آئینی روح کے زوال اور شہری اعتماد کے بحران پر ایک سنجیدہ فکری جائزہ
  جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں اور نہ ہی محض اقتدار کی منتقلی کا ایک طریقہ ہے بلکہ جمہوریت دراصل ایک طرزِ حکومت کا نام ہے اور اس سے بڑھ کر ایک ایسا اخلاقی و آئینی ماحول جس کی بنیاد یہ ہو کہ شہری بلا خوف و خطر بول سکے، اختلاف کر سکے، سوال اٹھا سکے، اپنی شناخت کے ساتھ جینے کا حق محسوس کر سکے اور یہ اعتماد رکھ سکے کہ ریاست اس کی محافظ ہے اس کی مخالف نہیں۔ یومِ جمہوریہ اسی حقیقت کی یاد دہانی کا دن ہے کہ اس ملک میں اقتدار آئین کے تابع ہے اور آئین شہری کے حق میں کھڑا ہے۔ جس دن یہ ماحول کم زور پڑنے لگے، اسی دن جمہوریت کاغذ پر تو باقی رہتی ہے ملک کی شناخت کے ساتھ بھی جڑی رہتی ہے مگر اپنی اصل روح سے خالی ہو جاتی ہے۔ لیکن جمہوریت کی اس سچائی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے
بدقسمتی سے 2014 کے بعد ہندوستانی سماج میں جو تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں، انہوں نے جمہوریت کی بنیادی قدروں کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ کہنا شاید کسی کو سخت لگے مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں جمہوریت کا سب سے بڑا نقصان آئینی دفعات کو نہیں بلکہ شہریوں کے اعتماد کو پہنچا ہے۔ ایک عام آدمی آج پہلے کی طرح خود کو محفوظ شہری نہیں سمجھتا۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا نہیں، ڈرتا ہے۔ لکھنے سے پہلے دلیل نہیں، انجام دیکھتا ہے۔ سوال کرنے سے پہلے حق نہیں، خطرہ تولتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت خوف کے سائے میں داخل ہوتی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں ملک میں بے شمار ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے جمہوری قدروں کو کم زور کیا ہے۔ ماب لنچنگ کے واقعات ہوں، نفرت انگیز مہمات ہوں، عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا ہو، صحافیوں کو خاموش کرنا ہو یا تعلیمی اداروں میں سوال کو جرم بنا دینا ہو۔ یہ سب الگ الگ حادثات نہیں بلکہ ایک ہی ذہنی تبدیلی کی مختلف صورتیں ہیں۔ تبدیلی یہ ہے کہ قانون کی جگہ طاقت کو، دلیل کی جگہ شور کو، اور شہریوں کی جگہ ہجوم کو مرکزیت دی جا رہی ہے۔
ماب لنچنگ کے واقعات اس تبدیلی کی سب سے ہولناک تصویر ہیں۔ جب سڑک پر کھڑا کوئی انسان محض افواہ، شناخت یا الزام کی بنیاد پر بھیڑ کے ہاتھوں مار دیا جاتا ہے تو وہ صرف ایک قتل نہیں ہوتا بلکہ وہ ریاست کی غیر موجودگی کا اعلان ہوتا ہے۔ ایسے واقعات میں اصل مقتول صرف وہ فرد نہیں ہوتا، اصل مقتول شہری کا اعتماد ہوتا ہے۔ کیونکہ جس سماج میں ہجوم انصاف کرنے لگے، وہاں عدالتیں صرف عمارتیں رہ جاتی ہیں اور جس سماج میں ہجوم طاقت بن جائے وہاں کم زور ہمیشہ مجرم ٹھیرتا ہے۔
ان واقعات کا سب سے خطر ناک پہلو یہ نہیں کہ لوگ مارے گئے بلکہ یہ ہے کہ ایسے واقعات نے سماج میں خاموشی کو ’’عقلمندی‘‘ بنا دیا۔ لوگوں نے سیکھ لیا کہ بولنے سے بہتر ہے بچ جانا، سوال کرنے سے بہتر ہے کنارے رہنا اور ظلم دیکھ کر آنکھ چرا لینا ہی بقا کی ضمانت ہے۔ یہی وہ نفسیاتی موڑ ہوتا ہے جہاں جمہوریت اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔ ایک انتہائی تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ ماب لیچنگ کے واقعات کی ویڈیو گرافی کی جاتی ہے اور اسے وائرل کیا جاتا ہے لیکن کسی بھیڑ پر قتل کا مقدمہ نہیں چلتا ۔ یہ صورت حال جمہوریت میں دیے گئے شہری حقوق پر ایک سوالیہ نشان لگا دیتی ہے ۔ 
