پچھلی صدیوں میں مظاہرِ فطرت کی سائنسی توجیہات کی عدم موجودگی میں ناقابلِ فہم امور کو خدا کے عمل سے جوڑا جاتا تھا۔ بیسویں صدی میں سائنس کے میدان میں تیزی سے ترقی نے انسانوں کے لیے بے انتہا سہولتیں پیدا کیں اور مظاہر فطرت کے لیے سائنسی توجیہات کو پیش کیا گیا تو یہ تاثر عام ہوتا گیا کہ اب ہمیں خدا کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ تاثر اس لیے بھی تقویت پایا کہ عیسائی پادریوں نے سائنس دانوں کی تحقیقات کو مذہب سے انحراف گردانا اور ان کو اپنا حریف سمجھا۔ بعض سائنس دانوں کو سزائیں بھی دی گئیں۔ اس طرح مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کی ضد سمجھا گیا۔ سائنس مشاہدے، عقلی استدلال اور منطق پر مبنی تھی جبکہ عیسائیت میں سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔اس لیے مذہب کو غیر عقلی اور غیر منطقی سمجھا جانے لگا اور دنیا دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک طرف عقلی دلائل پر چیزوں کو پرکھنے والے تھے جو سائنس ہی کو علم کی انتہا سمجھ رہے تھے تو دوسری طرف مذہبی طبقہ تھا جو ان کے عقائد پر سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔عقلیت پسندوں کو مذہب سے جو بُعد پیدا ہوا اس کو اسلام پر بھی قیاس کیا جانے لگا جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ ایک سچے عقیدے کو عقل کی سطح پر پرکھا جاسکتا ہے اور اس کو عقلی دلائل سے نہ صرف ثابت کیا جاسکتا ہے بلکہ اس پر ایمان بھی لایا جاسکتا ہے۔ اس لیے قرآن میں بار بار عقل کو استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ایک جگہ پر تو جھنجھوڑا گیا ہے کہ کیوں لوگ قرآنی آیات پر غور نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں (عقلوں) پر تالے پڑے ہوئے ہیں (سورۃ محمد:۲۴) قرآن کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ لوگ اس کی آیات پر غور و فکر اور تدبّر کریں اور ان سے نصیحت حاصل کریں (سورۃ ص: ۲۹) کائنات کی سچائیوں کو پانے کے تین طریقے ہیں: حواس، عقل اور وحی۔مادی دنیا کو حواس کے ذریعے جانا جاسکتا ہے۔مثلاًآگ جلاتی ہے،سورج سے روشنی اور حرارت پیدا ہوتی ہے اور پانی پیاس بجھاتا ہے۔ قوانینِ فطرت کو حواس کے ذریعے دریافت نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کو عقل و شعور کی مدد سے دریافت کیا جاسکتا ہے۔مثلاًہم آنکھ سے چیزوں کو زمین کی طرف گرتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن آنکھ سے کششِ ثقل کو دیکھ نہیں سکتے۔ عقل سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ایک غیر مرئی قوت ہے جس کو کششِ ثقل (Gravity) کہتے ہیں جو اشیاء کو زمین کی طرف کھینچتی ہے۔ایٹم کے اندر الکٹرونس،پروٹونس اور نیوٹرونس کو حواس کے ذریعے جانا نہیں جا سکتا لیکن ان کو مشاہدات، مفروضات اور تجربات کے ذریعے دریافت کیا گیا ہے۔ عقل وہ صلاحیت ہے جو حِسی معلومات کو جوڑتی ہے، اسباب و نتائج کو پہچانتی ہے اور طبعی قوانین کو دریافت کرتی ہے جو براہِ راست محسوس نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ عقل، منطق (Reason) اور استدلال کے ذریعے کائنات کے حقائق تک رسائی حاصل کرتی ہے لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ انسانی عقل نے مادی کائنات کی ساری حقیقتوں کا احاطہ کیا ہے۔ عقلی استدلال کے ذریعے حقائق کی دریافت کا سفر جاری ہے۔ عقل کی حد یہ ہے کہ وہ ما بعد الطبیعاتی حقائق کو دریافت نہیں کرسکتی جیسے روح، خدا، فرشتے، روزِ جزا و سزا، جنت اور جہنم۔