انسٹیٹیوٹ آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ دہلی (آئی ایس آر ڈی) کے زیرِ اہتمام بچوں کے لیے لکھنے والوں، پبلشروں اور کونسلروں کی ایک اہم ایک روزہ ورکشاپ منعقد ہوا، جس میں ڈیجیٹل دور میں بچوں کے ادب کو فکری، اخلاقی اور روحانی اقدار سے مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ ورکشاپ کا عنوان ’’اگلی نسل میں فکری، اخلاقی اور روحانی نشوونما‘‘ تھا، جس میں بچوں کے مصنفین، ناشرین، مصورین، اینیمیٹرز، کونسلرز، ماہرینِ نفسیات، اساتذہ اور میڈیا کنٹینٹ تخلیق کاروں نے شرکت کی۔
ورکشاپ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بچوں کے لیے تیار کیا جانے والا مواد محض تفریح تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے ذریعے ہمدردی، جذباتی مضبوطی، سچائی، رحم دلی، سماجی شعور اور روحانی احساس جیسے اوصاف کو فروغ دیا جائے۔ مختلف نشستوں میں اخلاقی کہانی نویسی، بچوں کی نفسیات، کردار سازی اور کتاب سے اسکرین تک مواد کی ذمہ دارانہ پیش کش جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔
نائب امیر جماعت اسلامی ہند جناب ایس امین الحسن نے ’’بچوں کی نفسیاتی اور اخلاقی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے ادب کو عمر کے تین مراحل—صفر سے پانچ، پانچ سے بارہ اور بارہ سے اٹھارہ سال—میں تقسیم کر کے تیار کیا جانا چاہیے تاکہ ہر مرحلے کی ذہنی و نفسیاتی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی بلوغت تو فطری طور پر حاصل ہو جاتی ہے مگر ذہنی اور اخلاقی پختگی معیاری ادب کے ذریعے ہی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے لوریوں، کہانیوں، سیرتِ نبوی اور قرآن فہمی پر مبنی تحریروں کی اہمیت اجاگر کی اور اس بات پر زور دیا کہ سیرت کو قابلِ تقلید انسانی انداز میں پیش کیا جائے۔
ڈاکٹر محمد رضوان، ڈائریکٹر سی ایس آر نے ’’بچوں کا ادب: زبان، تخیل اور اخلاقی ترقی‘‘ کے عنوان سے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل شناخت کے بحران سے دوچار ہے، اس لیے بچوں کا ادب انہیں صحیح معرفت اور اقدار سے جوڑنے والا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بچوں کے ادب میں عدل، انصاف، ہمت اور رحم و محبت کے ساتھ ساتھ سائنسی فکشن جیسے جدید موضوعات بھی اخلاقی حدود میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سراج عظیم (بچپن گروپ) نے بچوں کے ادب کی نفسیاتی و فکری اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر پرویز شہر یار، کنسلٹنٹ ایڈیٹر این سی آر ٹی نے کتاب سازی میں ایڈیٹنگ، پروڈکشن، مارکیٹنگ اور پرنٹنگ کی جامع اہمیت بیان کی۔ محترمہ شائستہ رفعت، نیشنل سکریٹری شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند نے موجودہ کونسلنگ کے چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے راز داری، احترام اور فیملی کونسلنگ کی تربیت پر زور دیا۔
افتتاحی کلمات میں زاہد حسین، سکریٹری جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی پردیش نے کہا کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور ان کی فکری و اخلاقی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آئی ایس آر ڈی کے سکریٹری آصف اقبال نے کہا کہ یہ ورکشاپ مختلف زبانوں کے بچوں کے مصنفین، پبلشروں اور سماجی و تعلیمی اداروں کے نمائندوں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تھی۔
اختتامی خطاب میں جناب ایس امین الحسن نے مصنفین کو نصیحت کی کہ وہ جلد بازی سے بچیں، زیادہ مطالعہ کریں اور تحریر کو بار بار نکھاریں کیونکہ تحریر کا سب سے بڑی دشمن عجلت ہے۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
بچوں کے ادب میں نئی فکری جہتوں کی تلاش ناگزیر
محض تفریح نہیں، اقدار سے بھرپور ادبِ اطفال کی ضرورت: آئی ایس آر ڈی کا ورکشاپ

