ڈاکٹر صاحب کی حیات و خدمات پر مختلف علمی اور ملی شخصیات کا اظہار تعزیت
ادارہ ساز شخصیات وہ ہوتی ہیں جو اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں، بلکہ جیتی جاگتی روایتیں اور مضبوط بنیادیں چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کا خلا پُر ہونے میں دہائیاں لگ جاتے ہیں کیونکہ وہ افراد کی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی فکری و تخلیقی و نظریاتی تربیت کا خدمات انجام د ے رہے ہوتے ہیں۔انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) اور آل انڈیا ملی کونسل کے بانی سربراہ ڈاکٹر محمد منظور عالم کا گزشتہ دنوں 13جنوری کو انتقال ہو گیا ۔مرحوم ڈاکٹر منظور عالم بھی ایسے ہی ایک ادارہ ساز اورہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے جو بیک وقت متعدد اداروں کے ذریعہ ملک و ملت کی تعمیری خدمات انجام دے رہے تھے ۔وہ ایک سنجیدہ عالم،دور اندیش رہنما اور ملک و ملت کے بے لوث خادم تھے۔انہوں نے آئی او ایس کے تحت قوم کی فکری و نظریاتی تربیت کے لیے مختلف اہم موضوعات پر سمینار اور ورکشاپ کا انعقاد کیا ،متعدد تحقیقی کتابوں کی اشاعت کی تو آل انڈیا ملی کونسل کی شکل میں ملک بھر کے مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی رہنمائی کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کی تشکیل کی جس میں تا حیات ڈاکٹر صاحب سرگرم عمل رہے۔
وہ ایک ایسے تناور درخت تھے جس کی چھاؤں میں متعدد تنظیم اور ادارے علمی،وتحقیقی میدان میں سرگرم رہے۔ انہوں نے اداروں کو صرف اینٹ پتھر سے نہیں بلکہ اصولوں، دیانت اور وژن سے تعمیر کیا۔ یقینی طور پر ڈاکٹر منظور عالم کی صورت میں آج قوم نے ایک ایسا رہنما کھو دیا ہے جو خواب دیکھنا بھی جانتا تھا اور ان خوابوں کو تعبیر کی شکل دینا بھی۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کا درخشاں کیریئر متعدد ممالک اور اداروں پر محیط رہا۔ انہوں نے سعودی عرب کی وزارت خزانہ میں معاشی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ریاض کی امام محمد بن سعود یونیورسٹی میں اسلامی معاشیات کے اسوسی ایٹ پروفیسر رہے۔ مدینہ منورہ کے کنگ فہد پرنٹنگ کمپلیکس میں قرآن کے ترجمے کے چیف کوآرڈینیٹر رہے۔ ملائشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ہندوستان کے چیف نمائندے کی ذمہ داری ادا کی۔ اسلامی ترقیاتی بینک کے اسکالرشپ پروگرام کمیٹی کے فعال رکن بھی رہے۔ مسلم سوشل سائنسز ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔ فقہ اکیڈمی۔ انڈین ایسوسی ایشن آف مسلم سوشل سائنٹسٹس۔ انڈو عرب اکنامک کوآپریشن فورم اور کئی عالمی مشاورتی بورڈز سے وابستہ رہے اور حیرت انگیز طور پر وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک فعال و سر گرم رہے۔
ان کے انتقال پر ملک بھر کی متعدد تنظیموں ،اداروں اور سیاسی ،سماجی و ملی اور تعلیمی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک عہد کا خاتمہ قرار دیا ہے۔ایک ایسے دور میں جب فرقہ وارانہ جانب داری اور تعصب کی شکار ملت دو راہے پر کھڑی ہے ایک دور اندیش قائد کا چلا جانا یقیناًایک بڑا علمی وفکری خسارہ ہے۔
پائیدار علمی فضا قائم کرنے میں ڈاکٹر صاحب کا غیر معمولی کردار
جماعتِ اسلامی ہند کے امیر جناب سید سعادت اللہ حسینی نے ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال کے سانحے کو مسلم امت اور اسلامی علمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک سنجیدہ عالم، دوراندیش ادارہ ساز اور ملت کے بے لوث خادم تھے۔ ان کی زندگی فکری دیانت داری، بلند اخلاقی ، دانش مندی اور ایمان و یقین سے عبارت تھی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی پوری زندگی فکر کی آبیاری ، اداروں اور افراد کی تشکیل میں صرف کی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں فوری ردِبعمل کے بجائے ہمیشہ تحقیق، عقل و استدلال کو بنیاد بنایا۔ڈاکٹر منظور عالم کا ماننا تھا کہ قومیں محض جذبات یا احتجاج سے نہیں بلکہ مضبوط علمی تحقیق ، مستند اعداد و شمار اور معاشرے اور ریاست کے ساتھ ذمہ دارانہ تعامل کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔سید سعادت اللہ حسینی نے ہندوستان میں مسلم فکر کے لیے پائیدار علمی فضا قائم کرنے میں ڈاکٹر منظور عالم کے غیر معمولی کردار کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