اسی دوران ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ملک کے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے جو جمہوریت میں توازن قائم رکھنے کے لیے ہوتے ہیں، بتدریج طاقت کے آلہ کار بنتے چلے گئے۔ تفتیشی ایجنسیاں ہوں، مالیاتی ادارے ہوں یا انتظامی ڈھانچے، اکثر ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ عوامی تحفظ کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے زیادہ سرگرم ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کم زور پڑ گیا۔ جب شہری کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قانون سب کے لیے یکساں نہیں رہا تو جمہوریت کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ یہ ادارے اور ایجنسیاں جب چاہے کسی کو مجرم بنادیں اور جب چاہے کسی کو شفاف کردار کا سرٹیفیکیٹ دے دیں ۔ 
اس پوری فضا میں سب سے زیادہ متاثر کم زور، بے سہارا اور حاشیے پر کھڑے لوگ ہوئے ہیں۔ دلت، آدیواسی، اقلیتیں، غریب اور عورتیں۔ان سب کے لیے یہ دور صرف معاشی یا سماجی بحران کا دور نہیں رہا بلکہ نفسیاتی اذیت کا دور بن گیا۔ عورتوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات، اجتماعی زیادتیاں، گھریلو تشدد اور سماجی تذلیل کی خبریں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ جب کسی سماج میں عورت خوف کے ساتھ جینے لگے تو سمجھ لیجیے کہ وہاں جمہوریت صرف تقریروں میں زندہ رہ گئی ہے۔
اسی طرح مذہبی شناخت کے نام پر جو فضا بنائی گئی، اس نے سماج کو اندر سے تقسیم کر دیا ہے۔ عبادت گاہوں کو تنازعات کا مرکز بنانا، مذہبی وجود کو مشکوک بنانا اور ایمان کو سیاست کا ایندھن بنانا۔ یہ سب صرف مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ شہری برابری کے آئینی تصور پر حملہ ہے۔ جب عبادت گاہ عدم تحفظ کی علامت بن جائے تو پورا محلہ عدم تحفظ میں چلا جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب شہری اپنے ہی ملک میں اجنبی محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب آفاتِ ارض و سما میں مساجد قیام گاہ اور لنگر خانہ بن جاتی تھیں، ٹرین میں مسافر بلا تفریق مذہب و ملت عورتوں، بزرگوں اور بچوں کے احترام کا مظہر ہوتے تھے، میڈیکل ایمرجنسی میں ذات نہیں بلکہ انسانیت نظر آتی تھی۔ یہ اقدار اب قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔ آج حقیقت یہ ہے کہ ٹرین میں ڈاڑھی دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ہے، بزرگ کو زد و کوب کیا جاتا ہے، عورت کے حجاب کو کھینچا جاتا ہے، اور دلت اپنی ماں کی لاش سائیکل پر لے جانے پر مجبور ہے۔ یہ سب جمہوری ملک میں اسی وقت ممکن ہے جب جمہوری حقوق کو سلب کرنے کی مذموم کوشش کی جائے ورنہ جمہوریت کی تعریف 
"Democracy is government of the people, by the people, for the people" 
