مشرق و مغرب کی روز مرہ کی زندگی میں اخلاق و اقدار کا واضح فرق
خدا کی زمین یقیناََ بہت وسیع ہے اور اس زمین میں لوگ اپنی مختلف ضروریات کے لیے اور کبھی سیر و تفریح کے مقصد سے ایک مقام سے دوسرے مقام کو آتے جاتے رہتے ہیں اور کبھی مستقلاً آباد ہونے کے لیے بھی۔ تعلیم و تعلم اور نوکریوں کے لیے جانا بھی ایک عام سی روایت ہے جو ہماری سوسائٹی کا حصہ ہے۔
یوں ہجرتیں ہوتی رہتی ہیں اور ہجرت زندگی اور اس سے متعلق بہت سی باتیں سکھا جاتی ہے۔
پچھلے سال تعلیم کے سلسلے میں مَیں نے بھی ہجرت کی ہے اور کوشش یہ ہے کہ اس کے متعلق ایک تجزیہ پیش کروں۔۔۔ کچھ نکات معلوماتی ہوں گے اور کچھ تجزیاتی۔
سب سے پہلے اس بات کی وضاحت مناسب محسوس ہوتی ہے کہ جو کچھ بھی یہاں سپرد قرطاس کیا جائے گا وہ اس تجربے کا نچوڑ ہوگا جو دن یہاں گزارے ہیں۔ کوشش یہ ہوگی کہ زمینی حقائق کا تذکرہ کیا جائے، کوئی بات مبالغہ آمیز نہ ہو اور نہ کوئی غیر حقیقی۔ ممکنہ حد تک ایک سچا تجزیہ قارئینِ "ہفت روزہ دعوت" کے سامنے آئے۔
جب بھی یہاں آنے کے متعلق سوچا جائے یہ حقیقت بالکل واضح رہے کہ یہاں بھی محنت کرنی پڑے گی جس طرح ہر جگہ کی جاتی ہے۔ یہاں کوئی ’ریڈ کارپٹ‘ نہیں ہوگی بلکہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ پردیس کی سر زمین انسان کے اصل مقام کا تعین کروا دیتی ہے کہ دنیا یہی ہے اور اس نے یہی مقام دینا ہے۔
آغاز، تعلیم کے عنوان پہ گفتگو کرتے ہوئے کریں گے۔
جرمنی میں تعلیم پبلک یونیورسٹیوں میں مفت ہے جو یہاں کی حکومت کی جانب سے چلائی جاتی ہیں۔ غیر ملکی لوگوں کے لیے بھی تعلیم مفت ہے اور اس کے اپنے کچھ Criterias ہیں۔ جو لوگ 12th کرکے بیچلرز کے لیے آنا چاہتے ہیں ان کو ایک سال مزید پڑھنا پڑے گا جس کے بعد بیچلرز میں داخلہ ملے گا۔ تعلیم کا معیار اعلیٰ ہے۔
لیکن ایک حیرتناک بات یہ بھی ہے کہ یہاں بہت سے لوگ تعلیم پر توجہ بھی نہیں دیتے بلکہ یہاں کے مقامی لوگوں سے سننے میں آیا ہے کہ کچھ طلبا کی تعداد اسکول سے اکثر غیر حاضر رہتی ہے۔ ایک جرمن خاتون نے بتایا کہ والدین کے لیے نشہ ایک عام سی بات ہے بلکہ وہ ہر وقت نشے ہی میں رہتے ہیں۔ انہیں اس بات کی بھی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی کم عمر اولاد اسکول جا رہی ہے بھی یا نہیں۔ باقی نو عمر بچوں کا خیال والدین رکھتے ہیں اور جب بچہ ایک خاص عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس کو اپنی معاشی ضروریات بھی خود ہی پوری کرنی پڑتی ہیں، اس لیے یہاں تعلیم کے مقابلے میں کام کرنے یعنی کمانے کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے.
