بیتول میں اسکول کو مدرسہ بتا کر توڑ دیا گیا ،کانگریس کا تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کا بی جے پی پر الزام
اوڈیشہ میں پروان چڑھتی نفرت، گاؤ رکشکوں نے 35 سالہ نوجوان کو گھیر کر مار ڈالا
وزیراعظم کے آسام وبنگال دورے کے بعد سیاست تیز۔بنگلہ دیشی ہائی کمیشن نےآسام حکومت پر جیل وزٹ کی اجازت نہ دینے کا الزام
شمالی ہند میں اس سال سردی نے سب کی ہوا نکال دی ہے۔ پہاڑوں سے زیادہ میدانی علاقوں میں ٹھنڈ کا اثر ہے۔ کہر اور دھند نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے تاہم، قومی دارالحکومت دلی سے کاشی تک بلڈوزر کی انہدامی کارروائی نے ماحول گرم کر رکھا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے ایکس پر ٹویٹ کیا" تزیین کاری اور کمرشلائزیشن کے نام پر آپ نے بنارس کے منی کرنیکا گھاٹ پر بلڈوزر چلا کر صدیوں پرانی مذہبی، ثقافتی و روحانی وراثت کو تباہ کر دیا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ تاریخ کے ہر ورثے کو مٹا کر بس اپنی نیم پلیٹ چپکا دی جائے؟"
بنارس کی تاریخی دال منڈی کے بعد مندروں کی باری
کاشی میں وشوناتھ مندر کاریڈور کے نام پر ایک عرصے سے توڑ پھوڑ اور توسیع کا کام چل رہا ہے ۔دال منڈی کے ایک دکان دار کا بیان وائرل ہو چکا ہے جس میں وہ کہتا ہے" دال منڈی میں دو دکانیں ہیں، دونوں پر بلڈوزر چل رہا ہے۔ بنارس میں جو ہو رہا ہے بہت اچھا ہو رہا ہے۔ اگر میں وزیراعلیٰ ہوتا تو لوگوں پر بھی بلڈوزر چلوا کر زمین کے برابر کر دیتا "سنجیو جائیسوال نام کے اس دکان دار کے بیان سے دال منڈی کے دیگر دکان داروں کا درد سمجھا جا سکتا ہے جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔ دال منڈی کے راستے میں آنے والی چھ مسجدیں بھی توسیع کی زد میں آرہی ہیں جس کے سبب مسجد کمیٹی و انتظامیہ پریشان ہیں۔
اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے نے کہا ہے بی جے پی ناستک ہے یعنی خدا پر اسے یقین نہیں ہے اور کاشی کے لوگ بہت غصے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی کرینکا گھاٹ کی تزئین کاری کے نام پر پوری طرح سے تباہ کر دیا گیا ہے جو کہ ہماری پشتینی جگہ ہے۔ انہوں نے منی کرنیکا گھاٹ اور دال منڈی میں توڑ کو روک کر متاثرہ افراد کی باز آباد کاری کی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے انہدامی کارروائی کرنے والے افسروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔کانگریس کے الزام پر یو پی کے وزیراعلی کی یوگی آدتیہ ناتھ کو کاشی جا کر صفائی دینی پڑی۔ انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ منی کرنیکا مندر معاملے میں کانگریس اے آئی جنریٹڈ ویڈیو بنا کر ان کی سرکار کو بدنام کرنے کا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مندر کی مورتیاں محفوظ ہیں ۔اس سلسلے میں وارانسی کے ایک تھانے میں ایکس ٹویٹر ہینڈل پر مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔صحافی ابھشیک اپادھیائے کے مطابق عام آدمی پارٹی لیڈر سنجے سنگھ اور بہار کے پورنیا سے ایم پی پپو یادو کے خلاف بھی ایف ائی ار درج کی گئی ہے۔
دال منڈی کی ایک مقامی خاتون نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بابا وشوناتھ کے یہاں آنے والے عقیدت مندوں کی رہنمائی اور خاطر داری کرتے تھے آج انہی کے لیے ہمیں اجاڑا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود بنا باز آباد کاری کے کسی کو اجاڑنا یا بے گھر کرنا ضابطے کے خلاف ہے۔
سنبھل کے پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف ائی آر کا حکم
سنبھل کی جامع مسجد کی سروے کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات کی جانچ میں نیا موڑ آگیا ہے ۔پولیس فائرنگ کے درمیان زخمی ہوئے نوجوان عالَم کی درخواست پر چندوسی میں واقع سی جے ایم عدالت نے سی او انوج چودہری سمیت انیس پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی ار درج کر کے جانچ کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے حکم سے گھبرائے ہوئے انوج چودھری وزیر اعلیٰ یوگی سے ملنے گورکھ پور ان کے مٹھ پہنچ گئے۔ ذرائع کے مطابق ان کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات ہوئی تاہم کیا بات ہوئی یہ پتہ نہیں چل سکا۔ ایس پی سنبھل کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے میں مجسٹریٹ جانچ پہلے ہی ہو چکی ہے کانگریس نے مجسٹریل جانچ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پوری جانچ میں پولیس کو بچانے کے لیے کلین چٹ دی گئی ہے۔ آل انڈیا کانگرس سکریٹری شاہ نواز عالم نے لکھنو پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنبھل میں ہونے والی تشدد کی جانچ ہائی کورٹ کے جج سے عدالتی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ شخص عالم کے جسم سے نکلی ہوئی گولی پولیس استعمال نہیں کرتی۔ پولیس کا یہ دعویٰ دراصل کانگریس اور دیگر مقامی باشندوں کے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں پولیس نے بیرونی عناصر کی مدد لی جو نجی بندوقوں سے فائرنگ کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ متاثرہ عالم نامی شخص نے عدالت میں داخل کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ واقعہ کے دن وہ اپنی ریڑھی پر کچھ سامان بیچنے گیا تھا اسی دوران پولیس کی گولی سے زخمی ہو گیا۔ مقامی ہسپتالوں نے جب اس کا علاج کرنے سے انکار کر دیا تو اس کے گھر والوں نے میرٹھ کے ایک نجی ہسپتال میں شناخت چھپا کر علاج کروایا۔ یاد رہے کہ سنبھل کے پرتشدد واقعات میں پانچ نوجوان موقع پر ہی مارے گئے تھے۔ عالم کو انصاف دلانے کی لڑائی میں اے پی سی آر کی سنبھل ٹیم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن پولیس فائرنگ کے ملزمین کے خلاف دوبارہ جانچ کے بغیر انصاف ابھی ادھورا ہے۔
اقلیتی تعلیمی اداروں کے خلاف سرکاری کارروائی
اتر پردیش میں اٹھارہ مدرسوں کی منظوری معطل کرنے کا معاملہ ہو یا فریدآباد کی الفلاح یونیورسٹی کے بانی جواد صدیقی سے متعلق 139 کروڑ روپیوں کی اثاثے ضبط کرنے کی کارروائی، ایسا لگتا ہے کہ بی جے بی کے زیر اقتدار ریاستوں میں اقلیتی تعلیم ادارے سرکار کے نشانے پر ہیں۔ تازہ معاملہ مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول سے سامنے آیا ہے جب وہاں کے دھابہ گاؤں کے رہائشی عبدالنعیم نے اپنی ذاتی زمین پر بچوں کا اسکول تعمیر کروایا، اسکول کی منظوری کے لیے ضلع کے تعلیمی افسران کو درخواست دی، اسی دوران کسی نے افواہ پھیلا دی کہ دھابا گاؤں میں مدرسہ تعمیر ہو رہا ہے۔ پھر کیا تھا سرکاری مشینری حرکت میں اگئی۔ پنچایت سکریٹری نے پنچایت سے منظوری نہ ہونے کا بہانہ بنا کر عمارت کو بلڈوزر سے گروا دیا۔ مقامی باشندوں کے مطابق اس گاؤں میں غریب آدیواسی اور دلتوں کے اکثریت ہے صرف چند مسلمانوں کے گھر ہیں۔ گاؤں کے مقامی باشندے اسکول کی حمایت میں سرکاری حکام سے بھی ملے لیکن پنچایت سکریٹری نے کہا اوپر سے بہت دباو تھا اس لیے وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ عبدالنعیم نے بتایا کہ اس نے پنچایت سکریٹری کو عمارت کی منظوری کے لیے درخواست دی لیکن وہ ٹال مٹول کرتا رہا۔ اس نے یہاں تک کہ کہا کہ وہ اپنا اسکول بنانے کا ارادہ چھوڑ دے گا اس کی بلڈنگ نہ توڑی جائے کیونکہ اس نے اپنی گاڑھی کمائی کے بیس لاکھ روپے اس میں خرچ کیے ہیں لیکن حکام کو پھر بھی رحم نہیں آیا۔ کانگریس پارٹی کے پبلیسٹی انچارج پون کھیڑا نے اس واقعے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "اگر گاؤں کے بچے پڑھ لکھ لیں گے تو بی جے پی کی نفرت کی سیاست اور مسجدوں کے سامنے ڈی جے بجانے اور تلوار لہرانے والے کہاں سے ملیں گے۔ اسے اپنی زہریلی سیاست کے لیے زہریلے پھل چاہیے۔ کانگریس لیڈر ڈاکٹر ناصر حسین نے بی جی بی پر تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بیتول میں اسکول کو منہدم کرنے اور مسلم طلبہ کی اکثریت کے انتخاب کے بعد جموں و کشمیر کے شری ماتا وشنودیوی میڈیکل کالج کی منظوری ختم کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بجٹ میں کمی پر بھی سوالات اٹھائے۔
اسی دوران الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کسی تعلیمی بورڈ کی منظوری کے بغیر بھی مدرسہ چلایا جا سکتا ہے۔ دستور ہند کے آرٹیکل 30 (1) کے تحت اس کو تحفظ حاصل ہوگا تاہم وہ سرکاری گرانٹ کا حق دار نہیں ہوگا۔
اوڈیشا میں پروان چڑھتی نفرت
