للن سنگھ سے کلن پانڈے نے کہا یار میری سمجھ میں راحت اندوری کے مشہور شعر کا مطلب کئی برسوں کے بعد اب آیا ہے۔
للن بولا اچھا میں تو آپ کو بڑا عالم فاضل سمجھتا تھا لیکن حیرت ہے راحت جیسے آسان شاعر کو سمجھنے میں آپ کو کئی سال لگ گئے۔
نہیں نہیں! ایسی بات نہیں۔ شعر کا مطلب تو سمجھ میں آگیا تھا لیکن اس کی تصدیق اس طرح ہوگی یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
گروجی آپ نے تو معاملہ اور بھی الجھا دیا۔ شعر کی بات کرتے کرتےتشریح کا دفتر کھول دیتے ہیں ۔  ویسے وہ کون سا ایسا  شعر ہے  ہمیں  بھی تو پتہ چلے؟
ارے ابھی تک نہیں سمجھے میں تو سمجھتا تھا کہ ازخود اس  مقبولِ عام شعر تک پہنچ جاوگے۔  
للن بے زار ہوکر بولاگروجی اب اس غریب سے اور  پہیلیاں  نہ بجھوائیے جلدی سے بتائیے ورنہ میں چلا ۔
ارے تم تو ناراض ہوگئے ۔ کیا تم نے نہیں سنا
:’ لگے گی آگ تو آئیں گے گھر سبھی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے ؟
للن بولا اچھا یہاں پر ہمارا مکان نہیں ہے تو کس کا ہے؟ اجے موہن بِشٹ عرف  یوگی بابا  کے راج  میں ہم راجپوتوں کا ہی تو مکان سلامت ہے ۔  
کلن نے بگڑ کر کہا ہوگا تمہارا  مکان سلامت لیکن ہمارے گھر تو دور شمشان گھاٹ بھی آگ  کی زد میں آگئے  ہیں ۔
ارے پنڈت جی شمشان گھاٹ میں آگ نہیں لگےگی  تو کیا پھول برسیں گے ؟  آپ بھی بہت بھولے ہیں ۔
ارے بیوقوف  میں بھی  راحت کی طرح آگ کو علامت کے طور پربول رہا ہوں ۔ تمہارے یوگی نے سب سے مقدس شمشان گھاٹ پر بلڈوزر چلا دیا۔
للن نے سوال کیا پنڈت جی میرے خیال میں تو  شمشان گھاٹ نہایت منحوس مقام ہوتا ہے جہاں موت کے بادل چھائے ہوتے ہیں۔
تمہاری بات درست ہے مگر بنارس کا کرنیکا گھاٹ پر بنے شمشان   کی بات ہی اور ہے ؟
اچھا وہ کیسے ؟ میرے خیال میں تو شمشان گھاٹ مودی کے وارانسی کا ہو یا یوگی کے گورکھپور کا؟ دونوں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔

دیکھو للن تم جیسے جاہل لوگ دھرم کرم تو بالکل  نہیں جانتے ، بس دن رات یوگی ، مودی کے  اشارے  پر مسلمانوں  کے پیچھے پڑے رہتے ہو۔
للن نے اعتراف کرتے ہوئے کہا جی ہاں گرودیو آپ کی بات درست ہے لیکن برائے کرم یہ تو بتا دیجیے کہ  بنارس کے اس گھاٹ میں ایسا کیا خاص ہے؟
ارے بھائی اگر کوئی خاص بات نہیں ہوتی تو لوگ دور دور سے وہاں اپنے اہل خانہ کی لاش جلانے کے لیے کیوں لاتے ؟
جی ہاں گرودیو مان لیا کہ  وہ خاص ہے اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں کہ وہ خصوصیت کیا ہے؟
دیکھو بھیا سناتنی دھرم کے مطابق   اگر کسی کی لاش کو وہاں نذر آتش کیا جاتا ہے تو سیدھا سورگ میں جاتا ہے ۔
اچھا!  تویہ  سورگ میں جانے کا بڑا آسان طریقہ ہے ۔ زندگی بھر من مانا  ظلم و ستم کرنے کے بعد وہاں جاکر اپنا انتم سنسکار کروا لو  اور سب صاف۔