دوسرا نکتہ صفائی کے متعلق۔ یہاں صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن مکمل طور پر نہیں ہے، سڑکوں پہ یہاں بھی کچرا دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ ہمارے ملکوں کی طرح بے احتیاطی نہیں ہے لیکن کچھ لوگ خیال نہیں رکھتے جس میں صرف غیر ملکی نہیں بلکہ ان کے اپنے لوگ بھی شامل ہیں جو سڑکوں کی ہی نہیں بلکہ اپنی ذاتی صفائی پہ بھی بالکل دھیان نہیں دیتے۔
اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ پانی کا ایک بوتل اپنے ساتھ رکھنا پڑتا ہے بالخصوص مسلمانوں کو جو اپنی طہارت کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں۔
تیسرا نکتہ: کرپشن، فراڈ، دیگر جو برائیاں ہمارے معاشروں میں یعنی بر صغیر ہند میں پائی جاتی ہیں ان کا تناسب نسبتاً کم ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ بالکل بھی نہیں ہے۔ یہاں آفیشیل کاموں کی رفتار اس قدر آہستہ ہے کہ اکثر اوقات بذریعہ میل انہیں یاد دلانا پڑتا ہے کہ ہم نے فلاں جگہ اپائنٹمنٹ لینے کے لیے اپلائی کیا ہے لیکن جب آپ اس کام کے لیے جاتے ہیں تو زیادہ وقت لگانا نہیں پڑتا، انتظار کی اذیت سے بچ جاتے ہیں لیکن وہ اپوائنمنٹ ملنے تک آپ بہت انتظار کرچکے ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کرپشن ویسا نہیں ہے جیسا برصغیر ہند میں ہے لیکن یہ بھی نہیں کہ بالکل بھی نہیں ہے۔ ہاں رشوت دینی نہیں پڑتی لیکن ہوتا یوں ہے کہ اگر غلطی آپ کرتے ہیں تو یہ منطقی طور پر درست ہے کہ آپ رقم ادا کریں یا جرمانہ دیں۔ لیکن اگر مینجمنٹ بھی غلطی کرتا ہے تو وہ جرمانہ بھی آپ ہی کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ گویا یہ بھی مجھے کرپشن کی ہی ایک شکل لگتی ہے۔ Black money یعنی جعلی کرنسی کا کاروبار صرف برصغیر ہند کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہاں بھی ہے، بلکہ انٹرنیٹ سے جڑے بڑے بڑے گھپلے یورپ میں بھی ہوتے ہیں، جس طرح ہند و پاک میں خواب دکھا کر معصوم لوگوں سے پیسے لوٹے جاتے ہیں وہ یہاں بھی ہوتا ہے۔
مسلمانوں کی نئی نسل اگر ان ملکوں میں آنا چاہتی ہے اور ان کے والدین چاہتے ہوں کہ وہ ایک اچھے انسان بنیں یا ’اچھے انسان‘ والی روش پہ قائم رہیں تو پھر ان کو اپنے بچوں کی ایمانی بنیادوں کو بہت مضبوط کرنا ہوگا۔ شراب کباب کی محفلیں اور زنا گویا یہاں معمول کی بات ہے۔ اس پہلو پر یقیناً توجہ دینی چاہیے، ان کو جو چاہتے ہیں کہ ان کی عاقبت نہ بگڑے۔
مسلمانوں کی کچھ انجمنیں موجود ہیں، مساجد بھی ہیں، نمازوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے، کچھ لوگ نماز ادا بھی کرتے ہیں ممکن ہے کہ پنج وقتہ نمازی بھی ہوں۔
انجمنیں بھی اپنا کام بھی کر رہی ہیں۔ کوششیں تو چل رہی ہیں لیکن باطل اپنی رنگ رلیوں اور عیش سامانیوں کے ساتھ بہت سوں پر کسی نہ کسی انداز میں حملہ آور ہو ہی جاتا ہے۔
لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، غیر ضروری مداخلت نہیں کرتے۔ کسی کی ٹوہ میں نہیں لگے رہتے مگر تھوڑے، وہ بھی جو ہمارے علاقوں سے ہیں۔ یہ بھی تجربے کی بنیاد پر ہی بتائی جانے والی بات ہے۔ ملکی ہو کہ غیر ملکی بہت حد تک ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے یعنی concerned بھی نہیں رہتے۔ یہ جتنا مثبت ہے وہیں کچھ منفی بھی ہے۔
میں نے اپنے مشرقی ملکوں میں دیکھا ہے کہ خواتین اگر بسوں اور ٹرینوں میں کھڑی ہوں تو عموماً مرد ان کو جگہ دیتے ہیں جبکہ یہ کلچر یہاں مغرب میں خال خال ہی دکھائی دیتا ہے۔
باقی سب سکون ہے، لیکن جہاں سکون ہے وہاں کچھ مسائل بھی ہیں اور ہونے بھی چاہئیں جو کہ بالعموم ہر جگہ ہی ہوتے ہیں۔ یورپ کوئی جنت تو نہیں ہے، پیسے درختوں پہ نہیں اگتے۔ اپنا خون پسینہ یہاں بھی آپ کو بہانا پڑتا ہے۔ بہت سی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں جو کہ میں سمجھتی ہوں اس زمانے میں ہر جگہ ہی دینی پڑتی ہیں۔
کہیں کہیں نسلی تعصب یعنی Racism کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ یورپ میں عام طور پر اچھے اخلاق کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن ان کے ہاں اعلیٰ و ادنیٰ کا تصور بھی موجود ہے۔ ان کے خیال میں گوری رنگت والے، اوسط، گندمی اور کالی رنگت کے لوگوں سے اعلیٰ ہیں لیکن ایک بڑی تعداد اس تعصب و تفریق کو اہمیت نہیں دیتی۔ اس طرح دونوں طرح کا رحجان یہاں پایا جاتا ہے.
صبح سے شام تک کبھی مارننگ گریٹنگس کبھی ایوننگ گریٹنگس کے نام پہ لوگ خوشگواری پیدا کرنے والے جملے تو بول دیتے ہیں لیکن دلوں کی کیفیات کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ کھوکھلی ہیں۔
یہاں پیدل چلنے یعنی Walking کے مناظر بہت دکھائی دیتے ہیں اس لیے ان کے بیشتر افراد تندرست ہیں۔ تیراکی اور سائیکلنگ یہاں بہت زیادہ کی جاتی ہے۔ لوگ ٹرینوں میں بھی اپنی سائیکلوں کے ساتھ سوار ہو جاتے ہیں، چونکہ انہوں نے یہ صحتمند اصول اپنایا ہوا ہے اس لیے مقامی افراد بڑی عمروں تک بھی چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔ ۸۰ تا ۹۰ سال کے لوگ بھی بڑی تیزی سے چلتے ہیں بلکہ کچھ دوڑتے بھی ہیں۔ ان کو دیکھ کر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں..
ایک ہی سفر میں بس، ٹرین اور ٹرام بھی لینی پڑسکتی ہے۔
سیفٹی ایشوز نہیں پائے جاتے۔ بہت کم ہی کوئی کسی اور کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتا ہے۔ لوگ نشہ کرکے بد حواس پڑے ہوئے رہتے ہیں لیکن چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے۔ البتہ وہ سڑکوں پر چیخ پکار کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی ایک آدھ بد تمیزی کا واقعہ ہو جائے تو ہو جائے۔ اِن کے یہاں تنہائی بہت مطلوب ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ علیحدہ مکان میں رہے، پرائیوسی کی چاہت بہت پائی جاتی ہے۔ اس وجہ سے یورپی معاشرے میں ڈپریشن کا تناسب بھی زیادہ ہے۔
جتنا اب تک تجزیہ کیا ہے، خاندانی نظام خاصی بڑی حد تک متاثر یعنی Disturbed ہے۔ شادی کا تصور تو کم ہی باقی بچا ہے۔ ایک خاتون نے اپنے ایک رشتہ دار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی کتنی اولادیں ہیں وہ خود بھی نہیں جانتا۔ کسی اور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ کام سے فراغت کے بعد گھر نہیں جانا چاہتا کہ اس کی گرل فرینڈ اسے چھوڑ گئی ہے حالانکہ اس کی عمر باون سال ہے اور اس نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے۔ یہ حیران کن اور عجیب المیہ ہے۔