یعنی ’’جمہوریت عوام کی حکومت ہے، عوام کے ذریعے قائم کی گئی ہے اور عوام ہی کے مفاد کے لیے ہوتی ہے۔‘‘ لیکن ملک کی سچائی بتا رہی ہے کہ یہاں عام شہری ، دہشت پیدا کرنے والوں کے نرغے میں ہیں اور عوام کے ذریعے عوام کے لیے بنی جمہوریت اب خوف کے سائے میں ہے ۔ 
میڈیا کا کردار اس پورے عمل میں نہایت فیصلہ کن رہا ہے۔ جمہوریت میں میڈیا کا کام طاقت سے سوال کرنا ہوتا ہے مگر گزشتہ برسوں میں میڈیا کا ایک بڑا حصہ طاقت کا ہتھیار بنتا چلا گیا۔ بے تکے مباحث، چیختی اسکرینیں، پہلے سے طے شدہ مجرم اور پہلے سے تیار شدہ فیصلے۔ یہ صحافت نہیں، نفسیاتی انجینئرنگ ہے۔ سوال کو شور میں، تحقیق کو تماشے میں اور اختلاف کو غداری میں بدلنے میں میڈیا نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ پچھلے دس پندرہ برسوں میں حکومت سے کم اور اپوزیشن سے زیادہ سوال کیے گئے، قبروں میں پہنچے وزرائے اعظم کی کارکردگیوں کا جائزہ ہر روز لیا جانے لگا ہے اور موجودہ ناکامیوں کا بوجھ ماضی پر ڈالنے کو صحافتی فریضہ بنا دیا گیا ہے۔
اسی میڈیا کے ذریعے خوف کو روزانہ کی خوراک بنایا گیا۔ کبھی ملک ٹوٹنے کا خوف، کبھی مذہب خطرے میں ہونے کا خوف، کبھی اندرونی دشمنوں کا خوف، کبھی بیرونی سازشوں کا خوف۔ جب سماج کو مستقل خوف میں رکھا جائے تو شہری سوچنا چھوڑ دیتا ہے، سوال چھوڑ دیتا ہے اور ایک طاقتور سہارے کی طرف لپکنے لگتا ہے۔ یہی وہ نفسیاتی راستہ ہے جس پر فسطائیت جنم لیتی ہے۔
فسطائیت ہمیشہ بندوق کے ساتھ نہیں آتی۔ اکثر وہ تحفظ کے وعدوں کے ساتھ آتی ہے۔ وہ کہتی ہے ’’ آزادی چھوڑ دو، ہم تمہیں محفوظ کر دیں گے۔ سوال چھوڑ دو، ہم تمہیں مضبوط بنا دیں گے۔ اختلاف چھوڑ دو، ہم تمہیں متحد کر دیں گے۔‘‘ اور جب سماج اس سودے پر آمادہ ہو جائے تو جمہوریت اپنی روح کھو دیتی ہے جس کے بعد صرف بے جان ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ صرف سماج میں کیا ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آئینی سطح پر کیا مجروح ہو رہا ہے۔ ہندوستان کا آئین شہری کو اظہارِ رائے، مساوات، مذہبی آزادی، وقارِ انسان اور ادارہ جاتی تحفظ دیتا ہے۔ آج بحران یہ ہے کہ شہری آزادی سکڑ رہی ہے، مساوات کم زور پڑ رہی ہے، ادارہ جاتی خود مختاری سوالوں کے گھیرے میں ہے، اور وفاقی ڈھانچہ مرکزیت کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ مسئلہ صرف کسی ایک حکومت یا کسی ایک پالیسی کا نہیں بلکہ آئینی روح سے تدریجی انحراف کا ہے۔
آئینی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکن بارہا اس طرف توجہ دلاتے رہے ہیں کہ جب ریاست خود کو جواب دہی سے بالاتر سمجھنے لگے، جب تحقیقاتی ادارے خوف کی علامت بن جائیں، جب عدالتوں تک پہنچنا عام شہری کے لیے دشوار ہو جائے اور جب میڈیا عوام کی آواز کے بجائے اقتدار کی بازگشت بن جائے تو جمہوریت اپنے آخری اور نازک مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ صرف شکایت، صرف نوحہ اور صرف تجزیہ کافی نہیں۔ جمہوریت تب ہی بچتی ہے جب شہری بیدار ہوتے ہیں، سماج منظم ہوتا ہے اور ادارے اپنی ذمہ داری پہچانتے ہیں۔ فرد کی سطح پر سب سے پہلی ذمہ داری خوف کے نفسیاتی حصار کو توڑنے کی ہے۔ آئین سے واقفیت، قانونی شعور، اور سچ کو جاننے کی عادت ہر شہری کے لیے لازم ہے۔ افواہ، نفرت اور اشتعال انگیزی کے بازار میں خاموش خریدار بن جانا بھی جرم ہے۔ شہری کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر وائرلیس چیز سچ نہیں ہوتی، ہر شور حق نہیں ہوتا اور ہر طاقت انصاف نہیں ہوتی۔