یہ عقل سے ماوراء غیر مادی (مابعدالطبیعات) حقائق ہیں جن کا علم اللہ تعالی نے براہِ راست پیغمبروں کو عطا کرتا ہے۔ اس کو علمِ وحی کہا جاتا ہے جس کو عقل کے ذریعے پرکھا ضرور جا سکتا ہے مثلاً خدا کے وجود اور اس کی وحدانیت کا علم وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے لیکن اس کو عقل کے ذریعے جانچا جا سکتا ہے۔ عقل نے اس اصول کو مان لیا ہے کہ اس کائنات میں سبب کا قانون (Law of Causality) پایا جاتا ہے یعنی ہر واقعہ کسی سبب کا محتاج ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس چیز کی ابتداء ہو وہ حادث (Created) ہوتی ہے اس لیے اس حادث کا کوئی سبب ہونا چاہیے۔ لیکن ایک ایسی ہستی ہونی چاہیے جسکا کوئی سبب نہ ہو یعنی وہ واجب الوجود ہو. یہ طرزاستدلال ثابت کرتا ہے کہ یہی واجب الوجود ہستی necessary being اس کائنات کی خالق ہونی چاہیے۔عقل یہ تو بتا سکتی ہے کہ خدا ہونا چاہیے لیکن یہ تفصیل نہیں بتا سکتی کہ خدا کی صفات کیا ہیں اور وہ کیا چاہتا ہے؟اس کی عبادت کا صحیح طریقہ کیا ہے؟یہ تفصیلات وحی (Revelation) کے علم سے حاصل ہوتی ہیں۔وحی وہ علم ہے جو انسانی عقل کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے مگر انسان کی ہدایت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ انصاف کا ایک دن ہونا چاہیے لیکن عالمِ آخرت کی تفصیلات علمِ وحی کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں۔ فرشتے نظر نہیں آتے۔ عقل سے نہ ہی ان کے وجود کا انکارکیا جاسکتا ہے اور نہ اثبات۔ علمِ وحی سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اللہ کی ایک مخلوق ہے جو نور سے پیدا کی گئی ہے۔ عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ اللہ کی عبادت ہونی چاہیے لیکن علمِ وحی کے ذریعے سے ہی معلوم ہوگا کہ عبادت کا طریقہ کیا ہے اور نماز کس طرح پڑھنی چاہیے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ وحی عقل کے خلاف نہیں ہے اور وہ علم کے حصول کا ایسا ذریعہ ہے جو عقل سے بالاتر ہے۔ لیکن عقل کی بہت بڑی اہمیت اس لیے ہےکہ وحی کو پرکھنے کے لیے عقل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وحی کو عقل پر پرکھنے کا اصول یہ ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کیا علمِ وحی میں تضاد ہے؟ کیا یہ نا معقول بات کہہ رہی ہے؟ کیا یہ انسانی فطرت سے ٹکراتی ہے؟اس طرح حواس،عقل اور وحی آپس میں تکمیلی ہیں نہ کہ متضاد؟ مثلاً زندگی بعدموت کو لے لیجیے۔ ہم اپنی آنکھوں سے لوگوں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ عقل کہتی ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی ہونی چاہیے جہاں انسانوں کے اعمال کا حساب لیا جائے۔وحی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ قیامت کے کیا احوال ہوں گے اور جنت یاجہنم کی زندگی کیسی ہوگی۔ اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں نہ حواس کو رد کیا گیا ہے اور نہ عقل کو معطل کیا گیا ہے بلکہ وحی کو علم کا اعلیٰ ذریعہ قرار دیا گیا ہے جس کے بغیر کائنات کے بارے میں اہم سوالات کا جواب نہیں ملتا۔ اسلام میں وحی کو عقل کے مد مقابل نہیں کھڑا کیا گیا بلکہ حواس، عقل اور وحی تینوں کو علم کے حصول کے اہم ذرائع قرار دیا گیا ہے۔
قرآن میں ایک اہم آیت آئی ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (سورۃ حٰم السجدۃ :۵۳) ’’عن قریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھُل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔‘‘ قرآن کی یہ آیت بتلاتی ہے کہ زمانہ ترقی کرتے کرتے ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گا جہاں اللہ تعالیٰ سائنس دانوں کے ذریعے کائنات کے ان رازوں سے پردہ اٹھائے گا جن کو قرآن صدیوں قبل بیان کرچکا ہے۔ سائنس نے جن حقائق کو پچھلی صدی میں دریافت کیاہے یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن انسانی کلام نہیں ہوسکتا بلکہ یہ خالقِ کائنات کا نازل کردہ ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات سے اب یہ ممکن ہوگیا کہ انسان کو جس قدر سائنس کا علم حاصل ہوگا اس کے لیے اللہ کو پہچاننا اسی قدرآسان ہوجائے گا۔اسلام نے مروجہ تصور کو ختم کیا کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کی ضد ہیں۔اسلام کا تصوریہ ہے کہ دونوں علم سر چشمے ہیں لیکن دونوں کےذرائع الگ الگ ہیں۔ علم کا ایک سرچشمہ مشاہدات و تجربات ہیں تو دوسرا سرچشمہ وحی ہے جن سے پردۂ غیب کے امور سے متعلق علم حاصل ہوتا ہے۔ مولانا وحیدالدین خان اپنی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ میں واضح کرتے ہیں کہ سائنس HOW کا جواب دیتی ہے لیکن WHY کا جواب نہیں دیتی۔ سائنس مظاہرِ فطرت (phenomena) کی تشریح کرتی ہے لیکن کائنات اور اس کے عناصر کے مقاصد کو بیان نہی کرتی۔ اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور اس کا عنوان رکھا گیا God Arises جس میں وہ لکھتے ہیں Science explains the process, but it cannot explain the cause behind the process.
جدید سائنسی دریافتیں:
۱۔ کائنات کے پھیلاؤ (Expansion of Universe) کو پچھلی صدی میں دریافت کیا گیاجس کو قرآن میں اس کو اس طرح پیش کیا گیا: وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (سورۃ الذاریات :۴۷) ’’آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اس کو وسعت دیتے چلے جارہے ہیں(پھیلارہے ہیں )۔‘‘اس آیت کا قرآن میں موجود ہونا ایک معجزہ ہے۔ چونکہ دورِ حاضر سائنس کا دور ہے اس لیے قرآن دورِ حاضر میں ایک سائنسی معجزہ بن کر سامنے آیا۔اب تک یہ ادبی معجزہ تھا جس کے مقابلے میں کوئی انسان اس چیلنج کا مقابلہ نہ کرسکا کہ اس جیسی ایک سورت بناکر دکھا دے۔ کائنات کے مسلسل پھیلاؤ کو ایک سائنسی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے جس کو پہلی مرتبہ Edwin Hubble نے ۱۹۲۹ءمیں اپنی دور بین سے دریافت کیا تھا۔ جب کائنات پھیل رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی میں ایک وقت تھا جب کائنات اپنے سائزمیں اس قدر اقل ترین تھی کہ وہ ایک نقطہ میں مرتکز تھی۔یہ ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ کائنات ازل سے نہیں ہے بلکہ اس کا ایک نقطۂ آغازہے۔اس دریافت کے نتیجے میں ایک دوسری دریافت ہوئی جس کو Big Bang کہا جاتا ہے ۔
۲۔ کائنات کا آغاز — Big Bangکی صورت میں: انتہائی حیرت کی بات یہ ہے کہ کائنات کے آغاز کو جس طرح قرآن میں بیان کیا گیا ہے وہ ہوبہو وہی ہے جس کو سائنس دانوں نے پیش کیا ہے کہ ایک دھماکہ ہواجہاں سے توانائی (energy)کے مادے میں تبدیل ہونے کا آغازہوا اور اسی نقطۂ آغاز سے کائنات پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ قرآن میں اس واقعہ کو اس طرح پیش کیا گیا: أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا (سورۃ الانبیاء:۳۰) ’’کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبی کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا۔‘‘ مولانا وحیدالدین خان اپنی اسی کتاب میں لکھتے ہیں The discovery of the beginning of the universe is actually the rediscovery of God.
