مودی سرکار کے سامنے نیا دھرم سنکٹ!
کاکروچ جنتا پارٹی کے بعد سے بی جے پی پر مصیبتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس میں تازہ ترین اضافہ سوتنتر بھاردواج نام کا احمق ہے جو ڈینگ مارتے ہوئے نہ صرف خود مصیبت میں پھنس گیا ہے بلکہ اپنے آقاوں کے لیے بھی وبال جان بن گیا ہے۔ یہ معاملہ جب اس حد تک پہنچ گیا تو بی جے پی اپنے ہی طوطے کی بلی چڑھانے پر مجبور ہو گئی۔ چنانچہ دلت طالبہ نشو آزاد کے والد سنجے کمار پر حملے کے الزام میں مطلوب ’ہندوتوا انفلوئنسر‘ سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے بلند شہر سے گرفتار کر لیا۔ پولیس اسے مہذب طریقہ سے بھی گرفتار کر سکتی تھی لیکن چونکہ عوام کے غم و غصے کو کم کرنا تھا، اس لیے اسے نہایت ذلت آمیز طریقے سے حراست میں لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتاری کی کارروائی امیت شاہ کے تحت کام کرنے والی دہلی پولیس نے اتر پردیش میں گھس کر انجام دی۔ اور صوبے کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ ہندو انتہا پسندوں کے آئیڈیل سوتنتر بھاردواج کو نہیں بچا سکے۔ اس ایک تیر سے امیت شاہ نے دو شکار کیے، پہلے تو سوتنتر بھاردواج کو بزدل ثابت کیا اور دوسرے یوگی کو بے بس وزیر اعلیٰ کے روپ میں پیش کر دیا۔
سوتنتر بھاردواج کی حراست کے بعد پولیس نے یہ بیان جاری کیا کہ اسے بلند شہر کے پاس نیتھلا گاؤں سے موٹر سائیکل پر خورجہ کی جانب جاتے ہوئے پکڑا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص کپل مشرا سے لے کر نریندر مودی تک پینگیں بڑھاتا ہے وہ دہلی سے یو پی کیوں فرار ہوا؟ کیا اس نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ سہارے کمزور ہیں اس لیے اسے یوگی کے پاس چلے جانا چاہیے تاکہ کوئی نہیں تو کم از کم یوگی اسے بچا لیں۔ سوتنتر بھاردواج کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر اسے اپنی پولیس کی حراست سے اتنا ہی ڈر تھا تو بڑی بڑی ہانکنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس نے کہا تھا کہ اسے تو پولیس نے گرفتار تک نہیں کیا، حراست کے دوران بھی وہ رات بھر باہر گھومتا رہا اور پھر کپل مشرا کے ایک فون نے اسے رہائی دلائی۔ اب تو یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کس کے فون نے اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔ وہ تو کہتا تھا کہ اول تو گرفتار نہیں ہوگا اور جیل گیا بھی تو واپس آکر وہی کرے گا لیکن جب موقع آیا تو جیل سے بچنے کے لیے اپنی شناخت چھپانے کے لیے وہ ہیلمٹ پہن کر بھاگتا ہوا پکڑا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ آخری وقت میں وہ یوگی سے بھی مایوس ہوگیا تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے نیپال فرار ہونے کی کوشش میں تھا۔ لیکن پولیس نے اس کے کے منصوبے کو ناکام کر دیا۔ عمر خالد اور سوتنتر بھاردواج میں فرق یہ ہے کہ ایک طویل حراست میں ہونے کے باوجود شیر کی طرح اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور دوسرا چوہے کی مانند چھپنے کے لیے بل تلاش کرتا ہوا پکڑا گیا۔
سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کے بعد اس کی پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی جس میں وہ ڈینگ مارتا ہے کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران اس نے نشو آزاد کے والد سنجے کمار کے سر پر حملہ کیا تھا اور ’کھوپڑی پھوڑ دی‘ تھی۔ وہ فخر سے کہتا ہے کہ اس کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار ہونا چاہیے تھا مگر اس کے باوجود وہ جیل جانے سے بچ گیا۔ سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کے لیے جب پورا حزب اختلاف متحد ہوگیا اور این ڈی اے میں شامل چراغ پاسوان سے لے کر رام داس اٹھاولے تک نے اپنا سُر بدل دیا۔ چراغ پاسوان نے تو اپنا ووٹ بینک کھسکنے کے خوف سے اس کے خلاف پولیس میں شکایت تک درج کرنے کا اعلان کر دیا۔ تب جا کر امیت شاہ کے ہوش ٹھکانے آئے۔ دہلی پولیس نے ویسے تو ملزم کو 72 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر سیاسی نقصان کو کم کرنے لیے چند گھنٹے کے اندر ہی کارروائی کرکے معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی اور سہارنپور میں مسجد کو شہید کرکے میڈیا کو ایک نیا معاملہ پکڑا دیا تاکہ کوئی سوتنتر بھارتی پر گفتگو نہ کرے۔ پہلے تو ایک مسجد کو منہدم کرنے کی مذموم سازش رچی گئی اور اب اس کے نیچے کوئی کنواں تلاش کرکے اسے مندر کہا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کنواں مندر کیسے ہوگیا؟ لیکن میڈیا کے لیے یہ بہت ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ اس کی تفتیش کر رہا ہے اور اس طرح مسجد کی انہدامی کارروائی کی پردہ پوشی کی گئی۔ لوگوں کو یہ پوچھنے سے روکا جا رہا ہے کہ مسجد کیوں شہید کی گئی۔ انہیں اس سوال میں الجھا دیا گیا ہے کہ وہاں کنواں مندر تھا یا نہیں تھا؟
سوتنتر بھاردواج کے معاملہ میں ایک طرف تو ہندوتوا نوازوں کی بزدلی کو بے نقاب کیا گیا اور دوسری جانب دہلی پولیس کے وقار کو خاک میں ملا دیا گیا۔ وہ پوری دنیا کے آگے شرمسار ہوگئی۔بھاردواج کا یہ دعویٰ کہ وہ پولیس کے سوِل اہلکار کی طرح گھومتا ہے، اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ جنترمنتر پر احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے ساتھ سادہ وردی والے افراد ’’بھگوا غنڈہ عناصر‘‘ تھے۔ جنتر منتر پرجب 23؍ جون کو سی جے پی کے احتجاج میں دلت برادری کے نشو کے والد سنجے کمار بھی موجود تھے۔ وہ اپنے فون سے احتجاج کی ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے۔ اس دوران ایک نوجوان نے ان سے پوچھا کہ وہ ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد دو، تین دیگر افراد بھی وہاں پہنچ گئے اور مبینہ طور پر سنجے کمار کے ساتھ مار پیٹ کی۔ سنجے کمار نے اس وقت اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ ان کے سر پر کئی بار مکے مارے گئے اور کسی سخت چیز سے حملہ بھی کیا گیا۔ پولیس نے وہاں سے سورج کمار اور سوتنتر بھاردواج کو پکڑ لیا جبکہ دیگر افراد وہاں سے بھاگ گئے۔ پولیس نے اس وقت صرف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 115(2) (معمولی چوٹ پہنچانا) 126(2) (غلط طریقے سے روکنا) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
دہلی پولیس کے مطابق سنجے کمار کو رام منوہر لوہیا ہسپتال لے جایا گیا تھا اور طبی معائنے میں ان کی چوٹوں کو ’معمولی‘ بتایا گیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ سر پر چوٹ کڑے سے لگی تھی۔ شرمناک بات یہ ہے کہ پہلے بھی دہلی پولیس نے ملزم کا دفاع کیا تھا کہ سنجے آزاد پر سوتنتر نے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ ہاتھ کے کڑے سے چوٹ لگی تھی اور خون نکل آیا تھا۔ اس طرح دہلی پولیس نے تو اسے بچانے کی ساری کوشش کر ڈالی مگر بھاردواج نے اس کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ سنجے آزاد کی بیٹی نشو کا الزام ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر سوتنتر بھاردواج کے حامیوں کی جانب سے مسلسل گالیاں اور آبروریزی کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ نشو نے کہا کہ کئی دنوں سے اس کے حامی مجھے گالیاں اور عصمت دری کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میں نے ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ میں کئی ہفتوں تک اسکول نہیں جا سکی اور ایسا لگا کہ ہر کوئی مجھے شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب پولیس کارروائی کرے گی اور یہ یقینی بنائے گی کہ مجھے مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔‘‘ اس کے بعد نشو نے راہل گاندھی سے مدد مانگی اور پھر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر انڈین یوتھ کانگریس دہلی کے صدر اکشے لکڑا سمیت کانگریس کارکن نیز بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد اور رکن پارلیمنٹ پپویادو نے پہنچ کر بھگوا شدت پسند سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا۔ اس طرح پولیس بھی جھک گئی۔ سوتنتر بھاردواج نے جب سیاسی منظر کو بدلتے ہوئے دیکھا تو اس کی ہیکڑی نکل گئی۔ اب وہ پوڈکاسٹ کو ہٹوانے کے لیے رونے اور گڑگڑانے لگا۔ اونچی اونچی ہانکنے والے سوتنتر بھاردواج نے اپنے پہلے بیان کی یہ مضحکہ خیز وضاحت پیش کی کہ اس نے سنجے کمار پر جان بوجھ کر حملہ نہیں کیا تھا بلکہ اپنے دفاع میں کیا جانے والا اقدام تھا۔ اس کا یہ بزدلانہ دعویٰ سامنے آیا کہ دس پندرہ لوگوں نے اسے گھیر لیا تھا اور اگر وہ خود کو نہ بچاتا تو ہجوم اسے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر ڈالتا۔ اس کے مطابق اسی دوران اس کا کڑا سنجے کمار کے سر پر لگا۔ وہ اس قدر ڈر گیا کہ اس نے وائرل پوڈکاسٹ کلپ کو بھی ’فرضی‘ بتاتے ہوئے کہہ دیا کہ کپل مشرا اور چراغ پاسوان کے بارے میں کہی گئی باتیں طنزیہ انداز میں کی تھیں لیکن اب اس کا کیا فائدہ کیونکہ اس بار تو پولیس نے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی سنگین دفعات شامل کر دیے اور نشو کی شکایت پر پاکسو ایکٹ کے تحت الگ ایف آئی آر درج کرلی۔ اس کے علاوہ قتل کی کوشش کی دفعہ بھی زیر تفتیش ہے۔ اس طرح سنجے کمار کے سر پر سات ٹانکے لگے اور ’’ہاف مرڈر‘‘ کا کیس نہ بننے پر بغلیں بجانے والے سوتنتر بھاردواج کو باپ کی کھوپڑی پھاڑنے کے بعد بیٹی نشو کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’اب بچی کو بھی مارا جائے گا‘‘ ٹھکانے پر آگیا۔ کپل مشرا اور چراغ پاسوان نے پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور بڑے بھائی مودی جی کو تو پتہ ہی نہیں ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی پر کیا گزر رہی ہے۔
دہلی پولیس کے ذریعہ سوتنتر بھاردواج کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ، پوسکوایکٹ کے علاوہ 307 کے کیس نے ہندوتوا نوازوں کو بے چین کر دیا کیونکہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا تھا۔ اس لیے پولیس کارروائی کی مخالفت کے لیے وہ لوگ میدان میں کود پڑے تھے۔ ان لوگوں نے بھی دہلی کے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کے سامنے ہفتے کے روز بڑی تعداد میں جمع ہوکر سوتنتر بھاردواج کے خلاف غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا کیونکہ انہیں پولیس کی جانچ پر شک ہے۔ ہندوتوا نواز تنظیموں کے کارکنوں کا یہ اندیشہ حیرت انگیز ہے اور یہ الزام کہ سوتنتر بھاردواج کو برہمن ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تعجب خیز ہے۔ شاہین اور نفیسہ خان کی بابت جب کہا جاتا ہے کہ ان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے مارو تو یہ قابلِ فہم ہے مگر نام نہاد اونچی ذات والوں کا یہ کہنا کہ مودی سرکار کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اس لیے کہ وہ لوگ کمل پر مہر لگاتے ہیں۔ مسلمان تو ویسے بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے اس لیے ان کی ناراضی سے کمل چھاپ لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر برہمنوں سے تو پڑتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جس طرح ملک کی سیکولر جماعتیں سوچتی ہیں کہ مسلمان کہاں جائیں گے اسی طرح بی جے پی سوچنے لگی ہے کہ برہمنوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح بی جے پی نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ویسا سلوک تو کانگریس نے برہمنوں کے ساتھ کبھی نہیں کیا اور اکھلیش یادو بھی پی ڈی اے میں پچھڑوں کے ساتھ پنڈتوں کو لبھانے لگے ہیں اس لیے وہ کبھی بھی دوسری جانب کھسک سکتے ہیں ۔