سماجی سطح پر سِول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، مساجد، مندروں، خانقاہوں اور تنظیموں کو محض عبادت یا خدمت گاہ نہیں بلکہ آئینی شعور کے مراکز بننا ہوگا۔ قانونی بیداری سنٹرز، میڈیا لٹریسی پروگرام، حقائق کی دستاویز سازی اور پُرامن اجتماعی آواز آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا ایک غیر معمولی طاقت ہے۔ ملک کے عام شہریوں کو سمجھ آنے والی زبان میں مثبت اپروچ کے ساتھ تحقیق کے ذریعے حقائق کو سامنے لانا، اذہان و قلوب پر دستک دینا اور ما فی الضمیر کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ آج کئی سوشل میڈیا چینلز ہیں جو واقعی بہترین صحافی ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں۔ انہیں سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ خوف کا مقابلہ تنہائی سے نہیں، اجتماعیت سے ہوتا ہے۔
ملت اور حاشیے کے طبقات کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جذباتی رد عمل کے بجائے آئینی جدوجہد کو اپنا راستہ بنایا جائے۔ ادارہ سازی، نوجوانوں کی قانونی و فکری تربیت اور جذبات کے بجائے اہلیت کی سیاست ہی وہ راستہ ہے جو خوف کے بیانیے کو کم زور کر سکتا ہے۔
اہلِ قلم اور صحافیوں کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ وہ شور کے مقابل تحقیق، تماشے کے مقابل سچائی اور طاقت کے مقابل شہری کو مرکز میں لائیں۔ صحافت اگر مظلوم کی مستقل آواز نہ بنے تو وہ اقتدار کا آلہ کار بن جاتی ہے۔
اور ریاست سے یہ مطالبہ اصولی ہونا چاہیے کہ اداروں کی خود مختاری بحال ہو، نفرت انگیز جرائم پر صفر برداشت کی پالیسی اپنائی جائے، پولیس اور تفتیش کو سیاسی اثر سے آزاد کیا جائے اور میڈیا کو ضابطے اور اخلاق کے دائرے میں واپس لایا جائے۔ جمہوریت احسان نہیں، آئینی ذمہ داری ہے۔
یقین جانیے، جمہوریت کا گلا اسی وقت گھٹتا ہے جب شہری کو سوال کرنے سے ڈر معلوم ہو۔ یہ سچ ہے کہ سوال کرنے والوں کے لیے راستے آسان نہیں ہوتے۔ جیلیں، مقدمات اور کردار کشی اس دور کی حقیقت ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ خوف ہمیشہ طاقت ور نہیں رہتا، ایک وقت آتا ہے جب عام شہری بولنے لگتا ہے، اور جب وہ بولتا ہے تو ایوان ہلتے ہیں، ادارے باز آتے ہیں اور بیانیے بدلتے ہیں۔
یومِ جمہوریہ کے موقع پر  اپنے اندر کے شہری کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اب بھی وہ سماج چاہتے ہیں جو اختلاف کو برداشت کرتا تھا، کم زور کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا اور طاقت سے سوال کرتا تھا؟ یا ہم وہ سماج بنتے جا رہے ہیں جو صرف طاقت کے پیچھے چلنا جانتا ہے؟
کیونکہ جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن باہر نہیں ہوتا۔ وہ ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے، اور اس کا نام خوف ہوتا ہے۔ آئیے اس خوف کو مسمار کریں اور آئین کی روشنی میں ملک کی تعمیرِ نو کریں۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں