ووٹ نہیں، وقار اصل بنیاد۔ جمہوریت کو صرف انتخابی عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی نظام کے طور پر دیکھا جائے
چھبیس جنوری محض ایک تاریخ نہیں، ایک عہد کا نام ہے۔ وہ دن جب ہمارے قائدین نے صرف غلامی کی زنجیریں نہیں توڑیں بلکہ ایک نئے اخلاقی، آئینی اور تہذیبی سفر کی بنیاد رکھی۔ 1949 میں دستورِ ہند کی تکمیل اور 1950 میں اس کے نفاذ کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہندوستان کی بنیاد طاقت پر نہیں بلکہ اصول پر ہوگی، اکثریت پر نہیں انصاف پر اور خاموش اطاعت پر نہیں بلکہ با وقار آزادی پر ہوگی۔
کیونکہ آزادی صرف انگریزوں کے تسلط سے نکلنے کا نام نہیں تھا۔ اصل آزادی یہ تھی کہ ہر ہندوستانی کو جینے کا حق حاصل ہو، عزت کے ساتھ جینے کا حق، عبادت کا حق، اظہار کا حق، سوال کرنے اور اختلاف کرنے کا حق اور سب سے بڑھ کر اپنے ہی وطن میں محفوظ رہنے کا حق ہے اور جمہوریت اسی آزادی کا تسلسل ہے۔جو کہ محض ووٹ دینے اور لینے کا عمل اور نام نہاد انتخابی نظام نہیں، بلکہ ایک مکمل کرداری نظام ہے۔
درحقیقت جمہوریت ایک اخلاقی معاہدہ ہے، ریاست اور شہری کے درمیان، اقتدار اور ضمیر کے درمیان، قانون اور کردار کے درمیان۔ جب یہ معاہدہ زندہ رہتا ہے تو آئین محض کاغذ نہیں رہتا، ضمیر کی تحریر بن جاتا ہے اور جب کردار کم زور پڑ جائے تو مضبوط ترین قانون بھی محض الفاظ کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔
یومِ جمہوریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی ملک کی عظمت نعروں سے نہیں بلکہ اخلاقی رویوں سے پہچانی جاتی ہے۔ جمہوریت کا اصل حسن برداشت، انصاف، مساوات اور انسانی وقار میں پوشیدہ ہے۔ وہ جمہوریت جو صرف اقتدار کی گردش تک محدود ہو جائے، رفتہ رفتہ اپنی روح کھو دیتی ہے۔
ہندوستان کی جمہوریت کی بنیاد ایسے آئین پر رکھی گئی تھی جو تنوع کو بوجھ نہیں بلکہ حسن سمجھتا تھا جو مذہب، زبان اور ثقافت کے اختلاف کو کم زوری نہیں بلکہ طاقت مانتا تھا۔ اس آئینی سفر میں مسلمانوں کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سر زمین کی تعمیر میں مسلمانوں کا خون، پسینہ اور فکر شامل ہے، چاہے وہ جنگِ آزادی کا محاذ ہو، علمی و تہذیبی میدان ہو یا اس ملک کے اخلاقی مزاج کی تشکیل ہو۔لیکن آج جمہوریت کے اس کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرینِ جمہوریت واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں جمہوری اقدار کم زور ہو رہی ہیں اور ہندوستان بھی اس تشویش سے الگ نہیں۔معیشت، تعلیم اور سیاست، تینوں شعبے بحران کا شکار ہیں۔مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، جی ایس ٹی نے چھوٹے تاجروں کی سانس گھونٹ دی ہے اور بے روزگاری نوجوانوں کے خواب نگلتی جا رہی ہے۔
آج کا ہندوستان بڑھتی ہوئی معاشی نا برابری کے ایک سنگین دور سے گزر رہا ہے، جہاں دولت اور وسائل بتدریج چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتے جا رہے ہیں، اور اکثریت روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے جدوجہد پر مجبور ہے۔ یہ عدم توازن محض اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ اس جمہوری تصور کے لیے ایک اخلاقی چیلنج ہے جو مساوات اور انصاف کا وعدہ کرتا ہے۔جمہوریت صرف ووٹ سے نہیں چلتی، وہ مساوی مواقع مانگتی ہے۔ جب دولت چند ہاتھوں میں قید ہو جائے تو آزادی بھی آہستہ آہستہ قید ہو جاتی ہے۔
اسی پس منظر میں ایک زخم ایسا ہے جو محض احساس یا تاثر نہیں بلکہ مستند رپورٹس کے مطابق دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا ہے، یعنی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیاز۔ انڈیا ہیٹ لیب کی تازہ ترین رپورٹ، جسے دی وائر نے شائع کیا ہے، بتاتی ہے کہ صرف 2025 میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو 2024 کے مقابلے 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے 97 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 98 فیصد تقاریر مسلمانوں کے خلاف تھیں اور یہ رجحان سب سے زیادہ ان ریاستوں میں دیکھا گیا جہاں برسراقتدار جماعت کی حکومت ہے۔ یہ نفرت اب محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ سینکڑوں تقاریر میں مسلمانوں کے سماجی اور معاشی بائیکاٹ، دکانیں بند کرانے، روزگار سے محروم کرنے، حتیٰ کہ تشدد اور ہتھیار اٹھانے کی کھلی اپیلیں کی گئیں۔ نفرت انگیز نظریات، جیسے ’لو جہاد‘، ’لینڈ جہاد‘ اور ’ووٹ جہاد‘ کو سیاسی جلسوں، مذہبی جلوسوں اور احتجاجی اجتماعات میں منظم انداز میں پھیلایا گیا اور سوشل میڈیا نے ان پیغامات کو ملک گیر سطح پر عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نفرت اب کسی انفرادی رویّے کا نام نہیں رہی، بلکہ ایک منظم سماجی و سیاسی مسئلہ بن چکی ہے، جو جمہوریت کے اخلاقی ڈھانچے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ دوہرا سلوک اب ایک وقتی اندیشہ نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے؛ قانون اگرچہ کاغذ پر سب کے لیے برابر ہے، مگر عملی سطح پر انصاف کی ترازو جھکی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
عمر خالد کا معاملہ اب کسی ایک فرد کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ عدالتی جبر، ریاستی انتقام اور آئینی انحراف کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ستمبر 2020 سے بغیر جرم ثابت ہوئے قید اور پانچ برس بعد بھی ٹرائل کا آغاز نہ ہونا اس اصول کی صریح نفی ہے کہ سزا جرم کے بعد دی جاتی ہے، پہلے نہیں۔ جب ضمانت استثنا بن جائے اور جیل معمول اور جب یو اے پی اے جیسے قوانین اختلافِ رائے کو دبانے کا ذریعہ بن جائیں تو یہ محض قانونی بحران نہیں رہتا بلکہ جمہوریت کے کردار کا زوال بن جاتا ہے۔
اسی عہد کی ایک اور علامت گلفشاں فاطمہ ہیں۔ پانچ برس بعد رہائی ملی، مگر خاموشی کی شرط کے ساتھ۔ ضمانت کے باوجود سخت شرائط، تھانے میں حاضری، میڈیا سے گفتگو پر پابندی، سفر کی ممانعت، ایک ایسی کھلی جیل کی تصویر بناتی ہیں جہاں جسم آزاد مگر آواز قید ہے۔ اگر ضمانت کے بعد بھی بولنا خطرناک لگے، تو اس کا مطلب ہے کہ انصاف ابھی مکمل نہیں ہوا ۔
ایسے ماحول میں یہ سوال گہرا ہوجاتا ہے کہ کیا یہی وہ جمہوریت ہے جس کا وعدہ چھبیس جنوری 1950 کو کیا گیا تھا؟ کیا آزادی اب صرف تقاریر، پریڈ اور اسکرینوں کی چمک تک محدود ہو چکی ہے؟ مسلمانوں نے اس وطن کو صرف اپنا مسکن نہیں بلکہ اپنی امانت جانا۔ کسی نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، کسی نے تختۂ دار کو چوما اور کسی نے قلم و فکر سے آزادی کے چراغ روشن کیے۔
اسی تسلسل میں اردو زبان کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ اردو محض ایک زبان نہیں، یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی آواز ہے۔ اس نے آزادی کی جدوجہد میں دلوں کو جوڑا، شعور کو بیدار کیا اور ظلم کے خلاف مزاحمت کو لفظ عطا کیے۔
ہم یہ کیسے کہہ دیں کہ ہمیں درد نہیں؟ کیا ہم اس ہندوستان کو بھول جائیں جس نے اشفاق اللہ خان، مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام جیسے عظیم فرزند دیے؟
کیا ہم بھول جائیں کہ "انقلاب زندہ باد" حسرت موہانی کی صدا تھی، کیا ہم بھول جائیں کہ ترنگے کا پہلا خاکہ ایک مسلمان خاتون نے بنایا اور کیا ہم بھول جائیں کہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا" علامہ اقبال کا خواب تھا؟
ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن
ائے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا
ائے خاکِ وطن اب تو وفاؤں کا صلہ دے
میں ٹوٹتی سانسوں کی فصیلوں پہ کھڑا ہوں
آخر میں سوال یہی ہے کہ ہم کیسا ہندوستان چاہتے ہیں؟ ایسا جہاں خاموشی زندہ رہنے کی شرط ہو یا ایسا جہاں سچ بولنا خطرہ نہ بنے؟ کیونکہ یاد رکھیے، جمہوریت فقط لفظی قانون سے نہیں، بلکہ عملی کردار سے زندہ رہتی ہے۔ اور اگر کردار ہار گیا، تو آئین بھی تنہا رہ جائے گا۔
نہ تیرا ہے نہ میرا ہے یہ ہندوستان سب کا ہے
نہیں سمجھی گئی یہ بات تو نقصان سب کا ہے
جو اس میں مل گئیں ندیاں وہ دکھلائی نہیں دیتیں
مہا ساگر بنانے میں مگر احسان سب کا ہے
جمہوریت: قانون سے کردار تک
آئینی اصولوں کو الفاظ و اوراق سے عملی زندگی میں لایا جائے

