تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے ایک ہزار دن مکمل ہوچکے ہیں۔ دسمبر 2023 میں جب ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو اس کے پاس عوام سے کیے گئے وعدوں کی ایک لمبی فہرست تھی، ’’ابھئے ہستم‘‘ کے تحت اعلان کردہ چھ گارنٹیاں اس انتخابی مہم کا مرکز تھیں۔ خواتین، کسانوں، نوجوانوں، غریبوں، طلبا اور سماج کے کمزور طبقات سے بڑے وعدے کیے گئے تھے۔ حکومت اپنی کارکردگی کو ’’پرجا پالنا‘‘ یعنی عوامی حکم رانی کی کامیابی قرار دے رہی ہے، جبکہ بی آر ایس اسے وعدہ خلافی، ناقص حکم رانی اور انتظامی ناکامیوں کے ایک ہزار دن قرار دے رہی ہے۔ بی آر ایس نے حکومت کے خلاف چارج شیٹ بھی جاری کی ہے۔
لیکن کسی حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ صرف اشتہارات یا اپوزیشن کی چارج شیٹ سے نہیں ہوسکتا۔ دیکھنا ہوگا کہ حکومت نے کیا دعویٰ کیا، سرکاری ریکارڈ کیا کہتا ہے اور عام آدمی کو حقیقت میں کیا ملا؟
چھ گارنٹیاں: وعدے اور عمل
کانگریس نے خواتین کے لیے مہالکشمی گارنٹی کے تحت ماہانہ دو ہزار پانچ سو، پانچ سو میں گیس سلنڈر اور سرکاری بسوں میں مفت سفر کا وعدہ کیا تھا۔ ان میں مفت بس سفر حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے، لاکھوں خواتین اس سہولت سے استفادہ کر رہی ہیں۔ پانچ سو گیس سلنڈر کی اسکیم بھی نافذ ہوئی۔ لیکن خواتین کو ماہانہ دو ہزار پانچ سو کہاں ہیں؟ یہ وعدہ ایک ہزار دن گزرنے کے بعد بھی نافذ نہیں ہوا۔ لہذا مہالکشمی کو مکمل کامیاب کہنا مشکل ہے۔
گروہا جیوتی
2026-27 کے بجٹ میں گروہا جیوتی کے لیے 2,080 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔ سرکاری اکنامک سروے میں بھی اسے حکومت کی بڑی فلاحی اسکیموں میں شمار کیا گیا ہے، اس لیے چھ گارنٹیوں میں گروہا جیوتی کو نسبتاً کامیاب اسکیم قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر خاندان اس سے یکساں فائدہ اٹھا رہا ہے۔ دو سو یونٹ کی حد سے زیادہ خرچ کرنے والے خاندانوں کو مکمل بل کا ادا کرنا پڑتا ہے۔
ریتو بھروسہ
کسان کانگریس کے انتخابی وعدوں کا اہم مرکز تھے۔ ریتو بھروسہ کے تحت کانگریس نے کسانوں اور ٹیننٹ فارمرس کے لیے پندرہ ہزار روپے فی ایکڑ اور زرعی مزدوروں کے لیے بارہ ہزار روپے سالانہ کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت نے ریتو بھروسہ نافذ کیا، لیکن موجودہ امداد بارہ ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ ہے۔ اس لحاظ سے حکومت نے اسکیم تو نافذ کی مگر اصل انتخابی وعدے کی مکمل رقم ابھی تک نہیں پہنچی۔ کسان قرض معافی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ضرور ہے۔ حکومت بڑے پیمانے پر قرض معافی کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن بی آر ایس مسلسل یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کتنے اہل کسان اس سے باہر رہ گئے، یعنی یہاں بھی نتیجہ وہی ہے کام ہوا ہے، مگر وعدے کی مکمل شکل میں نہیں۔
اندراما انڈلو
غریب خاندانوں کو مکان فراہم کرنا کانگریس کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ حکومت نے اندراما انڈلو کے تحت مکانات کے لیے مالی مدد کا اعلان کیا، لیکن مکان ایسی اسکیم ہے جس کا فیصلہ بجٹ مختص کرنے سے نہیں بلکہ مکان مکمل ہونے اور مستحق خاندان کے حوالے ہونے سے ہوتا ہے، اسی لیے اس اسکیم میں ’’کتنے کروڑ مختص کیے گئے‘‘ سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کتنے مکانات حقیقت میں مکمل ہوئے؟
اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہدف کے مقابلے میں مکمل مکانات کی تعداد بہت کم ہے۔ ان اعداد کو حتمی سرکاری حقیقت قرار دینے کے بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ عمل درآمد کی رفتار خود ایک بڑا سیاسی سوال بن چکی ہے۔
دیہی تلنگانہ میں اس کا اثر خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ غریب دیہی خاندان کے لیے گھر محض ایک فلاحی اسکیم نہیں بلکہ سماجی عزت اور معاشی تحفظ کا ذریعہ ہے۔
یوا وکاسم
