ریاستی تفاوت، محروم طبقات، صنفی شرکت، کمپیوٹر سہولیات اور استعمال کی استعداد پر توجہ ضروری 
مرکزی وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (UDISE+) 2025-26 رپورٹ بھارت میں اسکولی تعلیم کی ایک حوصلہ افزا تصویر پیش کرتی ہے۔ اساتذہ کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں کمی آئی ہے، طلبا اور اساتذہ کے تناسب میں بہتری ہوئی ہے اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ تاہم اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لینے اور انہیں دیگر آزادانہ جائزوں اور تازہ پالیسی مطالعات کی روشنی میں دیکھنے سے ایک زیادہ پیچیدہ صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ بھارت نے اسکولی تعلیم کی توسیع میں نمایاں پیش رفت کی ہے لیکن مساوی مواقع، تعلیمی نتائج اور سرکاری اسکولوں کے معیار کے حوالے سے چیلنجز اب بھی باقی ہیں۔
UDISE+ کے اعداد و شمار میں تقریباً 14.67 لاکھ اسکول، 1.03 کروڑ اساتذہ اور 24.72 کروڑ طلبا شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی ڈیٹابیس میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے نتائج یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ بنیادی طور پر اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، داخلوں، اساتذہ کی تعداد اور طلبا کی تعلیمی شرکت سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔ صرف ان اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ بچے حقیقت میں کیا اور کتنا سیکھ رہے ہیں۔
اچھی پیش رفت، مگر ایک تشویش ناک تبدیلی:
رپورٹ میں کئی مثبت اشارے کیے گئے ہیں۔ طلبا اور اساتذہ کا تناسب 25-2024 میں 25:1 سے معمولی بہتری کے ساتھ 26-2025 میں 24:1 ہو گیا ہے، جبکہ 23-2022 کے مقابلے میں اساتذہ کی تعداد میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسکول چھوڑنے کی شرح بھی کم ہوئی ہے اور ابتدائی درجات میں یہ 1.8 فیصد، درمیانی درجات میں 3.6 فیصد اور ثانوی درجات میں 7 فیصد رہ گئی ہے۔ بنیادی سہولتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 95 فیصد اسکولوں میں بجلی دستیاب ہے—اگرچہ یہ بجلی کتنی باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ دستیاب رہتی ہے، یہ ایک الگ سوال ہے—جبکہ 99.5 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔
لیکن رپورٹ میں ایک اور، نسبتاً کم نمایاں، اعداد و شمار بھی موجود ہے: 24-2023 اور 26-2025 کے درمیان سرکاری اسکولوں میں طلبا کی تعداد تقریباً 86 لاکھ کم ہو گئی، جبکہ تسلیم شدہ نجی غیر امدادی اسکولوں میں 88 لاکھ سے زیادہ طلبا کا اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر اسکولوں میں داخل طلبا کی تعداد میں تقریباً 8.26 لاکھ کی کمی ہوئی۔ اس لیے یہ محض بچوں کے تعلیم سے باہر ہونے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ سرکاری اسکولوں سے نجی اسکولوں کی طرف بچوں کی منتقلی کی کہانی بھی ہے۔ UDISE+ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر اس تبدیلی کی وجوہ متعین نہیں کی جا سکتیں۔ آبادیاتی تبدیلیاں، نقل مکانی، اسکولوں کی تنظیمِ نو اور والدین کی ترجیحات، سبھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن اس بڑے پیمانے کی تبدیلی تحقیق کا تقاضا کرتی ہے۔ آخر والدین سرکاری اسکول مفت ہونے کے باوجود نجی تعلیم کے لیے رقم خرچ کرنے پر کیوں آمادہ ہیں؟
والدین کے اسکول کے انتخاب سے متعلق آزاد مطالعات اس کی ایک ممکنہ وجہ بتاتے ہیں۔ بہتر تدریس کا تصور، انگریزی ذریعہ تعلیم اور نجی اسکولوں کا سماجی اسٹیٹس والدین کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگرچہ کسی مخصوص مطالعے کے نتائج کو پورے ملک پر براہِ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ پالیسی سے متعلق ایک اہم سوال ضرور اٹھاتے ہیں: سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا کافی نہیں، اگر والدین یہ محسوس نہ کریں کہ ان اسکولوں میں ان کے بچوں کو اسی معیار کے تعلیمی مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔
24:1 کے تناسب کا تضاد
ملکی سطح پر طلبا اور اساتذہ کا تناسب بظاہر اطمینان بخش ہے، لیکن اس اعداد و شمار کو محتاط انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں اب بھی 1,00,843 ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک استاد ہے۔ ایسے اسکولوں میں ایک ہی استاد کو کئی جماعتوں اور مختلف مضامین کی ذمہ داری سنبھالنی پڑ سکتی ہے، جس سے ہر بچے پر انفرادی توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے اور وسیع نصاب پڑھانا تو ایک مستقل چیلنج ہے ہی۔
یہ صورتِ حال قومی سطح کے اوسط اندازوں کی محدودیت کو واضح کرتی ہے۔ نیتی آیوگ کے تازہ تجزیے کے مطابق اساتذہ کی دستیابی کے معاملے میں ریاستوں کے درمیان زبردست فرق ہے۔ ثانوی مرحلے میں طلبا اور اساتذہ کا تناسب جھارکھنڈ میں 43:1 جبکہ سکم میں صرف 6:1 ہے۔
لہٰذا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہندوستان میں کتنے اساتذہ ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کہاں دستیاب ہیں۔ قومی سطح کا ایک بہتر اوسط بعض اضلاع اور اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی کو چھپا سکتا ہے، خاص طور پر دیہی، قبائلی، پہاڑی اور دور دراز کے علاقوں میں۔ دوسرے الفاظ میں، اساتذہ کی تعداد میں اضافہ حوصلہ افزا ضرور ہے—لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پیش رفت کن بچوں کو مستفید کر رہی ہے؟
اسکول چھوڑنے کی شرح کم، مگر نصف سے بھی کم برقرار
اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی بلاشبہ خوش آئند ہے۔ لیکن ایک اور اعداد و شمار یہ خوش گمانی کچھ حد تک محدود ہو جاتی ہے: ثانوی مرحلے میں طلبا کے برقرار رہنے کی شرح صرف 51.9 فیصد ہے، اگرچہ پچھلے سال یہ 47.2 فیصد تھی۔ بنیادی درجات سے ابتدائی درجات میں منتقلی کی شرح 99.2 فیصد، ابتدائی سے درمیانی درجات میں 93.8 فیصد، لیکن درمیانی سے ثانوی درجات میں صرف 88.3 فیصد ہے۔
اسکول چھوڑنے اور تعلیمی سلسلے میں برقرار رہنے کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ سالانہ ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ تر بچے ثانوی تعلیم کامیابی کے ساتھ مکمل بھی کر رہے ہیں۔ کمزوری کا بڑا مرحلہ اس وقت سامنے آتا ہے جب بچے اعلیٰ جماعتوں کی طرف پیشرفت کرتے ہیں۔
ریاستی سطح پر بھی خاصا فرق پایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں تعلیم سے متعلق شواہد کے یونیسیف کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرائمری سے ثانوی تعلیم کی طرف منتقل ہونے والے بچوں میں محنت مزدوری میں شامل ہونے یا تعلیم کے ساتھ کسبِ معاش میں لگنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے تعلیمی پالیسی کو غربت میں کمی، سماجی تحفظ اور بچوں سے کسبِ معاش کے خاتمے کی کوششوں کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔
چنانچہ پالیسی کو درپیش چیلنج اب محض بچوں کو اسکول تک پہنچانا نہیں، بلکہ انہیں نوجوانی تک تعلیم سے وابستہ رکھنا ہے۔ داخلوں اور ڈراپ آؤٹ کے اعداد و شمار میں بہتری کی اہمیت اس وقت بے سود ہو جاتی ہے جب بڑی تعداد میں بچے ثانوی تعلیم مکمل ہی نہ کر پائیں۔
بہتر اسکول، لیکن کیا بچے سیکھ بھی رہے ہیں؟
یہ وہ مقام ہے جہاں UDISE+ کو دیگر تنظیموں کے آزادانہ جائزوں کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ تازہ ترین دستیاب ASER-2024 اگرچہ UDISE 2025-26 کے رپورٹنگ سال سے پہلے کا ہے، پھر بھی اہم ہے، کیونکہ یہ اسکول کے بنیادی ڈھانچے کے بجائے بچوں کی حقیقی تعلیمی صلاحیت کو جانچتا ہے۔ اس میں کووِڈ کے بعد تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بحالی سامنے آئی۔ دیہی سرکاری اسکولوں میں پانچویں جماعت کے ان بچوں کی شرح، جو دوسری جماعت کی سطح کا متن پڑھ سکتے ہیں، 2022 میں 38.5 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 44.8 فیصد ہو گئی۔ تیسری جماعت میں پڑھنے کی صلاحیت بھی 16.3 فیصد سے بڑھ کر 23.4 فیصد ہوئی۔
یہ ایک اہم مثبت پیش رفت ہے: وبا کے بعد سرکاری اسکولوں میں بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بحالی ہوئی ہے۔ لیکن یہی اعداد و شمار ایک سنگین مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ 2024 میں بھی دیہی سرکاری اسکولوں کی پانچویں جماعت کے نصف سے زیادہ بچے دوسری جماعت کی سطح کا متن پڑھنے سے قاصر تھے۔
یہ مسئلہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ ASER گھرانوں کے سروے کے ذریعے بچوں کی حقیقی صلاحیت کو جانچتا ہے، جبکہ UDISE بنیادی طور پر اسکولی نظام کے اندر کی صورتِ حال کا ریکارڈ پیش کرتا ہے۔ دونوں کو ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو تصویر کے دونوں رخ سامنے آتے ہیں: ہم بچوں کو اسکول تک پہنچانے میں تو کامیاب ہو رہے ہیں لیکن بہت سے بچے اب بھی اپنی عمر اور جماعت کے مطابق بنیادی تعلیمی صلاحیتیں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔
ورلڈ بینک کے ’لرننگ پاورٹی‘ (learning poverty) کے تصور سے بھی یہی بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے کہ تعلیمی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ بچے کم از کم ضروری حد تک پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں یا نہیں، نہ کہ محض وہ اسکول میں داخل ہیں۔ اسکول میں داخلہ تعلیم نہیں ہے اور بنیادی ڈھانچہ تعلیمی معیار نہیں ہے۔
ڈیجیٹل خلیج اب بھی موجود ہے: UDISE+ کے مطابق 69.9 فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر اور 67.4 فیصد میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ایک تہائی اسکول اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔
لیکن یہ اعداد و شمار بھی حقیقی ڈیجیٹل رسائی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آلات قابلِ استعمال ہیں یا نہیں، انٹرنیٹ کتنا قابلِ اعتماد ہے، اساتذہ انہیں استعمال کرنے کی تربیت رکھتے ہیں یا نہیں، بچوں کے گھروں میں یہ آلات دستیاب ہیں یا نہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب ڈیجیٹل سہولت استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو بجلی دستیاب ہے یا نہیں۔ ASER کے حالیہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ دیہی نوجوانوں کے گھروں میں اسمارٹ فون کی دستیابی بہت بڑھی ہے، لیکن ذاتی ملکیت اور تعلیمی استعمال اس کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل خلیج کا مسئلہ محض یہ نہیں کہ اسکول میں انٹرنیٹ موجود ہے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا بچے ٹیکنالوجی کو واقعی تعلیم حاصل کرنے کے لیے استعمال کر پا رہے ہیں؟
مساوات کو صرف قومی اوسط سے نہیں ناپا جا سکتا:
حصولِ تعلیم کا جغرافیائی فرق خاصا نمایاں ہے۔ نیتی آیوگ کے تجزیے میں داخلوں، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیم سے متعلق دیگر اشاریوں میں ریاستوں کے درمیان بہت بڑے تفاوت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ تفاوت واضح کرتے ہیں کہ صرف قومی اوسط پر انحصار گمراہ کن ہو سکتا ہے۔
یہی بات محروم طبقات اور معذور بچوں کے معاملے میں بھی درست ہے۔ UDISE+ کے مطابق طالبات مجموعی داخلوں کا 48.4 فیصد اور خواتین اساتذہ مجموعی تعداد کا 54.9 فیصد ہیں، جو صنفی شرکت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ لیکن صرف 58.2 فیصد اسکولوں میں ریمپ اور ہینڈ ریل موجود ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً آدھے اسکول ابھی بھی معذور طلبا کے لیے قابلِ رسائی نہیں ہیں۔
غریب گھرانوں، درج فہرست ذاتوں و قبائل، اقلیتوں اور دور دراز علاقوں کے بچوں کے لیے جسمانی رسائی، آمدورفت، اساتذہ کی دستیابی اور خاندان کے معاشی حالات یہ طے کر سکتے ہیں کہ اسکول میں داخلہ حقیقی تعلیم میں تبدیل ہوتا ہے یا نہیں۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ ترقی ان بچوں تک بھی پہنچ رہی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟
یہاں اعداد و شمار کی ایک اہم خامی بھی قابلِ ذکر ہے۔ UDISE میں مذہب کی بنیاد پر طلبا کے داخلے، اسکول چھوڑنے اور تعلیمی پیش رفت کے تفصیلی اعداد و شمار عوامی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ اقلیتوں کو مجموعی زمرے میں رکھنے کے باعث مسلمانوں سمیت مختلف مذہبی برادریوں کی تعلیمی صورتِ حال کا واضح جائزہ ممکن نہیں ہے۔ مذہب کے لحاظ سے تفصیلی اعداد و شمار کی دستیابی زیادہ مؤثر پالیسی سازی اور عوامی بحث میں مدد دے سکتی ہے۔
نجی کوچنگ: تعلیم کی پوشیدہ قیمت:
تعلیمی عدم مساوات کا ایک اور پہلو، جس پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے، نجی کوچنگ ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق اسکول جانے والے تقریباً ہر تین میں سے ایک بچہ نجی کوچنگ میں بھی پڑھتا ہے۔ یہ بات اہم ہے، کیونکہ باضابطہ اسکولی نظام کے ساتھ ساتھ ایک ایسا متوازی تعلیمی نظام بھی پروان چڑھ رہا ہے جس کے لیے خاندانوں کو الگ سے رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔
اگر خوش حال خاندان اپنے بچوں کو اسکول کے علاوہ کوچنگ، ڈیجیٹل آلات اور اضافی تعلیمی وسائل فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ غریب خاندان ایسا نہیں کر سکتے، تو خاندانی آمدنی کا فرق براہِ راست تعلیمی نتائج کے فرق میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔
اس لیے تعلیم کی حقیقی لاگت صرف اسکول کی فیس سے متعین نہیں ہوتی۔ اس میں ٹیوشن، کوچنگ، آمدورفت، ڈیجیٹل آلات، کتابیں اور بچے کے وقت کی معاشی قیمت بھی شامل ہے۔
توسیع سے مساوات کی طرف:
ہندوستان میں تعلیم پر بحث اکثر بچوں کے اسکول میں داخلے کے اعداد و شمار تک محدود رہتی ہے، حالاں کہ محض اسکول میں اندراج ہو جانا بامعنی تعلیم کی ضمانت نہیں۔ ممکن ہے کوئی بچہ باقاعدگی سے اسکول جاتا ہو، لیکن پھر بھی ایک مختصر پیراگراف پڑھنے یا بنیادی حساب کرنے میں دشواری محسوس کرے۔ کسی اسکول میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو سکتی ہے، لیکن بچے کے گھر میں ڈیجیٹل آلہ یا انٹرنیٹ دستیاب نہ ہو۔ اسی طرح، بعض بچے ایسے اسکولوں میں پڑھتے ہیں جہاں کئی جماعتوں کی تدریس کی ذمہ داری صرف ایک استاد پر ہوتی ہے۔
آئینی وعدہ صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں ہے۔ آئین کی دفعہ 21A چھ سے چودہ سال کی عمر کے سبھی بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتی ہے، جبکہ دفعہ 46 ریاست کو کمزور طبقات کے تعلیمی اور معاشی مفادات کے فروغ کی ہدایت دیتی ہے۔ اس لیے تعلیمی عدم مساوات محض ترقیاتی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی تشویش کا معاملہ بھی ہے۔
ہندوستان کے تعلیمی نظام کے اگلے مرحلے کی توجہ تعلیمی سلسلے کو برقرار رکھنے، معیار، مساوات اور تعلیمی نتائج پر ہونی چاہیے۔ اس کے لیے تعلیمی اعتبار سے پسماندہ اضلاع میں ہدفی سرمایہ کاری، اساتذہ کی زیادہ منصفانہ تعیناتی، اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار بچوں کے لیے مؤثر مدد، ثانوی اسکولوں تک بہتر رسائی، قابلِ استعمال ڈیجیٹل سہولتیں اور معذور بچوں کے لیے حقیقی رسائی ضروری ہے۔ پالیسی سازوں کو یہ تحقیق بھی کرنی چاہیے کہ لاکھوں خاندان نجی اسکولوں کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور کیا سرکاری اسکول انہیں اسی معیار کے تعلیمی مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
چیلنج اب محض زیادہ اسکول بنانے، زیادہ اساتذہ مقرر کرنے یا زیادہ بچوں کو داخل کرنے کا نہیں ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ بچے کو ملنے والی تعلیم کا معیار اس اسکول، ریاست یا خاندان کے معاشی حالات سے طے نہ ہو جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔
ہندوستان کے تعلیمی نظام کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے قومی اوسط اعداد و شمار کتنے متاثر کن نظر آتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ معاشرے کے حاشیے پر کھڑے بچے کو بھی وہی حقیقی تعلیمی مواقع حاصل ہوں جو مراعات یافتہ بچے کو حاصل ہیں۔