مادیت پرستی کے اس پُر فتن دور میں جہاں صحافت محض تجارت اور سنسنی خیزی کا نام بنتی جا رہی ہے، ریاست کرناٹک کے ساحلی شہر منگلورو سے شائع ہونے والا ماہنامہ ’انوپما‘ ایک سنجیدہ اور باوقار آواز کے طور پر اپنی شناخت قائم کیے ہوئے ہے۔ اپنی اشاعت کے پچیس سال مکمل کرنا محض ایک رسالے کی کامیابی نہیں بلکہ اس ادارتی عزم کی علامت ہے جس کا مقصد کنڑ زبان بولنے والے معاشرے میں سماجی اقدار، خواتین کی فلاح اور اخلاقی شعور کو فروغ دینا ہے۔ ’انوپما‘ نے اپنی ڈھائی دہائیوں پر محیط صحافتی جدوجہد میں یہ ثابت کیا ہے کہ اگر صحافت کی بنیاد دیانت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری پر ہو تو وہ شدید نظریاتی اور تجارتی دباؤ کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھ سکتی ہے۔
’انوپما‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا خالصتاً خواتین کے ذریعے منظم ہونا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کرناٹک سے وابستہ مسلم خواتین کی قیادت میں، پچھلے پچیس برسوں سے یہ رسالہ کنڑ میڈیا کی دنیا میں خواتین کی ادارہ جاتی قیادت کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں میڈیا پر تجارتی مفادات کا غلبہ ہے، انوپما نے خاندانی زندگی، تعلیم، سماجی انصاف، ذہنی صحت، بچوں کی پرورش اور ازدواجی تعلقات جیسے موضوعات کو سنسنی خیزی کے بجائے سنجیدگی اور توازن کے ساتھ پیش کیا ہے۔
سماجی مکالمہ اور ثقافتی فاصلوں کی کمی
میڈیا حلقوں کے مطابق کرناٹک جیسے متنوع معاشرے میں جہاں کنڑ بولنے والے غیر مسلم عوام کے درمیان مسلمانوں اور ان کی تہذیبی شناخت سے متعلق مختلف غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، ماہنامہ ’انوپما‘ نے ایک ’’خاموش پُل‘‘ کا کردار ادا کیا ہے۔ اس رسالے نے اپنی تحریروں کے ذریعے امن، رواداری، انصاف اور انسانی خدمت جیسی اقدار کو عام سماجی تناظر میں پیش کرتے ہوئے فکری فاصلے کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔
کرناٹک میں رائج مشترکہ انسانی اخلاقیات پر زور دے کر ’انوپما‘ نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان باہمی احترام اور تفہیم کی فضا کو تقویت دی ہے۔ پردہ، خواتین کے حقوق اور عائلی زندگی جیسے حساس موضوعات کو جدید، متوازن اور عصری اسلوب میں پیش کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یہ تصورات آج کے بدلتے ہوئے ذہنوں کے لیے نہ صرف قابلِ فہم بنے ہیں بلکہ ایک مثبت اور باوقار طرزِ زندگی کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔
اس فکری حکمتِ عملی نے نہ صرف مسلمانوں کے بارے میں رائے عامہ پر مثبت اثر ڈالا ہے بلکہ ایک کثیر مذہبی معاشرے میں بامعنی سماجی مکالمے کی نئی راہیں بھی ہموار کی ہیں۔ آج انوپما کے قارئین کا دائرہ کرناٹک کے مختلف سماجی طبقات تک پھیلا ہوا ہے اور یہ رسالہ بالخصوص تعلیم یافتہ خواتین کے درمیان نمایاں مقبولیت رکھتا ہے۔ تاہم وسیع تر عوامی سطح پر اس کے پیغام کی رسائی اور نفوذ کا دائرہ مزید پھیلایا جا سکتا ہے۔
حکومتی اور عوامی سطح پر پذیرائی