کانگریس حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ستر ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں فراہم کی ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے بھی ایک ہزار دن کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے ستر ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمتوں کا حوالہ دیا۔
لیکن انتخابی وعدہ تو دو لاکھ نوکریوں اور جاب کیلنڈر کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بی آر ایس اس معاملے کو حکومت کی ناکامیوں میں شمار کرتی ہے۔ لہٰذا یہاں بھی ’’ستر ہزار ملازمتیں‘‘ ایک حقیقت یا حکومتی دعویٰ ہوسکتا ہے، لیکن اس سے ’’دو لاکھ ملازمتوں‘‘ کا وعدہ مکمل ثابت نہیں ہوتا۔
چیوتھا
2026-27 میں چیوتھا پنشن کے لیے چودہ ہزار آٹھ سو اکسٹھ کروڑ مختص کیے گئے ہیں، مگر بجٹ مختص ہونا اور وعدے کے مطابق تمام مستحقین تک مطلوبہ رقم پہنچنا ایک ہی چیز نہیں۔ یہ فرق تلنگانہ کی تقریباً ہر فلاحی اسکیم میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے الاکیشن الگ چیز ہے، اور ریلیز الگ، اکسپنڈیچر الگ ہے اور بینیفیشریس کو ملا ہوا فائدہ الگ۔
حکومت اکثر پہلے عدد کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ اپوزیشن آخری عدد پر سوال اٹھاتی ہے۔ اصل تجزیہ ان چاروں کے درمیان فرق دیکھنے سے ہی ممکن ہے۔
اقلیتیں
اب آتے ہیں اس طبقے کی طرف جس کا کانگریس کی انتخابی کامیابی میں اہم کردار رہا اقلیتیں، خصوصاً مسلمان۔
2023 کے انتخابات سے قبل کانگریس نے ایک باقاعدہ مائناریٹی ڈکلیریشن پیش کیا تھا۔ اس میں صرف عمومی فلاح کا وعدہ نہیں تھا، بلکہ کئی مخصوص اور اہم وعدے کیے گئے تھے۔ جن میں اقلیتی بہبود کا بجٹ چار ہزار کروڑ تک بڑھانا، اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہر سال ایک ہزار کروڑ کے سبسڈی والے قرض، ’’عبدالکلام تحفہ تعلیم‘‘، شادی کے لیے ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے، اقلیتی طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ، وقف املاک کی بازیابی، قبرستانوں کے لیے زمین، اقلیتی کمیشن کو مستقل قانونی ادارہ بنانا اور اقلیتی اداروں کی خالی اسامیوں کو پُر کرنا شامل تھا۔ ایک ہزار دن بعد سوال یہ نہیں کہ حکومت نے اقلیتوں کے لیے بجٹ رکھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وعدوں کا فائدہ کتنے لوگوں تک پہنچا؟
یہاں اعداد حکومت کے دعوے اور زمینی عمل درآمد کے درمیان نمایاں فرق دکھاتے ہیں۔ مائناریٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کا بجٹ 2023-24 میں تقریباً دو ہزار دو سو کروڑ تھا، جو 26-2025 میں بڑھ کر تقریباً تین ہزار پانچ سو کروڑ ہوگیا۔ اس سال بجٹ بڑھا کر تقریباً تین ہزار سات سو کروڑ کیا گیا، بظاہر یہ ایک مثبت تصویر ہے۔
لیکن آر ٹی آئی سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق 25-2024 میں تقریباً دو ہزار سات پچاس کروڑ جاری ہوئے مگر خرچ صرف ایک ہزار چھ سو کروڑ ہوا۔ 26-2025 میں 25 مارچ 2026 تک تقریباً تین ہزار کروڑ جاری ہوئے اس کے باوجود خرچ صرف ایک ہزار سات سو کروڑ کیا گیا، اس سے بجٹ اور فائدے کے درمیان فرق نمایاں ہوجاتا ہے۔
اقلیتی ڈکلیریشن میں تعلیم کو خصوصی اہمیت دی گئی تھی، لیکن 26-2025 میں اقلیتی طلبا کی پوسٹ میٹرک اسکالرشپس کے لیے ایک سو بیس کروڑ مختص کیے گئے، جبکہ رپورٹس کے مطابق خرچ صرف ایک کروڑ بیس لاکھ کروڑ ہوا، یہ ہے اقلیتیوں کی اہمیت۔ اسی طرح ٹیوشن فیس ایمبرسمنٹ کے لیے تین سو کروڑ مختص کیے گئے، مگر خرچ صرف اڑسٹھ کروڑ بتایا گیا، یہ اعداد اگر درست ہیں تو یہ حکومت کے لیے انتہائی سنجیدہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ جب پیسہ بجٹ میں موجود ہے تو مستحق طالب علم تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟
اپریل 2026 کے ایک سرکاری حکم میں بھی اقلیتی طلبا کی سابقہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی واجب الادا رقم کا ذکر موجود ہے اور عدالت کے عبوری حکم کے بعد بعض تعلیمی اداروں کو 27-2026 سے طلبا سے فیس براہِ راست لینے کی اجازت دی گئی، یعنی اقلیتی طلبا کا مسئلہ محض سیاسی الزام نہیں؛ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات ایک حقیقی انتظامی اور مالی مسئلہ ہیں۔