امیر جماعت نے ڈاکٹر مرحوم کی سماجی اور معاشرتی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ معاشرے میں پائیدار تبدیلی صرف ایمانی فکر، علمی کاوش اور خدمت پر مبنی قیادت سے آتی ہے۔ اگرچہ وہ اپنے رب کے حضور لوٹ چکے ہیں، مگر ان کی فکری وراثت اور غیر معمولی خدمات آئندہ نسلوں کی رہنمائی کرتی رہیں گی ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
ڈاکٹر منظور عالم کی وفات ایک نا قابل تلافی خسارہ
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ پوری ملت اسلامیہ ہند کے لیے ڈاکٹر منظور عالم کی وفات ایک نا قابل تلافی خسارہ ہے، اللہ نے ان کو بڑی صلاحیتوں اور بہت سی خوبیوں کا مالک بنایا تھا، وہ اپنی خدمات کے لیے نہ صرف ہندوستان کے اہل علم کے درمیان متعارف تھے بلکہ عالمی سطح پر خواص کے درمیان ان کا تعارف تھا ۔ انہوں نے ہندوستان میں مسلم تھنک ٹینک کی بنیاد رکھی جس کو بڑی قبولیت حاصل ہوئی، آل انڈیا ملی کونسل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے قیام میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے رفیق کار رہے، ان کے قائم کیے ہوئے ادارہ انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نے نئے موضوعات پر تحقیق کا نمایاں کام انجام دیا، اور اس کو ملک بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی ، ان کی وفات غیر معمولی حادثہ ہے۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بھی رکن رکین تھے اور ان کے مشوروں کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی، اللہ تعالیٰ بال بال ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور امت کو ان کا بدل عطا کرے۔
آخری سانس تک ملک و ملت کے اہم امور و مسائل کی طرف متوجہ رہے:
مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ بورڈ کے ایک اہم رکن قدیم اساسی رکن، انسیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اور کئی ملی تنظیموں و اداروں کے مؤسس،ایک متحرک وفعال مفکر ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال نے بھی ایک گہرا خلا پیدا کر دیاہے۔ موصوف نےآئی او ایس کی شکل میں نہ صرف ایک بہترین تحقیقی ادارہ و تھنک ٹینک قائم کرکے وقت کی ایک اہم ترین ضرورت کو پورا کیا تھا بلکہ وہ اسلامی فقہ اکیڈمی اور آل انڈیا ملی کونسل کے مؤسسین میں سے بھی تھے۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم کئی دنوں سے سخت علیل تھے لیکن وہ آخری سانس تک ملک و ملت کے اہم امور و مسائل کی طرف متوجہ رہے۔
ڈاکٹر صاحب ملک و ملت کو درپیش مسائل پر وہ اکثر فکر مند رہتے
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی رحلت ملک و ملت کا ایک عظیم نقصان ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے سعودی عرب کی پر تعیش زندگی کو چھوڑ کر ہندوستان میں رہ کر ملک و ملت کی خدمت کو ترجیح دی۔ وہ صرف انسیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ہی مؤسس نہیں تھے بلکہ کئی اہم ادروں اور تنظیموں کی بنیاد انہوں نے ڈالی تھی۔ اسلامی فقہ اکیڈمی ہو یا آل انڈیا ملی کونسل، تعاون ٹرست ہو یا جینون پبلیکیشن و قاضی پبلیشرز ان کے معماروں و مئوسیسن میں بھی ان کا نام سر فہرست ہے۔
ڈاکٹر صاحب ایک دردمند دل کے مالک تھے، ملک و ملت کو درپیش مسائل پر وہ اکثر فکر مند رہتے تھے۔ مجھے1986 سے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم کی وفات سے ملت کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے اور جنت الفردوس میں انیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
وہ ہمیشہ قومی یکجہتی کے لیے کام کرتے رہے
آرٹ آف لیونگ کے سر براہ شری شری روی شنکر نے بھی ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم تحریک اور حوصلے کا ایک مضبوط ستون تھے۔ وہ ہمیشہ قومی یکجہتی کے لیے کام کرتے رہے۔ انہوں نے محروم طبقات کے لیے ڈاکٹر صاحب کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کا حاشیے پر موجود لوگوں کو اوپر اٹھانا۔ ان کے آنسو پونچھنا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا یہی ان کی زندگی کا مشن تھا۔ یہی خدمت کی سب سے اعلیٰ شکل ہے۔ یہی حقیقی عبادت ہے، وہ ایک ایسے رول ماڈل تھے جو اختلافات سے بلند ہو کر امتیاز کا شکار افراد کے ساتھ کھڑے رہے۔ دعا ہے ان کی روح کو سکون ملے اور لواحقین کو صبر عطا ہو۔
اسلامی معاشیات کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی اور جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نےمشترکہ بیان میں ڈاکٹر منظور عالم کے انتقال پر گہرے رنج والم کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی حیاتِ مستعار کو علم، تحقیق اور ادارہ سازی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ انہوں نے اسلامی معاشیات کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS) کے بانی تھے، جس کے ذریعے انہوں نے فکری رہنمائی فراہم کی اور سیکڑوں معیاری تحقیقی کتب و مجلات شائع کیے۔ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے متعدد نوجوان قلم کاروں اور محققین کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ آل انڈیا ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے بھی ان کی سرگرمیاں قابلِ قدر ہیں۔جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ان کے اہلِ خانہ اور تمام وابستگان سے دلی تعزیت کا اظہار ہے۔
پوری زندگی قوم و ملت کے مسائل کے حل کے لیے وقف
انڈین مسلمس فار سِول رائٹس کے چیئرمین اور سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب نے انہیں ایک ہمہ جہت مفکر اور عالمی سطح کا دانشور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی قوم و ملت کے مسائل کے حل کے لیے وقف رہی۔
انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چیئرمین اور سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب نے ممتاز مفکر، نظریہ ساز، محقق اور عظیم علمی شخصیت ڈاکٹر محمد منظور عالم کے سانحۂ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک و ملت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں محمد ادیب نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم کی شخصیت پورے ملک کے لیے ایک عظیم فکری سرمایہ تھی۔ وہ محض ایک عالم یا محقق نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تھنک ٹینک، صاحبِ بصیرت دانش ور اور عالمی سطح پر معروف مفکر تھے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے دکھ درد کے مداوے اور مستقبل کی راہوں کی نشاندہی میں مصروف رہے۔
موجودہ حالات کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی وکالت کرتے تھے:
معروف مصنف مولانا عبدالحمید نعمانی نے ڈاکٹر منظور عالم کی رحلت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم ایک نظریاتی شخصیت کے حامل تھے ۔ملک میں 2014 کے بعد سے بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول اور ہندوتوا کی سیاست سے بہت فکر مند تھے ۔جب میں نے جمعیۃ علمائے ہند سے استعفیٰ دیا تو انہوں نے فوری طور پر مجھ سے رابطہ کیا اور ہندوتوا پر مبنی میری تحریروں کو کتابی شکل میں شائع کرائی ۔ وہ خاص طور پر سیکولر طاقتوں کو ملک کے آئین کی تمہید پر مبنی سیاست کو فروغ دینے کی ہدایت دیتے تھے۔انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی مختلف تنظیموں اور اداروں کے سربراہوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی ۔تحقیقی میدان میں ہندوتوا پرمبنی تحریروں پر ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے رہے۔مولانا عبد الحمید نعمانی نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ جو موجودہ حالات ہے اس کا مقابلہ تمام ملی تنظیمیں مل کر کریں۔ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف باتیں نہیں کرتے تھے بلکہ اس پر عمل بھی کرتے تھے ۔
اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی۔۔۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کا سانحہ ارتحال حقیقی معنوں میں ایک عہد کا خاتمہ

