبر سیل کے پاس درج ہونے والے کیسز کی تعداد اس خطرے کی سنگینی کو واضح طور پر بیان کر رہی ہے۔حکومت کی جانب سے کیش لیس اکانومی کو فروغ دینے کے لیے مختلف اسکیموں اور مہمات کے آغاز کے بعد آن لائن ادائیگیوں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ یو پی آئی، موبائل بینکنگ، نیٹ بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹس اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے، بلکہ دیہی علاقوں میں بھی سبزی فروش، رکشہ ڈرائیور اور چھوٹے تاجر بھی موبائل کے ذریعے رقم وصول کرتے نظر آتے ہیں۔بلوں کی ادائیگی، اسکول و کالج کی فیس، سرکاری خدمات، چندہ، حتیٰ کہ روزمرہ کی خریداری بھی ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔اس تبدیلی نے جہاں وقت اور محنت کی بچت کی ہے وہیں عوام کو بینکنگ نظام سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
سائبر مجرموں کے نئے ہتھکنڈے
آن لائن پے منٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ہی سائبر مجرموں نے بھی اپنے طریقے جدید بنا لیے ہیں۔ پہلے جہاں چوری یا فراڈ کے لیے جسمانی موجودگی ضروری تھی وہیں اب ایک فون کال، ایس ایم ایس یا واٹس ایپ لنک کے ذریعے ہی کسی کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ کبھی بینک افسر بن کر کے وائی سی اپڈیٹ کے نام پر کال کی جاتی ہے تو کبھی انعام یا ریفنڈ کے جھانسے میں لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات صارف کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کا اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے یا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں لوگ او ٹی پی یا دیگر خفیہ معلومات فراہم کر دیتے ہیں جس کے بعد ان کا بینک اکاؤنٹ خالی ہو جاتا ہے۔ایسی ہی ایک مثال حال ہی میں حیدرآباد میں دیکھنے میں آئی جس میں ایک شخص سائبر فراڈ کا شکار ہو گیا جہاں ایک جعلی ایس ایم ایس کے ذریعے اس کے بینک کھاتے سے چھ لاکھ روپے اڑا لیے گئے۔اطلاعات کے مطابق متاثرہ شخص کو ایک ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ اس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور اس پر پانچ سو روپے کا چالان عائد ہوا ہے۔ پیغام میں دیے گئے لنک پر جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔جیسے ہی اس شخص نے لنک پر کلک کیا، اس کا بینک اکاؤنٹ خالی ہو گیا۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم پولیس نے اس معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ٹھگ ٹریفک چالان کے نام پر جعلی پیغامات بھیجتے ہیں اور سرکاری ویب سائٹ جیسی دکھنے والی فیک سائٹس تیار کرتے ہیں۔ جب لوگ ان سائٹس پر جا کر ادائیگی کی تفصیلات درج کرتے ہیں تو ٹھگوں کو ان کے موبائل اور بینک اکاؤنٹ تک مکمل رسائی مل جاتی ہے۔اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوا۔ لنک پر کلک کرنے سے ایک ایسا ویب پیج کھلا جو بالکل سرکاری چالان ادائیگی کی ویب سائٹ جیسا دکھائی دے رہا تھا۔ جیسے ہی متاثرہ شخص نے پیمنٹ کی معلومات درج کیں، چند ہی لمحوں میں اس کے اکاؤنٹ سے بڑی رقم نکال لی گئی۔بعض معاملات میں لنک پر کلک کرنے سے موبائل فون میں خطرناک سافٹ ویئر بھی انسٹال ہو جاتا ہے، جس کے ذریعے ٹھگ فون کو کنٹرول کر لیتے ہیں۔سائبر کرائم پولیس نے واضح کیا ہے کہ ٹریفک یا ٹرانسپورٹ محکمہ کبھی بھی ایس ایم ایس، ای میل یا واٹس ایپ کے ذریعے براہِ راست پیمنٹ لنک نہیں بھیجتا اور نہ ہی فوری ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔ پولیس کمشنر نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ایسے پیغامات پر ہرگز بھروسا نہ کریں، کیونکہ ان میں عموماً جلدی پیمنٹ کرنے کی بات کہی جاتی ہے۔پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ چالان کی جانچ صرف سرکاری ویب سائٹس پر کریں۔ گاڑی مالکان echallan.parivahan.gov.in یا اپنی ریاست کی ٹریفک پولیس کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر خود گاڑی کا نمبر ڈال کر چالان چیک کریں، کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔ نامعلوم نمبروں سے آنے والے پیغامات، املا کی غلطیوں یا غیر معمولی معلومات والے میسجز سے ہوشیار رہیں۔ کسی انجان ویب سائٹ پر کارڈ نمبر، پن یا او ٹی پی ہرگز درج نہ کریں اور ایپس صرف گوگل پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے ہی ڈاؤن لوڈ کریں۔اگر کسی کو شبہ ہو کہ اسے جعلی یا مشکوک پیغام موصول ہوا ہے تو فوراً نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر شکایت درج کرائے یا 1930 ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ کرے۔ ساتھ ہی موبائل فون کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں اور ٹو اسٹیپ ویری فکیشن کو فعال کریں۔پولیس کا کہنا ہے کہ احتیاط اور بروقت جانچ ہی اس طرح کی سائبر ٹھگی سے بچنے کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ الرٹ رہیں اور صرف سرکاری و مستند ذرائع کے ذریعے ہی ادائیگیاں کریں۔
سرمایہ کاری کے نام پر ہو رہے ہیں فراڈ
سر،مایہ کاری کے نام پر بھی بڑے پیمانے پر فراڈ سامنے آرہے ہیں ۔حال ہی میں دہلی پولیس نے بین ریاستی سطح پر سرگرم ایک سائبر فراڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے آن لائن سرمایہ کاری فراڈ اور ڈیجیٹل گرفتاری (Digital Arrest) سے متعلق دو الگ الگ معاملات میں چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔پہلے معاملے میں مشرقی دہلی کے لکشمی نگر کے رہائشی ایک شخص نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی کہ اسے سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے ایک جعلی سرمایہ کاری اسکیم کے ذریعے بتیس لاکھ روپے کا دھوکا دیا گیا۔ شکایت کے مطابق متاثرہ شخص کو ایک سوشل میڈیا گروپ کے ذریعے زیادہ منافع کا لالچ دے کر ایک ٹریڈنگ ایپ انسٹال کروائی گئی اور پھر اسے چھ مختلف بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ رقم منتقل ہوتے ہی نہ صرف وہ سوشل میڈیا گروپ غائب ہو گیا بلکہ مذکورہ ایپ بھی بند ہو گئی۔پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ فراڈ کی گئی رقم کو متعدد میول اکاؤنٹس کے ذریعے گھمایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں پنجاب کے لدھیانہ اور کھنہ میں چھاپے مار کر پہلے مرحلے کے دو اکاؤنٹ ہولڈروں کو گرفتار کیا گیا۔ مزید تفتیش کے دوران گجرات کے سریندر نگر سے ارجن سنگھ کو گرفتار کیا گیا جو دوسرے مرحلے کا اکاؤنٹ چلا رہا تھا اور اس نے تقریباً دو لاکھ روپے کمیشن کے طور پر حاصل کیے تھے۔ اس بات کی تصدیق ڈی سی پی (کرائم) آدتیہ گوتم نے کی۔دوسرے معاملے میں ایک امریکی شہری خاتون نے شکایت درج کرائی کہ اسے امریکی سفارت خانے اور دہلی پولیس کے اہلکار بن کر فون کرنے والے دھوکہ بازوں نے ڈیجیٹل گرفتاری کا خوف دلا کر تیس لاکھ روپے منتقل کرنے پر مجبور کیا۔ پولیس نے رقم کے لین دین کا سراغ لگاتے ہوئے پنجاب کے ایس اے ایس نگر میں واقع ایک فرم تک رسائی حاصل کی۔اس سلسلے میں موہالی اور چندی گڑھ میں چھاپہ مار کارروائی کی گئی، جہاں مذکورہ فرم کے ایک پارٹنر ورون کو گرفتار کیا گیا جو اس کیس میں پہلے مرحلے کا فائدہ اٹھانے والا شخص بتایا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق دونوں معاملات میں مزید تفتیش جاری ہے اور سائبر فراڈ کے اس نیٹ ورک سے جڑے ہوئے دیگر افراد کی گرفتاری کی جا سکتی ہے۔
