اس بات کے پس پردہ اللہ تبارک وتعالی کی کوئی نہ کوئی حکمتِ بالغہ ہی کام کر رہی ہوگی کہ اس نے اپنے حبیبؐ کی کسی نرینہ اولاد کو چند سال سے زیادہ مہلت ِحیات نہیں دی۔ نبی ﷺ کے والدین کو بھی مختصر ترین مدتِ حیات ہی مل سکی اور پھر صاحبزادیوں کو بھی بس اتنی ہی مدتِ حیات نصیب ہوئی جتنی آپ کے والدین کے لیے مقدر ہوئی تھی، یعنی یہی کوئی تیس بتیس سال اور بس۔حد تو یہ ہے کہ آپ کے نواسوں اور نواسیوں کا حال بھی آپ کے بیٹوں جیسا ہی رہا، یعنی وہ سب بھی (سوائے تین کے) مختصر ترین مدتِ حیات میں ہی وادی بطحا سے محو پرواز ہوئے اور باغات ارم کی طرف ہمیشہ کے لیے ہجرت کر گئے۔
اللہ کی حکمتِ بالغہ جو بھی رہی ہو مگر خانوادۂ رسول کے لیے وقت یہیں نہیں رکا، وہ آگے بڑھا اور چشمِ اقوام نے بچشم خود یہ منظر دیکھا کہ آپ کے داماد حضرت عثمانؓ کو دوہری شرفِ دامادیت کا صلہ (بظاہر) یہ ملا کہ انہیں ظالمانہ طور پر شہید کر دیا گیا اور وہ بھی ان کے اپنے گھر میں، اور پھر تلاوت قرآن کے اوقات میں۔ اور چشم اقوام اپنی آنکھوں میں آنسو لیے دم بخود کھڑی تماشا بیں رہی۔ جبکہ آپ کے سب سے بڑے داماد حضرت ابوالعاص بن ربیعؓ آپ کے ایک سال بعد ہی دنیا کو الوداع کہہ چکے تھے۔ حضرت فاطمہؓ کو تو رسول اللہ ﷺ نے مطلع کر دیا تھا کہ سب سے پہلے وہی آپ سے آکر ملیں گی، سو انہوں نے آپ کے وصال کے فوراً بعد ہی سامان زیست سمیٹنا شروع کردیا تھا، جیسے ان کے لیے دنیا میں جینے کی خواہش ہی ختم ہوگئی ہو اور وہ بس بلاوے کی منتظر تھیں۔ اور آپ کے وصال کے محض چھ ماہ بعد ہی انہوں نے آخری سانس لی۔
البتہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے بیشتر نے خاصی طویل عمر پائی اور دین کے اہم معاملا ت و امور میں امت کی رہنمائی کی۔ خاص طورپر آپ کی خانگی حیات کی سب سے بڑی گواہ آپ کی ازواج ہی تھیں اور صحابہ کرام مدتوں تک انہیں سے علم سیکھتے رہے۔
نبی ﷺ کی صاحبزادیوں میں اس وقت حضرت فاطمہؓ حیات تھیں، جبکہ آپ ﷺ کے صاحبزادے اور دوسری صاحبزادیاں پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ حضرت فاطمہؓ کے گھرانے میں حضرت علیؓ، حسنین کریمینؓ اور خود حضرت فاطمہؓ وہ قریبی اہلِ بیت تھے جن سے رسول اللہ ﷺ کی خصوصی محبت اور تعلق سب پر عیاں تھا۔ شاید یہی قربت تھی کہ واقعۂ مباہلہ کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے اپنے اسی گھرانے کو اپنے ساتھ لیا۔یہ فی الواقع درد و محبت کا اظہار بھی تھا جسے امت دوسرے زاویوں سے دیکھتی رہی ہے۔ جب مباہلے والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ اور حسینؓ کو بلایا اور فرمایا: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي (مسلم)
پھر اس محبت میں بھی یہ موڑ آگیا کہ رسول اللہ ﷺ کو آخری عمر میں بعض غیبی اشاروں سے معلوم ہوگیا کہ علی المرتضیؓ اور حسنین کریمینؓ یعنی تینوں باپ بیٹوں کا بھی کیا انجام ہونے والا ہے۔لہذا داماد ابن ملجم خارجی کی تلوار کے وار کی تاب نہ لا کر راہی ملک عدم ہوئے، بڑے نواسے (حسنؓ) نے پہلے تو حکومت کے قلم دان کی قربانی دی اور پھر زہر کا پیالہ نوش کیا اور راہ بقا کو سدھار گئے۔اور چھوٹے نواسے (حسینؓ) کے لیے شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا مقدر ہوا۔ یہ تینوں واقعات وحادثات اور ان کے پس پردہ اقدامات محض ذاتی دشمنی یا خطائے ذاتی واجتہادی کی بنیاد پر نہ تھے بلکہ ان کے پیچھے سیاسی حالات کی کارفرمائی تھی۔