ارے بیوقوف مرنے کے بعد اپنا انتم سنسکار کروانا کسی انسان کے بس کی بات تھوڑی ہے۔ پسماندگان  اگرایسا نہ کریں تو کون  کیا کرسکتا ہے؟
ارے بھائی وصیت تو کرسکتا ہے کہ اگر انتم سنسکار بنارس کے انو کرمنیکا گھاٹ پر نہیں ہوا  تو وراثت میں حصہ  نہیں ملے گا ۔
گروجی کوئی مرتے وقت  اپنی دھن دولت ساتھ میں تو لے کر نہیں جاسکتا ۔ آخری رسومات کہیں بھی ادا ہوں جو چھوٹ گیاوہ  تو تقسیم ہی ہوگانا ۔
کلن  یہ سن کر چکرا گیا اور پھر اپنے آپ کو سنبھال کر بولا جی ہاں مرنے والا تو کچھ نہیں کرسکتا لیکن وارثین کو بھی تو پُنیہ کمانا چاہیے ۔
اچھا اگر وارثین نے پُنیہ کمایا ہے تو وہ جنت میں جائیں گے ۔ مرنے والاکیوں ؟ اس لیے کہ موت کے بعد  خرچ ہونے والا مال   اس کا تھوڑی تھا؟
 کلن چِِڑ کر بولے سب تمہاری طرح ناخلف نہیں ہوتے ۔ لوگ اپنے والدین کی نجات کے لیے لاش کو وہاں لے جاکر آخری رسومات  ادا کرتے ہیں۔
گرو دیو وہاں سے نجات کا مل جانا اور دوسری جگہ نہ ملنے والی بات سمجھ میں نہیں آئی  ذرا کھول کر بتائیں۔
دیکھو ایسا ہے کہ انوکرمنیکا گھاٹ پر انتم سنسکار  کے بعد انسان  دوبارہ جنم لے کر دنیا میں نہیں آتا بلکہ  اس  چکر سے نکل کر سیدھا سورگ میں چلا جاتا ہے۔
للن بولا اچھا تب تو  ہم پردھان جی کا انتم سنسکار وہاں نہیں ہونے دیں گے؟
ارے تم کیسے بھکت ہو۔ پردھان جی گجرات چھوڑ کر اسی لیے تو وارانسی آئے  ہیں تاکہ وہیں ان کا انتم سنسکار ہو اور وہ سیدھے سورگ میں جائیں ۔
جی نہیں پنڈت جی ہم تو چاہتے ہیں کہ  پردھان جی بار بار اس دنیا میں آئیں اور کبھی بھی۔۔۔۔۔
کلن نے کہا بولو رک کیوں گئے ۔ تم چاہتے ہو بار بار آئیں  اور ٹرمپ کے ہاتھوں رسوا ہوتے رہیں بلکہ ممتا تک ان کو جیتنے نہ دے لوگ انہیں ووٹ چور۔۔۔۔۔
پنڈت جی اب  رک جائیے پلیز۔ ہمارے پردھان جی  عام انسان نہیں ہیں  جو انہیں موت آ جائے ۔ وہ تو  مہا مانو اور نان بائیولوجیکل ہیں۔ وہ مریں گےہی  نہیں تو کیا تم کہنا چاہتے ہو کہ انہیں کبھی بھی نجات نہ ملے۔ کیسی باتیں کرتے ہو کلن تم ان کے بھکت ہو یا دشمن؟
گرو دیو آپ نے مجھے کنفیوز کردیا ہے۔ میری  سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔ آپ پھر سے بتائیں کہ انوکرمنیکا گھاٹ کی خاص بات کیا ہے؟
دیکھو ایک تو وہاں کے شمشان گھاٹ کی آگ کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی اور دوسرے وہاں ارتھی کلش سے ہولی کھیلی جاتی ہے۔
کلن بولا آگ کا ٹھنڈا نہ ہونا تو سمجھ میں آگیا  کیونکہ وہاں لگاتار انتم سنسکار ہوتا رہتا ہے لیکن یہ ہولی والی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔
ارے بھائی وہی تو میں سمجھا رہا تھا کہ  ہولی کھیل کر فوت ہونے والے کے سورگ میں جانے کی خوشی منائی  جاتی ہے ۔
