قرآنی بیانیے میں اوربطورخاص قرآن کے دعوتی بیانیے میں کلی اورجزوی اعراض کی پالیسی ایک مستقل پالیسی ہے۔ اعراض کی یہ پالیسی اہل ایمان کےدعوتی ہدف اورٹارگیٹ کے لیے تیاری کرنےاوراستعداد بڑھانے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اوردعوتی کام کو وسیع الاطراف بناتی ہے۔ امید جگاتی ہے اورحوصلہ بڑھاتی ہے۔ اعراض کی اس پالیسی کی وجہ سے دعوتی کام میں سہولت بھی پیدا ہوتی ہے اوراپنے حصے کا کام کرنے کے لیے جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ باقی اللہ نے خود ہی قرآن میں فرمادیا ہے:
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (القصص: ٥٦)
’’اے پیغمبر! تم اپنی مرضی سے کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے البتہ اللہ جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے اور ہدایت پانے والوں کے بارےمیں وہی زیادہ جانتا ہے‘‘
اور یہ بات نبیﷺ سے فرمائی جارہی ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے، توپھر کسی شیخ وعالم، قطب وابدال اور ہمہ شمہ کا کیا ذکراور ان کی کیا اہمیت!
اگرچہ یہ ایک مستقل پالیسی ہے اوراس کا زیادہ تر تعلق دعوتی اورسماجی ومعاشی اہداف حاصل کرنے تک ہے، کیونکہ قرآن میں جنگ وجدال کی اجازت پرمبنی بیانیہ بھی ہے اوراس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعراض کرنا ہرطرح کی سچویشن کے لیے درست نہیں ہے، کیونکہ جنگ بھی اجتماعی وقومی زندگی کا حصہ ہے اوراس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔ آپ اپنی طرف سے جنگ سے ہاتھ روک سکتے ہیں مگردوسروں کے ہاتھ تو نہیں روک سکتے۔ دشمن جب بھی آپ سے زیادہ طاقتور ہوگا آپ پرچڑھ دوڑے گا۔ دنیا میں ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا ہے اورہمیشہ ہوتارہے گا، کیونکہ انسان کے مزاج میں تخلیقی سطح پر منفی قوتیں بھی رکھی گئی ہیں۔ اوراسی لیے اعراض کی پالیسی ہمیشہ کے لیے ہونے کے باوجود وقتی پالیسی بھی بن جاتی ہے، یعنی وقت پڑنے پراعراض کی پالیسی سےاعراض کرنا ضروری ہوجاتا ہے اورمیدان جنگ کے لیے نکلنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک امن سے نہیں رہ سکتی جب تک وہ جنگ کے لیے تیار نہ رہے اور اس نے جنگی استعداد پیدا نہ کرلی ہو۔اوراسی لیے قرآن میں حکم ہے:
وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ (الأنفال: ٦٠)
’’دشمنوں کے مقابلے کے لیے مقدور بھر قوت جمع رکھو اور تیار بند گھوڑے، تاکہ تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو‘‘
تاہم اعراض کی یہ پالیسی اپنی نہاد میں اورابعادِ معانی میں بہت سادہ اوراکہری نوعیت کی بھی نہیں ہے۔ یقیناً اعراض کے اس حکم وہدایت میں نبیﷺ اور پھر اہل ایمان کے لیے صرف حکم وہدایت ہی نہیں ہے بلکہ کفارو مشرکین کواس میں سخت تنبیہ بھی ہے۔اسی طرح رسول واصحاب رسول کے لیے اس میں تسلی بھی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی اپنے نبی سے فرمارہا ہو، اے محمدؐ! تم انہیں ان کے حال پر چھوڑدو،انہیں تو میں دیکھ لوں گا۔ یعنی اللہ بروز قیامت تو ان سے سخت باز پرس کرے گا ہی اورعذاب الیم کا مزا چکھائے گا ہی، دنیا میں بھی انہیں دکھادے گا کہ اللہ ورسول کی ہدایات سے روگردانی کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ اوراللہ نے دنیا ہی میں یہ سب کرکے دکھا بھی دیا، چنانچہ اس وقت جتنے لوگوں نے بھی رسولﷺ کے ساتھ دشمنی وعناد کا برتاؤ کیا، ان میں سے بیشترلوگ دوطرح کے انجام کو پہنچے،کچھ کفرکے ساتھ اپنے برے انجام کو پہنچ گئے اور کچھ نے کفر کی زندگی چھوڑ کر اسلام کو اختیار کیا۔ تیس پینتیس سال کے مختصر وقفے میں نہ کوئی دشمن بچا اورنہ کسی کی دشمنیاں بچیں۔
آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس کارِ دعوت کے لیے وقت بہت کم تھا، بس یہی کوئی ۲۳ سال کا عرصہ تھا، اور ظاہر ہے کہ ایک ایسی دعوت جو قیامت تک کے لیے ہو اور جس کا محورِدعوت پوراعالم انسانی ہو، ایسی عالمگیر دعوت کے لیے ۲۳ سال کا عرصہ بہت ہی قلیل عرصہ ہے۔ پھراسی مختصرعرصے میں رسول اللہﷺ کو دعوت کےعلاوہ دیگر بڑی بڑی مہمات بھی درپیش رہیں، آپ کے سامنے قرآن کومحفوظ کرنے کا چیلنج بھی بڑاچیلنج تھا، اسلامی معاشرے کی تشکیل بھی پیش نظر تھی اور سب سے بڑھ کرغزوات وسرایا کی مہمات بھی آپ کے قدم روک لیتی تھیں۔ انہی سب کاموں اورمہمات کے درمیان کارِدعوت کی بنیاد بھی رکھنی تھی اوراسے چشمۂ جاری کی طرح سے قائم و مستحکم کرنا تھا۔
اسی لیے آپ حج کے موقع پر دور دراز سے آنے والے قافلوں میں تبلیغ دین کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے اوراسی حکمت کے تحت آپ نے مکہ کی آس پاس کی بستیوں کا رخ کیا۔ آپ طائف تشریف لے گئے۔ اور جب طائف والوں کی طرف سے سخت انکارسامنے آیا، انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ آپ کو ستایا بھی۔ تو آپ نے فرشتے کو جواب دیا: بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی کمر سے ایسے لوگوں کو نکالے گا
جو صرف خدا کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ (البخاری: ۳۲۳۱)
رسول اللہ ﷺ اس حدیث میں صرف علاقے کی نہیں بلکہ نسل کی بات کررہے ہیں۔ اوراس طرح اعراض کی اس پالیسی میں مقام کے ساتھ ساتھ وقت بھی شامل ہوجاتاہے۔ یعنی اگرضرورت متقاضی ہوئی تو کسی بستی کے لوگوں سے بھی اعراض کیا جائے گا اورایک زمانے کے لوگوں سے بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک نہیں بلکہ دو دو بار ہجرت کی اور ہجرت بھی اعراض کی اسی پالیسی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اعراض کی اسی پالیسی کے تحت رسول اللہﷺ نے صلح کی اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معافیاں دیں۔ کیونکہ آپ حاکم وبادشاہ بناکرنہیں بھیجے گئے تھے بلکہ معلم وپیغمبریعنی پیغام رساں بناکر بھیجے گئے تھے۔ سزائیں اگرآپ نے کسی کو دیں بھی تو وہ خطے میں اور معاشرے میں امن وامان کی بحالی کے لیے دیں نہ کہ فی نفسہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور مطیع کرنے کے لیے؟
اس موضوع کے حوالے سے قرآن میں غور وخوض کرنے پرمعلوم ہوتاہے کہ اس کی کتنی اہمیت ہے اور قرآن نے کس قدرتکرارواصرارکے ساتھ اعراض کی پالیسی کوبیان کیا ہے، پیرایہ بدل بدل کراورالفاظ بدل بدل کر۔ ایک سرسری نظر ڈالنے پر ہی آپ کی حیرانیوں کا گراف اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا۔ اورآپ قرآن کا روزانہ مطالعہ کرنے اور قرآن کے بیشتر مضامین آپ کے ذہن میں مستحضر ہونے کے باجود بھی آپ حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں گے اورسوچیں گے کہ اچھا، قرآن میں اس موضوع پر اتنا زیادہ مواد موجود ہے! قرآن نےاعراض کی پالیسی کواس طرح قرآن کے پورے متن میں بکھیر دیا ہے جس طرح دانے نرم کی ہوئی زمین میں تھوڑی تھوڑی دوری پر ڈالے جاتے ہیں اور تھوڑے ہی عرصے میں پوری زمین سرسبز ہوجاتی ہے:
