انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے چنئی چیپٹر کے زیرِ اہتمام ’’تمل ناڈو کی سیاست: کیا تبدیلی آئی ہے؟‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں ریاست کے بدلتے سیاسی منظرنامے، اداکار سے سیاست دان بننے والے وجے چندر شیکھر (جوزف وجے) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلمانوں کے لیے پیدا ہونے والے نئے سیاسی امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ آئی او ایس کے چنئی دفتر میں منعقدہ اس پروگرام میں معروف صحافی اور دی نیوز منٹ کے سینئر نیوز ایڈیٹر زیڈ شبیر احمد نے کلیدی خطاب کیا۔ وہ اس سے قبل ٹائمز ناؤ کے تمل ناڈو بیورو کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ پروگرام کا آغاز مولانا ظفر اللہ رحمانی کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جبکہ آئی او ایس چنئی چیپٹر کے کوآرڈینیٹر محمد حنیف کاتب نے مہمانِ مقرر کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادارے کی سرگرمیوں اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب میں شبیر احمد نے کہا کہ ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے دو قد آور رہنماؤں کی وفات کے بعد تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نمایاں خلا پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ ایم کے اسٹالن نے وزارتِ اعلیٰ بہتر طور پر سنبھالی تھی، تاہم ریاستی حکومت بڑی حد تک بیوروکریسی اور سرکاری عہدیداروں پر انحصار کرتی رہی ہے۔
اس پس منظر میں انہوں نے اداکار وجے چندرشیکھر کی سیاسی میدان میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کو تمل ناڈو کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق وجے کی سیاسی جماعت کے با ضابطہ قیام سے قبل ہی مختلف عوامی جائزوں میں تقریباً سولہ فیصد ووٹروں کی حمایت کے اشارے سامنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وجے کی مقبولیت صرف ان کے فلمی کیریئر تک محدود نہیں، بلکہ نوجوانوں اور خواتین میں ان کی خاص کشش بھی ان کی سیاسی طاقت میں اضافہ کر رہی ہے۔ شبیر احمد کے مطابق، وجے کی سیاسی جماعت کے قیام کے بعد ڈی ایم کے کے روایتی ووٹ بینک کے ایک حصے، خصوصاً خواتین اور عمر رسیدہ ووٹروں کے وجے کی جانب منتقل ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے دونوں وجے کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب اناملائی کی قیادت میں بی جے پی کی جانب سے نمایاں سیاسی سرمایہ کاری کے باوجود ریاست میں پارٹی کا سیاسی اثر بھی کمزور ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وجے نے حکمتِ عملی کے ساتھ اپنی سیاسی جماعت کے دائرہ کار میں تمل قوم پرست عناصر اور دراوڑی روایت سے وابستہ اہم شخصیات کو شامل کیا ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے متعدد کارکن اور ممکنہ امیدوار عام اور متوسط طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن انہیں عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
اجلاس میں تمل ناڈو کی مسلم سیاست کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شبیر احمد نے کہا کہ مسلم سیاسی قیادت اور تنظیمیں وجے سے وابستہ ابھرتی ہوئی سیاسی لہر کا بروقت اندازہ لگانے میں بڑی حد تک ناکام رہیں اور ابتدا میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی اہمیت کو کم سمجھا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض علاقوں میں وجے کو اگرچہ مسلم ووٹ نسبتاً کم حاصل ہوئے لیکن بعض دیگر انتخابی حلقوں میں مسلم امیدواروں کو ہندو ووٹروں کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ حکومت سازی کے عمل میں کمیونسٹ جماعتوں، وڈوتھلائی چروتھائیگل کٹچی (وی سی کے) اور انڈین یونین مسلم لیگ کی جانب سے وجے کی حمایت کو مقررین نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلم قیادت نئی حکومت کے حوالے سے اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر اب بھی غور کر رہی ہے۔
موجودہ سیاسی رجحانات کی بنیاد پر شبیر احمد نے رائے ظاہر کی کہ موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کے امکانات مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
خطاب کے بعد طویل سوال و جواب اور تبادلہہ خیال کا سلسلہ ہوا جس میں تمل ناڈو کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو درپیش چیلنجز کے ساتھ ساتھ ریاست میں ابھرنے والے نئے سیاسی امکانات پر گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس ضرورت پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کو گہرائی سے سمجھا جائے اور نئی سیاسی قوتوں کے ساتھ تعمیری روابط قائم کیے جائیں۔
اجلاس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ مسلمان اور دیگر اقلیتی برادریاں ریاست میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو کھلے ذہن کے ساتھ سمجھیں اور ابھرتی ہوئی سیاسی قوتوں، بالخصوص وجے کی قیادت والی حکومت، کے ساتھ بامعنی اور تعمیری سیاسی مکالمہ کریں۔