۳۔ پانی سے ہر زندہ وجود کا پیدا ہونا: سائنس نے دریافت کیا کہ نباتی اور حیوانی وجود کا اقل ترین یونٹ خلیہ ہے جو تخلیق کا شاہ کار ہے جو انتہائی ذہین خالق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہر زندہ خلیے میں ستر فیصد پانی پایا جاتا ہے اور پانی کے بغیر خلیہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح پیش کیا گیا : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (سورۃ الانبیاء:۳۰) ’’اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ کیا وہ (ہماری اِس خلاقی کو) نہیں مانتے؟‘‘
۴۔ خلیہ کے اندر معلومات کا خزانہ: سائنس دانوں نے خلیہ کے بارے میں ایسی حقیقت دریافت کی ہے جو خالق کے وجود کی سب سے بڑی سائنسی دلیل ہے۔ خلیہ کے مرکزہ میں DNA کی صورت میں معلومات کا ایسا خزانہ رکھا گیا ہے کہ ان معلومات کے مطابق ایک پودے، ایک حیوان یا انسان کے جسم کی بناوٹ ہوتی چلی جاتی ہے جس میں مورثی خصوصیات محفوظ ہوتی ہیں۔ معلومات کی موجودگی ایک ذہین اور با شعور ہستی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس بات کو قرآن نے اس طرح پیش فرمایا: وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (سورۃ الانعام :۳۸) ’’زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے (کتاب) میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے‘‘ اس آیت میں کتاب سے مراد DNA ہو سکتا ہے جس میں تھوڑی سی کمی بیشی ایک جان دار کے نشونما کو ناممکن بنادیتی ہے ۔DNA زندگی کا کوڈ اور Information System ہے جو ایک ذہین خالق کا بہت ہی مضبوط ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اس کائنات میں جان داروں کی لاکھوں جنس پائی جاتی ہیں اور ہر ایک کو ارادہ کے ساتھ اس کی ساخت کو ڈیزائن کیا گیا ہے۔ متنوع جان داروں کی یہ تخلیق اتفاقی حادثہ کا نتیجہ کیسے ہو سکتی ہے؟ ڈاروِن کے زمانے میں طاقت ور خورد بینوں کی ایجاد نہیں ہوئی تھی اس لیے خلیہ کو انتہائی سادہ سمجھا گیا اور قیاس کی بنیاد پر یہ فلسفہ گھڑا گیا کہ حادثاتی طور پر ایک خلیہ سے زندگی کی ابتداء ہوئی ہے اور ارتقائی عمل کے نتیجے میں دنیا میں مختلف جان دار پیدا ہوتے چلے گئے اور انسان بھی اسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ آج سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ خلیہ انتہائی ذہین خالق کے تخلیقی عمل کا نتیجہ ہے جس کے اندر معلومات کا مکمل خزانہ پوشیدہ ہے۔معلومات کبھی اتفاقی حادثہ کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ کبھی کوئی کتاب اس طرح وجود میں نہیں آسکتی کہ حروف خود بخود جمع ہو جائیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ملحدین ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء کو اپنے الحاد کی بنیاد (foundation) مانتے ہیں کہ یہ کائنات بے مقصد اور اتفاقی طور پر پیدا ہوئی ہے۔ ڈارون نے حیات سے متعلق قیاس کی بنیاد پر ارتقائی نظریہ پیش کیا لیکن وہ اس سے بحث نہیں کرتا کہ کائنات میں حیاتِ انسانی کا مقصد کیا ہے۔ اس سوچ کی قرآن میں اس طرح سے مذمت کی گئی ہے: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ (سورۃ ص: ۲۷) ’’ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے فضول پیدا نہیں کر دیا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنم کی آگ سے‘‘ قرآن کا طرز استدلال یہ ہے کہ جب کائنات کے ہر جُز میں مقصد پایا جاتا ہے تو کُل کائنات کی تخلیق کیسے بے مقصد ہوسکتی ہے؟ دراصل الحاد ایک فلسفیانہ قیاس ہے جس کو کسی مضبوط دلیل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اکثر ملحد یہ کہتے ہیں کہ خدا کے وجود کا دعویٰ کرنے والوں پر بارِ ثبوت عائد ہوتا اور وہ اپنے الحاد کو ثابت کرنے سے بچتے ہوئے کوئی دلیل پیش نہیں کرتے۔ دورِ حاضر میں سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہے نہ کہ الحاد کو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ الحاد کو سائنس کے ساتھ جوڑا گیا ہے جبکہ سائنس عقل کے استعمال کا نتیجہ ہے اور الحاد محض قیاس کا نتیجہ ہے۔
