مسلمان اسلامی تعلیمات اور اصولوں کو اپنے کردار کے ذریعے پیش کریں:  ضیاء السلام
نئی دلی: مغلیہ عہد ہندوستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جسے آج محض ماضی کا ایک دور سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاج محل سے لال قلعے تک، زبان و لباس سے کھانوں اور موسیقی تک اور سیاسی نظم و نسق سے تہذیبی میل جول تک، اس عہد کے نقوش ہندوستان کی اجتماعی زندگی پر آج بھی نمایاں ہیں۔ لیکن یہی دور موجودہ سیاسی اور نظریاتی کشمکش میں تاریخ سے زیادہ بیانیے کی جنگ کا میدان بھی بن چکا ہے۔ ایک طرف مغل حکم رانوں کو ہندوستان کی تہذیبی تشکیل کے معمار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو دوسری طرف انہیں یکسر بیرونی حملہ آور، غاصب اور تباہ کن قوت کے طور پر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم مغلیہ تاریخ کو عقیدت، نفرت اور سیاسی مصلحت کے بجائے تاریخی شواہد اور اپنے عہد کے سیاق و سباق کی روشنی میں کب اور کیسے دیکھیں گے؟
اسی سوال کو مرکزِ گفتگو بناتے ہوئے مصنف اور روزنامہ ’دی ہندو‘ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ضیاءالسلام نے جماعتِ اسلامی ہند کے صدر دفتر میں ’’ہندوستان میں مغلیہ عہد‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ ان کی گفتگو کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ مغلوں کو نہ فرشتے بنا کر پیش کرنے کی ضرورت ہے، نہ شیطان؛ تاریخ کا تقاضا یہ ہے کہ جو کچھ اچھا ہوا اسے تسلیم کیا جائے، جو کچھ غلط ہوا اس پر تنقید کی جائے، اور دونوں کو ان کے تاریخی پس منظر سے کاٹ کر نہ دیکھا جائے۔
ضیاءالسلام نے گفتگو کا آغاز ایک ایسے واقعے کے تذکرے سے کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخی اور مذہبی تصورات کو بعض اوقات کس قدر غلط سمجھ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک گفتگو کا حوالہ دیا جس میں ایک شخص نے ’’اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ کو مغل بادشاہ جلال الدین اکبر سے منسوب کر دیا تھا۔ ضیاءالسلام نے وضاحت کی کہ ’’اللہ اکبر‘‘ کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اقرار ہے اور اس کا مغل بادشاہ اکبر سے کوئی تعلق نہیں۔ کئی برس بعد جب ان کی نظر اکبر کے بارے میں لکھی گئی ایک کتاب ’’اللہ اکبر‘‘ پر پڑی تو اس واقعے نے انہیں مزید اس بات کا احساس دلایا کہ تاریخ اور اسلام کے بنیادی تصورات دونوں کی درست اور مستند وضاحت کس قدر ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرونِ وسطیٰ کی ہندوستانی تاریخ کی تدریس میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی نصاب میں سلطنتِ دہلی اور مغلیہ دور کے تذکروں کو بتدریج محدود یا کم اہم کرنے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی حوالوں کو حذف کر دینے سے تاریخ مٹ نہیں جاتی؛ البتہ اس کے نتیجے میں طلبا اس دور کو تنقیدی اور غیر جانب دارانہ انداز میں سمجھنے کے ایک اہم موقع سے محروم ہو جاتے ہیں۔
اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہ مغلوں کی آمد سے قبل بھارت ایک خوش حال ’’سونے کی چڑیا‘‘ تھا اور مغلوں کی آمد کے بعد اس کا زوال شروع ہوا، ضیاءالسلام نے کہا کہ سولہویں صدی میں مغلوں کی آمد برصغیر میں بڑی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ 2026ء میں بابر کی 1526ء میں ابراہیم لودھی پر فتح کو پانچ سو برس مکمل ہو رہے ہیں، اور یہ موقع مغلیہ عہد کا اس کے مکمل تاریخی تناظر میں جائزہ لینے کے لیے موزوں ہے۔
