مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھارت بچاؤ شریعت بچاؤ مہم کا اعلان کیا، دلی میں قومی نگراں کمیٹی کی تشکیل ،سرکار کے خلاف کھولا مورچہ
دلی میں مسلم خاتون صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، تھانے میں مذہب پوچھ کر پیٹا گیا،فورپی یم کے ایڈیٹر سنجے شرما کا الزام
جھارکھنڈ میں ایس آئی آر کا کھیل جاری، مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کی ہو رہی سازش
شمالی ہند میں ان دنوں مسلمانوں اور دلتوں کے مسائل موضوع بحث بنے ہوئے ہیں لیکن برسر اقتدار سیاسی گٹھ جوڑ ان مسائل کی طرف سے آنکھیں موندے ہوئے ہے۔ اسے صرف اکثریتی طبقے کو خوش کرنے کی فکر ہے۔ مثال کے طور پر ہریدوار میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی دلت ہونے کی وجہ سے توہین ہوئی۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی کے فلور لیڈر جے پی نڈا نے ایوان میں اس کی مذمت کی اور کارروائی کا یقین بھی دلایا لیکن کارروائی نہ ہونے پر جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دلی میں پریس کانفرنس کر کے یہ مسئلہ اٹھایا تو الٹا اتراکھنڈ میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی۔ کھرگے نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے جے پی نڈا کو مکتوب بھیجا جس کے بعد ہی سرکار نیند سے جاگی۔ کھرگے نے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دلتوں کا معاملہ ہو یا خواتین کے خلاف مظالم، دونوں لیڈر ہر معاملے میں خاموش ہی رہتے ہیں۔
دوسری جانب یو پی کے ضلع سہارنپور میں کلکٹریٹ کی مسجد شہید کر دی گئی۔ اتر پردیش میں مسجدوں اور مدرسوں کو شہید کرنے کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔ سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع سو سالہ قدیم مسجد کو صبح کے دھندلکے میں بلڈوزر سے ڈھا دیا گیا۔ مسجد گرانے سے پہلے ضلع جج نے مسجد فریق کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ مسجد کمیٹی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر ہی رہی تھی کہ اس سے پہلے ہی ضلع انتظامیہ نے کمیٹی اور عوامی نمائندوں کو مغالطے میں رکھ کر مسجد پر بلڈوزر چلوا دیا۔ مقامی لوگوں کو مسجد گرانے کا خدشہ تھا اور وہ مسجد کے تحفظ کے لیے جمع بھی ہوئے لیکن ڈی ایم نے سب کو یہ کہ کر مطمئن کر دیا کہ ضلع جج کے فیصلے پر عمل آوری کے تحت مسجد کو فی الحال سیل بند کیا جا رہا ہے۔ سہارنپور کے عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکام نے عوام سے جھوٹ کہا اور ان خے نمائندوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا۔ سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ضلع انتظامیہ اور حکومت کی مذمت کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔ یو پی کی سبھی اپوزیشن جماعتوں نے مسجد کی انہدامی کارروائی کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ بتایا ہے۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ایکس پوسٹ میں لکھا "سہارنپور کی مسجد سمیت پورے اتر پردیش میں آئے دن مسجدوں کو غیر قانونی بتا کر گرانے کی جو مہم چل رہی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ سرکار کو ایسے منفی حالات سے بچنے کے لیے اس پر فورا روک لگانے کی ضرورت ہے۔" عام آدمی پارٹی لیڈر سنجے سنگھ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا "خسرہ نمبر 539 یعقوب خان وحید خان کے نام درج ہے جس میں مندر، مسجد کلکٹریٹ سب ہے۔ مسجد 1947 سے پہلے کی ہے، وقف بورڈ میں بھی درج ہے لیکن وقف بورڈ کو پارٹی بنائے بغیر ایک طرفہ فیصلہ کے ذریعے مسجد گرا دی گئی۔ دیکھیے کہ انتخابات سے پہلے یو پی میں نفرت پھیلانے کا کیسا کھیل کھیلا جا رہا ہے‘‘
جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مسجد کی شہادت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا اس کارروائی نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر دستور اور قانون سبھی کے لیے برابر ہے تو ان کے لاگو کرنے میں دہرا معیار کیوں دکھائی دیتا ہے؟واضح رہے کہ سوشل میڈیا میں اس واقعے پر مسلمانوں کے ساتھ دیگر انصاف پسند ہندوؤں کا بھی شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یو پی کے ہر تھانے کچہری اور سرکاری دفتروں میں غیر قانونی مندر بنے ہوئے ہیں تو کارروائی صرف مسجدوں کے خلاف ہی کیوں ہو رہی ہے؟ یاد رہے کہ یہ مسجد تقریبا 115 سال پرانی ہے۔ مسجد کے فریق نے 1911 کا بجلی کا ایک بل بھی پیش کیا تھا لیکن عدالت نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا ہے۔
سرکٹ ہاؤس میں نماز پڑھنے پر مقدمہ درج
یو پی کے ضلع مراد آباد میں سرکٹ ہاؤس کے باہر پارکنگ ایریا میں نماز پڑھنے کا ایک ویڈیو وائرل ہونے پر نماز پڑھنے والے سماجوادی لیڈر پر مقدمہ درج ہو گیا۔ بلاری اسمبلی حلقے کے رکن عرفان کے چچا حاجی محمد عثمان نے میٹنگ کے بعد سرکٹ ہاؤس کے باہر نماز ادا کی تو ان کے خلاف بی این ایس کی دفعہ 285 اور 292 کے تحت مقدمہ درج ہو گیا۔ حاجی محمد عثمان کا کہنا ہے کہ نماز پڑھنے سے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
سہارنپور اور مرادآباد کے ان واقعات پر عام مسلمان سوال پوچھ رہے ہیں کیا دستور ہند میں مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ختم کر دی گئی ہے؟ پرانی مسجدیں غیر قانونی بتا کر گرائی جا رہی ہیں نئی بنانے کی اجازت نہیں مل رہی ہے اور کھلے میں نماز پڑھنے پر مقدمے درج ہو رہے ہیں۔ تو کیا مسلمانوں کی نماز ادا کرنے کی آزادی ختم ہو گئی ہے؟ کیا ملک کے دیگر باشندوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے؟ اگر نہیں تو دستور میں موجود مساوی حقوق کی گارنٹی کا کیا مطلب ہے؟
مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کو سیو انڈیا سیو شریعہ کا عنوان دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ملک میں دستوری قدروں، اقلیتوں کے مذہبی حقوق اور پرسنل لا کو خدشات لاحق ہیں جس کے سدِّ باب کے لیے قانونی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد ضروری ہو گئی ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں جلد ہی پروگرامس کیے جائیں گے۔ تاہم، مسلم پرسنل بورڈ کے اس اعلان پر سابق راجیہ سبھا رکن علی انور انصاری نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق شریعت کے نام پر مہم چلانے سے حکم راں محاذ کو سیاسی فائدہ حاصل ہونے کا اندیشہ ہے۔
قومی نگراں کمیٹی کی تشکیل سابق راجیہ سبھا رکن محمد ادیب کی قیادت میں مسلم رہنماؤں کی ایک نگراں کمیٹی بنائی گئی ہے جو مسلمانوں کے آئینی، شہری، قانونی اور سیاسی حقوق پر نظر رکھے گی۔ نگراں کار کمیٹی میں پورے ملک کے 51 مسلم رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے کنوینر محمد ادیب نے اس کا مقصد واضح کرتے ہوئے بتایا "یہ کمیٹی مسلم پرسنل لا بورڈ یا کسی جماعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے سیاسی اور شہری حقوق کے دائرے میں رہ کر کام کرے گی۔ شریعت کے معاملے میں یہ کمیٹی مسلم پرسنل بورڈ کی رہنمائی میں ہی کام کرتی رہے گی"۔ کمیٹی میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سمیت ملک کے ممتاز سیاسی، سماجی و ملی رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے ان میں جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، سابق لفٹننٹ گورنر نجیب جنگ اور سابق جسٹس اقبال احمد انصاری جیسی اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ یہ کمیٹی ہجومی تشدد بلڈوزر نا انصافی اور نفرت پر مبنی واقعات کے خلاف سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
مسلم خاتون صحافیوں کو دلی پولیس نے بنایا نشانہ