قرآن میں اعراض کی پالیسی کو بتانے والے دسیوں الفاظ وارد ہوئے ہیں۔اورہرلفظ کئی کئی مرتبہ آیاہے۔ ایک لفظ توخود ’أَعْرِضْ‘ ہی ہے، اس لفظ سے بھی قرآن میں دسیوں آیات ہیں اوریہ آیات کسی پالیسی کی اہمیت کو بتانےکے لیے بہت کافی تھیں، بلکہ ایک ہی آیت بہت کافی ہے جبکہ اس کی دلالت اپنے معنیٰ پر واضح ہو۔
دوسرا لفظ ’اصْفَحْ‘ہے، تسیرا ’سلام‘ ہے، چوتھا ’ادْفَعْ‘ ہے، پانچواں ’اهْجُرْ‘ ہے،چھٹا ’الْبَلَاغُ‘ ہے، ساتواں ’مُصَيْطِرٍ‘ ہے، آٹھواں ’وَكِيلٍ‘، نواں’حفیظ‘، دسواں’تَوَلَّ‘، گیارہواں’اصْبِرْ‘اور بارہواں لفظ ’وذَر‘ ہے۔ اور ان تمام الفاظ سے کئی کئی آیات وارد ہوئی ہیں۔ان میں سے جتنی آیات میں جمع کرسکا ہوں وہ درج ذیل ہیں:
پھر قرآن میں ان مذکورہ بارہ الفاظ پر مشتمل آیات کےعلاوہ بعض آیات ایسی بھی ہیں جن میں کوئی خاص لفظ تو نہیں جواعراض کے معنیٰ پرصریح دلالت کرے تاہم اسلوب بیان سے اعراض کے معنیٰ کا پتہ چلتا ہے، جیسے: لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ )الكافرون: ٦( لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ )الشورى: ١٥( اور وَانتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ )السجدة: ٣٠( اور سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرة: ٦)
اب قرآن میں وارد ہونے والے اس سلسلے کی تمام آیات کو ایک ایک کرکے دیکھتے ہیں:
(نوٹ: مضمون کو طوالت سے بچانے کے لیے بہت آیات اس میں ذکر نہیں کی گئی ہے اور بہت سی آیات کے صرف حوالے دیے گئے ہیں)
۱۔ وہ آیات جن میں کلمہ ’اعرض‘ وارد ہوا ہے:
الف: اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ (الأنعام: ١٠٦)
’’اے نبی! تمہارے رب نے تمہاری طرف جو وحی بھیجی ہے اسی کی پیروی کرو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکین سے اعراض کرو‘‘
ب: (الأعراف: ١٩٩)
ج: (السجدة: ٣٠)
د: (النساء: ٨١)
ہ: (الأنعام: ٦٨)
و: (النجم: ٢٩)
ز: (الحجر: ٩٤)
ح: (النساء: ٦٣)
۲۔ وہ آیات، جن میں کلمہ ’اصْفَحْ‘ وارد ہوا ہے:
الف: فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(الزخرف: ٨٩)
’’اے نبی! ان سے درگزر کرو اوران سے کہو تمہیں ہمارا سلام ، جلد ہی انہیں پتہ چل جائے گا‘‘
ب: (الحجر: ٨٥)
ج: (المائدة: ١٣)
د: (البقرة: ١٠٩)
۳۔ وہ آیات جن میں کلمہ ’سلام‘ وارد ہوا ہے:
الف:وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ (القصص: ٥٥)
’’اہل ایمان جب لغو باتیں سنتے ہیں توان کی طرف سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ اوران سے کہتے ہیں، ہمارے لیے ہمارےاعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں، تمہیں ہمارا سلام، ہم نادان لوگوں سے نہیں الجھنا چاہتے۔‘‘
ب: )الفرقان: ٦٣(
۴۔ وہ آیات جن میں کلمہ ’ادْفَعْ‘ وارد ہوا ہے:
الف: ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ )المؤمنون: ٩٦(
’’ اے نبی! برائی کو بھلی بات سے دفع کرو، تمہارے متعلق جوباتیں یہ بناتے ہیں،ہم انہیں خوب جانتے ہیں‘‘
ب: )فصلت: ٣٤(
۵۔ وہ آیت جس میں کلمہ ’اهْجُرْ‘ وارد ہوا ہے:
الف: وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (سورۃ المزمل 73:1)
’’اے نبی! ان (کفار) کی تکلیف دہ باتوں پرصبرکرو اوربہترطریقے پران سے الگ ہوجاؤ‘‘
۶۔ وہ آیات جن میں کلمہ ’الْبَلَاغُ‘ وارد ہوا ہے:
الف:فَإِن تَوَلَّوْا فَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (سورۃ النحل :16:82)
