عالمی سطح پر انسانی حقوق اور اجتماعی تشدد کے امکانات پر نظر رکھنے والے معتبر ادارے امریکی ہولوکاسٹ میموریل میوزیم نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں ایک نہایت تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان آئندہ دو برسوں کے دوران عام شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر منظم تشدد یعنی (ماس اٹراسیٹیس) کے شدید خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی ہے بلکہ ہندوستان کے لیے ایک سنگین انتباہ بھی ہے، جسے نظر انداز کرنا ملک کے جمہوری ڈھانچے، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وقار کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی ہولوکاسٹ میوزیم کے Early Warning Project کی دسمبر 2025 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو 168 ممالک میں سے چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں ریاست کے اندر اجتماعی قتل و غارت (Intrastate Mass Killings) کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ اس فہرست میں ہندوستان سے اوپر صرف تین ممالک ہی ہیں، میانمار، چاڈ اور سوڈان۔ یہ تین ممالک اس وقت شدید خانہ جنگی کا شکار ہیں، وہاں پورا حکومتی نظام درہم برہم ہوچکا ہے، میانمار اور سوڈان جیسے ممالک میں تو پہلے ہی سے بڑے پیمانے پر قتل و غارت جاری ہے، جبکہ ہمارے ملک کا ان ممالک کے ساتھ ہونا بڑی حیرت کی بات ہے۔ ہمارے ملک میں فی الحال اتنے وسیع پیمانے کی خونریزی نہیں ہو رہی ہے، مگر رپورٹ کے مطابق اس کے امکانات انتہائی خطر ناک حد تک پائے جاتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو ہمارے ملک کے معاملے کو خاص طور پر تشویش ناک اور قابلِ توجہ بنا رہی ہے۔
رپورٹ کیا کہتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 2026 کے اختتام تک عام شہریوں کے خلاف دانستہ اور منظم تشدد کے واقعات رونما ہونے کا 7.5 فیصد امکان ہے۔ یہ تشدد ایسے نوعیت کے ہوں گے جس میں مسلح گروہ کسی خاص شناخت کی بنیاد پر کم از کم ایک سال میں ایک ہزار یا اس سے زائد عام شہریوں کو قتل کریں، جن کا کسی بھی تشدد یا قتل و غارت گری سے تعلق نہیں ہوگا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی خاص شناخت کا تعلق کسی بھی نسل، مذہب، کسی سیاسی وابستگی یا پھر کسی بھی جغرافیائی تعلق کا ہو سکتا ہے۔
یہ رپورٹ امریکی ہولوکاسٹ میوزیم اور ڈارٹ ماؤتھ کالج کے محققین کی مشترکہ کاوش سے تیار کی گئی ہے جنہوں نے کئی دہائیوں پر محیط تاریخی ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے۔ ان محققین نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ ماضی میں کن حالات اور علامات کے بعد مختلف ممالک میں اجتماعی قتل و غارت شروع ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے انہی علامات کو موجودہ عالمی حالات پر منطبق کر کے دیکھا پھر یہ رپورٹ ترتیب دی۔ ان کی تحقیق کے مطابق آج کون سے ممالک ہیں جو ان ہی خطرناک مراحل سے گزر رہے ہیں، وہ کون سے ممالک ہیں جو ماضی میں اجتماعی قتل سے پہلے کے حالات سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں؟ انہی حالات کی مشابہت سے منطبق کیا۔
رپورٹ میں جو ماڈل اپنایا گیا ہے اس میں تیس سے زائد عوامل کو مد نظر رکھا گیا ہے جن میں آبادی کا حجم، معاشی اشاریے، سیاسی آزادی کی سطح، سماجی عدم مساوات، مسلح تنازعات، اقلیتی گروہوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ، حکومتی طاقت کا استعمال جیسے عوامل کو شامل کیا گیا۔ رپورٹ میں تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر سال دنیا میں اوسطاً ایک یا دو نئے ممالک ایسے ہوتے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر شہریوں کا قتل عام شروع ہو جاتا ہے۔
رپورٹ ترتیب دینے والے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ نتائج حتمی پیش گوئی نہیں بلکہ خطرات کی نشان دہی کی بنیاد پر ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ ’’ماڈل سبب اور نتیجے پر مبنی نہیں ہے۔ یہ عوامل لازمی طور پر قتل و غارت کی وجہ نہیں بنتے، بلکہ ماضی میں ان کا تعلق ایسے واقعات سے رہا ہے۔‘‘ مثال کے طور پر کسی ملک کی بڑی آبادی بذاتِ خود تشدد کا سبب نہیں بنتی مگر تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی آبادی والے ممالک میں ایسے واقعات کا امکان زیادہ رہا ہے، لہٰذا یہ ایک اشاریہ ہے، نہ کہ براہ راست الزام؟
رپورٹ میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اس تجزیے میں 2024 تک دستیاب عوامی ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے۔ 2025 کے تازہ واقعات اس میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ بعض ممالک میں معلومات تک محدود رسائی کی وجہ سے اصل صورت حال پوری طرح عیاں نہیں ہو پائی ہے، رپورٹ واضح کرتی ہے کہ یہ تجزیہ محض ایک ذریعہ ہے حتمی فیصلہ نہیں۔ یہ بحث اور مزید تحقیق کے لیے ایک نقطۂ آغاز ہے۔
ہندوستانی تناظر خطرے کی گھنٹی کیوں؟
اگر ہندوستان جیسے ملک کو جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، اس فہرست میں اس مقام پر رکھا جا رہا ہے تو اس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ برسوں میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ہجومی تشدد یعنی ماب لینچنگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اسی طرح حکومتی اداروں کا جانب دارانہ کردار بھی سامنا آیا ہے، پھر اسی طرح سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بھی بدلتا دیکھا گیا ہے، یہ اور اس جیسے عوامل نے سماج کو شدید طور پر منقسم کر دیا ہے۔ یہی وہ علامات ہیں جنہیں عالمی ادارے خطرے کی ابتدائی علامات (Early Warning Signs) کے طور پر دیکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فہرست میں شامل ٹاپ تیس ممالک کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں، یہ جانچ کریں کہ آیا عام شہریوں پر منظم حملوں کا امکان کہیں بڑھ تو نہیں رہا، اگر حملوں کا امکان بڑھ رہا ہے تو اس ممکنہ محرکات کیا ہیں اس کی نشان دہی کریں۔ مثال کے طور پر آیا اس کی وجہ انتخابات تو نہیں یا کوئی سیاسی انتشار تو نہیں ہے یا پھر فرقہ وارانہ واقعات تو نہیں؟ ان سارے عوامل پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔
رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ بین الاقوامی ادارے اور مرکزی حکومتیں اپنے طور پر تفصیلی جائزہ لیں کہ خطرات کی وجوہات کیا ہیں؟ کون سے محرکات ہیں جو سب سے زیادہ سنگینی پیدا کرنے والے ہیں؟ معاشرے کی وہ کون سی مثبت قوتیں ہیں جو تشدد کو روک سکتی ہیں؟
ماضی کی تلخ مثالیں
2014 سے ہر سال Early Warning Project ایسی رپورٹس جاری کر رہا ہے۔ اس نے حالیہ سال میں میانمار کے اندر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے بارے پیش قیاسی کی تھی جو کہ صحیح ثابت ہوئی، اسی طرح جنوبی سوڈان سے متعلق بھی اس نے پیشن گوئی کی تھی وہ بھی صحیح ثابت ہوئی، پھر اسی طرح ایتھوپیا کے بارے میں بھی اس کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی، ان سارے ممالک میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کی بات کہی تھی، جو درست ثابت ہوئی۔ ان میں سے کئی معاملات میں انتباہ دئیے گئے تھے مگر بروقت کارروائی نہیں کی گئی، جن کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔
انتباہ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت
موجودہ حالات کے تناظر میں یہ کہنا نہایت ضروری ہے کہ اجتماعی قتل و غارت گری اچانک شروع نہیں ہوتی بلکہ اس کے آثار پہلے سے نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اگر ان انتباہات کو نظر انداز کیا گیا تو تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے اور اس بار اس کا خمیازہ کروڑوں بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ رپورٹ ایک موقع بھی ہے کہ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے، نفرت انگیز سیاست سے اپنے آپ کو الگ کرلے اور آئینی قدروں، انسانی وقار اور سماجی انصاف کو مضبوط کرے۔ اگر آج بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
ہندوستان اجتماعی مظالم کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل
امریکی ہولوکاسٹ میوزیم کی رپورٹ، انتباہی اشارات اور ہندوستانی تناظر