یہ ایک اہم تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن کے نزول سے قبل سائنس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اس تاریک دور میں قیاس کی بنیاد پر اجرام فلکی جیسے چاند، سورج اور ستاروں کی پرستش کی جاتی تھی۔ قیاس کی بنیاد پر جن چیزوں کی پرستش کی جاتی ہو ان پر تحقیق نہیں ہوسکتی۔ قرآن نے مظاہرِ فطرت پر انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ وہ زمین و آسمان، چاند و سورج اور دن و رات کے الٹ پھیر میں غور کریں اور اپنے خالق کو پہچانیں۔ جب مسلمانوں میں تفکر کی صفت پیدا ہوئی تو اجرام فلکی اور عناصرِ کائنات پرستش کے بجائے تحقیق کا موضوع بن گئے اور یہیں سے سائنس کی ابتداء ہوئی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس سائنسی سوچ کا آغاز مسلمانوں نے کیا تھا، خود انہوں نے ایک مقام پر آکر سائنس سے اپنا پلہ جھاڑ دیا اور یہ تاریخ کا ایسا موڑ تھا جہاں سے سائنسی میدان کی قیادت مسلمانوں سے اہلِ مغرب کے ہاتھوں میں منتقل ہوئی۔یہی مسلمانوں کے زوال کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ سائنسی ترقی نے اہلِ مغرب کو نئے جنگی ہتھیار دیے جس کے نتیجے میں مسلمان فوجی، سیاسی اور معاشی طور پر مغلوب ہوتے چلے گئے۔
قدیم دور میں خدا کو اندازے سے مانا جاتا تھا لیکن دورِ جدید میں خدا کو دلائل سے مانا جاتا ہے اور قرآن اور سائنس کی مطابقت نے ما بعد الطبیعاتی حقائق کو ماننا بہت آسان بنا دیا ہے۔ سائنس نے صرف قدرتی قوانین دریافت کیے ہیں اور قرآن نے ان قوانین کو بنانے والے کا تعارف اور اس کے تخلیقی منصوبے کوپیش کیا ہے۔ قانون کا ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی قانون ساز موجود ہے۔ جدید سائنس نے خدا کے وجود کے تصور کو مضبوط کیا ہے نہ کہ کمزور؟ البرٹ آئنسٹائن نے ۱۹۴۱ میں ایک سمپوزیم میں کہا تھا Science without religion is lame, religion without science is blind یعنی ’’مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے اور سائنس کے بغیر مذہب اندھا ہے‘‘ مذہب کے بغیر سائنس فساد فی الارض کا موجب ہوئی ہے۔ ایٹم بم کے ذریعے جاپان کو تباہ کیا گیا اور سائنس یعنی عقل کے بغیر مذہب کی پیروی دراصل اندھی تقلید ہوتی ہے جس سے انسانوں میں توہمات پیدا ہوئے اور اس کے نتیجے میں دنیا میں ظلم برپا ہوا۔ مثلاً یہ عقیدہ کہ اعلیٰ ذات کے لوگ برہما کے سر سے پیدا ہوئے اور نچلی ذات کے لوگ اس کے پیروں سے پیدا ہوئے۔ اس عقیدے سے طبقاتی نظام وجود میں آیا جس کے نتیجے میں نچلی قوموں پر صدیوں سے ظلم کیا جاتا رہا۔ اسلامی عقائد کو عقلی دلائل پر پرکھنے کے بعد ہی شعوری ایمان حاصل ہوتا ہے. اس کے بعد ہر اسلامی حکم کو عقل کی ترازو میں تولنے کی حاجت نہیں رہتی. یہ الگ بات ہے کہ تقریباً تمام اسلامی احکام سائنس کی روشنی میں انسانیت کے لیے مفید ثابت ہورہے ہیں۔
جدید سائنس خدا کے تصور کو کمزور کرتی ہے یا مضبوط؟
اسلام کی تمام تعلیمات کو دل سے تسلیم کرنا چاہیے خواہ سائنس ان کی تائید کرے یا تردید

