ایران کلچر ہاؤس میں کانفرنس۔ علماء اور مذہبی و سماجی شخصیات کی شرکت
ایران کلچر ہاؤس واقع نئی دہلی میں ’’شہید آیت اللہ خامنہ ای کے افکار کی روشنی میں اسلامی اتحاد‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما، دانش وروں اور مذہبی و سماجی شخصیات نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی تفہیم کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ مقررین نے قرآن مجید اور سیرتِ نبوی کی روشنی میں مسلمانوں کو تفرقے اور باہمی نزاع سے بچنے، مشترکات کو بنیاد بنانے اور اسلام و امتِ مسلمہ کو درپیش بڑے مسائل کے مقابلے میں متحدہ موقف اختیار کرنے پر زور دیا۔ کانفرنس کا اہتمام ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔ ایران میں ربیع الاول کی 12 تا 17 تاریخ تک منائے جانے والے اس ہفتے کا مقصد نبی اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے شیعہ اور سنی مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور اتحادِ امت کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔ مقررین نے کہا کہ آج جب عالمِ اسلام کو جنگ، جارحیت، سیاسی انتشار، فرقہ وارانہ کشیدگی اور بیرونی مداخلت جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مسلمانوں کے مشترکہ عقائد، اقدار اور مفادات کو بنیاد بنا کر اتحاد کی کوششیں تیز کرنا ناگزیر ہے۔ متعدد مقررین نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے افکار اور اسلامی اتحاد کے لیے ان کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان قربت، مکالمے اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتِ حال میں اتحادِ امت کی دعوت مزید اہم ہوگئی ہے۔ مقررین نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور امریکہ و بعض یورپی طاقتوں کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو درپیش بڑے مسائل کا مقابلہ منتشر قوتوں کے بجائے باہمی تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
اس موقع پر مکہ مکرمہ میں حال ہی میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے حکمتِ عملی اور دفاعی معاہدے کو بھی خطے میں بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کی ایک مثال قرار دیا گیا۔ مقررین کے مطابق مسلم ممالک کے درمیان تعاون کا فروغ اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ باہمی اتحاد کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ مصر، کویت، بنگلہ دیش اور قطر سمیت دیگر ممالک کی اس معاہدے سے وابستگی یا حمایت میں دلچسپی کو بھی مسلم ممالک کے درمیان وسیع تر تعاون کی جانب ایک رجحان کے طور پر پیش کیا گیا۔
ایران کے ثقافتی مشیر ڈاکٹر فریدالدین فریداسر نے نبی اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور ہفتہ وحدتِ اسلامی کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے مشترکہ دینی اور تہذیبی ورثے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات مسلمانوں کو اتحاد، اخوت اور باہمی تعاون کا مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کے تصورِ اتحاد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی اتحاد کا مطلب مختلف مکاتبِ فکر کے اعتقادی اور فقہی اختلافات کو ختم کرنا نہیں، بلکہ ان اختلافات کے باوجود پرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور مشترکہ مسائل پر متحدہ موقف اختیار کرنا ہے۔ مسلمانوں کو اسلام اور اسلامی شریعت سے متعلق بڑے مسائل کے وقت ایک مضبوط محاذ کی صورت میں کھڑا ہونا چاہیے اور ظلم و جبر کے خلاف مشترکہ آواز بلند کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر فریداسر نے اسلامی اتحاد کے خلاف داخلی اور خارجی عوامل کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ داخلی سطح پر جہالت، تعصب اور فرقہ واریت اتحاد کو نقصان پہنچاتی ہے، جب کہ خارجی سطح پر دنیا کی متکبر اور ظالم طاقتیں مسلمانوں کو تقسیم اور کمزور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات نے ان عوامل کو پہلے سے زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے بھارت میں سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے قرآن مجید اور اسوہ رسول کو اتحادِ امت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ پوری امتِ مسلمہ کے لیے مشترکہ مرکز اور رہنما ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے مشترکہ مذہبی و تہذیبی وسائل کو امت کی قوت میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی جوہری طاقتوں کے مقابل ایرانی عوام کی مزاحمت کو قومی اتحاد و یکجہتی کا نتیجہ قرار دیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اسلامیات کے ڈاکٹر محمد علی نے سیرتِ نبوی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات اسلامی معاشرے میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کی بنیادی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے امام خامنہ ای کے فکری منہج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمِ اسلام کو درپیش تفرقے اور چیلنجز کامقابلہ کرنے کے لیے تعلیماتِ نبوی سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
دہلی کے امامیہ ہال کے امامِ جمعہ مولانا جنان اصغر مولائی نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ سے محبت اور قرآنِ کریم سے وابستگی مسلمانوں کے درمیان سب سے مضبوط مشترکہ رشتوں میں شامل ہیں۔ ان مشترکہ بنیادوں کو باہمی تعلقات اور تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
مولانا سید صادق حسینی، نائب سربراہ دفترِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی نے شیعہ، سنی، اہلِ حدیث، دیوبندی، بریلوی اور صوفی روایات سے وابستہ مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اعتقادی و فقہی اختلافات کے باوجود قرآن و سنت کی مشترکہ تعلیمات کی بنیاد پر متحد ہوں۔ انہوں نے مکالمے، باہمی تفہیم، مشترکہ قدروں کے احترام اور ان امور میں تعاون کو ضروری قرار دیا جن پر مسلمان متفق ہیں۔
مولانا کلبِ رشید رضوی نے امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسلمانوں کے مشترکہ مذہبی و اعتقادی اصولوں کو اجاگر کیا۔ مفتی نادر قاسمی، سربراہ شعبہ فقہ، اسلامی فقہ اکیڈمی، نئی دہلی نے کہا کہ علما، دانشوروں اور مذہبی و ثقافتی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکالمے اور تعاون کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں اور امت کے مشترکہ مفادات کو ترجیح دیں۔
دہلی کی کشمیری گیٹ شیعہ جامع مسجد کے امامِ جمعہ مولانا سید محسن تقوی نے اتحادِ اسلامی کے محض نظری مباحث سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات، مشترکہ سرگرمیوں اور مسلمانوں کے درمیان تعمیری تعلقات قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب کے ادبی حصے میں معروف سنی شاعر ماجد دیوبندی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
کانفرنس میں شیعہ و سنی علما، مذہبی رہنماؤں، یونیورسٹی اساتذہ، دانش وروں، ثقافتی و سماجی شخصیات اور اتحادِ اسلامی کے حامیوں نے شرکت کی۔ مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرنے والی اس نشست نے اس امر کو نمایاں کیا کہ اتحاد کا مطلب اختلافات سے انکار نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ مقاصد کے لیے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں قرآن و سنت کی مشترکہ بنیادوں پر مسلمانوں کے درمیان باہمی احترام، مکالمے اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہی اتحادِ امت کی ایک مؤثر راہ ہوسکتی ہے۔
عالمی چیلنجز کا مقابلہ مسلمانوں کے مضبوط اتحاد کے ذریعے ہی ممکن

تفرقہ سے بچ کر مشترکات کو ملی اتحاد کی بنیاد بنانے پر زور