’’اے نبی! اگریہ لوگ تمہاری دعوت سے روگردانی کرتے ہیں (تو اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ) تمہارے ذمہ توتبلیغ ودعوت کا کام ہے۔(ہدایت دینا نہ دینا تو ہمارے ذمے ہے)‘‘
ب: (آل عمران: ٢٠)
ج: (المائدة: ٩٢)
د: (الشورى: ٤٨)
ہ: (التغابن: ١٢)
۷۔ وہ آیت جس میں کلمہ’مُصَيْطِرٍ‘ وارد ہواہے:
الف: فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ، لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ، إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ، فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ (الغاشية: ٢۱-۲۴)`
’’ اے نبی! تم لوگوں کو نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو، تم ان پر داروغہ مقرر نہیں کیے گئے ہو، اب جو منہ موڑے گا اورانکار کرے گا اللہ اس کو (آخرت میں) سخت سزا دے گا‘‘
۸۔ وہ آیات جن میں کلمہ’وَكِيلٍ‘ وارد ہواہے::
الف: وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ (الأنعام: ٦٦)
’’تمہاری قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلادیا ہے، حالانکہ وہ حق ہے، تو تم بھی ان سے کہہ دو کہ میں تمہارے اوپر داروغہ نہیں بنایا گیا ہوں‘‘
ب: (الإسراء: ٥٤)
ج: وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ (الأنعام: ١٠٧)
د: (الزمر: ٤١)
ہ: وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ اللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيْهِمْ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ(الشورى: ٦)
۹- وہ آیات جن میں کلمہ ’حفیظ‘ وارد ہوا ہے :
الف: قَدْ جَاءَكُم بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ )الأنعام: ١٠٤(
’’اے نبی! کہہ دو: لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیلیں آگئی ہیں۔ تو جو کوئی بھی ان سے رہنمائی حاصل کے گا، اپنے لیے ہی اچھا کرے گا۔ اور جو کوئی اندھا بہرا بنا رہے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اورمیں تم پرنگراں مقرر نہیں کیا گیا ہوں‘‘
ب: (هود: ٨٦)
۱۰- وہ آیات جن میں کلمہ ’تَوَلَّ‘ وارد ہوا ہے:
الف: فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ )الصافات: ١٧٤(
’’سو اے محمدؐ! تم ایک مدت تک(عذاب کے وقت تک) ان سے اعراض کرو‘‘
ب: (الصافات: ١٧٨)
ج: (البقرة: ١٣٧)
د: (آل عمران: ٢٠)
ہ: (آل عمران: ٦٤)
ز: (المائدة: ٩٢)
قرآن میں اس لفظ ’’ تَوَلَّ ‘‘ سے پچاسوں آیات وارد ہوئی ہیں جو اسی اعراض کے معنیٰ پر صریح یا غیر صریح طورپردلالت کرتی ہیں۔ اس مضمون میں سب کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ جیسے سورۂ ذاریات کی یہ آیت ہے: فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنتَ بِمَلُومٍ ﴿الذاريات: ٥٤﴾ اس کا اسلوب مختلف ہے، مگر یہ بھی اعراض کے معنیٰ پر ہی دلالت کرتی ہے۔ تفسیر المیسر میں اس کے معانی کی وضاحت اس طرح ملتی ہے:
’’فأعرضْ -أيها الرسول- عن المشركين حتى يأتيك فيهم أمر الله، فما أنت بملوم من أحد، فقد بلَّغت ما أُرسلت به.‘‘ (تفسیر المیسر)
’’اے رسول! تم ان مشرکین سے کنارہ کش رہو، یہاں تک کہ ان کے بارے میں اللہ کا حکم آجائے۔ تم نے تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لاتا تو اس میں تمہارا کوئی دوش نہیں‘‘
۱۱۔ وہ آیات جن میں کلمہ ’اصْبِرْ‘ وارد ہوا ہے:
الف: وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (المزمل :۱۰)
’’اے نبی! تم مشرکین کی دلآزار باتوں پر صبر کرو اوران سے اچھے انداز سے الگ ہوجاؤ‘‘
ب: (المعارج: ٥)