اوپر کی وضاحت کو نظر میں رکھ کر سورۂ کوثر کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ’’إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ‘‘ کے بعض مظاہر میں سے ایک امکانی مظہر بہت ممکن ہے کہ حضرت فاطمہؓ بھی ہوں۔
امام فخر الدین رازیؒ (م 606ھ) نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے:
ان کے مطابق یہ سورت اس شخص کے جواب میں نازل ہوئی ہے جس نے آپ کو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے عار دلایا تھا؛ لہٰذا اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی نسل عطا فرمائے گا جو باقی رہنے والی ہو گی۔
فخر الدین رازیؒ مزید لکھتے ہیں:
’’اگر کوثر کو کثرتِ پیروکار یا کثرتِ اولاد اور عدمِ انقطاعِ نسل پر محمول کیا جائے تو یہ غیب کی خبر ہوگی جو بعد میں واقع ہوئی، لہٰذا یہ معجزہ ہے۔‘‘
یہی بات علامہ آلوسیؒ (م 1270ھ) نے روح المعانی میں لکھی ہے۔ اور یہی بات حسن بن محمد نیشاپوریؒ (م 850ھ) نے اپنی تفسیر غرائب القرآن ورغائب الفرقان میں لکھی ہے۔
مگر اس سب کے باجود، یعنی اللہ کے بے شمار انعامات اور کرم فرمائیوں کے باوجود خانوادۂ رسول کے افراد کے لیے عرصہ دراز تک برسر اقتدار مسلمانوں سے برسر پیکار رہنا مقدر ہوا۔ حتیٰ کہ کربلا میں پورا خاندان شہید ہوگیا، بس زین العابدین کی ایک جان باقی بچی۔ حالانکہ کربلا کے معرکہ کے وقت وہ بیس بائیس سال کے گبرو نوجوان تھے مگر شدید بیمار ہونے کے باعث میدان جنگ میں نہیں جا سکے، جنگ ختم ہونے کے بعد دشمن ان کے خیمے تک پہنچ گئے اور انہیں بھی شہید کرنا چاہا مگر اللہ کی قدرت دیکھیے کہ بعض دیگر احباب مانع آگئے اور اس طرح حضرت زین العابدین کی زندگی بچ سکی۔
یہاں ذرا دیر رک کر سوچیں کہ رسول اللہ ﷺ کے جد امجد حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کس طرح زندگی مل سکی، جب ان کے والد نے ان کے گلے پر چھری رکھ دی تھی اور موت ان کے حلقوم تک آپہنچی تھی، یہاں تک کہ غیب سے ندا آئی: ’’يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا‘‘(سورۃ الصافات) پھر رسول اللہ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ کو کس طرح زندگی عنایت ہوئی جبکہ بیت اللہ کے سائے میں قربان ہونے کا قرعہ فال ان کے نام نکل چکا تھا اور بار بار نکل چکا تھا (اگر یہ واقعہ درست ہو تو) پھر خود رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں کتنی بار موت کے منہ سے بچ کر نکلے۔ شعب ابی طالب میں جب موت آپ کے لبوں تک آپہنچی تھی، ہجرت کے موقع پر جب کفار قریش نے آپ کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور بعض جنگوں کے مواقع پر جب دشمن کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی، خاص کر احد میں، جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے۔ اور پھر نیچے آکر کربلا کے میدان میں زین العابدین کو دیکھیں کہ ان کی زندگی کس طرح بچ سکی جبکہ خون آشام تلواریں ان کے نحیف و نزار جسم پر لہرا رہی تھیں۔یہی کہانی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی، یہی کہانی ہے حضرت یوسف علیہ السلام کی، یہی کہانی ہے حضرت یونس علیہ السلام کی اور یہی کہانی ہے حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام اور دیگر انبیاء کرام کی۔ اللہ نے انہیں کیسے کیسے سخت ترین حالات سے اور کیسی کیسی آزمائشوں سے گزارا۔ اور پھر کس طرح انہیں کامیاں عطا فرمائیں، جی ہاں دنیا میں بھی۔ اور آخرت تو خیر ہے ہی ان کی۔
