راحت کے خلاف اپیل کے بعد زی انٹرٹینمنٹ کے شیئرز میں 14 فیصد کی گراوٹ
نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) نے زی گروپ کے فاؤنڈر سبھاش چندرا کے 22 ہزار کروڑ روپے کے قرض کو 6.5 کروڑ روپے میں نمٹانے کے منصوبے کو منظوری دی ہے، جس کی وجہ سے قرض دینے والے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اپنے 99.97 فیصد بقایے کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ چندرا کو این سی ایل ٹی سے ملی اس راحت پر ہر جگہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ اس پر بھگوڑے کاروباری وجے مالیا نے دوہرے رویے کا الزام لگایا ہے۔ اس نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارتی انصاف کا اصلی مذاق ہے، کیونکہ مالیا پر 6,203 کروڑ روپے کا عدالتی قرض تھا، مگر حکومت اور بینکوں نے اس سے 14,100 کروڑ روپے وصول کر لیے ہیں۔ لوگ اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بی جے پی، سنگھ اور سیٹھ گینگ ملک اور عوام کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ ملک لگاتار قرض دار، دیوالیہ اور عوام غریب سے کنگال ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے دو گجراتی لوٹ رہے تھے، اب اس میں ایک ہریانوی بھی آ گیا ہے۔
اس ضمن میں انسالوینسی ٹریبونل این سی ایل ٹی نے سبھاش چندرا کے ری پیمنٹ پلان کو انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ کے آرٹیکل 114 کے تحت منظوری دی ہے۔ سبھاش چندرا کو 22,006.57 کروڑ روپے کے کل قرض کے بدلے محض 6.5 کروڑ روپے کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ اس کے بعد اس کے بقایے کی کل 22 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم قانوناً ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ اس قرض کے زیادہ تر معاملات سبھاش چندرا کی پرسنل گارنٹی سے منسلک ہیں۔ جب کسی کمپنی یا فرد کو بینک قرض دیتا ہے تو بسا اوقات پروموٹر اپنی ذاتی گارنٹی دیتا ہے کہ اگر کمپنی قرض کی ادائیگی نہیں کر پائی تو وہ اسے ادا کرے گا۔ ایس ایل گروپ کی کمپنیوں کے لیے لیے گئے پرسنل لون کے لیے سبھاش چندرا نے پرسنل گارنٹی دی تھی۔ کمپنیوں کے ڈیفالٹ ہونے پر کلیم سبھاش چندرا پر آ گیا۔ سبھاش چندرا نے ایس ایل گروپ کی دوسری کمپنیوں کے قرض کے لیے بھی ایچ ڈی ایف سی، ایکسس، کینرا اور آر بی ایل جیسے دیگر بینکوں کو پرسنل گارنٹی دے رکھی تھی۔ ان تمام بینکوں کے پرانے قرضوں، بھاری بھرکم سود اور پنالٹی کو ملا کر کل دعویٰ 22,006.57 کروڑ روپے کا ہو گیا۔
اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے ایل آئی سی ہاؤسنگ فائنانس کی رہنمائی میں چند قرض دہندگان نے اس ری پیمنٹ پلان پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ ایل آئی سی ہاؤسنگ نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں 1,322.39 کروڑ روپے کے بدلے محض 38.09 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔ این سی ایل ٹی نے پایا کہ مخالفت کرنے والے فریق کے پاس 20 فیصد سے بھی کم ووٹنگ شیئر تھے۔ ری پیمنٹ پلان کو 80.81 فیصد ووٹنگ شیئر رکھنے والے قرض دہندگان کی منظوری مل چکی تھی۔ اس کے باوجود 99.97 فیصد کا ہیئر کٹ صرف سبھاش چندرا کی ذاتی گارنٹی کے کلیم پر لاگو ہوتا ہے۔ جن کمپنیوں نے قرض لیا تھا وہ اب بھی قرض دار بنی ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت کے ایما پر 16 کروڑ روپے میں سے بینکوں کو تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کارپوریٹس سے واپس ملے۔ حکومت مختلف حیلے بہانوں سے کارپوریٹس کی قرض معافی کو قانونی شکل اختیار کرکے اسے پیڈ لون میں شامل کر کے معاف کروا دیتی ہے۔ چندرا گروپ کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے۔ اس مسئلے پر مخالفت کرنے والے قرض دہندگان نے گزشتہ اتوار کو الزام لگایا کہ میڈیا کاروباری سبھاش چندرا کے خاندان سے جڑے پانچ اداروں کے پاس قرض دہندگان کی کمیٹی میں 61.78 فیصد ووٹ کا حق تھا اور ان اداروں نے ان کے ذاتی دیوالیہ مفاہمت منصوبے کو منظوری دلانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ چندرا کے منصوبے میں 22,006.59 کروڑ روپے کے منظور شدہ دعوؤں کے مقابلے محض 6.5 کروڑ روپے کی ادائیگی کا منصوبہ ہے۔ قرض دہندگان نے این سی ایل ٹی میں دلیل دی ہے کہ یہ پانچ ادارے چندرا کے معاون یا متعلقہ شراکت دار ہیں اور اس لیے انہیں ووٹنگ کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ این سی ایل ٹی کے 144 صفحات پر مشتمل آرڈر کے مطابق، ان پانچ اداروں کے ووٹ کو شامل کیے جانے کے بعد 50.814 فیصد ووٹوں سے منصوبے کو منظوری ملی ہے۔ یہ ادارے وینا انویسٹمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، ڈائریکٹ میڈیا ڈسٹری بیوشن وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ، ورلڈ کارپٹ ایڈوائزرز ایل ایل پی، لو کیپٹل ایڈوائزرز ایل ایل پی اور کارپ ال کیپٹل ایڈوائزر ایل ایل پی ہیں۔ اس کے برخلاف دیگر قرض دہندگان نے 80.81 فیصد ووٹوں کی اکثریت سے قرض ادائیگی کے منصوبے کو منظوری دی ہے۔ کنارا بینک نے معاملے میں فارنسک آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا تھا، مگر اس کی اقلیتی ووٹنگ حصہ داری کی وجہ سے یہ مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل این سی ایل ٹی کی دو رکنی بنچ میں اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آئی تھیں۔ اس کے بعد این سی ایل ٹی چیئرمین نے نیلیش شرما کو بحال کرکے ری پیمنٹ پلان کو منظوری دی ہے۔ چندرا خود بی جے پی کی طرف سے راجیہ سبھا کے ممبر بنائے گئے تھے۔ ’’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘‘ جیسے الفاظ، وزیر اعظم سے دوستی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
اب زی گروپ کے فاؤنڈر سبھاش چندرا کا ہر ہتھکنڈہ جب طشت از بام ہو گیا تو انہوں نے 22 ہزار کروڑ روپے کے قرض کے معاملے میں سوشل میڈیا پر لائیو آ کر صفائی پیش کی۔ اس دوران انہوں نے تین امیجز اور ایک ڈاکومنٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاملے کو لے کر غلط فہمی اور غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ حالانکہ چندرا نے اپنے ’’پرم متر‘‘ کی طرح اس لائیو کے دوران یک طرفہ گفتگو کرتے ہوئے کمنٹ سیکشن کو لاک کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے محض یک طرفہ بات ہی سامنے آ پائی تھی۔ چندرا کے ہیئر کٹ والے فیصلے کو مالیا نے بھارتی انصاف کا اصلی مذاق قرار دیا تھا۔ دوسری طرف، ایس ایل گروپ کے چیئرمین سبھاش چندرا کی طرف سے میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کے الزامات کو ریلائنس نے بیان جاری کرکے غلط قرار دیا۔ چندرا نے الزام لگایا تھا کہ ریلائنس کی طرف سے ان پر غلط الزام عائد کرتے ہوئے فیک خبریں پلانٹ کی جا رہی ہیں۔ اپنے بیان میں سبھاش چندرا نے مکیش امبانی کا نام لے کر بتایا کہ انہوں نے ان کے والد سے بہت ساری چیزیں سیکھی ہیں، کاش مکیش امبانی بھی یہ سیکھ لیتے۔ اس کے جواب میں ریلائنس کے ترجمان نے کہا کہ وہ الزامات سے بد دل ہیں۔ ان کے میڈیا بزنس کا استعمال کسی پر حملہ آور ہونے کے لیے نہ کبھی ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ وہ سبھاش چندرا کی عزت کرتے ہیں۔ اب چندرا جیسے جیسے اپنی صفائی پیش کر رہے ہیں، ویسے ویسے پھنسے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں گزشتہ تین دنوں سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ لوگ ’’پیسے واپس کرو‘‘ کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو غلط جانکاری قرار دیا۔ اصلاً انہیں جین زی کا بھی ڈر ستانے لگا ہے۔ کہیں ملک میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کے معاملات کو جین زی اپنے ہاتھ میں نہ لے لے۔
این سی ایل ٹی کی پانچ ممبران پر مشتمل بنچ نے زی گروپ کے فاؤنڈر سبھاش چندرا کے ری پیمنٹ منصوبے پر روک لگا دی ہے۔ 25 اگست کے آرڈر میں ان کے 22,000 کروڑ روپے سے زائد کے بقایا قرض کے بدلے صرف 6.25 کروڑ روپے کی ادائیگی کے منصوبے کو منظوری دی گئی تھی۔ کورٹ نے چندرا پر براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اپنے کسی بھی اثاثے کو بیچنے یا ٹرانسفر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ این سی ایل ٹی کی تاریخ میں پہلی بار ہے جب پانچ رکنی بنچ بنائی گئی۔ بنچ کی صدارت جسٹس انوپیندر سنگھ گریوال نے کی۔ بنچ کے بقیہ ممبران میں بچو وینکٹ بالا رام داس، مہندر کھنڈیلوال، اتل چترویدی اور رویندر چترویدی تھے۔
ٹریبونل نے واضح طور پر کہا کہ 25 اگست کو آنے والا فیصلہ ججوں کی واضح اکثریت سے نہیں بن پایا تھا۔ دوسری طرف، یہ بات کہ سبھاش چندرا پر جو 22,006 کروڑ روپے کا قرض بقایا ہے اس کے عوض بہت قلیل رقم دینے کی بات کی گئی اور جس کی بینک مسلسل مخالفت کر رہے تھے، سبھاش چندرا کے مطابق کئی لوگوں کو اس کا پورا پیسہ پہلے ہی لوٹایا جا چکا ہے، پھر بھی انہوں نے این سی ایل ٹی کے سامنے اپنے دعوے پیش کر دیے۔ چندرا نے کہا ’’میں نے کچھ عرض گزاروں کو پرسنل گارنٹی دی تھی‘‘ گزشتہ ہفتے قرض دہندگان بینکوں نے این سی ایل اے ٹی میں درخواست کی اور محض 6.5 کروڑ روپے میں ہونے والے فیصلے کو چیلنج کیا۔ یہ نیشنل کمپنی لا اپیلیٹ ٹریبونل (این سی ایل اے ٹی) ملک کی ایک اہم سرکاری عدالت ہے۔ یہاں ایل آئی سی ہاؤسنگ فائنانس، کنارا بینک اور یونین بینک کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے فوری سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22,000 کروڑ روپے کے قرض پر اتنا کم سیٹلمنٹ منظور کرنے سے انسالوینسی قانون کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ جیسے ہی سبھاش چندرا کے ادائیگی منصوبے کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا، چندرا کے 99.97 فیصد لون ہیئر کٹ کے معاملے کی وجہ سے آج زی انٹرٹینمنٹ کے شیئرز میں 14 فیصد کی تنزلی ہوئی اور وہ 86.90 روپے فی شیئر پر آ گئے۔
سبھاش چندرا کے 22 ہزار کروڑ کے بدلے 6.5 کروڑ کی راحت پر روک

99.97 فیصد لون ہیئر کٹ پر بینکوں کا اعتراض، اثاثوں کی فروخت و منتقلی پر بھی پابندی