کچھ مسلم خواتین حجاب کرتی ہیں اور کچھ نقاب بھی لیتی ہیں اور اس پر کوئی کچھ نہیں کہتا۔ اس کو لے کر کہیں کہیں ایک آدھ واقعہ ہو جائے تو ہو جائے لیکن بالعموم حجاب کے معاملے میں یہاں ویسا مسئلہ نہیں پایا جاتا جیسا دوسرے یورپی ملکوں میں پایا جاتا ہے۔
بتا دیں کہ جرمنی میں بالخصوص ترک کمیونٹی بہت بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے اس لیے حجاب ان کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ عنوان سے ہٹ کر یہ بات بھی بتاتی چلوں کہ ترک لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے نام ہی صرف مسلمانوں جیسے ہیں، اگرچہ کہ ان میں سے کچھ لوگ نصف صدی سے یہاں رہ رہے ہیں، انہوں نے مسجدیں تو تعمیر کروائیں لیکن اشاعت اسلام کا وہ کام نہیں کیا جو مطلوب تھا____بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ خود ان کے اپنے لوگوں کے اصلاح احوال کی اشد ضرورت ہے۔
رمضان المبارک کا واقعہ ہے کہ ایک ترکی نژاد جرمن نے ہم سے کہا کہ وہ جو "آپ" کا روزہ ہوتا ہے نا! اس کے لیے افطار کا اہتمام کیا گیا ہے، آپ تشریف لائیں۔
روزے کو ’’آپ کا روزہ‘‘ کہ کر اس نے مجھے بڑے اچنبھے میں ڈالا تھا۔ کچھ واقعات کا تذکرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حالات کا صحیح اندازہ ہو۔
بازاروں میں حلال اشیاء بھی آسانی سے مل جاتی ہیں۔ بہت سی ترکی، افغانی اور ایرانی مارکیٹس ہیں اور کچھ پاکستانی شاپس بھی ہیں. انڈین مارکیٹس بھی پائے جاتے ہیں۔۔ لیکن حلال لیبلز دیکھنا تو پڑتا ہے۔ مسلم مارکیٹ میں کم ہی کوئی مسئلہ ہوتا ہے لیکن کوئی غیر ملکی مارکیٹ سے خریداری کی ہو تو پھر سامان چیک کیے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ صارفین حلال و حرام کا خیال رکھنے والے ہوں۔
اور یہ اضافی نکتہ زبان کے حوالے سے۔ بالخصوص جرمنی کے متعلق میں یہ کہوں گی کہ کوئی اگر یہاں آنا چاہتے ہیں تو وہ پہلے سے جرمن زبان ضرور سیکھ کر آئیں۔ اپنے ملکوں میں رہتے ہوئے اس کی اہمیت کا اتنا اندازہ نہیں ہوتا لیکن یہاں رابطہ پیدا کرنے میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں بہت ہی کم لوگ انگلش بول پاتے ہیں۔ پھر بھی نوجوان طبقہ انگریزی بول لیتا ہے لیکن بڑی عمر کے افراد! اف! اور بڑی عمر کے افراد یہاں کے معاشرے میں زیادہ ہیں۔
زبان سیکھنے والا نکتہ صرف جرمنی کے لیے ہے باقی انگریزی بولنے جانے والے علاقوں میں اس کے متعلق اتنے مسائل نہیں ہوتے ہوں گے۔
بڑے شہروں میں گھر مہنگے ہیں جو آسانی سے نہیں ملتے، گھروں کے نام پہ بھی اسکام ہوتے ہیں۔ پرانی طرز تعمیر کے مکانوں میں لفٹ نہیں ہوتی اور بیشتر مکانات پرانی تعمیر والے ہی ہیں، جہاں تیسری چوتھی منزل تک بھی سیڑھیوں سے ہی جانا پڑتا ہے۔ اب جہاں نئی تعمیرات ہو رہی ہیں وہاں لفٹ لگائی جاتی ہے۔
موسم موافق کم، نا موافق زیادہ ہوتا ہے بلکہ سردی میں اور زیادہ نا موافق ہو جاتا ہے۔ تھوڑی بھی گرمی یہاں کے مقامی لوگوں کو زیادہ لگتی ہے لیکن وہ عموماً ہمارے ملکوں کی طرح کی گرمی نہیں ہوتی، بارش جب بھی ہوتی ہے ہلکی پھلکی ہی ہوتی ہے اور کبھی کبھار بہت شدید بھی ہو جاتی ہے۔ بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع نہیں ہوتا۔ البتہ سردیوں میں برف کا گرنا ایک عام بات ہے۔
یہاں صنفی تفریق بالکل نہیں ہے۔ مرد اور عورت دونوں یکساں ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ عورت نے وہ ذمہ داریاں بھی اپنے سر لی ہیں جو اس کی نہیں تھیں اور دنیا کو 'ترقی پسند’ ہونے کا ایک غیر حقیقی معیار دے دیا اور دنیا نے بھی اس کو حقیقی سمجھ کر قبول کرلیا۔ لیکن حقیقتاََ یہ وہ فسانہ ہے جس کا پس منظر کچھ اور ہی ہے۔
ظاہراً بھی عورت اور مرد میں تمیز کرنا مشکل ہے کیونکہ مرد کے ہئیر اسٹائل، لباس اور عورتوں کے لباس اور بالوں کی بناوٹ وغیرہ میں بہت ہی کم فرق پایا جاتا ہے۔
بے روزگاری یہاں بھی دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ بھکاریوں کی ایک بڑی تعداد یہاں بھی موجود ہے حالانکہ حکومت وظائف بھی دیتی ہے لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے یہاں بھی اپنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد یہاں آنے لگی ہے تو مقامی باشندوں کے لیے بھی نوکری حاصل کرنا ایک مشکل امر بن گیا ہے۔
میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ اگر کوئی یورپ آنے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ بات ذہن میں رکھ کر آئیں کہ آسانیاں کہیں بھی نہیں پائی جاتیں۔ یورپ ہے لہٰذا یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا؛ ایسا سوچنا شیخ چلی کا خواب ہوسکتا ہے کیونکہ جو جتنا کچھ کما رہا ہے اس کو اسی حساب سے ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایمپلائمنٹ ٹیکس، ہیلتھ انشورنس اور نہ جانے کیا کیا۔ آدھی تنخواہ تو ان ٹیکسوں کے نام پہ ہی چلی جاتی ہے۔
جو لوگ اپنے اپنے ملکوں میں ہوں یا پھر کسی اور ملک میں، وہ "یورپ" کے نام پہ دھوکہ نہ کھائیں۔ جہاں بھی وہ زندگیاں گزار رہے ہیں اور کچھ حد تک بھی مطمئن ہیں تو وہیں رہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے تو تفریح کے لیے آ جائیں کیونکہ اللہ نے زمین کے بیشتر حصوں کو خوبصورت ہی بنایا ہے۔ لیکن جہاں ہیں اور جس حال میں ہیں اس میں ’شکر گزاری‘ کو اپنایا ہوا ہے تو اس سے خوبصورت بات کوئی نہیں ہے۔
بات طویل ہوگئی ہے۔ لیکن لکھتے ہوئے بس یہ احساس تھا کہ بہت سے لوگوں کے اندر یہ احساس کمتری پایا جاتا ہے کہ فلاں اور فلاں کو دیکھو، پردیس گیا ہے، اتنا اور اتنا کما رہا ہے، مزے کر رہا ہے۔ تو یہ جو دکھایا جاتا ہے اس کے پیچھے بھی نہ جانے کتنی ہی بے آرام راتیں ہوتی ہیں اور کتنے ہی ایسے ہوتے ہیں جو طرح طرح کے بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ قرض کے، ڈھلتی ہوئی جوانی کے، خاندان سے دوری کے، غیر متوازن زندگی کے، کبھی بھوک و پیاس کے اور کئی بے سکون لمحوں کے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اللہ نے کسی کو قانع ہونا سکھا دیا ہے تو وہ جہاں بھی رہے یہ سمجھے کہ وہی زمین اس کے لیے ایک نعمت عظمیٰ ہے۔
یورپ: ایک خواب اور ایک حقیقت

ایک طالبہ کے چشم کشا مشاہدات