اچھا تو جو لوگ دور دور سے اپنے رشتے داروں کا  انتم سنسکار کرنے کے لیے وہاں آتے ہیں وہ خوشی مناکر لوٹتے ہیں؟ لیکن جو ایسا نہ کرسکا وہ کیا کرتا ہے؟
وہ ارتھی کلش کو گنگا جمنا کے سنگم پر لاکر بہا دیتا ہے تاکہ مرنے والے کو نجات مل جائے؟ 
للن نے حیرت سے سوال کیا اچھا مگر وہ ہولی کھیلنے والے تو ۔۔۔۔۔
ارے بیوقوف  پوری راکھ سے تھوڑی ہولی کھیلتے ہیں۔ جو بچ جاتی ہے اسے بہا دیتے ہیں اور جب خود ڈبکی لگاتے ہیں تو ساری راکھ بہہ جاتی ہے۔
اچھا تو اب سمجھ میں آیا لیکن یہ بتائیے کہ اس کا راحت اندوری کے شعر سے کیا تعلق ؟
ارے بھائی اس انوکرمنیکا گھاٹ  کی تعمیر نو کے بہانے یوگی سرکار نے وہاں پر بلڈوزر چلا دیا ۔
اپنے ہی مقدس گھاٹ پر بلڈوزر؟ کہیں نتیش کمار کی مانند یوگی کا دماغ بھی تو نہیں چل گیا؟
ارے بھائی اسی لیے تو راحت اندوری کا شعر یا دآیا۔ اس سے پہلے جب مسجدوں اور مزاروں پر بلڈوزر چلتا تھا تو تم خوش ہوتے تھے۔ اب بھی مٹھائی بانٹو!!
للن بولاکیسی باتیں کرتے ہیں گرودیو؟ اپنا سب سے مقدس شمشان توڑ دیا جائے اور ہم خوشی منائیں ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟
دیکھو للن  جیسے ہمارا تقدس ویسے ہی دوسروں کے مقدس مقامات ۔ ہم لوگ اگر دوسروں کا تقدس  پامال کریں گے تو قدرت ہم  سے بھی  انتقام لے گی ۔
جی ہاں  لیکن افسوس کہ یہ بدلہ  ہندوتوا کے نام پر اقتدار میں آنے والے بھگوا دارھاریوں  کے ہاتھوں سے لیا جا رہا ہے۔  
کلن نے کہا اب بولو تم کیا کروگے ؟ اگلے الیکشن میں پھر انہیں لوگوں کو ووٹ دوگے جنہوں نے تعمیر نو کے نام پر ایودھیا اور کاشی کے کئی مندر توڑ دیے؟
کیا کریں گروجی  کانگریس اور سماجوادی جیسے مذہب دشمنوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے یہ مہا پاپ  کرنا ہی پڑے گا ؟  
کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس تباہی و بربادی کی مخالفت کون کررہا ہے؟
جی نہیں۔ نہ تو اس کی مخالفت کرنے کی کسی میں  جرأت ہے  اور نہ کسی کو اس کی  ضرورت ہے۔
للن بولا افسوس ،وہی مذہب بے زار لوگ  اس ظلم کے خلاف سینہ سپر ہیں جن کو دشمن سمجھ کر ہم نے اقتدار سے باہر کیا تھا ۔
اچھا تو کیا وہ دھرم کی رکھشا کے لیے میدان میں اترے ہوئے ہیں؟ان کا کیا مطالبہ ہے؟
بھئی وہ تو اہلیا بائی ہولکر کے ٹوٹے ہوئے مجسمہ کی  ویڈیو اور تصویریں دِکھا کر  یوگی سے معافی مانگنے  کا مطالبہ  کررہے ہیں ؟
اچھا تو  یوگی نے اس کا  کیا جواب دیا؟
انہوں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تصاویر جھوٹی ہیں ۔ انہیں مصنوعی ذہانت( اے آئی) سے تیار کیا گیا ہے؟  مورتیاں محفوظ کر کے رکھی گئی ہیں ۔
تب تو حزب اختلاف کو مطمئن ہوجانا چاہیے؟
