ہندوستان میں ایک بار پھر ایس س، ایس ٹی اور او بی سیس کے ریزرویشن کو ختم کرنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ریزرویشن "میرٹ" کے خلاف ہے، ملک کو اب ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ بظاہر یہ دلیل بڑی خوب صورت معلوم ہوتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہندوستانی معاشرہ ذات پات کی خباثتوں سے آزاد ہوچکا ہے اور اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرری صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے، تو پھر ملک کے طاقتور ترین اداروں میں مختلف سماجی طبقات کی نمائندگی کتنی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ریزرویشن بنیادی طور پر صرف سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ صدیوں تک اقتدار، تعلیم، وسائل اور فیصلہ سازی سے محروم طبقات کو قومی اداروں میں حصہ دینے کا آئینی انتظام ہے، اس لیے ریزرویشن ختم کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین اداروں میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کی موجودگی ان کی آبادی یا کم از کم موجودہ ریزرویشن کے تناسب کے مطابق ہے یا نہیں۔
عدلیہ کی صورتِ حال
ہندوستان کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس ملک کے سب سے اہم آئینی اداروں میں شمار ہوتے ہیں، مگر یہاں ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے لیے ریزرویشن موجود نہیں۔ حکومت خود پارلیمنٹ میں بتا چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 217 اور 224 کے تحت ہائی کورٹ ججوں کی تقرری میں کسی ذات یا طبقے کے لیے ریزرویشن نہیں ہے۔ تاہم 2018 کے بعد ججوں کے سماجی پس منظر کی معلومات حاصل کی جانے لگی ہیں۔ 22 جولائی 2024 تک 661 ہائی کورٹ جج مقرر کیے گئے، جن میں صرف بارہ ایس ٹی، ایکیس ایس سی اور اٹھہتر او بی سی تھے، جبکہ چار سو ننانوے جنرل کیٹیگری سے تعلق رکھتے تھے، یعنی فیصد کے اعتبار سے:
·         ایس سی تقریباً 3.2 فیصد
·         ایس ٹی تقریباً 1.8 فیصد
·         او بی سی تقریباً 11.8 فیصد
·         جنرل تقریباً 75.5 فیصد
یہ اعداد و شمار خود ایک بڑا سوال کھڑا کرتے ہیں کہ مرکزی سرکاری ملازمتوں میں ایس سی کے لیے 15 فیصد، ایس ٹی کے لیے 7.5 فیصد اور او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کا اصول موجود ہے، لیکن ہائی کورٹ ججوں کی تقرری میں ان طبقات کی مجموعی موجودگی اس معیار کے آس پاس بھی نہیں پہنچتی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ صورت حال محض کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کی پیدا کردہ نہیں ہے۔ ججوں کی تقرری کا موجودہ نظام کالجیم پر مبنی ہے اور اس میں طویل عرصے سے سوشل ڈائیورسٹی کا مسئلہ موجود ہے۔
یہاں "میرٹ" کی بحث بھی سنجیدگی سے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر میرٹ کا مطلب یہ ہے کہ امیدوار کو صرف امتحان یا تعلیمی نمبر کی بنیاد پر منتخب کیا جائے تو پھر یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرری میں ایسا کوئی کھلا مسابقتی امتحان کیوں نہیں ہوتا؟ جب تقرری کا عمل سفارش، پیشہ ورانہ نیٹ ورک، سینئر وکلا کی شناخت اور کالجیم کی رائے جیسے عوامل سے گزرتا ہے تو پھر سماجی پس منظر کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا خود ایک غیر مساوی عمل پیدا کرتا ہے۔
یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری
ملک کی 45 مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اعلیٰ تعلیم کے سب سے بڑے انتظامی عہدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 2022 میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان 45 مرکزی یونیورسٹیوں میں صرف ایک وائس چانسلر ایس سی اور ایک ایس ٹی طبقے سے تھا، جبکہ سات او بی سی طبقے سے تعلق رکھتے تھے، یعنی:
·         ایس سی 1/45 = 2.2 فیصد
·         ایس ٹی 1/45 = 2.2 فیصد
·         او بی سی 7/45 = 15.6 فیصد
اگر ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کو ملا بھی دیا جائے تو ان کی مجموعی نمائندگی تقریباً بیس فیصد ہی بنتی ہے۔ یہاں بھی ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک کی یونیورسٹیوں میں لاکھوں طلبا ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات سے آتے ہیں، اگر ان طبقات کے لاکھوں افراد اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اگر ان کے لیے ریزرویشن کے ذریعے پروفیسر اور دیگر عہدے دستیاب ہیں تو پھر یونیورسٹی کا سب سے اعلیٰ انتظامی منصب ان طبقات تک اتنی کم تعداد میں کیوں پہنچتا ہے؟ اسے محض اتفاق کہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس میں کہیں نہ کہیں نام نہاد اعلیٰ ذاتوں کی سازش کی بو آتی ہے اور عمداً کیا گیا اقدام نظر آتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی یونیورسٹیوں میں ٹیچنگ اسٹاف کے اعداد و شمار اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 2023 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پینتالیس مرکزی یونیورسٹیوں میں 17,425 منظور شدہ ٹیچنگ پوسٹس میں ایس سی کے لیے 2,282 ایس ٹی کے لیے 1,141 اور او بی سی کے لیے 3,606 پوسٹ تھے۔ یعنی نچلے اور درمیانی سطح کے پوسٹ پر نمائندگی ممکن ہے، لیکن جیسے جیسے اختیار اور فیصلہ سازی کی سطح اوپر جاتی ہے، نمائندگی سکڑتی جاتی ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔
اس سے ایک بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ جہاں باقاعدہ ادارہ جاتی بھرتی، کیڈر اور ریزرویشن کے اصول کام کرتے ہیں وہاں پسماندہ طبقات کی نمائندگی پیدا ہوسکتی ہے۔
اصل سوال نجی کارپوریٹ سیکٹر کا ہے
سرکاری ملازمتوں میں تو کم از کم ریزرویشن کا ایک قانونی ڈھانچہ موجود ہے، لیکن نجی شعبے میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کی اعلیٰ انتظامی سطحوں پر نمائندگی کا مسئلہ کہیں زیادہ سنگین ہے۔
آئی آئی ایم بنگلور اور دیگر تحقیقی اداروں سے وابستہ ایک اہم تحقیقی مطالعے میں ملک کی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ذات پات کی بنیاد پر نمائندگی کا جائزہ لیا گیا۔ 1999 سے 2015 تک کارپوریٹ بورڈز کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ ہندوستانی کارپوریٹ بورڈز میں ذات کے اعتبار سے حیران کن حد تک یکسانیت موجود ہے۔ تحقیق کے مطابق بورڈز میں سماجی تنوع کا شدید فقدان ہے۔
ایک اور تحقیق میں 2012 کے تقریباً چار ہزار پانچ کارپوریٹ اداروں کے بورڈز اور 34,772 ڈائریکٹروں کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ ملک کی کارپوریٹ قیادت بڑی حد تک چند مخصوص ذاتوں کے گرد مرکوز تھی۔ تحقیق کے مطابق بورڈز میں برہمن اور ویشیا ذاتوں کی بالادستی تھی اور ذات کے اعتبار سے مخصوص گروہوں کی گرفت مضبوط تھی۔
ایک اور تحقیقی جائزے کے مطابق ہندوستان کی لسٹڈ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا تقریباً نوے فیصد حصہ دو ذاتوں، یعنی برہمن اور ویشیا کے پاس تھا، حالانکہ ان دونوں ذاتوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ پانچ فیصد سے بھی کم لگایا جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک بنیادی ساختی حقیقت کو سامنے لاتے ہیں اور وہ یہ کہ نجی کارپوریٹ سیکٹر میں سماجی تنوع کا فقدان محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک تحقیقی طور پر دستاویزی مسئلہ ہے۔
اسی لیے ہمیں ریزرویشن کے خلاف چلائی جانے والی مہم کو بھی پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی سے کہا جاتا ہے کہ وہ صرف ’’میرٹ‘‘ کی بنیاد پر آگے بڑھیں، تو پھر یہی اصول یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں، ہائی کورٹ کے ججوں، کارپوریٹ بورڈوں، اعلیٰ انتظامی عہدوں اور دیگر طاقتور اداروں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
اگر ریزرویشن کے ذریعے چند ہزار یا چند لاکھ ملازمتیں حاصل کرنے والے پسماندہ طبقات کو ’’میرٹ کے خلاف‘‘ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ایسے اداروں میں، جہاں کوئی ریزرویشن نہیں ہے، اعلیٰ ذاتوں کی غیر معمولی بالادستی قائم ہے، تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ یہ کس ’’میرٹ‘‘ کی بنیاد پر ہے؟ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ معاملہ صرف میرٹ کا نہیں، بلکہ موجودہ سماجی طاقت کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا بھی ہے۔
ہندوستان میں ریزرویشن کی بحث کو صرف اس سوال تک محدود کر دینا کہ ’’کتنی نشستیں محفوظ ہیں اور کتنی اوپن ہیں؟‘‘ دراصل اصل مسئلے سے فرار ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے تمام طبقات کو اقتدار کے ہر درجے میں برابر مواقع اور مناسب نمائندگی حاصل ہے یا نہیں؟
اگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں میں ایس سی کی نمائندگی صرف تین فیصد، ایس ٹی کی صرف دو فیصد اور او بی سی کی صرف بارہ فیصد ہے تو اس حقیقت کو نظر انداز کرکے صرف ریزرویشن کو ’’ذات پرستی‘‘ قرار دینا حقیقت سے فرار ہے۔ اگر پینتالیس مرکزی یونیورسٹیوں میں صرف ایک ایس سی اور ایک ایس ٹی وائس چانسلر ہے اور اگر کارپوریٹ بورڈز میں نام نہاد اعلیٰ ذاتوں کا ہی بول بالا ہے تو ایسے حالات میں ریزرویشن کو ’’ذات پرستی‘‘ کہنا تاریخ کے ساتھ بھی ناانصافی ہے اور موجودہ ہندوستان کی سماجی حقیقت سے بھی آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر کا بنیادی تصور یہی تھا کہ سیاسی جمہوریت اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک سماجی جمہوریت قائم نہ ہو۔ محض ووٹ کا برابر ہونا کافی نہیں؛ تعلیم، روزگار، اقتدار اور فیصلہ سازی کے مواقع بھی برابر ہونے چاہئیں۔
لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ’’ریزرویشن کب ختم ہوگا؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’’جب تک ملک کی طاقتور ترین کرسیوں پر سماجی نمائندگی غیر متوازن ہے، ریزرویشن ختم کرنے کی جلدی کیوں ہے؟‘‘
اور اگر واقعی ’’میرٹ‘‘ ہی معیار ہے تو میرٹ کا پیمانہ ہر جگہ یکساں ہونا چاہیے، خواہ امیدوار ایس سی ہو، ایس ٹی ہو، او بی سی ہو یا نام نہاد اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتا ہو۔ ورنہ ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ دراصل میرٹ کا مطالبہ نہیں بلکہ موجودہ مراعات یافتہ سماجی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا مطالبہ بن کر رہ جائے گا۔