اڈیشا میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے نفرت پر مبنی پرتشدد واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست کے ضلع بالاسور میں گزشتہ دنوں شرپسندوں کے گروہ نے ایک پینتیس سالہ مسلم شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ ہے یہ نوجوان اپنی گاڑی میں مویشی لے کر جا رہا تھا، شر پسندوں نے اس کی گاڑی روک کر ڈرائیور اور نوجوان کو نشانہ بنایا۔ متاثر نوجوان کی شناخت ایس کے مکان دار محمد کے نام سے ہوئی ہے۔ وائرل شدہ ویڈیو میں شر پسند جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس واقعے میں ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا جبکہ مکان دار محمد کی ضلع ہسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ پولیس نے پہلے متاثرہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا لیکن مہلوک کے بھائی کی شکایت پر پانچ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 103 (2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ہجومی تشدد کے لیے سزا کا انتظام ہے۔ اوڈیشا میں اس طرح کے واقعات پہلے شاذ و نادر ہوتے تھے لیکن بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بالا سور اور بیتول کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بی جی پی پر گئو رکھشکوں کو کھلی چھوٹ دینے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاسور میں پولیس نے ڈرائیور اور مہلوک نوجوان پر ہی پہلے ایف آئی آر درج کر دی جو نہایت افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے حیدرآباد کے دارالسلام میں پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔
شمال مشرقی گوشہ
وزیر اعظم نریندر مودی کی تمام تر توجہ شمال مشرق کی دو ریاستوں مغربی بنگال اور آسام پر مرکوز ہے۔ مالدا ریلوے اسٹیشن پر پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ارادے واضح کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا مغرب بنگال کے چاروں طرف این ڈی اے کی سرکاریں ہیں، اب بنگال کی باری ہے انہوں نے اوڈیشا میں بی جے پی کی پہلی سرکار کا ذکر کیا لیکن بالا سور میں ہجومی تشدد میں مارے گئے مکان دار محمد کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر شمال مشرقی ریاستوں کو جکڑ کر رکھنے کا الزام لگایا۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ منی پور میں بی جے پی سرکار بننے کے بعد کیا ہوا؟ سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں منی پور کے سابق وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ سے متعلق آڈیو کلپ کی فارنسک جانچ کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس آڈیو کلپ میں منی پور تشدد کے بارے میں قابل اعتراض اور متنازع مواد موجود ہے ۔
بنگلہ دیشی کونسلر کو آسام کی جیل وزٹ کی اجازت نہ ملنے کا معاملہ
گوہاٹی میں موجود بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ کی منظوری کے باوجود آسام کی ریاستی حکومت جیل میں قید بنگلہ دیشی مہاجرین سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ حکومت کو چار خطوط بھیج چکے ہیں جن میں سے تین کی مدت نکل چکی ہے چوتھے مکتوب کی مدت بھی ختم ہونے والی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے، جبکہ بنگلہ دیشی قرار دیے جا چکے مہاجرین کی تصدیق کے لیے کونسلر کا جیل میں بند قیدیوں سے ملنا ضروری ہے تاکہ انہیں بنگلہ دیش جانے کے لیے سفری دستاویز مہیا کرائے جا سکیں۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق آسام کی چار جیلوں میں پینتالیس قیدی ایسے ہیں جن کو فارن ٹریبونل سے بنگلہ دیشی شہری ڈیکلیئر کیا جا چکا ہے۔ آسام حکومت انہیں قانونی طور پر بنگلہ دیش بھیجنے میں ٹال مٹول کارویہ کیوں اپنا رہی ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔ البتہ بنگلہ دیشی بتا کر رات کے اندھیرے میں درجنوں افراد کو سرحد پار زبردستی دھکیلنے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں ۔
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال۔ آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دل چسپ احوال کے ساتھ۔ تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔
***
بنارس کی تاریخی دال منڈی اور منی کرنیکا گھاٹ توڑنے پر کانگریس ۔ بی جے پی میں تکرار .یوگی آدتیہ ناتھ کو کاشی میں دینی پڑی صفائی
سنبھل میں سی او انوج چودھری کے خلاف ایف آئی آر کا معاملہ، پولیس کی ٹال مٹول پر کانگریس نے کیا عدالتی جانچ کا مطالبہ