کانگریس نے اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہر سال ایک ہزار کروڑ کے سبسڈی والے قرض کا وعدہ کیا تھا۔، جس کے لیے 26-2025 میں آٹھ سو چالیس کروڑ مختص کیے گئے اور دو لاکھ سترہ درخواستیں وصول ہوئیں لیکن مئی 2026 تک ان درخواستوں کا کیا ہوا معلوم نہیں۔ درخواستیں موصول ہونا کامیابی نہیں؛ مستحق نوجوان کے کاروبار کے لیے قرض یا سبسڈی پہنچنا کامیابی ہے۔
کانگریس نے ’’عبدالکلام تحفہ تعلیم‘‘ کے تحت اقلیتی طلبا کو دسویں جماعت سے لے کر پی ایچ ڈی تک مختلف سطحوں پر مالی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ مئی 2026کی رپورٹ کے مطابق یہ اسکیم ابھی تک نافذ نہیں کی گئی تھی۔
یہ سارے معاملات اقلیتی نوجوانوں میں بے چینی اور مایوسی کی ایک اہم وجہ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ تعلیم کے میدان میں وعدہ براہِ راست نوجوان نسل کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
کانگریس نے مائناریٹی ڈکلیریشن میں نئی شادی شدہ اقلیتی جوڑیوں کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار دینے کا وعدہ کیا تھا، یہ اسکیم اب بھی زیرِ التوا ہے، لہٰذا موجودہ شادی مبارک اسکیم جاری ہے، مگر انتخابی وعدے کی نئی رقم نافذ ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔
وقف املاک اور اقلیتی ادارے
کانگریس نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائزکرنے اور وقف کی قابض املاک واپس لینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ اسی طرح اقلیتی کمیشن کو مستقل قانونی حیثیت دینے اور مائناریٹی فائنانس کارپوریشن، وقف بورڈ، حج ہاؤس اور اردو اکیڈمی وغیرہ میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے وعدے بھی کیے گئے تھے، ان میں سے کئی وعدے اب بھی پنڈنگ یا انویری فائیڈ ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کی مذہبی املاک کا نہیں بلکہ اقلیتی اداروں کی انتظامی خودمختاری اور مالی استحکام کا بھی ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ تمام اقلیتیں کانگریس سے مایوس ہوچکی ہیں، لیکن دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تعلیم، فیس ری ایمبرسمنٹ، روزگار، سبسڈی، شادی امداد اور وقف املاک کے مسائل پر بے اطمینانی کے اسباب موجود ہیں۔ مائناریٹی ویلفیئر کے مختص بجٹ اور اصل اخراجات کے درمیان فرق اس بے اطمینانی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ اقلیتی ووٹر یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے آپ کو ووٹ دیا لیکن ہمارے بچوں کی اسکالرشپ کہاں ہے؟ فیس ری ایمبرسمنٹ کہاں ہے؟ روزگار کے لیے وعدہ کیے گئے قرض کہاں ہیں؟ ایک لاکھ ساٹھ ہزار شادی امداد کہاں ہے؟ چار ہزار کروڑ کا اقلیتی سب پلان کہاں ہے؟ اور وقف املاک کی بازیابی کہاں ہے؟
دیہی علاقوں میں صورتحال اور بھی پیچیدہ ہے۔ کسانوں کو ریتو بھروسہ، قرض معافی اور دھان کے بونس کا فائدہ ملا تو حکومت کو اس کا سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کسان کو وعدے کے مطابق پوری رقم، وقت پر ادائیگی، مناسب قیمت، کھاد، پانی یا فصل کی خریداری میں مشکلات کا سامنا رہے تو حکومتی اعداد اس کی ناراضی ختم نہیں کرسکتے۔
اسی طرح دیہی مسلمان کے لیے اقلیتی اسکیمیں صرف حیدرآباد کے پرانے شہر تک محدود مسئلہ نہیں۔ ضلع کی سطح پر اسکالرشپ، شادی امداد، اقلیتی قرض، رہائش، قبرستان اور تعلیم کے مسائل زیادہ اہم ہیں، یہی وجہ ہے کہ دیہی اقلیتی ووٹر کا تجربہ آئندہ سیاسی مقابلے میں فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
ایک ہزار دن مکمل ہوچکے ہیں۔ کانگریس کے پاس صرف وعدے گنوانے کا وقت نہیں، وعدوں کا حساب دینے کا وقت ہے۔
تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے ایک ہزار دن

دعوے، شواہد اور عوام کا بدلتا ہوا موڈ۔ریونت ریڈی حکومت کے لیے وعدوں کا حساب دینے کا وقت آگیا