دلی پولیس پر دو خاتون صحافیوں کے ساتھ بد سلوکی اور مارپیٹ کا الزام لگا ہے۔ فور پی ایم کے ایڈیٹر سنجے شرما نے ان صحافیوں کے ساتھ دلی پریس کلب میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کی چینل رپورٹر شاہین اور کیمرہ پرسن نفیسہ کو مذہب پوچھ کر نشانہ بنایا گیا۔ سنجے شرما نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی آزادانہ جانچ کے ذریعے قصور وار پولیس والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے مشہور وکیل محمود پراچہ نے بھی ان دونوں صحافیوں کی حمایت میں قانونی لڑائی میں تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں خاتون صحافی ساکیت تھانہ علاقے میں ایک پروگرام کی کوریج کرنے گئی تھیں۔ ان کی اسکوٹی سڑک کنارے کھڑی تھی۔ پولیس نے اسکوٹی ہٹوانے کے بہانے ان سے بدسلوکی کی اور بعد میں تھانے لے جا کر مار پیٹ بھی کی۔ اس واقعے سے صحافی برادری میں غم و غصہ پیدا ہو گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں صحافی ایک وی آئی پی قافلے میں رکاوٹ کا سبب بنیں اس لیے تھانے لے جا کر پوچھ تاچھ کی گئی۔ لیکن خاتون صحافیوں کے جسم پر زخموں کے نشان صاف بتا رہے تھے کہ پولیس جھوٹ بول رہی ہے۔
دلی پولیس پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو دبانے کے لیے بیرونی عناصر کی مدد حاصل کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یو پی کے ضلع بلند شہر سے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ سوتنتر بھردواج نام کے اس شخص نے ایک پوڈکاسٹ میں دلی پولیس کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے احتجاجی مظاہرے میں شامل سنجے آزاد پر حملہ کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔سی جی پی کے احتجاج اور دباؤ کے بعد پولیس نے سوتنتر بھاردواج کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسے عدالتی کارروائی کے بعد پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
جھار کھنڈ میں ایس آئی آر کے عمل میں کھیل
الیکشن کمیشن کی جانب سے مختلف ریاستوں میں جاری ایس آئی آر کے عمل میں بے ضابطگی کی شکایتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ معاملہ جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا سے سامنے آیا ہے۔ ریاست میں خصوصی جامع نظر ثانی کے بعد ووٹر لسٹوں کا جو مسودہ جاری کیا گیا ہے اس میں بڑے پیمانے پر مسلم ووٹروں کے ووٹ حذف کیے جانے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹوں نے منظم طریقے سے مسلم  نام حذف کرانے کی سازش کی ہے۔ سپریم کورٹ کے مشہور وکیل کپل سبل کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ میں ایس آئی آر میں اخراج کی سیاست ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے ایجنٹ مسلمانوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کو معاملے کو روکنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ جھارکھنڈ کے چیف الیکٹورل افسر کا کہنا ہے کے بی ایل اوز فارم وصول کرنے سے انکار نہیں کر سکتے۔ بی جے پی نے فارم قبول نہ کرنے والے بی ایل او کی شکایت کی ہے جس کے بعد اس معاملے نے سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی کا ایک ایجنٹ تقریبا 75 فارم لے کر ایک بی ایل او کے پاس گیا جب اس نے یہ فارم لینے سے انکار کر دیا تو اس نے انہیں موقع پر ہی جلا دیا۔ جھارکھنڈ میں کل 2 کروڑ 64 لاکھ ووٹروں کی جانچ ہو رہی ہے۔ CEO کے روی کمار کے مطابق 30 جون سے 29 جولائی تک BLO گھر گھر گئے، 5 اگست کو ڈرافٹ رول جاری ہوا جس میں ہزاری باغ میں ہی 2,80,141 نام باہر ہو گئے۔ جبکہ پورے جھارکھنڈ میں دس تا بارہ لاکھ نام باہر ہونے کا اندازہ ہے۔ جن علاقوں میں مسلم، آدیواسی آبادی زیادہ ہے وہاں جان بوجھ کر نام Absent, Shifted, Dead, Duplicate کی لسٹ میں ڈالا جا رہا ہے۔
جھارکھنڈ میں SIR کا اصلی ٹیسٹ 5 اکتوبر کے بعد ہوگا جب فائنل لسٹ آئے گی۔
اس سے پہلے اتراکھنڈ میں بھی اسی طرح کی شکایتیں مل چکی ہیں۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایس ائی ار کے نام پر اصلی ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہی کمیشن کا مقصد بنتا جا رہا ہے؟ اپوزیشں جماعتوں کو بھی اس سلسلے میں سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال، آئندہ ہفتے پھر ملیں گے تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ، تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