ذرا قدرت کی کرشمہ سازیاں تو دیکھیے کہ خانوادۂ رسول کے سروں پر اتنی ساری قیامتیں گزر جانے کے باوجود بھی اللہ نے آپ کی اولاد میں اتنی برکت دی کہ انسانی عقل حیران ہے۔ پڑھیے، امام فخر الدین رازی اور امام حسن بن محمد نیشاپوری کو۔ دونوں کے کم وبیش مشترکہ الفاظ ہیں:
اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایسی نسل عطا فرمائے گا جو گردشِ زمانہ کے باوجود باقی رہے گی۔ ذرا غور تو کریں کہ اہلِ بیت میں سے کتنے ہی افراد قتل کر دیے گئے، مگر اس کے باوجود آج بھی دنیا ان کی نسل سے آباد ہے۔ اس کے برخلاف بنی امیہ میں ایسی شخصیات باقی نہیں رہیں جو قابل اعتنا ہوں۔ پھر ذرا یہ بھی دیکھیں کہ اہلِ بیت میں کتنے جلیل القدر علماء اور اکابر پیدا ہوئے؛ مثلاً امام باقر، امام صادق، کاظم، رضا، نفسِ زکیہ علیہم السلام اور ان جیسے دوسرے بزرگ حضرات‘‘
رسول اللہﷺ کے ساتھ شاید یہی وہ تکوینی حالات تھے، جن کے باعث نبی ﷺ کو حضرت فاطمہؓ، حضرت علیؓ اور حضرات حسنین کریمینؓ سے اس درجے محبت رہی اور آپ کو ان کی اتنی زیادہ فکر دامن گیر رہی کہ ان کے بارے رسول اللہ کی زبان مبارک سے بہت سے فضائل بیان ہوئے۔ کبھی فرمایا : أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي۔ کبھی فرمایا: فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي۔ کبھی فرمایا حسن وحسین جنت کے سردار ہیں: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ اور کبھی کہا کہ جو مجھے عزیز رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ علی کو بھی عزیز رکھے: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ۔ اور آگے بڑھیے اور سوچیے کہ امت نے حضور ﷺ کی اس باقی ماندہ اولاد کو کس کس طرح ستایا، حتیٰ کہ قیادت سے بھی محروم رکھا۔ حضرت علیؓ المرتضیٰ سے لے کر حضرت امام حسنؓ کے پڑ پوتے حسین بن علی بن حسن تک سیاسی جدوجہد کی پوری ڈیڑھ سو سالہ تاریخ ہے۔ اس خانوادے کے کئی افراد نے اہل اقتدار کے خلاف تلوار اٹھائی اور علم جہاد بلند کیا۔ سو یہ اسی باعث تھا کہ وہ کسی نہ کسی درجے میں خود کو محروم خیال کرتے تھے کہ امت نے انہیں سیادت کے حق سے محروم کر دیا تھا۔ اگرچہ یہ ثانوی وجہ ہی ہوسکتی ہے ورنہ تلوار اٹھانے کی پہلی وجہ تو یہی تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ حکم راں اپنی ڈگر سے ہٹ گئے ہیں، کم از کم خلافت راشدہ کے طرز سے۔
حسین بن علی بن حسن نے عباسی خلیفہ موسیٰ الہادی کے عہد میں 169ھ میں عباسی حکومت کے خلاف خروج کیا۔ فخ کے مقام پر عباسی فوج سے جنگ ہوئی، جس میں حسین بن علی اور ان کے بہت سے ساتھی شہید ہوگئے۔
یہاں ذرا ٹہر کر اس وقت کو یاد کریں جب رسول اللہ ﷺ کو مرض وفات لاحق تھا اور حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان خلافت کے حوالے سے جو گفتگو ہوئی جو بخاری میں بیان ہوئی ہے، اس سے اندازہ لگائیں کہ خلافت کے بارے میں وہ کیا سوچتے تھے۔
حضرت عباسؓ نے حضرت علیؓ سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسی بیماری میں وفات پا جائیں گے، اور میں بنو عبدالمطلب کے چہروں میں موت کی علامت پہچانتا ہوں۔ پھر انہوں نے کہا: ’’آؤ ہم رسول اللہ کے پاس چلیں اور ان سے پوچھیں؛ اگر یہ معاملہ (یعنی اقتدار وخلافت) ہمارے اندر ہے تو آپ اسے واضح کر دیں گے۔ اور اگر ہمارے علاوہ کسی کے لیے ہے تو ہم آپ سے اپنے بارے میں وصیت کرنے کی درخواست کریں گے‘‘
