کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہندوستان کے دستور، مذہبی آزادی اور مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے ’’تحریک تحفظِ دستور و شریعت‘‘ کے نام سے ملک گیر عوامی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس ضمن میں 30؍ اگست کو پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس سے امیر جماعتِ اسلامی ہند و نائب صدر مسلم پرسنل لا بورڈ جناب سید سعادت اللہ حسینی، بورڈ کے نائب صدر مولانا محمد علی محسن تقوی، جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی، بورڈ کے سکریٹری ڈاکٹر یاسین علی عثمانی، رکن مجلسِ عاملہ عارف مسعود ایم ایل اے، رکن مجلسِ عاملہ مولانا محمد ابو طالب رحمانی اور ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے خطاب کیا اور  بتایا کہ ’’تحفظِ ملک، تحفظِ شریعت‘‘ کے پیغام کے ساتھ شروع کی جانے والی یہ تحریک تین ماہ تک جاری رہے گی۔ 17؍ ستمبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر سے اس کا آغاز ہوگا اور 15؍ دسمبر کو مہم اختتام پذیر ہوگی۔ اس دوران ملک کی تقریباً تمام ریاستوں میں عوامی اجتماعات، احتجاجی پروگرام، قانونی بیداری اور میڈیا و سوشل میڈیا مہم چلائی جائے گی۔
بورڈ نے کہا کہ تحریک کا مقصد صرف مسلم پرسنل لا کا تحفظ نہیں بلکہ دستور کی بالادستی، قانون کی حکم رانی، عدل و مساوات، مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔
بورڈ کے مطابق ہندوستان کا دستور تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ، عزت و وقار اور قانون کے یکساں نفاذ کی ضمانت دیتا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران کمزور اور محروم طبقات، بالخصوص مسلمانوں کو مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر دباؤ، عدمِ تحفظ اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں ہجومی تشدد، ماورائے قانون بلڈوزر کارروائیوں، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنانے، اوقافی املاک اور قبرستانوں پر ناجائز قبضوں، مسلم نوجوانوں کی بے بنیاد مقدمات میں گرفتاریوں اور مذہبی آزادی میں مداخلت جیسے معاملات کو خاص طور پر اٹھایا گیا ہے۔
اسی طرح یونیفارم سول کوڈ کے ذریعے مسلم پرسنل لا کو متاثر کرنے کی کوشش، وندے ماترم کے لازمی کیے جانے، تعلیمی نظام اور نصاب میں تبدیلیوں اور تعلیمی اداروں میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بورڈ نے کہا کہ ان حالات نے مسلمانوں میں عدمِ تحفظ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ دستورِ ہند، قانون کی حکم رانی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی سنگین چیلنج پیدا کیے ہیں۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے عمائدین  نے واضح کیا کہ ’’یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثے کا معاملہ ہے۔‘‘ اسی لیے بورڈ نے اس تحریک میں صرف مسلم تنظیموں ہی نہیں بلکہ انصاف، جمہوریت، امن اور دستور پر یقین رکھنے والے تمام شہریوں، مذہبی و سماجی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف مذہبی برادریوں کے نمائندوں کو شریک کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کیا کیا جائے گا؟
تحریک کے تحت ملک کے بڑے شہروں میں عوامی اجتماعات اور پُرامن احتجاج ہوں گے۔ ان میں ممتاز علماء کے ساتھ مختلف مذاہب کے رہنما، دانشور، سماجی اور سیاسی شخصیات بھی خطاب کریں گی۔
مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات، مبینہ آئینی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر مشتمل ایک جامع وہائٹ پیپر تیار کرکے میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں، عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا۔
غیر قانونی انہدام اور بلڈوزر کارروائیوں کے علاوہ اوقافی املاک، قبرستانوں، مساجد اور مدارس کے تحفظ سے متعلق قانونی حقوق، عدالتی رہنمائی اور عملی اقدامات پر مشتمل ایک قانونی رہنما کتابچہ بھی شائع کیا جائے گا۔
ہجومی تشدد کے مسئلے پر ایک جامع اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس میں ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں، متاثرین کے قانونی حقوق اور جان و مال کے تحفظ کے حق کو واضح کیا جائے گا۔
تحریک کے تحت ایک چارٹر آف ڈیمانڈ بھی تیار کیا جائے گا۔ اسے ہر ریاست میں گورنر اور ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدرِ جمہوریہ ہند تک پہنچایا جائے گا۔ اس میں آئینی حقوق کے تحفظ، نفرت انگیز جرائم کے خاتمے، مذہبی آزادی، غیر قانونی انہدام کی روک تھام، اوقافی املاک اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور قانون کے مساوی نفاذ سے متعلق مطالبات شامل ہوں گے۔
تحریک کے دوران پریس کانفرنسوں، میڈیا بریفنگز، ویڈیو ڈاکومنٹیشن اور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے بھی رائے عامہ ہموار کی جائے گی، جبکہ ایکس سمیت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر مربوط ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔
اور اس تحریک کا ایک بڑا مرحلہ نئی دہلی میں عظیم الشان قومی اجتماع ہوگا، جس میں ملک بھر سے مختلف طبقات، مذاہب اور مکاتبِ فکر کے نمائندوں کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اجتماع میں تحریک کے اگلے مرحلے کے لائحۂ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
بورڈ نے واضح کیا کہ تحریک مکمل طور پر آئینی، جمہوری، پُرامن اور قانونی دائرے میں چلائی جائے گی۔ اس کے تمام پروگرام اس طرح ترتیب دیے جائیں گے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی، تشدد یا امن و امان میں خلل پیدا نہ ہو بلکہ ملک میں امن، بھائی چارے، مکالمے اور دستور پسندی کو فروغ ملے۔
بورڈ نے اپنی اپیل میں کہا کہ تحریک تحفظِ دستور و شریعت کسی ایک طبقے یا برادری کی تحریک نہیں بلکہ دستور، جمہوریت، قانون کی حکم رانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی یکجہتی اور امن و اخوت کے تحفظ کی مشترکہ قومی جدوجہد ہے۔
بورڈ کے نمائندوں نے ملک کے ہر انصاف پسند، جمہوریت پسند اور امن پسند شہری، سماجی و مذہبی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ذمہ دار افراد سے اس تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ انصاف، محبت، مکالمہ، باہمی احترام اور آئینی جدوجہد ہی ہندوستان کے مضبوط اور پُرامن مستقبل کی ضمانت ہیں۔