ضیاءالسلام نے زور دے کر کہا کہ مغلیہ ورثے کو محض تاریخی عمارتوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس دور نے ہندوستانی زبان، کھانوں، لباس، طرزِ تعمیر، فنون اور تہذیبی روایات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے مطابق کرتا، پاجامہ اور شیروانی جیسے ملبوسات آج بھی ہندوستانی معاشرت کا حصہ ہیں، جب کہ نان، کباب، بریانی اور نہاری جیسے پکوان ملک کے ذائقوں اور کھانے پینے کی تہذیب میں اس قدر رچ بس گئے ہیں کہ اب انہیں ہندوستانی ثقافت سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے مغلیہ طرزِ تعمیر، بالخصوص تاج محل اور لال قلعہ کا بھی ذکر کیا۔ شاہ جہاں کے عہد میں تعمیر ہونے والا تاج محل ہندوستان کی معروف ترین تہذیبی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے، جب کہ لال قلعہ آج بھی قومی سطح پر اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے، کیونکہ یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم اسی تاریخی قلعے سے قوم سے خطاب کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغلیہ دور نے برصغیر کے سیاسی اتحاد و انضمام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اکبر اور اس کے بعد آنے والے حکم رانوں کے عہد میں برصغیر کے وسیع علاقوں کو ایک مرکزی انتظامی نظام کے تحت لایا گیا، جہاں زرِ مبادلہ، نظم و نسق، فوجی تنظیم اور اقتصادی حکم رانی کے بعض مشترک نظام رائج ہوئے۔ ضیاءالسلام کے مطابق اس عمل نے ایک نسبتاً زیادہ مربوط سیاسی ہندوستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اکبر کی مذہبی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے ضیاءالسلام نے عبادت خانہ کا حوالہ دیا، جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے علما اور نمائندے، جن میں ہندو، مسلمان، جین، بدھ اور عیسائی شامل تھے، مذاکروں اور مباحثوں میں شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے اسے عہدِ وسطیٰ میں بین المذاہب مکالمے اور باہمی تعامل کی ایک مثال قرار دیا۔
ضیاءالسلام نے اس تصور کو بھی چیلنج کیا کہ مغلیہ ریاست محض ایک مسلم سیاسی نظام تھی۔ انہوں نے مغلیہ انتظامیہ میں ہندوؤں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی طرف توجہ دلائی اور ایسے اعداد و شمار کا حوالہ دیا جن کے مطابق اورنگ زیب کے عہد میں مغلیہ عہدے داروں میں تقریباً ایک تہائی ہندو تھے۔ ان کے مطابق یہ شواہد مغلیہ طرزِ حکم رانی کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں کہ اسے سادہ اور یک رخی تصورات میں محدود نہ کیا جائے۔
ضیاءالسلام نے واضح کیا کہ مغل حکم رانوں کو نہ تو ہیرو بنا کر پیش کیا جانا چاہیے اور نہ شیطان صفت ثابت کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس دور میں جنگیں، تشدد اور مظالم بھی ہوئے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ تاریخی شخصیات کا جائزہ دیانت داری کے ساتھ لیتے ہوئے اس عہد کے سیاسی اور سماجی حالات کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
مذہبی محصول کے حوالے سے انہوں نے جزیہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکبر نے ایک مدت تک اسے نافذ رکھا، تاہم بعد میں اسے ختم کر دیا۔ انہوں نے جنگِ ہلدی گھاٹی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کے بعد کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ اس جنگ نے مغلیہ اقتدار کا خاتمہ نہیں کیا تھا، جیسا کہ بعض مقبول عام تاریخی بیانیوں میں تاثر دیا جاتا ہے۔
اورنگ زیب کی مذہبی پالیسیوں پر بھی گفتگو کے دوران ضیاءالسلام نے تسلیم کیا کہ ان کے عہد میں بعض مندروں پر حملے ہوئے، تاہم تاریخی ریکارڈ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں ہندو مذہبی اداروں کو عطیات دیے گئے یا انہیں تحفظ فراہم کیا گیا۔ انہوں نے برہمنوں اور مندروں کے تحفظ سے متعلق بعض شاہی فرامین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اورنگ زیب کے بارے میں عصرِ حاضر کی بحث میں اکثر ایسے شواہد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اسی طرح ضیاءالسلام نے شاہ جہاں سے متعلق ایک واقعے کا ذکر کیا جس کے مطابق بادشاہ نے ایک مندر کی نگہداشت کے لیے تعاون کیا اور یہ مطالبہ مسترد کر دیا کہ وہاں عبادت کرنے والوں کو زحمت پہنچائی جائے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مغل حکم رانوں کی مذہبی پالیسیوں کو منظم اور ہمہ گیر مذہبی جبر کے کسی ایک بیانیے کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔
مقرر نے مغل حکم رانوں کے علمی اور تہذیبی ذوق کو بھی اجاگر کیا۔ بابر نے بابر نامہ میں ہندوستان کے بارے میں اپنے مشاہدات قلم بند کیے، جبکہ ہمایوں کو علمِ نجوم، فلکیات اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ جہانگیر نے مصوری، بالخصوص منی ایچر پینٹنگ کی سرپرستی کی جبکہ شاہ جہاں کا عہد موسیقی، فنون اور ادب کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ضیاءالسلام نے کہا کہ مغلیہ سلطنت کے آخری ادوار میں بھی تہذیبی سرگرمیاں جاری رہیں۔ انہوں نے محمد شاہ رنگیلا کی موسیقی، فنون اور شاعری کی سرپرستی کا ذکر کیا اور بتایا کہ مغلیہ درباروں میں ہندو تہوار دیوالی اور ہولی بھی منائے جاتے تھے۔ ان کے مطابق دیوالی کو ’’جشنِ چراغاں‘‘ اور ہولی کو ’’عیدِ گلابی‘‘ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے بعد کے مغل حکم رانوں، بالخصوص شاہ عالم اور بہادر شاہ ظفر کی ادبی خدمات کی طرف بھی اشارہ کیا۔
تاہم، ضیاءالسلام نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ محض اس بنیاد پر کہ مغل بادشاہ مسلمان تھے انہیں دینی نمونہ عمل نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی زندگی اور طرزِ عمل لازماً اس مذہبی تقویٰ اور شرعی پابندی کی مثالی تصویر پیش نہیں کرتے جس سے بعد میں ان کی شخصیت کو جوڑ دیا گیا۔
اپنی گفتگو کے اختتامی حصے میں ضیاءالسلام نے کہا کہ معاصر سیاسی تنازعات کو طے کرنے کے لیے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مغل حکم راں نہ تو کامل تھے اور نہ محض ویلن؛ انہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے جنگیں لڑیں، لیکن ان کے عہد نے انتظامیہ، فنِ تعمیر، تہذیب، زبان، فنون، اقتصادی نظم اور سماجی تعامل کے میدانوں میں بھی دیرپا نقوش چھوڑے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مغلیہ ورثہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا مشترکہ تاریخی ورثہ ہے۔ اس کے نقوش ملک کی تاریخی عمارات، کھانوں، لباس، زبان، موسیقی، فنون اور سیاسی تاریخ میں آج بھی نمایاں ہیں۔ چنانچہ نصابی کتب سے مغلوں کے تذکرے کو حذف کرنے کی کوششیں بھی ہندوستان کے تاریخی اور تہذیبی منظرنامے پر ان کے اثرات کو مٹا نہیں سکتیں۔
پروگرام کے اختتام پر جماعتِ اسلامی ہند کے نائب صدر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ مغلیہ عہد کا جائزہ بھی مذہبی تفاخر یا سیاسی بیانیوں کے بجائے قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں غیر جانب دارانہ طور پر لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو اعمال اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوں، ان کی تائید کی جانی چاہیے اور جو ان کے منافی ہوں ان پر تنقید ہونی چاہیے، خواہ وہ کسی بھی شخص کی طرف سے سرزد ہوئے ہوں۔
محمد سلیم انجینئر نے مغلیہ ریاست کو ’’اسلامی‘‘ یا ’’مسلم حکومت‘‘ قرار دینے سے بھی اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے حکم راں مسلمان ضرور تھے لیکن محض حکم رانوں کے مسلمان ہونے سے ریاست خود بخود اسلامی ریاست نہیں بن جاتی۔ انہوں نے مغلیہ تاریخ کو نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تاریخی حکم رانوں کی غیر ضروری تقدیس کے بجائے اسلام کی تعلیمات اور اصولوں کو اپنے کردار کے ذریعے پیش کریں۔
مقررین نے بالآخر ہندوستان کے عہدِ وسطیٰ کے ماضی کے ساتھ زیادہ متوازن اور عمیق انداز میں تعامل کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق مغلیہ عہد کو سمجھنے کے لیے نہ اس کی مدح سرائی ضروری ہے اور نہ مذمت؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخی شواہد کو ان کی تمام تر پیچیدگی اور تنوع کے ساتھ سامنے رکھتے ہوئے اس دور کا دیانت دارانہ اور غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے۔