اس پر حضرت علیؓ نے جواب دیا:
’’اگر یہ معاملہ ہمارے علاوہ کسی کے لیے ہوا تو لوگ اسے ہمیں کبھی نہیں دیں گے، اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ سے اس بارے میں کبھی سوال نہیں کروں گا۔‘‘ (بخاري: 6266)
رسول اللہ ﷺ کی وفات ۱۱ ہجری میں ہوئی اور حضرت علیؓ ۳۵ ہجری میں چوتھے خلیفہ مقرر ہوئے، مگر اس وقت تک حالات بہت بدل چکے تھے، خوارج کا گروہ بھی پیدا ہوچکا تھا، اس لیے حضرت علی کا دور آپسی انتشار میں گزرا۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ جس طرح حضرت علیؓ نے اور آگے چل کر ان کے صاحبزادوں نے امور خلافت میں جتنی شدت اور اخلاص کے ساتھ خلفائے ثلاثہ کا ساتھ دیا اگر اس سے کچھ کم شدت اور اخلاص کے ساتھ بھی حضرت علیؓ اور ان کے صاحبزادے حسنؓ کا ساتھ دیا گیا ہوتا تو حضرت علیؓ کی خلافت کا وہ نقشہ نہیں ہوتا جو آج ہمارے سامنے ہے اور جسے ہم اضطراب وانتشار سے تعبیر کرتے ہیں۔
اسباب وجوہات جو بھی رہے ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ حضرت علیؓ کو اپنوں نے ہی چین سے نہیں بیٹھنے دیا اور کارِ خلافت کے لیے یکسو ہو کر کام کرنے کے مواقع میسر نہیں آنے دیے۔ ۳۶ ہجری میں جنگ جمل اور ۳۷ ہجری میں جنگ صفین ہوئی اور ان دونوں جنگوں میں کل ملا کر کم وبیش ستّر اسّی ہزار مسلمان دونوں طرف سے شہید ہوئے۔
اس کے بعد کے منظرنامے میں ہم دیکھتے اور پڑھتے ہیں کہ حضرت حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کرلی اور حکومت کا قلمدان ان کے سپرد کر دیا، تاریخ میں اس واقعے کو بہت سادہ طوربپر بیان کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اتنا سادہ بھی نہیں تھا جتنی سادہ یہ بات ہوتی ہے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ کی انگوٹھی نکال کر کسی دوسرے کو دیدے اور وہ بھی ایسے شخص کو جس نے اس کے والد سے جنگیں لڑی ہوں۔ اس کے بعد سے لے کر کم وبیش مکمل ڈیڑھ سو سال تک حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی اولادیں برسر اقتدار حکام سے برسر پیکار رہیں اور مہبط وحی اور لاکھوں انبیاء کرام کے مسکن زمینی کے خطے کو اپنے خونِ جگر سے لالہ زار کرتی رہیں۔
ان سب حالات پر نظر ڈالیں تو آل رسول بڑی مظلوم ثابت ہوتی ہے۔ امت نے بھلے ہی رسول اللہ کی اولاد کو بہت زیادہ اہمیت دی، اللہ نے بھی ان کی نسل میں بے پناہ برکت دی اور لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت راسخ فرما دی مگر امت کے برسر اقتدار حکم رانوں نے آل رسول کو اقتدار سے کچھ نہیں دیا۔ اور نہ صرف یہ کہ کچھ نہیں دیا بلکہ انہیں جب چاہا بسملِ ناہید کی طرح خاک وخون میں تڑپابدیا۔
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیش آنے والے ان تمام حالات کو پیش نظر رکھیں پھر دشمنان دین کی طرف سے جو ایذائیں آپ کو دی گئیں ان کو پیش نظر رکھیں، پھر وہ جو سورۂ کہف میں آپ کی باطنی کیفیت کا بیان ہے ’’فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ‘‘ اس کو بھی پیش نظر رکھیں اور پھر اس سب کے بعد آپ کی امت نے جس کے لیے آپ رات دن تڑپتے رہے اور دعائیں مانگتے رہے آپ کے خاندان والوں کے ساتھ جو سلوک کیا اس کو سامنے رکھیں اور پھر قرآن کی وہ آیتیں اور سورتیں پڑھیں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی تسکین قلب کا سامان ہے، دلاسہ ہے، نعمتوں کا ذکر ہے اور اخروی انعامات کا وعدہ ہے، جیسے سورہ کوثر، سورۃ الضحیٰ، الم نشرح اور دیگر آیات، تب آپ کو ان سورتوں اور آیات میں ایک الگ ہی منظر نامہ دکھائی دے گا۔جیسے:
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللہِ يَجْحَدُونَ (الأنعام: 33)
’’ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تم کو یقیناً غمگین کرتی ہیں حقیقت یہ ہے کہ وہ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔‘‘
وَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (یونس: 65)
’’اور ان کی بات تم کو غمگین نہ کرے۔ بے شک تمام عزت اللہ ہی کے لیے ہے ‘‘
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ، وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر: 97–99)
’’اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ کفار ومشرکین تمہارے خلاف جو کچھ کہتے (اور کرتے) ہیں اس سے تمہارا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ (اے نبی تم ہرگز تنگ دل نہ ہو اور مکمل یکسوئی اور دل جمعی کے ساتھ) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، سجدہ کرنے والوں میں شامل رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تم کو یقین (موت) آجائے ‘‘
ایک طرف رسول اور خانوادۂ رسول کی مظلومیت پر نظر رکھیں اور دوسری طرف فتح مکہ کے موقع پر آپ کی فاتحانہ شان بھی دیکھیں اور قرآن کی زبان میں شانِ ’رفعنا لک ذکرک‘ دیکھیں، ایک طرف خانوادہ رسول کی ہمیشہ کی مظلومیت اور محرومیوں پر نظر رکھیں اور دوسری طرف یہ بھی دیکھیں کہ اللہ نے کس طرح اس خانوادے کی محبت وعقیدت کو امت کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے قائم و دائم فرمادیا۔ اس سے آپ کو اللہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا صحیح شعور حاصل ہوگا اور پورا انداز ہ ہوگا کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو کیسے کیسے جاں گسل حالات ولمحات سے نکال کر کیسی کیسی رفعتیں اور شان عطا فرماتا ہے۔آپ کو اندازہ ہوگا کہ بیشتر انبیاء کرام کی یہی کہانی ہے، اللہ نے اپنے نبیوں کو پاتال سے اٹھاکر ثریا پر بٹھا دیا اور یہ سب تکوینی اصولوں کے ساتھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو اس حیثیت سے بھی ممتاز فرمایا تھا کہ ان کی زندگیاں مجموعہ اضداد تھیں۔ ایک طرف تو ان میں سے بیشتر کمزور وناتواں اور عاجز و منکسر المزاج تھے اور ان کے مقابلے میں جو لوگ اور حکم راں تھے وہ بڑے طاقتور، مغرور، ظالم و جابر اور لاؤ لشکر والے تھے، مگر انجام کار اللہ نے اپنے انہی کمزور و بے سر و سامان پیغمبروں کے ہاتھوں فروعون وہامان اور ابو جہل و ابولہب، آخر سب کا غرور خاک میں ملا دیا۔
یہ سب نظر میں رکھیں اور پھر اپنے آپ کو اور اپنے حالات کو دیکھیں اور یہ ایقان رکھیں کہ اللہ آپ کو بھی آپ کی تمام تر کمزوریوں محرومیوں اور استحصال کے باجود اسی طرح رفعتیں عطا فرمائے گا بشرطیکہ آپ انبیاء کرام کے اور بطور خاص رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ پر قائم رہیں۔
مظلومیت کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

کیا آلِ رسولؐ ہمیشہ مظلوم ہی بنی رہی؟