ج: (الانسان: ٢٤)
تنہا اسی ایک لفظ ’ اصْبِرْ‘ سے قرآن میں کم وبیش بیسیوں آیات ہیں، جن میں سے بیشتر میں صبروثبات کا اور اعراض ودرگزر کا مفہوم نکلتا ہے۔
۱۲۔ وہ آیات جن میں کلمہ ’وذَر‘ وارد ہوا ہے:
الف: فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ حَتَّىٰ حِينٍ (المؤمنون: ٥٤)
’’انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو، ایک وقت تک غفلت میں ڈوبے مٹرگشتیاں کرتے رہیں‘‘
ب: (الأنعام: ١٣٧)
ج: (الحجر: ٣)
قرآن کے متن میں مندرجہ بالا استقرائی تفصیل سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ قرآن ایک ہی بات کو کتنے مختلف انداز اور کتنے مختلف پیرایہ بیان کے ساتھ کہتا ہے۔ اس سے قرآنی اسلوب کی بوقلمونی اور نیرنگی کا بھی پتہ چلتا ہے اوراس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کسی ایک مسئلے پر کس طرح فوکس کرتا ہے اور کس طرح توجہ دلاتا ہے۔
ان میں سے بعض آیات اپنے مخصوص لفظ کے اشتراک کی وجہ سے ایک سے زائد بار درج ہوگئی ہیں اور پھر ان آیات کے مابین معانی وتوارد کے اعتبارسے بھی ذرا ذرا فرق ہے، یعنی اعراض کے معنیٰ پر بعض آیات کی دلالت صریح ہے اور بعض کی بہت زیادہ صریح نہیں ہے۔ جبکہ ان آیات کےعلاوہ بعض وہ آیات بھی ہیں جو سلبی اور استفہامی اسلوب پر مبنی ہیں مگروہ انہی معنی کی تائید والی آیات کے گروپ میں شامل ہوجاتی ہیں۔
لیکن جیساکہ اوپر مذکور ہوا کہ قرآن سے صرف اعراض کی آیات پڑھنا درست نہیں،اعراض کی پالیسی کے درست معنی اس وقت متحقق ہوں گے جب قرآن کے اعراض، عفوودرگزر اورامن وسلامتی والے بیانیے کے ساتھ ساتھ قرآن کے حربی بیانیے کا بھی اس کے تمام سیاق سباق اوراطراف وابعاد کے ساتھ مطالعہ کیا جائے، نہیں تو فکر یک طرفہ ہوجائے گی۔ اوراسی لیے موضوعاتی مطالعہ اپنی نہاد میں مکمل اورمتوازن مطالعہ نہیں ہے۔ قرآن کا متوازن مطالعہ قرآن کی موجودہ ترتیب کا ہی ہے۔ اور یہیں سے شان نزول کی اہمیت ثانوی درجہ اختیار کرجاتی ہے۔
قرآن میں اعراض کی پالیسی کا تعلق جس طرح واضح طوپردعوتی میدان سے ہے بالکل اسی طرح اس کا تعلق سماجی اور معاشرتی پہلو سے بھی ہے۔سورہ البقرہ: ۱۰۴ میں دیکھئے کس طرح کی ہدایت دی جارہی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ )البقرة: ١٠٤(
’’اے ایمان والو! ’راعنا‘ کے بجائے ’انظرنا‘ کہا کرواورہر بات توجہ سے سناکرو۔ انکار کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘
اس آیت میں اہل ایمان کو ایک ایسے لفظ کے استعمال سے منع کیا جارہا ہے، جسے یہودی برے اور غلط معنی کے اظہار کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ سب اعراض کی پالیسی کوبتانے والے ترک ہیں۔اورایسا نہیں ہے کہ یہ ترک اور ہدایات صرف ابتدائی حالات یا پھر کمزور حالات کے لیے ہی ہیں۔
آپ نے محسوس کیاہوگا کہ مضمون میں شامل بیشترآیات میں تین باتیں پہلو بہ پہلو چل رہی ہیں، ایک اعراض کی بات، یعنی لڑنے جھگڑنے سے اعراض، دوسرے رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ تسلی کہ تم نے تو اپنا حق ادا کردیا اب یہ اگر ایمان نہیں لاتے تو اس میں ان کا اپنا ہی قصور ہے۔ اور تیسرے اللہ کے دین سے منہ موڑنے والوں کے لیے آخرت میں عذاب کی وعید۔اور یہ تینوں پہلو مل کراعراض کی پالیسی کا ایک پیٹرن بناتے ہیں۔
قرآن کا دعوتی منہج اور اعراض کا حکیمانہ تصور
ہدایت کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں مگر داعی کو اپنی ذمہ داری اور حدود جاننا ضروری

