انسانی سرمائے کی ترقی کے بغیر ڈیجیٹل بھارت کا خواب نامکمل
جس طرح ایک عام شہری اپنے گھر کا ماہانہ بجٹ بناتا ہے اور اسی کے مطابق خرچ کرتا ہے، اسی طرح بجٹ کی تیاری میں حکومت یہ بتاتی ہے کہ آئندہ سال کن کن وزارتوں پر کتنا خرچ کیا جائے گا اور ٹیکس وغیرہ کے ذریعے کتنا پیسہ حاصل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی حکومت یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اسے کتنا قرض لینا پڑے گا اور مجموعی طور پر کتنا خرچ متوقع ہے۔ حکومت یہ بھی بتاتی ہے کہ گزشتہ سال اس نے جتنا پیسہ جمع کیا اور جتنا خرچ کیا، وہ اندازوں سے کتنا مختلف تھا اور کن اشیا پر ٹیکس میں اضافہ یا کمی کرنے کا ارادہ ہے۔ نئے پروجیکٹوں اور منصوبوں کے لیے کتنی رقم مختص کی جائے گی، کن چیزوں پر حکومت سبسیڈی دے گی اور روزگار کے لیے کیا منصوبے ہیں—یہ سب تفصیلات بجٹ میں شامل ہوتی ہیں۔ اسی طرح حکومت صحت، تعلیم، دفاع، زراعت اور انفراسٹرکچر جیسے مختلف شعبوں پر کتنا خرچ کرتی ہے اور آئندہ ان شعبوں کے لیے کتنی رقم مختص کی جائے گی، اس کی بھی وضاحت کی جاتی ہے۔
مذکورہ تمام شعبوں کے ساتھ بجٹ 2026 میں تعلیم اور تحقیق پر خاص توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے، جس کے تحت بنیادی ڈھانچے، اسکل ڈیولپمنٹ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر زور دیا جائے گا۔ اس میں تعلیم کی بہتری، دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور مستقبل کے لیے تیار فنون (Skills) پر خصوصی توجہ شامل ہوگی۔ ساتھ ہی قومی تعلیمی پالیسی (NEP-2020) کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے فنڈ کی تفویض (الاؤٹمنٹ) بڑھانے اور اساتذہ کی تربیت پر دھیان دیا جائے گا۔ اس سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے فنڈ کی تفویض میں اضافے کی امید ہے۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں یہ رقم تقریباً 1.28 لاکھ کروڑ روپے تھی، جس میں اعلیٰ تعلیم کے لیے پانچ کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ مختصراً، بجٹ 2026 تعلیم کو رسائی، بہتری اور مطابقت کی سمت لے جانے پر مرکوز ہوگا تاکہ بھارتی تعلیمی نظام مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار ہو سکے۔ حکومت بالخصوص ڈیجیٹل تبدیلی اور اے آئی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے گی۔
ہمارے ملک کا تعلیمی نظام (Education System) دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تعلیمی نظام ہے اور اس کی تقریباً چالیس فیصد آبادی پچیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ گزشتہ بجٹ میں تعلیم کے لیے محض 1.28 لاکھ کروڑ روپے ہی مختص کیے گئے، جو صرف 6.22 فیصد اضافہ تھا۔ ہمارا ملک تعلیم پر اپنی جی ڈی پی کا محض 3.35 فیصد خرچ کرتا ہے، جب کہ متعین ہدف چھ فیصد ہے جو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی وجہ سے معیاری تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں تنزلی آئی ہے۔ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی جی ڈی پی کا 5.8 فیصد، چین 3.5 فیصد، جبکہ بھارت 3.2 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے مگر اس کے باوجود تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا محض 3.2 فیصد ہی ہے۔ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ اس لیے ضروری ہے تاکہ تحقیق کے شعبے میں کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نیتی آیوگ اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز نے بھی سفارش کی ہے کہ بھارت کو تعلیم کے بجٹ کو کم از کم چھ فیصد تک بڑھانا چاہیے۔
عالمی مہارت اور شراکت کے ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دینے کے لیے پانچ نیشنل سنٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے جائیں گے، جو مستقبل کے لیے تیار ورک فورس تشکیل دینے پر مرکوز ہوں گے۔ دوسری جانب اعلیٰ تعلیم میں مزید بہتری کے لیے آئی آئی ٹیز میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور موجودہ اداروں، جیسے آئی آئی ٹی پٹنہ کی توسیع کے لیے مناسب رقم تفویض کی جائے گی، جس سے مزید طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ جدید دور کے تقاضوں کے پیشِ نظر ڈیجیٹل اور کثیر لسانی تعلیم کے تحت بھارتی بھاشا یوجنا کے ذریعے اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے لیے بھارتی زبانوں میں ڈیجیٹل صورت میں کتابیں دستیاب کرائی جائیں گی، جس سے ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے نجی شعبے کے ذریعے چلنے والے R&D کے لیے بیس ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جو جی ڈی پی کا محض 0.7 فیصد بنتی ہے جب کہ چین اور تائیوان اپنی جی ڈی پی کا تقریباً 2.5 فیصد اس مد میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ پی ایم ریسرچ فیلوشپ کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس سے تحقیقی ماحول میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں اٹل اِنکیوبیشن ٹنکرنگ لیب (ATL) کو بھی وسعت دی جائے گی، جس کے تحت STEM (سائنس، ٹکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) کے شعبوں میں عملی اور روزمرہ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے آئندہ پانچ برسوں میں سرکاری اسکولوں میں پچاس ہزار اٹل ٹنکرنگ لیب قائم کیے جائیں گے، جس کے لیے اضافی فنڈنگ درکار ہوگی۔ اگرچہ حکومت R&D کو مہمیز دینا چاہتی ہے، تاہم اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت برقرار ہے۔
اس ضمن میں جے کے لکشمی پنت یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے ایکٹنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر اشونی کمار شرما نے بجٹ 2026 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لاجسٹک اصلاحات کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پالیسی سازی کے ذریعے تعلیم، تحقیق اور صنعت کی ضروریات کے مطابق اسکل ڈیولپمنٹ کو ترجیح دی جائے۔ ڈاکٹر شرما کا ماننا ہے کہ ریسرچ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسے شعبوں میں انٹرپرینیورشپ کے لیے بھرپور تعاون ملک کو ایک عالمی مقابلہ جاتی ٹیلنٹ پول بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ساتھ ہی ڈیجیٹل ٹریننگ اور صنعت۔اکیڈمی اشتراک کو فروغ دینے سے گریجویٹس کی روزگار کے قابل ہونے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی اور بھارت کا تعلیمی نظام مستقبل کے چیلنجز کا بہتر طور پر سامنا کر سکے گا۔
اسی لیے بیرونِ ممالک میں ریسرچ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ معاشی ترقی، علم کے پھیلاؤ اور عالمی چیلنجز کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اولاً، R&D قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ جو ممالک تحقیق میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ عموماً مضبوط جی ڈی پی، اختراع اور ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی مسابقت، سائنسی تخصیص اور بہتر نقطۂ نظر تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔ ریسرچ علم کے ذخیرے کو مستحکم کرنے، نئی معلومات دریافت کرنے اور علمی خلا کو پُر کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر موسمیاتی تبدیلی، طبی بحرانوں (جیسے وبائیں) اور سماجی نا برابری جیسے مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تحقیقی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔
ریسرچ کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں حکومتوں کی مدد کرتی ہے۔ اس کے ذریعے حکومتیں معاشی مسائل کا پیشگی اندازہ لگا سکتی ہیں اور بازار میں اتار چڑھاؤ کے مقابل بروقت احتیاطی اقدامات کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں تحقیق کے لیے مضبوط لاجسٹک اور ادارہ جاتی محرکات موجود ہوتے ہیں، جو علم پر مبنی معیشت کی تعمیر، عالمی مسائل کے حل اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ چنانچہ اختراع، معاشی ترقی اور ٹکنالوجیکل ڈیولپمنٹ کے لیے R&D نہایت اہم ہے۔ آج عالمی سطح پر R&D پر خرچ ہونے والی رقم 2.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اسرائیل اپنی جی ڈی پی کا 6.3 فیصد (تقریباً 28 بلین ڈالر) جنوبی کوریا تقریباً پانچ فیصد، امریکہ 3.4 فیصد، جبکہ تائیوان اور چین چار فیصد کے لگ بھگ اس شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف انرولمنٹ میں اضافہ کافی نہیں؛ بلکہ کلاس روموں، لیبارٹریوں، اساتذہ، تحقیقی سہولتوں اور معیارِ تعلیم پر بر وقت سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بجٹ کے مؤثر استعمال اور اس کی اثرپذیری پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ ہر خرچ کا حقیقی فائدہ طلبہ اور محققین تک پہنچ سکے۔ توقع ہے کہ 2026–27 کا بجٹ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے ایک تاریخی موقع فراہم کرے گا، جسے انسانی سرمائے کی ترقی، ڈیجیٹل استعداد اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم پر مجموعی توجہ اور بجٹ میں ممکنہ اضافہ ناگزیر ہے۔ انفراسٹرکچر، اساتذہ اور تحقیقی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ بجٹ بھارت کو عالمی اقتصادی مقابلے میں مضبوط مقام دلانے، علمی و تکنیکی ترقی کو فروغ دینے اور مستقبل کے قائدین اور محققین تیار کرنے کا ذریعہ بن سکے۔
تعلیم و تحقیق کے میدان میں کارپوریٹ شعبے کا کردار ہمہ جہتی ہوتا ہے، مثلاً فنڈنگ اور فائنانسنگ کے ذریعے۔ کارپوریٹ کمپنیاں مختلف تعلیمی و تحقیقی اداروں اور اپنے پروگراموں کو مالی امداد فراہم کرتی ہیں۔ یہ فنڈنگ نئی ٹیکنالوجی کی ترقی، جدید تجربہ گاہوں کے قیام اور اسکالرشپس کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تحقیق کی ترجیحات بھی تشکیل پاتی ہیں۔ کارپوریٹ شراکت عموماً تحقیق کے ان شعبوں کو ترجیح دیتی ہے جو براہِ راست صنعت کی ضروریات اور تجارتی اہداف سے جڑے ہوتے ہیں، جیسے ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبے۔ اس سے صنعت اور تعلیمی تحقیق کے درمیان موجود خلا کم ہوتا ہے۔
اب تحقیق کا کمرشلائزیشن بھی تیزی سے ہو رہا ہے، کیونکہ کمپنیاں تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کی جانے والی تحقیق کو عملی مصنوعات اور خدمات میں تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے سماج کو فائدہ پہنچتا ہے اور ملک کی معاشی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔ کارپوریٹ مہارت اور صنعت کے رجحانات سے آگہی تحقیق کو زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل بناتی ہے۔ صنعت کے پیشہ ور ماہرین اکیڈمک مشاورت فراہم کرتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جس سے تحقیق کی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں واضح ہوتا ہے کہ کارپوریٹ شعبہ تعلیم و تحقیق کے لیے ایک اہم وسیلہ ہے، جو اختراع اور ترقی کے عمل کو متحرک کرتا ہے۔
حکومت سے مطالبہ ہے کہ 2026–27 کے بجٹ میں تحقیق پر خصوصی زور دے کر اختراع کو آگے بڑھایا جائے۔ ڈیجیٹل ٹکنالوجی اور ڈیٹا سائنس میں تحقیق کو ترجیح دی جائے، صنعتی تحقیق اور یونیورسٹی۔انڈسٹری اشتراک کو مزید مضبوط کیا جائے اور روبوٹکس و اگلی سطح کی اے آئی ٹیکنالوجی میں امریکہ اور چین پر سبقت حاصل کرنے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کی جائے۔ مکمل معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب جی ڈی پی میں بہتری آئے، غربت، بھکمری اور سماجی نابرابری میں کمی ہو، اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ہمہ گیر خوشحالی حاصل ہو۔