آن لائن رقم کے لین دین میں جیسے جیسے اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے اس سے جڑے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں بعض مسائل ایسے ہیں جن کا سامنا خاص طور پر دکان داروں اور تاجروں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ دور میں بیشتر دکان دار اپنے کاروباری معاملات میں آن لائن ادائیگیوں کو ترجیح دے رہے ہیں اور گاہکوں سے یو پی آئی یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رقم وصول کر رہے ہیں۔لیکن اس نظام کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ کئی مرتبہ رقم بھیجنے والوں میں بعض افراد فراڈ کی رقم بھی دکان داروں کے کھاتوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ جب ایسے معاملات پولیس کی سائبر سیل کے پاس پہنچتے ہیں تو فراڈ کرنے والے شخص کے بینک اکاؤنٹ کو ٹریس کیا جاتا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آتی ہے کہ فراڈ کی رقم جن جن بینک کھاتوں میں منتقل ہوئی ہے ان تمام اکاؤنٹس سے وہ رقم عارضی طور پر سیل کر دی جاتی ہے، جسے انگریزی اصطلاح میں لین اماؤنٹ (Lein Amount) کہا جاتا ہے۔ یہ رقم بظاہر بینک کھاتے میں نظر آتی ہے، مگر اکاؤنٹ ہولڈر اسے استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک فراڈ کی پوری رقم وصول نہ ہو جائے اور متعلقہ کیس کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ اس پورے عمل کے دوران جن دکان داروں کے اکاؤنٹس سے رقم سیل کی جاتی ہے، ان کا اس فراڈ میں کوئی قصور نہیں ہوتا، اس کے باوجود انہیں طویل عرصے تک اپنی ہی رقم کے استعمال سے محروم رہنا پڑتا ہے۔درحقیقت فراڈ کرنے والا شخص کسی دکان دار سے سامان خریدتا ہے اور اس کے بدلے میں اپنے یا کسی فراڈ شدہ اکاؤنٹ سے رقم ٹرانسفر کر دیتا ہے۔ دکان دار کے لیے یہ رقم بظاہر ایک قانونی لین دین ہوتی ہے، کیونکہ اس نے سامان فروخت کیا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ رقم کسی فراڈ شدہ اکاؤنٹ سے منتقل ہوئی ہوتی ہے، اس لیے پولیس تفتیش کے دوران جس کھاتے میں یہ رقم آئی ہوتی ہے، وہاں اس رقم کو روک لیتی ہے۔
اگرچہ اصولی طور پر یہ عمل بظاہر دکان داروں کے ساتھ ناانصافی محسوس ہوتا ہے لیکن پولیس کو یہ اختیارات اس لیے دیے گئے ہیں تاکہ فراڈ کی رقم کا سراغ لگایا جا سکے اور اس شخص تک پہنچا جا سکے جس نے دھوکہ دہی کی ہے۔ کئی مواقع پر دکان دار اس خریدار کی شناخت کر بھی دیتے ہیں لیکن اکثر فراڈ کرنے والے ایسے مقامات سے خریداری کرتے ہیں جہاں دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس کی وجہ سے ان تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس طرح کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، جس کے سبب دکان داروں کو اپنے کاروباری معاملات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے تاجر اس صورتحال سے اس قدر پریشان ہیں کہ انہوں نے آن لائن ادائیگی اور ڈیجیٹل طریقوں سے رقم وصول کرنا بند کر دیا ہے اور اب وہ صرف نقد رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف چھوٹے شہروں میں بلکہ بڑے شہروں میں بھی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے، جو ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔
سرکاری نوکری کا جھانسہ دے کر لاکھوں کی ٹھگی، بین اضلاعی سائبر فراڈ ملزم گرفتار
اعظم گڑھ کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن نے بین اضلاعی سطح پر سرگرم ایک سائبر فراڈ ملزم کو گرفتار کیا ہے، جو بنیادی شکشا ادھیکاری (BSA) بن کر ECCE ٹیچر (ایجوکیٹر) کی تقرری کے جعلی تقرری نامے دلانے کا جھانسہ دے کر لوگوں سے لاکھوں روپے اینٹھ رہا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار شدہ ملزم کی شناخت رام سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جسے جمعہ کے روز پرتاب گڑھ کے کسوا پٹی علاقے سے تکنیکی تجزیے اور موبائل لوکیشن کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔دیہی علاقے کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چراغ جین نے بتایا کہ رام سنگھ جو کہ پریاگ راج کا رہائشی ہے، خود کو اعظم گڑھ کا بیسک شکشا ادھیکاری ظاہر کر کے امیدواروں کو ECCE ٹیچر کے عہدوں پر تقرری کا لالچ دیتا تھا۔ اس نے ایک جعلی ای میل آئی ڈی uttarpradeshbsaofficeazamgarh@gmail.com بنائی تھی اور واٹس ایپ و ٹرو کالر پر بی ایس اے کے نام اور تصویر کا غلط استعمال کر کے امیدواروں کا اعتماد حاصل کرتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ شخص امیدواروں سے دس سے چالیس ہزار روپے تک کی رقم کا مطالبہ کرتا تھا، جو عوامی سروس سنٹروں کے کیو آر کوڈز کے ذریعے وصول کی جاتی تھی۔ رقم ملتے ہی امیدواروں کے موبائل نمبر بلاک کر دیے جاتے تھے۔گرفتاری کے دوران ملزم کے قبضے سے دو موبائل فون ضبط کیے گئے جن کی جانچ میں فراڈ سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے۔ ان میں جعلی ای میلز، واٹس ایپ پروفائلز، ECCE ٹیچر امیدواروں کی فہرستیں، ٹیلیگرام گروپس کے اسکرین شاٹس اور دیگر اہم ڈیٹا شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ رام سنگھ کے خلاف اعظم گڑھ کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل امروہہ میں بھی اس کے خلاف فراڈ کے مقدمات درج پائے گئے ہیں۔ پولیس اس معاملے میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔ایس پی (رورل) نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری نوکری یا تقرری کے نام پر ای میل، فون کال یا سوشل میڈیا کے ذریعے رقم طلب کیے جانے کی صورت میں ہوشیار رہیں اور فوری طور پر متعلقہ پولیس یا سائبر کرائم یونٹ کو اطلاع دیں۔
کیو آر کوڈ اور جعلی ایپس کا جال
ڈیجیٹل سہولت کے نام پر بڑھتا ہوا سائبر فریب
ڈیجیٹل دور میں جہاں آن لائن ادائیگیوں نے زندگی کو سہل اور تیز بنا دیا ہے، وہیں اس سہولت کے سائے میں سائبر جرائم کی ایک خطرناک دنیا بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر کیو آر کوڈ (QR Code) اور جعلی موبائل ایپس کے ذریعے ہونے والی دھوکہ دہی نے عام شہریوں، دکان داروں اور تاجروں کے لیے سنگین مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ آئے دن ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں چند لمحوں کی لاعلمی یا بھروسہ لوگوں کو لاکھوں روپے کے نقصان سے دوچار کر دیتا ہے۔ کیو آر کوڈ دراصل آن لائن ادائیگی کو آسان بنانے کا ایک ذریعہ ہے، جس کے ذریعے صارف چند سیکنڈ میں رقم منتقل کر سکتا ہے۔ دکانوں، ہوٹلوں، رکشوں اور چھوٹے کاروباروں میں کیو آر کوڈ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ تاہم، اسی سہولت کو سائبر مجرموں نے دھوکہ دہی کا ہتھیار بنا لیا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ فراڈ کرنے والے افراد رقم وصول کرنے کے بہانے دکان دار یا صارف سے کیو آر کوڈ اسکین کرواتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ رقم وصول نہیں بلکہ بھیج رہے ہوتے ہیں۔ بعض معاملات میں فراڈ کرنے والا شخص دعویٰ کرتا ہے کہ رقم موصول کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کرنا ضروری ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔اس طرح ایک لمحے میں اکاؤنٹ سے رقم کٹ جاتی ہے۔ کیو آر کوڈ کے ساتھ ساتھ جعلی موبائل ایپس بھی سائبر فراڈ کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہیں۔ یہ ایپس بظاہر بینک، ٹریڈنگ پلیٹ فارم، کے وائی سی اپڈیٹ یا سرکاری اسکیموں سے متعلق نظر آتی ہیں، مگر درحقیقت یہ صارف کا ڈیٹا چرانے اور اس کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ فراڈ کرنے والے افراد سوشل میڈیا، واٹس ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے لنک بھیج کرصارفین کو ایسی ایپس انسٹال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جیسے ہی ایپ انسٹال ہوتی ہے، صارف کی ذاتی معلومات، او ٹی پی اور بینک تفصیلات سائبر مجرموں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں، جس کے بعد اکاؤنٹ سے رقم صاف ہو جاتی ہے۔ ان جرائم کی ایک بڑی وجہ عوام کی ڈیجیٹل عدم معلومات ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی یہ نہیں جانتے کہ کیو آر کوڈ صرف رقم بھیجنے کے لیے اسکین کیا جاتا ہے، رقم وصول کرنے کے لیے نہیں۔ اسی طرح جعلی اور اصلی ایپس میں فرق کرنا عام صارف کے لیے مشکل ہو جاتا ہے، جس کا فائدہ سائبر مجرمین اٹھاتے ہیں۔ خاص طور پر دکان دار اور چھوٹے تاجر ان مسائل کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ ایک طرف فراڈ کی رقم ان کے اکاؤنٹ میں آ جاتی ہے اور بعد میں پولیس کی جانب سے وہ رقم لین اماؤنٹ کے طور پر سیل کر دی جاتی ہے، تو دوسری طرف جعلی کیو آر کوڈ اور ایپس کے ذریعے ان کی کمائی چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال سے پریشان ہو کر کئی تاجروں نے آن لائن ادائیگی بند کر کے دوبارہ نقد لین دین کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے۔کیو آر کوڈ اور جعلی ایپس کے جال سے بچنے کے لیے عوام کو محتاط رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ کسی بھی صورت میں انجان افراد کے کہنے پر کیو آر کوڈ اسکین نہ کریں۔ ایپس صرف مستند پلیٹ فارموں سے ہی ڈاؤن لوڈ کریں اور کسی بھی مشتبہ لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ کوئی بھی بینک یا سرکاری ادارہ فون یا واٹس ایپ کے ذریعے او ٹی پی یا ذاتی معلومات طلب نہیں کرتا۔
آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے معاملات نے پولیس کے سائبر سیل کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ہر روز درجنوں شکایات درج ہو رہی ہیں، جن میں رقم کی واپسی، مجرموں کی شناخت اور قانونی کارروائی پیچیدہ عمل بن چکے ہیں۔ اگرچہ پولیس جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے ذریعے ان جرائم سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن عوام کی ڈیجیٹل سے عدم واقفیت ان کوششوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سائبر فراڈ کا شکار ہونے والے افراد میں بزرگ، کم تعلیم یافتہ افراد اور وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو ٹیکنالوجی کے استعمال سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ لالچ، خوف اور جلد بازی سائبر مجرموں کے سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔ ایک لمحے کی غفلت یا غلطی زندگی بھر کی کمائی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔آن لائن دھوکہ دہی سے بچاؤ کے لیے عوامی سطح پر بیداری بے حد ضروری ہے۔ کسی بھی صورت میں او ٹی پی، پن نمبر یا بینک کی خفیہ معلومات کسی کو فراہم نہ کی جائیں۔ انجان نمبروں سے آنے والی کالوں اور مشتبہ لنکوں سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ کوئی بھی بینک یا سرکاری ادارہ فون پر حساس معلومات طلب نہیں کرتا۔اگر کسی کے ساتھ آن لائن دھوکہ دہی ہو جائے تو تاخیر کیے بغیر اپنے بینک سے رابطہ کرنا، سائبر ہیلپ لائن پر اطلاع دینا اور متعلقہ پورٹل پر شکایت درج کروانا نہایت ضروری ہے۔ بروقت کارروائی سے رقم واپس ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور مجرموں تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔ڈیجیٹل ادائیگیاں آج کے دور کی ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہیں۔ انہیں مکمل طور پر نظرانداز کرنا ممکن نہیں، مگر ان کا محفوظ استعمال ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سہولت کے ساتھ ساتھ احتیاط اور شعور کو بھی فروغ دیا جائے۔ جب تک عوام ڈیجیٹل طور پر باخبر نہیں ہوں گے، آن لائن دھوکہ دہی جیسے جرائم پر قابو پانا مشکل رہے گا۔ ہوشیاری، احتیاط اور فوری کارروائی ہی اس نئے دور کے مالی تحفظ کی ضمانت بن سکتی ہے۔