سوتنتر بھاردواج کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والے ہندوتوا نواز کارکن دکش چودھری نے یہ صفائی دی کہ اس نے تو ذات پر مبنی الفاظ استعمال ہی نہیں کیے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ کوئی ایسا ویڈیو ہو تو دکھایا جائے، جس میں اس نے ذات پر مبنی الفاظ کہے ہوں۔ دباؤ میں آکر پولیس نے چھوٹے سے کڑے سے لگی ہوئی چوٹ کو 307 کی دفعہ بنا دیا گیا۔ سنسد مارگ تھانے کے سامنے مظاہرہ کرنے والے ایک اور ہندوتوا نواز کارکن نے میڈیا میں الزام لگایا کہ آج کل ہر کوئی SC/ST اور OBC کی بات کرتا ہے لیکن جنرل کیٹیگری کی طرف داری کوئی نہیں کرتا۔ وہ پوچھتا ہے کہ کیا سوتنتر بھاردواج کی واحد غلطی اس کا برہمن برادری سے تعلق ہے؟ اس کو گلہ ہے کہ آج کل کوئی بھی برہمن لیڈر ان کی حمایت میں آگے نہیں آتا۔ اس طرح کی شکایت مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بعد ہوتی تھی کہ کوئی سیاسی رہنما اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے آگے نہیں آتا۔ احتجاج میں شامل اس نوجوان نے یہ سوال بھی کیا کہ جب سورَو داس نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ NEET مخالفت کے نام پر طلبا اور مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آریں واپس لی جائیں اور سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر کی گئی تھی تو سوتنتر بھاردواج کے خلاف FIR کیوں واپس نہیں لی گئی؟ اس سوال کا جواب ہے سوتنتر بھاردواج احتجاج کرنے والوں میں سے نہیں بلکہ حکومت کا دلال بن کر احتجاج کرنے والوں کو ڈرا دھمکا رہا تھا۔
سوتنتر بھاردواج کی حمایت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک نوجوان یہ پوچھتا ہے کہ اگر اس کے خلاف FIR واپس نہیں لی جا رہی ہے تو ان لوگوں کے خلاف UAPA کیوں نہیں لگایا جا رہا ہے جنہوں نے حکومت اور PM مودی کو گالیاں دیں، ملک مخالف نعرے لگائے اور ایسی حرکتیں کیں جن سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے؟ اس احمق کو نہیں معلوم کہ یو اے پی اے تو ملک سے بغاوت یا غداری پر لگتا ہے۔ جنتر منتر میں حکومت یا وزیر اعظم کے خلاف نعرے لگائے گئے ملک کے خلاف نہیں اور مودی کی مذمت ملک کی مخالفت نہیں ہے۔ وہ اپنی چہیتی سرکار سے سوال کرتا ہے کہ ’’آپ ان سب کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہے ہیں‘‘ وہ پوچھتا ہے حکومت کس بات سے ڈر رہی ہے۔ مودی سرکار کو دراصل اقتدار سے بے دخل ہونے کا خوف ہے اس لیے لوگ آسانی سے وزیر اعظم کو جھولا اٹھاکر بھاگنے نہیں دیں گے بلکہ جھولے کی تلاشی لیں گے۔ مودی اور یوگی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے رام راجیہ میں اعلیٰ ذات کے لوگ بھی ایسی الزام تراشی کریں گے۔
دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے سوتنتر بھاردواج کو ایک دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ اس کے بعد جب پولیس حراست ختم ہوئی تو اسے عدالت میں حاضر کرنے کے بجائے ڈیوٹی مجسٹریٹ انجلی سنگھ کے سامنے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اس طرح کے سنگین جرائم کے مرتکب کو چہرہ ڈھانک کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ مگر سوتنتر بھاردواج کے ساتھ یہ سلوک اس لیے ہوا کیونکہ پہلے جو حکومت حزب اختلاف اور دلتوں سے ڈر گئی تھی وہ اب برہمن شدت پسندوں سے خوفزدہ ہوگئی۔ انہیں یہ محسوس ہوا ہوگا کہ کہیں مشتعل ہجوم سوتنتر بھاردواج کو بزورِ قوت چھڑا کر نہ لے جائے۔ اس طرح وہ تو ہیرو بن جاتا مودی اور سرکار زیرو ہو جاتی۔ سرکار کے لیے دھرم سنکٹ یہ تھا کہ وہ اپنی اس حد تک رسوائی بھی نہیں کراسکتی تھی اور نہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرسکتی تھی۔ اس لیے کہ ایسا کرنے پر ان کی جڑ ہی کٹ جاتی۔ اس لیے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ چھ ستمبر تک کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ اور سات ستمبر کو دوبارہ سماعت ہو گی اس میں بھی کسی راحت کا امکان کم ہے کیونکہ مقدمہ میں پاکسو (POCSO) قانون اور ایس سی-ایس ٹی (SC/ST) ایکٹ کی دفعات لگا کر خاصا سخت کر دیا گیا ہے۔ مودی حکومت کے سامنے اب دلتوں کی کھائی اور پیچھے برہمنوں کی آگ ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آگ میں کودے یا کھائی میں گرے۔ اس کی حالت اس ترمیم شدہ شعر کی مصداق ہو گئی ہے؎
دلت مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے برہمن
کاکروچ میرے پیچھے ہے تو مندر میرے آگے
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)