نظریاتی بالادستی کے تسلط کی کوشش ۔ بنگال کی تکثیری شناخت کا امتحان
اگست کے آخری ہفتے میں جادھو پور یونیورسٹی میں دائیں بازو اور آر ایس ایس حامیوں کے درمیان ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔ جس میں بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی اور کارکنان، اے بی وی پی (ABVP) کے طلبا کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اس ہنگامے کا حصہ بن گئے۔ بی جے پی رہنماؤں کے یونیورسٹی کی ہنگامہ آرائی میں شامل ہونے اور مخالفین کے خلاف نفرت انگیز الفاظ استعمال کرنے کے بعد بنگال میں تعلیمی اداروں کی آزادی اور کیمپس کے آزادانہ ماحول کو لے کر کئی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے۔
اصل تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ ہنگامہ آرائی صرف ایک کیمپس کا مقامی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ نظر آتا ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں کی خود مختاری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جمہوری معاشرے میں یونیورسٹیاں افکار کی آماجگاہ اور تنقیدی شعور کی نرسری ہوتی ہیں۔ لیکن جب سیاسی طاقتیں کیمپس کی دیواروں کے اندر داخل ہو کر نظریاتی تسلط قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف تعلیمی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ آزادانہ فکر و تحقیق کے راستے بھی بند ہو جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کیمپس میں بیرونی عناصر کا حملہ انتظامیہ کی ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، مگر المیہ یہ رہا کہ انتظامیہ اپنی ناکامی پر شرمندہ ہونے کے بجائے یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ کے خلاف ہی محاذ کھول کر بیٹھ گئی۔ کمیونسٹ نظریات کے حامل طلبا اور اساتذہ کی کردار کشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ اس یونیورسٹی کے خلاف کیا جا رہا تھا جو بھارت کی ریاستی یونیورسٹیوں میں پہلے مقام پر ہے، جبکہ ملک کی دس معیاری یونیورسٹیوں میں جادھو پور ہمیشہ ٹاپ پانچ یا چھ میں جگہ بناتی ہے۔ ملک کی اس معیاری یونیورسٹی کو اگر "ملک مخالف گروہ کا اڈہ" اور "ٹکرے ٹکرے گینگ" کہا جانے لگے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ملک کی موجودہ سیاست داں کس طرح کا سلوک کر رہے ہیں۔ کیا ترقی یافتہ دنیا میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ایسے سلوک کا تصور کیا جا سکتا ہے؟
اس پوری صورت حال پر ملک کے قدیم اور کثیر الاشاعت اخبار ’’آنند بازار پتریکا‘‘ نے اپنی رپورٹنگ کے دوران ’’زعفرانی غنڈہ گردی‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے پوری صورت حال کو سامنے رکھا۔ بنگالی اخبار کی اس سرخی پر بی جے پی رہنما اور قائد حزب اختلاف شوبھندو ادھیکاری—جو ان دنوں خود کو ہندوتوا کا سب سے بڑا برانڈ ثابت کرنے میں مصروف ہیں—نے شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اخبار سے چوبیس گھنٹوں کے اندر میں معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ اخبار نے معافی تو نہیں مانگی لیکن ہندوتوا کارکنان بھگوا لباس پہن کر اخبار کے دفتر پہنچ گئے۔ پولیس کی موجودگی میں یہ لوگ اخبار کے دفتر کی دیواروں کو بھگوا رنگ سے رنگنے لگے اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ پولیس کی موجودگی میں کسی بھی اخبار کے دفتر پر یہ عمل قانون کی کھلی خلاف ورزی تھا، لیکن خود اخبار نے اس حملے کو اپنے پہلے صفحے پر جگہ دینا ضروری نہیں سمجھا اور صفحہ پانچ پر مختصر خبر شائع کر کے یہ ثابت کیا کہ صحافت کا کام خود کو سرخیوں میں لانا نہیں ہوتا۔
دراصل جادھو پور یونیورسٹی میں معیاری تعلیمی ماحول کے ساتھ بائیں بازو کے نظریات کے حامل طلبا کا دبدبہ رہا ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کی طرح جادھو پور یونیورسٹی بھی مزاحمت اور کیمپس میں بحث و مباحثہ کی آزادی کے لیے اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ یہاں کے طلبا قومی اور بین الاقوامی امور پر اپنی رائے رکھنے میں کبھی نہیں ہچکچاتے؛ جہاں وہ فلسطین کی آزادی اور اسرائیلی جارحیت پر اپنا موقف رکھتے ہیں، وہیں طلبا کے مسائل اور تعلیمی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جادھو پور یونیورسٹی کی یہی وہ خاصیت ہے جو دائیں بازو کو پسند نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ "ایک تعلیمی نظام، ایک نظریہ اور ایک فکر" جیسے استعماری سوچ کے حامی ہوں، ان کے لیے تنوع اور آزادانہ فکر کے حاملین کو برداشت کرنا مشکل ہوگا۔
چناں چہ دائیں بازو کی سیاست کے ابھار کے بعد سے ہی جادھو پور یونیورسٹی نشانہ پر ہے۔ اب جادھو پور یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نام تبدیل ہونے سے یونیورسٹی کے طلبا کی سوچ اور فکر بھی تبدیل ہو جائے گی۔ تاہم جادھو پور یونیورسٹی کو گزشتہ نصف صدی سے قریب سے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ ادارہ اتنی آسانی سے خود سپردگی کرنے والا نہیں ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مزاحمت کی قیمت کون چکائے گا؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ دہائیوں میں بنگال میں تعلیمی معیار میں گراوٹ آئی ہے اور اسکولوں کا نظام خستہ حالی کا شکار ہوا ہے۔ ممتا حکومت نے زیادہ تر توجہ فلاحی اسکیموں پر مرکوز کر رکھی ہے۔ مرکزی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگال میں 41233 ایسے اسکول ہیں جہاں ایک بھی طالب علم نہیں ہے، لیکن وہاں تقریباً 19205اساتذہ تعینات ہیں۔ دوسری جانب 6769 اسکولوں میں صرف ایک استاد ہے، جو دو لاکھ سے زائد طلبا کو پڑھا رہے ہیں۔ (اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کچھ اسکولوں نے UDISE+ پورٹل پر طلبا کا ڈیٹا درست طریقے سے اپ ڈیٹ نہ کیا ہو)
بنگال کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ کرنے والے بی جے پی رہنما تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے تعمیری اقدامات کی تجاویز دینے کے بجائے آر ایس ایس کے اسکولوں کے قیام، نصاب کی تبدیلی اور شیاما پرساد مکھرجی جیسے رہنماؤں کے مضامین شامل کرنے کے مطالبات پر زور دے رہے ہیں۔ دوسری طرف ممتا بنرجی کے دورِ حکومت میں اساتذہ کی تقرری میں ہونے والے گھوٹالے (SSC Scam) کی وجہ سے اسکولی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ اس سمت میں بہتری لانے کے بجائے تعلیمی اداروں کو نظریاتی اکھاڑا بنانے سے بنگال میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ تعلیم کی اصل ذمہ داری کس کی ہے؟
مڈ ڈے میل کا انتظام پہلے ہی ایک مذہبی آرگنائزیشن کے سپرد کیا جا چکا ہے، ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا بنگال کے تعلیمی نظام کو تدریجی طور پر نظریاتی خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے؟ یہ سوال اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب مدرسہ بورڈ کو ختم کر کے اسکول سروس کمیشن میں ضم کرنے اور عالیہ یونیورسٹی (جسے 2007 میں مدرسہ عالیہ سے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا) کو وزارتِ اقلیتی امور کے بجائے وزارتِ تعلیم کے تحت لانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ شوبھندو ادھیکاری ان اقدامات کی وکالت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شیاما پرساد مکھرجی کا خواب تھا: "ایک ملک، ایک آئین، ایک لیڈر"۔ سننے میں یہ نعرہ ایک شاندار نظر آتا ہے اور مساوات سے کس کو اختلاف ہو سکتا ہے؟ مگر اس طرح کے جذباتی نعروں کے ذریعے زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مغربی بنگال میں مدرسہ تعلیم کا نظام آزادی سے قبل سے جاری ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے بنگال کے مدرسہ تعلیمی نظام میں نصابی اصلاحات کی ہیں۔ آخری مرتبہ سابق گورنر اخلاق الرحمن قدوائی کی قیادت والی کمیٹی کی سفارشات پر مدرسہ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اس وقت جو نظام تعلیم ہے، وہ ایک عربی مضمون کے علاوہ مکمل طور پر عام اسکولی نصاب کی طرح ہی ہے۔ چوں کہ زیادہ تر مدارس بنگال کے دیہی علاقوں میں واقع ہیں اور یہاں مسلم بچیاں بڑی تعداد میں پڑھتی ہیں، اس لیے یہ نظام اہم سماجی رول ادا کر رہا ہے۔ 2016 میں 'پراتیچی انسٹیٹیوٹ' کے سروے کے مطابق بنگال کے جن مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی تیس فیصد سے زائد ہے، وہاں اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعداد دیگر علاقوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ایسے میں اگر مدرسہ تعلیمی نظام میں بے جا مداخلت کی جاتی ہے، تو بنگال میں (جہاں پہلے ہی مسلمانوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح زیادہ ہے) تعلیمی پس ماندگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کے مقصد سے فورٹ ولیم کے گورنر وارن ہیسٹنگز نے 1780 میں مدرسہ عالیہ قائم کیا تھا۔ یہ اسلامی علوم کے ساتھ جدید علوم کا بھی مرکز تھا اور یہاں دونوں طرح کا نصاب پڑھایا جاتا تھا۔ آزادی سے قبل مدرسہ عالیہ نے بنگال کے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کے وقت یہ ادارہ بھی تقسیم کا شکار ہوا اور معاہدے کے تحت مدرسہ عالیہ کا ایک حصہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) منتقل کر دیا گیا۔ بعد میں مولانا ابوالکلام آزاد کی کوششوں سے کولکاتا میں مدرسہ عالیہ کا احیاء کیا گیا۔
2006 میں سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد—جس میں بنگال کے مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی پس ماندگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا—بائیں محاذ کی حکومت نے مدرسہ عالیہ کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ چوں کہ مدرسہ عالیہ پہلے مدرسہ بورڈ کے تحت تھا اور اقلیتی امور کی وزارت اسے دیکھ رہی تھی، اس لیے یونیورسٹی بننے کے بعد بھی اسے وزارتِ اقلیتی امور کے تحت رکھا گیا۔ عالیہ یونیورسٹی کا ایک تاریخی پس منظر ہے اور دو سو سال سے یہ ادارہ تعلیم کا مرکز رہا ہے۔ اسی لیے بل پاس کرتے وقت اس وقت کی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ یونیورسٹی بننے کے بعد بھی اس کے بنیادی مقاصد قائم رہیں گے اور یہ یونیورسٹی بنگال کے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
گزشتہ دو دہائیوں میں عالیہ یونیورسٹی نے بنگال کے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بنگال کی دیگر نامور یونیورسٹیوں (مثلاً کولکاتا یونیورسٹی، جادھو پور یونیورسٹی، پریذیڈنسی یونیورسٹی، رابندر بھارتی یونیورسٹی، کلیانی یونیورسٹی اور نارتھ بنگال یونیورسٹی) میں مسلم طلبہ کی شرح آج بھی چھ فیصد سے کم ہے۔ ایسے میں یہ خدشہ بالکل بجا ہے کہ اگر عالیہ یونیورسٹی کو عمومی وزارتِ تعلیم کے تحت کر دیا گیا اور اس کی خصوصی ساخت یا تحفظات ختم ہو گئے تو مسلم طلبا کی رسائی شدید متاثر ہوگی۔
اپوزیشن کی جانب سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جب تمام تعلیمی ادارے وزارتِ تعلیم کے تحت ہیں تو عالیہ یونیورسٹی وزارتِ اقلیتی امور کے تحت کیوں ہے؟ لیکن اس سوال پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے کہ میڈیکل اور زرعی کالج بالترتیب وزارتِ صحت اور وزارتِ زراعت کے تحت کیوں کام کرتے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انتظامی تبدیلیوں کے بعد بھی عالیہ یونیورسٹی کے تاریخی پس منظر اور مسلم طلبہ کے تعلیمی مفادات کا تحفظ ممکن رہ سکے گا؟
گزشتہ چند مہینوں میں بنگال کی سیاست میں "زعفرانی سیاست" اور "تعلیم کے بھگوا کرن" پر جو بحث چھڑی ہے، اس نے کم از کم یہ تاثر ضرور قائم کر دیا ہے کہ سیاسی جماعتیں تعلیم میں واقعی اصلاحات کے بجائے نظریاتی برتری قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بنگال کی اپنی ایک تاریخ رہی ہے کہ یہاں کبھی کسی ایک نظریے یا فکر کا مطلق غلبہ نہیں رہا۔ یہاں ہمیشہ تنوع، رواداری اور آزادانہ مکالمے کی گنجائش رہی ہے۔ چناںچہ جب بنگالی زبان سے اردو، عربی اور فارسی کے الفاظ کو نکالنے یا تطہیر کی باتیں کی جاتی ہیں تو رابندر ناتھ ٹیگور اور قاضی نذر الاسلام کا ادبی ورثہ سامنے آ جاتا ہے کہ ان کی شاعری سے کون کون سے الفاظ نکالے جائیں گے؟ اس طرح کی تحاریک بنگال کے لیے نئی نہیں ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی زبان اور ثقافت پر یکسانیت مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، اسے ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا ہے۔ کیوں کہ بنگال کی تعلیمی اور سماجی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ سر زمین 'رابندر سنگیت اور 'نذرول گیتی کے امتزاج، رینیساں (Renaissance) کی فکر اور فکری تکثیریت کی ضامن رہی ہے۔ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو بیدار کرنا اور فکر کو وسعت دینا ہے، نہ کہ اسے کسی خاص سیاسی یا نظریاتی سانچے میں ڈھالنا۔ اگر تعلیمی اداروں کو نظریاتی کشمکش کا اکھاڑا بنایا گیا اور اقلیتی و تاریخی اداروں کے وجود کو خطرے میں ڈالا گیا، تو اس کا نقصان کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے ریاست کی علمی و تہذیبی شناخت کا ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بنگال کے دانشور، اساتذہ اور عام شہری تعلیمی اداروں کی آزادی اور اس کے کثرتِ قومی و کلچرل کردار کو بچانے کے لیے آگے آئیں، کیونکہ تعلیم پر سمجھوتہ دراصل بنگال کے مستقبل پر سمجھوتہ ہوگا۔
بنگال میں’زعفرانی غنڈہ گردی‘کی بحث اور تعلیم کا ’بھگوا کرن‘

اردو، عربی اور فارسی الفاظ سے پاک بنگالی! ٹیگور اور نذرالاسلام کا ورثہ کیا کہتا ہے؟