ماہنامہ ’انوپما‘ کی چیف ایڈیٹر محترمہ شہناز ایم اور ان کی ادارتی ٹیم نے جب وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ’سلور جوبلی ایڈیشن‘ پیش کیا تو یہ لمحہ رسالے کی سماجی سطح پر قبولیت کی ایک علامت بن گیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ جناب سدارامیا نے انوپما کی پچیس سالہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافت کے دشوار گزار میدان میں مسلم خواتین کی موجودگی پہلے ہی محدود ہے، ایسے میں ’انوپما‘ کا اتنی استقامت اور بلند حوصلگی کے ساتھ یہ سفر مکمل کرنا قابلِ تحسین ہے۔ میڈیا حلقوں کے مطابق یہ ملاقات محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ ریاستی سطح پر رسالے کی ادارتی ساکھ کے اعتراف کا اظہار تھی۔
انوپما کے اس طویل اور مسلسل سفر کو میڈیا کی دنیا میں سنجیدہ حلقوں نے بھی محسوس کیا ہے۔ معروف سینئر صحافی اور ٹائمز کی ایڈیٹر شریمتی وجے لکشمی شبرور نے خواتین کے ایک ماہ نامے کا پچیس برس تک قائم رہنا آج کے مشکل میڈیا ماحول میں ’’غیر معمولی استقامت‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق انوپما نے خواتین کے دکھ، خوشیوں اور امنگوں کو سماجی دھارے کا حصہ بنایا اور ساتھ ہی حقائق، اخلاقی وضاحت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری پر مضبوطی سے قائم رہی۔
ادارے سے باہر آنے والی اس نوعیت کی رائے انوپما کے کردار کو محض تنظیمی یا نظریاتی دائرے تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ اسے وسیع تر سماجی تناظر میں معتبر بناتی ہے۔
سلور جوبلی ایڈیشن کے اجراء کے موقع پر امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی نے ’انوپما‘ کو ایمان، اخلاق اور سماجی ذمہ داری کے امتزاج کی ایک مثال قرار دیا۔ انہوں نے ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی قیادت جب فکری پختگی اور سماجی شعور کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو وہ معاشرے پر دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔
جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے امیر حلقہ جناب محمد سعد بیلگامی نے بھی ادارے کی پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی پختگی کو سراہا اور اسے تحریکِ اسلامی کی سماجی و فکری خدمات کا ایک اہم باب قرار دیا۔
اصول پسندی بمقابلہ مفاد پرستی
’انوپما‘ کی اخلاقی جرأت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شدید مالی چیلنجز کے باوجود ادارے نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایڈیٹر انچیف شہناز ایم کے مطابق میگزین نے تمباکو، شراب، سگریٹ اور کسی بھی قسم کے غیر اخلاقی اشتہارات کو کبھی قبول نہیں کیا ہے۔ ایسے دور میں جب کہ میڈیا ادارے آمدنی کے لالچ میں بعض غلط فیصلے کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، انوپما کا یہ موقف ایک نمایاں اخلاقی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پچیس برس مکمل کرنے کے بعد 'انوپما' کسی اختتام پر نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اس کا سفر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا اخلاقی اور سنجیدہ صحافت بغیر شور اور سنسنی کے زندہ رہ سکتی ہے؟ کیا خواتین کی قیادت میڈیا میں پائیدار ادارے قائم کر سکتی ہے؟
میڈیا ماہرین کے مطابق انوپما جیسے رسائل اس سوال کو زندہ رکھتے ہیں کہ آیا اقدار پر مبنی صحافت تیز رفتار اور تجارتی میڈیا کے اس دور میں کوئی پائیدار متبادل پیش کر سکتی ہے یا نہیں۔ 'انوپما' کا اب تک کا سفر ان سوالات کا ایک خاموش مگر پُراعتماد جواب ہے—اور آنے والا وقت اس جواب کو مزید واضح کرے گا۔