جی ہاں مگر وہ جھوٹ ہے۔  حزب اختلاف کا  مطالبہ  ہے اگر وہ محفوظ ہیں تو انہیں عوام کے سامنے پیش کردیا جائے  لیکن یوگی ایسا نہیں کرپارہے ہیں۔
تب تو دال میں کالا ہے۔  ورنہ پریس والوں کو مورتیاں دکھا کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے میں کیا مشکل ہے؟
ارے بھیا دودھ نہیں پانی ہی پانی ہے اسی  لیے وہ  آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں ؟
للن بولا کچھ نہیں کرسکتے تو اس طرح کی الزام تراشی کرنے والوں کو جیل میں ڈال دیں ۔ کیا یہ بھی نہیں ہوسکتا ؟
یہ آسان نہیں ہے۔ اہلیا بائی ہولکر ٹرسٹ نے اپنے لیٹر ہیڈ پر اعتراض کرکے تصاویر منسلک کی ہیں اس لیے ان پر کارروائی مشکل ہے۔
یہ اہلیا بائی ہولکر  وہی تو نہیں  کہ  جن کے نام سے احمد نگر کو منسوب کردیا گیا ۔
جی ہاں یہ وہیں پیدا ہوئی تھیں مگر ان کی شادی گوالیار کے ہولکر خاندان میں ہوئی اور وہ وہاں کی رانی بن گئیں ۔
تب تو مدھیہ پردیش کی بی جے پی سرکار کو گوالیار کا نام بدل کر اہلیا بائی ہولکر نگر رکھنا چاہیے تھا ۔
جی ہاں اگر گوالیا ر کا نام احمد نگر ہوتا تو یہ کردیا جاتا ۔ اصل مقصد تو مسلم  نام بدل کر ہمیں بیوقوف بنانا ہے ۔ ہم لوگ اسی سے خوش ہوتے ہیں۔
اچھا وہ تو ٹھیک ہے مگر وہ بنارس کیسے پہنچ گئیں؟
انہوں نے  ہی یہ گھاٹ تعمیر کروایا تھا اس لیے وہاں ان کا مجسمہ بھی نصب تھا جسے توڑ کر اس کی بے حرمتی کی گئی۔
یار تب تو مہاراشٹر کی حکومت کو اس  توہین کی مذمت کرنی چاہیے تھی ۔
بھیا اگر یوپی میں سماجوادی پارٹی کی سرکار ہوتی تو یہ لوگ آسمان سرپر اٹھالیتے مگر یہاں تو ہونٹ اور دانت سبھی اپنے ہیں اس لیے کریں تو کریں کیا؟
گروجی لیکن حزب اختلاف کے اہلیا بائی ہولکر کے تئیں اس قدر عقیدت کے اظہار کی کیا وجہ ہے ؟ راجا رانیوں کے مجسمے تو ٹوٹتے پھوٹتے رہتے ہیں ۔
ارے بھیا اہلیا بائی ہولکر نے ملک بھر کے کئی مندروں کے ساتھ بنارس میں اورنگ زیب کے ذریعہ توڑے جانے والے مندر کو بھی پھر سے تعمیر کیا۔    
للن نے پوچھا! میں نے تو سنا ہے اورنگ زیب نے کئی مندروں کے لیے زمینیں دی تھیں  تو ان کو بنارس میں مندر توڑنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی ؟
بھائی میں نے معروف مورخ ڈاکٹربی این پانڈے  کی کتاب ’ہندو مندر‘ میں اس سے متعلق نہایت دلچسپ تفصیل دیکھی تھی ۔
اچھا وہ کیا ہے۔ مجھے بھی بتائیں؟
پانڈے لکھتے ہیں کہ  ’’ بنگال جاتے وقت راجاؤں کی درخواست پر رانیاں گنگا اشنان اور وشوناتھ کی پوجا کے واسطے اس مندر میں گئیں ‘‘۔
للن بولا یہ تو اچھی بات ہے اورنگ زیب کے دربار میں بھی ہندو مذہب پر عمل کرنے والےموجود تھے اورانہیں اپنے کرم کانڈ کی چھوٹ تھی۔
جی ہاں لیکن  پانڈے کے مطابق یہ گڑ بڑ ہو گئی کہ’’کچھ رانیوں کے سوا سب آگئیں ‘‘۔
للن نے پوچھا اچھا توجو نہیں آئیں  انہیں زمین نگل گئی یا آسمان نے اچک لیا ؟
بھیا  اعلیٰ عہدیداروں کوتلاش کرنے پر   گنیش مورتی کے پاس وہ  سیڑھیاں نظر آگئیں جو اندر تہہ خانہ میں جاتی تھیں۔
اچھا تو مطلب  سراغ مل گیا ؟
جی ہاں تہہ خانے میں  رانیوں کو عصمت دری کے بعد روتا پایا گیا،احتجاج کے بعد بادشاہ نے حکم دیا کہ یہ مقدس جگہ ناپاک ہوگئی ہے۔
للن نے کہا اچھا مگر پھر بادشاہ نے کیا کیا؟
کلن نے کہا سلطان  نے  مورتی کو دوسری جگہ منتقل کرکے مندر کو زمین بوس کروادیا  اور مہنت کی  گرفتاری ہوگئی  ۔
اچھا ! اورنگ زیب کی طرح یوگی بھی  مورتیوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیتے یا  پردھان جی ان کی گرفتاری کروا دیتے تو یہ ہنگامہ نہ ہوتا ۔
جی ہاں مگر وہ اپنے جیسا جعلی ہندو راشٹر تھوڑی تھا ؟
للن نے سوال کیا لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اورنگ زیب کے دربار میں ہندو راجہ اور درباری کیسے پہنچ گئے؟
ارے بھائی بنگال کے مشہور دانشور’’ پی رائے‘‘ کے مطابق’’اورنگ زیب کے عہد میں ہندوؤں کو منصب داری اور بڑی بڑی جاگیریں عطا کی گئیں تھیں ‘‘ ۔
اچھا مگر ہم لوگوں نے تو ’مسلم مکت‘ حکومت بنا ڈالی ۔
جی ہاں رائے لکھتے ہیں کہ اورنگ زیب نے کئی  ہندوؤں کو نہ صرف  گورنر بنایا بلکہ  افغانستان کا نائب گورنر  بھی  ہندو راجپوت  ہی تھا‘‘
گرودیو  مان گیا مگریہ بتائیے کہ آخر اورنگ زیب اتنا فراخ دل کیوں تھا ؟
ارے بھیا اس کو الیکشن تھوڑی لڑنا پڑتا تھا؟  اب دیکھو اس ظلم  کے باوجود تم لوگ  سب بھول بھال کر اگلے الیکشن میں پھر سے یوگی کو کامیاب کروگے؟
جی نہیں مسلمان اگر پچھلے چونتیس سالوں سے اپنی بابری مسجد کو نہیں بھولے  تو ہم کیسے بھول سکتے ہیں ؟
دیکھو للن ان میں اور ہم میں یہی فرق ہے۔ پردھان جی نے 2008 میں احمد آباد میں سڑک چوڑی کرنے کی آڑ میں بے شمار مندر   توڑ دیے تھے ۔
یہ ناممکن ہے گرو دیو پردھان جی ایسا نہیں کرسکتے ۔ یہ آپ سے کس نے کہہ دیا؟
ارے بھائی اپنی وشو ہندو پریشد کے اشوک سنگھل سمجھانے کے لیے گئے پریس میں مذمت کی مگر ہم نے کیا کیا؟ وہاں تو اب بھی کمل ہی کھل رہا ہے۔
ہاں گرودیو یہی تو فرق ہے کہ مسلمان اب بھی ایودھیا میں بابری مسجد بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم نے بھی مسجد سے تقریباً ایک کلومیٹر دور مندر بنایا ہے۔
جی ہاں مگر ہم سیدھے سادے ہندو  ان کے مظالم   کوبھول کر انہیں کوبار بار  ووٹ دے کر کامیاب کردیتے ہیں اوروہ بلا جھجک  ہمارے مندر توڑتے ہیں۔
لیکن گرودیو اس بار  تو نام نہاد  تعمیر نو  تک بابا جی نے  موکش کا دروازہ  بھی  بند  کردیا اس لیے ہم انہیں معاف نہیں کریں گے ۔
کلن نے کہا اگر ایسا ہوجائے تو اس صورت حال پر راحت اندوری کا یہ شعر  صادق آجائے گا؎
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے