حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اسلامی تاریخ کے ان عظیم اور عہد ساز مفکرین و مصلحین میں سے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق تجدیدِ دین اور اصلاحِ امت کا عظیم الشان کام انجام دیا۔ شاہ صاحب نے ہندوستان میں ایسے وقت میں تجدیدی خدمات انجام دیں جب ملتِ اسلامیہ مذہبی، سیاسی، معاشی اعتبار سے اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی تھی۔ مذہبی سطح پر غیر اسلامی رسوم و رواج، بدعات و خرافات، مسلکی تنازعے، منہجی تعصبات اپنے عروج پر تھے۔ ساتھ ساتھ سیاسی طور پر مغلیہ سلطنت زوال پذیر تھی۔ چاروں طرف سے سلطنت کو کمزور کرنے، گرانے کی سازشیں ہو رہی تھیں۔ مرہٹے، جاٹ پے در پے حملے کر رہے تھے، نتیجتاً ملک کی معاشی اور سیاسی صورتِ حال بے انتہا خراب ہو گئی تھی۔ کسانوں اور مزدوروں کا بری طرح استحصال کیا جا رہا تھا۔ ایسے حالات میں شاہ ولی اللہ نے تجدیدِ دین کی ایسی لازوال خدمات انجام دیں جو آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ اس مختصر مقالے میں ہم شاہ صاحب کی ان خدمات کا مختصراً احاطہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
شاہ صاحب کے عہد کی مذہبی صورتِ حال:
شاہ صاحب سے قبل کے ہندوستان کے مذہبی ماحول پر نگاہ ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بے جا رسوم و رواج، غلط عقائد و نظریات، شعائرِ اسلامی سے تنفر ماحول پر پوری طرح مسلط ہو چکا تھا، جس کی بنیاد دورِ اکبری میں رکھی گئی تھی۔ عوام و خواص میں اسلام اور اسلامی تعلیمات کے نام پر قبر پرستی، بزرگوں اور صوفیوں کی عظمت جیسی خرافات عام ہو چکی تھیں ، جن کا اندازہ شاہ صاحب کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ہو سکتا ہے، جس میں صوفیوں ، واعظوں اور خانقاہ نشینوں کو مخاطب بنایا:
’’میں ان متقشف واعظوں، عابدوں اور خانقاہ نشینوں سے کہتا ہوں کہ اے زہد کے مدعیو! تم ہر وادی میں بھٹک نکلے اور ہر رطب و یابس کو لے بیٹھے۔ تم نے لوگوں کو موضوعات اور اباطیل کی طرف بلایا، تم نے خلقِ خدا پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا، حالانکہ تم فراخی کے لیے مامور تھے، نہ کہ تنگی کے لیے! تم نے مغلوب الحال عشاق کی باتوں کو مدار الیہ بنا لیا ہے، حالانکہ یہ چیزیں پھیلانے کی نہیں، لپیٹ کر رکھ دینے کی ہیں‘‘
درج بالا اقتباس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ لوگ کیسے کیسے توہمات و خرافات میں مبتلا تھے، کن مسائل میں وہ آپس میں الجھ رہے تھے، اور عوام کو کس طرح غلط راہ پر لے جا رہے تھے۔ عقائد اس حد تک خراب ہو چکے تھے کہ لوگ قبر پرستی اور مردوں سے اپنی مرادیں مانگنے جایا کرتے تھے۔ شاہ صاحب دوسرے مقام پر ایسے ہی لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’جو لوگ حاجتیں طلب کرنے کے لیے اجمیر یا سالار مسعود کی قبر، یا ایسے ہی دوسرے مقامات پر جاتے ہیں، وہ اتنا بڑا گناہ کرتے ہیں کہ قتل و زنا کا گناہ اس سے کمتر ہے۔ آخر اس میں اور خود ساختہ معبودوں کی پرستش میں کیا فرق ہے؟‘‘
یہ عوام کے عام مذہبی حالات تھے۔
سیاسی صورتِ حال:
شاہ صاحب 20؍ فروری 1703ء میں، اورنگ زیب عالمگیر کی وفات سے چار سال قبل پیدا ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کے طویل حاکمانہ اور شاہانہ دور کے خاتمے کا آغاز ہو چکا تھا اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ عالمگیر سطح پر بڑی وسیع اور دور رس تبدیلیاں زور و شور سے آ رہی تھیں ۔ ہندوستان میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد ان کے نااہل اور ناعاقبت اندیش جانشینوں کے درمیان سلطنت کی گدی کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی تھی۔ دوسری طرف بیرونی طاقتیں پوری قوت سے سر اٹھا رہی تھیں۔ ایک طرف مرہٹے تھے، دوسری طرف جاٹ، تیسری طرف سکھ، اور چوتھی طرف روہیلے ملک میں بدامنی پھیلا رہے تھے۔ انہی اسباب سے مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹمانا شروع ہو گیا تھا۔ نتیجتاً سارے ملک میں بدامنی، طوائف الملوکی، خانہ جنگی اور سیاسی انتشار پھیل گیا تھا۔ سلطنت کے اراکین اور امرا عیش و عشرت اور رقص و سرود کی محفلوں میں مگن تھے۔ کوئی ان سے احتساب کرنے والا نہ تھا۔ دہلی کی مرکزیت ٹوٹ چکی تھی۔
شاہ صاحب نے شعور کی آنکھیں کھولتے ہی ان حالات کو اپنے ارد گرد دیکھا، لہٰذا انہوں نے اس صورتِ حال کو بدلنے کے لیے بہت کوششیں کیں۔ سلطنت کے امرا و اراکین سے خطاب کیا، چنانچہ لکھتے ہیں :
’’میں امرا سے کہتا ہوں کہ تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا۔ تم فانی لذتوں کی طلب میں مستغرق ہو گئے اور رعیت کو چھوڑ دیا کہ ایک دوسرے کو کھا جائے۔ اعلانیہ شرابیں پی جا رہی ہیں اور تم نہیں روکتے؛ زنا کاری، شراب خواری اور قمار بازی کے اڈے برسرِ عام بن گئے ہیں، اور تم ان کا انسداد نہیں کرتے۔ اس عظیم الشان ملک میں مدت ہائے دراز سے کوئی حدِ شرعی نہیں لگائی گئی۔ جس کو تم ضعیف پاتے ہو، اسے کھا جاتے ہو اور جسے قوی پاتے ہو، چھوڑ دیتے ہو۔ کھانوں کی لذت، عورتوں کے ناز و انداز، کپڑوں اور مکانوں کی لطافت، بس یہ چیزیں ہیں جن میں تم ڈوب گئے ہو۔ کبھی خدا کا خیال تمہیں نہیں آتا۔‘‘
یہ اقتباس ظاہر کر رہا ہے کہ سلطنتِ مغلیہ کے امرا اور حکام کی اخلاقی اور سماجی حالت کیسی گئی گزری ہو گئی تھی، اور کن اسباب سے مغلیہ سلطنت زوال پذیر تھی۔
عام سماجی صورتِ حال:
اس دور میں عوام شرک اور بدعت کے ساتھ اخلاقی پستی میں پہنچ چکے تھے، صحیح معلومات اور مستند دینی علم سے محروم تھے۔ ہندوانہ رسم و رواج عام مسلمانوں کی طرزِ معاشرت میں پوری طرح سرایت کر چکا تھا۔ رہن سہن، کھان پان، لباس وغیرہ، سب چیزوں میں ہندوانہ معاشرت شامل ہو گئی تھی۔ ایک مقام پر عوام سے مخاطب ہو کر شاہ صاحب لکھتے ہیں :
’’پھر میں مسلمانوں کی عام جماعت کو خطاب کر کے کہتا ہوں کہ اے بنی آدم! تم نے اپنے اخلاق کھو دیے، تم پر تنگ دلی چھا گئی اور شیطان تمہارا محافظ ہو گیا۔ عورتیں مردوں پر حاوی ہو گئی ہیں اور مردوں نے عورتوں کو ذلیل بنا رکھا ہے، اور حلال تمہارے لیے بد مزہ بن گیا ہے۔ پھر تم نے ایسی رسمیں بنا رکھی ہیں جن سے تمہاری زندگی تنگ ہو رہی ہے، مثلاً شادیوں میں فضول خرچی، طلاق کو ممنوع بنا لینا، بیوہ عورتوں کو بٹھائے رکھنا۔ اس قسم کی رسموں میں اپنا مال اور زندگیاں خراب کر رہے ہو، اور ہدایاتِ صالحہ کو تم نے چھوڑ دیا ہے، حالانکہ بہتر یہ تھا کہ ان رسموں کو چھوڑ کر اس طریق پر چلتے جس میں سہولت تھی، نہ کہ تنگی۔ تم لوگ سخت بے تدبیر ہو گئے ہو۔ تم نے اپنی گزر اوقات کا انحصار سلاطین کے وظائف و مناصب پر رکھا ہے، اور جب تمہارا بار سنبھالنے کے لیے سلاطین کے خزانے کافی نہیں ہوتے تو وہ رعیت کو تنگ کرنے لگتے ہیں۔ ’’(تجدید احیائے دین:69)
درج بالا تینوں اقتباسات کو بغور دیکھنے سے صاف ہو جاتا ہے کہ اس وقت پورا معاشرہ، بشمول سلطنت، پسماندگی، جہالت، ناعاقبت اندیشی کے قعرِ مذلت میں پڑا ہوا تھا۔ ایسے دور میں ضرورت تھی کہ کوئی ایسا صاحبِ نظر، وسیع الفکر، اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل مجدد اٹھے، جو اسلام کو درپیش ان چیلنجوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو، اور وہ مجددِ وقت آنے والے مستقبل کو بھانپ کر اسلام اور مسلمانوں کے لیے وہ لائحہ عمل متعین کر دے، اور مسلمانوں کے مستقبل کو کتاب و سنت اور سلف کے صحیح طریق پر استوار کر کے ملتِ اسلامیہ کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگا دے۔
چنانچہ باری تعالیٰ نے بارہویں صدی میں اس بے نظیر اور عدیم المثال شخصیت کو پیدا فرمایا، جس نے آنے والے جدید دور کی بنیاد رکھتے ہوئے کتاب و سنت کی صحیح معرفت، الہامِ خداوندی، ایمانی بصیرت کی اعانت اور مجددانہ فراست سے، وہ روشنی پیدا کی جو تین صدیاں گزر جانے پر آج بھی مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
آئندہ سطور میں ہم شاہ صاحب کے مجددانہ کارناموں کو مختصراً سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
ہم حضرت شاہ ولی اللہ کے مجددانہ کارناموں کو مندرجہ ذیل عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں :
1۔ تحریکِ رجوع الی القرآن
2۔ تحریکِ حدیث
3۔ اصلاحِ عقائد
4۔ شریعت کے اسرار و حِکَم کی تشریح
5۔ سیاسی و سماجی اصلاح
تحریکِ رجوع الی القرآن:
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے مجددانہ کارناموں میں سب سے نمایاں اور انقلابی کام قرآنِ کریم کی تعلیمات کو ہندوستان میں عام کرنا تھا۔ شاہ صاحب نے اپنے دور اور ماحول کے بالکل برعکس کتابِ الٰہی کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ اس سلسلے میں شاہ صاحب کا سب سے انقلابی فیصلہ قرآنِ کریم کا غیر عربی زبان میں ترجمہ کرنا تھا۔ شاہ صاحب برصغیر کی تاریخ کے پہلے شخص ہیں جس نے قرآنِ کریم کا ترجمہ فارسی، جو کہ اس وقت کی علمی اور سرکاری زبان تھی، میں کیا۔ یہ اس ماحول اور اس دور میں ایک تجدیدی کام تھا۔ بہت سے علماء نے ان کی گمراہی اور ضلالت کے فتوے دیے، لیکن شاہ صاحب نے مردانہ وار حالات کا مقابلہ کیا اور اپنا کام جاری رکھا۔
شاہ صاحب کے دور میں قرآنِ کریم سے متعلق علماء اور عوام کے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ہم مولانا مسعود عالم ندوی صاحب کا ایک اقتباس پیش کرتے ہیں جس سے اس وقت کی صورتِ حال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ مولانا اس دور کی علمی اور تعلیمی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’آپ پوچھیں گے: اس بزم میں کتابِ ربانی کا کیا حال تھا؟ سچی بات تو یہ ہے کہ آج تک سننے میں نہیں آیا کہ یہ ان اہلِ مدرسہ کے ہاں کتابِ عزیز کی باریابی تھی، اور واقعی ان بے چاروں کو علومِ آلیہ سے اتنی فرصت کہاں ملتی تھی کہ وہ کلامِ الٰہی کی طرف توجہ کرتے۔ پورے درسِ نظامی میں اگر کوئی کتاب واقعی درس سے خارج تھی تو یہی کتابِ ربانی تھی، جسے قرآنِ کریم کہا جاتا ہے، جس پر ہم اور آپ ایمان رکھنے کا کا دعویٰ کرتے ہیں ۔‘‘
یہ علماء کی مجموعی حالت تھی قرآن اور حدیث کے متعلق۔
ایسے پُرآشوب اور جہالت زدہ ماحول میں شاہ صاحب نے قرآنِ کریم کی تعلیمات کو عام کیا۔ شاہ صاحب کا ترجمہ قرآن ایک انقلابی اور دور رس اثرات رکھنے والا قدم ثابت ہوا۔ اسی ترجمے کی بدولت پھر دوسری زبانوں ، جیسے اردو، انگریزی وغیرہ میں قرآنِ کریم کے ترجمے ہوئے اور قرآن فہمی کا ذوق برصغیر میں پروان چڑھا، اور یہیں سے برصغیر کی مذہبی اور علمی تاریخ میں قرآن فہمی اور خدمتِ قرآن کے نئے دور کا آغاز ہوا۔
مولانا عبد الماجد دریا آبادی، شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی خدمتِ قرآن سے متعلق لکھتے ہیں :
’’ہندوستان میں قرآن فہمی کا چرچا آج جو کچھ نظر آتا ہے، اور یہ اردو، انگریزی اور دوسری زبانوں میں جو بیسوں ترجمے شائع ہو چکے ہیں ، شائع ہو رہے ہیں ، یا آئندہ شائع ہوں گے، ان کے اجر کا جزوِ اعظم یقیناً حضرت شاہ صاحب کے حسنات میں لکھا جائے گا۔ یہ سارے چراغ اسی چراغ سے روشن ہوئے ہیں ۔ اگر اس کی ابتدا آپ اپنے مبارک ہاتھوں سے نہ کر جاتے تو نہ شاہ رفیع الدین کا اردو ترجمہ وجود میں آتا اور نہ شاہ عبدالقادر کا۔ اور متاخرین کا تو ذکر ہی کیا! جو شخص امت کی بے شمار نسلوں کے لیے اتنی بڑی رحمت کا دروازہ کھول گیا، اس کے اجرِ بے حساب کا حساب، اور مرذد بے نہایت (بے حساب کی مزدوری) کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟‘‘
آج کا کوئی مفسر اور مترجم، قرآن فہمی کے معاملے میں ، شاہ صاحب سے استفادے سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ بلا شبہ یہ شاہ صاحب کا پہلا تجدیدی کارنامہ ہے۔
تحریکِ حدیث:
شاہ صاحب کا دوسرا بڑا کارنامہ حدیثِ رسول ﷺ کی نشر و اشاعت اور ترقی و ترویج ہے۔ آپ نے حدیث کا ذوق پیدا کیا، افراد تیار کیے، اور کتب تصنیف کیں۔ فنِ حدیث میں آپ نے المسوّی اور المصفّی دو مستقل کتابیں تصنیف کیں ۔ حدیث کے باب میں بھی شاہ صاحب برصغیر میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے ایک نئے طرز اور ڈھنگ کی بنا ڈالی۔ آج برصغیر کے تعلیمی اداروں میں حدیث آپ ہی کے نہج پر پڑھائی جاتی ہے اور حدیث کا درس بھی آپ ہی کے نہج پر ہوتا ہے۔
اصلاحِ عقائد:
شاہ صاحب نے اپنے گرد و پیش کا گہرا مشاہدہ کیا اور عمیق تدبر و تفکر کے بعد اپنے ماحول کی اصلاح کے لیے اقدامات کیے۔ آج جو کچھ بھی قرآن و سنت کی روشنی میں اعمال کی صالحیت اور سلامتی نظر آتی ہے، وہ شاہ صاحب اور ان کے تیار کردہ افراد ہی کی مساعیِ جلیلہ کا ثمرہ ہے۔
الغرض، شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے اپنے زمانے میں اسلام کی ہمہ جہت تجدیدی خدمات انجام دیں ۔
میں اپنے اس مقالے کے اختتام پر مولانا مودودی علیہ الرحمہ کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں جس سے شاہ صاحب کے مقام و مرتبے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
مولانا مودودی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
’’شاہ صاحب تاریخِ انسانی کے ان لیڈروں میں سے ہیں جو خیالات کے الجھے ہوئے جنگل کو صاف کر کے فکر و نظر کی ایک صاف سیدھی شاہ راہ بناتے ہیں ، اور ذہن کی دنیا میں حالاتِ موجودہ کے خلاف ایسی بے چینی اور تعمیرِ نو کا ایسا دل آویز نقشہ پیدا کرتے چلے جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے ناگزیر طور پر تخریبِ فاسد، تعمیرِ صالح کے لیے ایک تحریک اٹھتی ہے۔ شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لیڈر اپنے خیالات کے مطابق خود کوئی تحریک اٹھاتے ہوں اور بگڑی ہوئی دنیا کو توڑ پھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے نئی دنیا بنانے کے لیے میدان میں نکل آتے ہوں ۔ تاریخ میں اس کی مثالیں بہت ہی کم ملتی ہیں ۔ اس طرز کے لیڈروں کا اصلی کارنامہ یہی ہوتا ہے کہ وہ تنقید سے صدہا برس کی جمی ہوئی غلط فہمیوں کا غبار چھانٹ دیتے ہیں ، اذہان میں نئی روشنی پیدا کر دیتے ہیں ، زندگی کے بگڑے ہوئے مگر پختہ بنے ہوئے سانچے کو عالمِ ذہنی میں توڑتے ہیں ، اور اس کے ملبے سے اصلی پائدار حقیقتوں کو نکال کر دنیا کے سامنے رکھ دیتے ہیں ۔‘‘ (تجدید احیائے دین، ص: 61، 62)
تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شاہ صاحب اپنے حصے کا کام بخوبی کر گئے ہیں اور ان کی پیدا کی ہوئی روشنی سے موجودہ حالات میں اچھی خاصی رہنمائی اور طریقہ عمل مل سکتا ہے۔ موجودہ دور کے مفکرین، مصلحین اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ شاہ صاحب نے جو چراغ جلایا تھا، اسے مزید روشن کریں اور امت کے سامنے ایک صاف، سیدھا، سلجھا ہوا لائحہ عمل رکھیں، جس سے ہم اس پسماندگی، جہالت، افتراق و انتشار اور الحادِ جدید جیسے مسائل سے نبرد آزما ہو کر شاہراہِ ترقی پر گامزن ہو سکیں۔
موجودہ حالات میں حضرت شاہ صاحب کے افکار کی معنویت:
حضرت شاہ ولی اللہ نے تاریخ کے نازک ترین وقت میں اپنی تجدیدی خدمات انجام دیں ۔ حضرت نے مسلمانوں کو تین صدیاں قبل جو راہِ عمل متعین کی تھی، وہ آج بھی ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے بہترین راہِ عمل کا درجہ رکھتی ہے۔ ذیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ شاہ صاحب کے بنیادی افکار سے عصرِ حاضر میں کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
1- حضرت شاہ صاحب نے اپنے دور کے مسلمانوں کی قرآن سے بے توجہی کو گہرائی کے ساتھ محسوس کیا اور انہیں قرآنِ کریم سے جوڑنے، اس کو سمجھنے اور اپنی زندگی کی رہنما کتاب بنانے کی سعی جمیل فرمائی۔ شاہ صاحب کے بعد ان کے عالی مقام صاحبزادوں نے بھی قرآنِ کریم کی خدمات جاری رکھیں اور اس وقت کی عام زبانوں میں ترجمے کیے، عام لوگوں کو قرآنِ کریم سمجھ کر پڑھنے کی دعوت دی۔
آج پھر مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ وہ قرآنِ کریم سے اپنا تعلق مضبوط کریں ۔ عصرِ حاضر میں علمی ذرائع کی ترقی اور وسائل کی عام رسائی کے باوجود امت کا بہت بڑا طبقہ قرآنِ کریم سے دور ہے۔ وہ نہ قرآن کو سمجھتا ہے اور نہ پڑھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآنِ کریم کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اس کی رہنمائی سے ہدایت پائیں ۔ قرآنِ کریم سے تعلق حضرت شاہ صاحب کی تجدیدی مساعی کی اولین بنیاد تھی۔
دوسری چیز جو حضرت شاہ صاحب کے افکار کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے، وہ مسلمانوں کے مختلف طبقات، مسالک و مشارب کا آپس میں اتحاد و اتفاق ہے۔ شاہ صاحب انتہائی معتدل فقہی مسلک رکھتے تھے اور امت کے مختلف طبقات کو بھی دعوت پیش کرتے تھے کہ وہ اپنے اپنے مسلکی، جماعتی اور گروہی تعصبات سے اوپر اٹھ کر خالصتاً قرآن و سنت پر جمع ہوں اور امتِ واحدہ کی حیثیت سے کام انجام دیں ۔
آج بھی مسلمانوں میں گہری مسلکی و مشربی خلیج موجود ہے، جو ملتِ اسلامیہ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، اور امت کے افراد کی صلاحیتیں بہت ادنیٰ قسم کے کاموں میں صرف ہو رہی ہیں ۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ شاہ صاحب کی شخصیت برصغیر میں وہ واحد ہستی ہے جو یہاں موجود تمام مکاتبِ فکر اور مسالک کے لیے مرجع اور ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہٰذا آج امت کے مختلف طبقات میں اتحادِ امت کا کام شاہ صاحب کے افکار کی روشنی میں بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
تجدیدِ علومِ شرعیہ:
شاہ صاحب کی تجدیدی کوششوں کا اہم ترین جز علومِ شرعیہ کی تجدید اور شریعتِ اسلامیہ کی ایسی تشریح و تعبیر ہے جو اسلام کو مکمل اور منظم نظامِ حیات کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ آپ نے حجۃ اللہ البالغہ اور البدور البازغہ میں اسلام، شریعت، عقائد، ایمانیات سے لے کر سیاسی اور معاشی مسائل تک کلام کیا ہے، اور جدید زمانے کے لحاظ سے ان کی بہترین انداز میں تشریح کی ہے۔
عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے سامنے علمی سطح پر یہ چیلنج ہے کہ وہ اسلام اور جدید زمانے کے مسائل کا حل، زمانے کے تقاضوں کے مطابق، دنیا کے سامنے پیش کریں ۔ شاہ صاحب کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