اصل سوال پرچہ خریدنے والے نہیں، نظام میں نقب لگانے والے کون ہیں؟
ملک میں پیپر لیک کے واقعات اب محض امتحانی بدعنوانی کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ یہ پورے تعلیمی نظام کی ساکھ اور اس کی بنیادوں پر سنگین سوال کھڑے کر رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے معاملات سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امتحانی نظام میں کہیں نہ کہیں ایسی کمزوریاں موجود ہیں، جن کا فائدہ اٹھا کر امیدواروں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ٹی ای ٹی کے پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا جس کے بعد نیٹ کے امتحان میں مبینہ پیپر لیک کا بڑا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔ اسی دوران ایم ایچ ٹی سی ای ٹی کے نتائج میں سامنے آنے والے حیرت انگیز اعداد و شمار نے بھی امتحانی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے اور یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ کہیں اس امتحان میں بھی پرچہ لیک ہونے یا کسی غیر قانونی طریقے سے امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کا معاملہ تو نہیں ہوا۔ ان معاملات پر بحث ابھی جاری ہی تھی کہ مہاراشٹر میں ایک اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آگیا۔ اس مرتبہ سوالات کے گھیرے میں مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن یعنی ایم پی ایس سی کی جانب سے منعقدہ ڈرگ انسپکٹر گروپ ’بی‘ کا امتحان ہے، جس میں مبینہ پیپر لیک کے الزامات نے ایک بار پھر امتحانی نظام کی شفافیت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سرکاری ملازمت اور مسابقتی امتحانات کی تیاری میں برسوں محنت کرنے والے لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایسے واقعات صرف ایک خبر نہیں بلکہ ان کے مستقبل، محنت اور میرٹ پر براہِ راست ضرب ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آخر بار بار پیپر لیک کیوں ہو رہے ہیں، امتحانات کی رازداری اور نگرانی کے نظام میں کہاں خامیاں ہیں، ذمہ دار کون ہے اور سب سے بڑھ کر، کیا حکومت اور متعلقہ ادارے ان واقعات کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اور مستقل نظام بنانے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے تناظر میں مہاراشٹر کے تازہ ایم پی ایس سی ڈرگ انسپکٹر امتحان پیپر لیک معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (MPSC) کے ڈرگ انسپکٹر، گروپ ’بی‘ امتحان میں سامنے آنے والا مبینہ پیپر لیک محض امتحانی بدعنوانی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ اس نے ریاست کے پورے مسابقتی امتحانی نظام کی شفافیت اور اعتبار پر ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سوالنامہ کس نے خریدا یا کس نے فروخت کیا، بلکہ یہ ہے کہ ایک انتہائی حساس سرکاری امتحان کے سوالات کمیشن کے اندر سے باہر تک کس طرح پہنچے؟
22؍ مارچ 2026 کو ڈرگ انسپکٹر کی 154 آسامیوں کے لیے منعقدہ اس امتحان میں تقریباً 40 ہزار امیدوار شریک ہوئے تھے۔ یہ بھرتی تقریباً دس سال کے وقفے کے بعد ہو رہی تھی، اس لیے امیدواروں کے لیے اس امتحان کی اہمیت معمول کے کسی دوسرے امتحان سے کہیں زیادہ تھی۔ نوجوانوں نے مہینوں اور برسوں کی محنت کے بعد امتحان دیا، نتائج کا انتظار کیا اور سینکڑوں امیدوار انٹرویو کے مرحلے تک پہنچے، لیکن آخرکار پوری بھرتی منسوخ کر دی گئی۔ 12 جون کو 506 امیدواروں کو انٹرویو کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا، جن میں سے 488 کے انٹرویو یکم سے 22؍ جولائی کے درمیان ہوئے۔ اسی دوران امتحان میں بے ضابطگی اور سوالنامہ پہلے سے دستیاب ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ ایم پی اس نے 27 جولائی کو ممبئی پولیس سے تحقیقات کی درخواست کی۔ اس کے بعد کرائم برانچ کی ابتدائی تحقیقات میں کم از کم ایک امیدوار کے امتحان سے پہلے سوالات حاصل کرکے مبینہ طور پر فائدہ اٹھانے کا معاملہ سامنے آیا۔
اس معاملے کی کہانی میں ایک امیدوار، اس کا سابق بوائے فرینڈ، ایک کوچنگ کلاس کا منتظم، مبینہ مالی لین دین اور پھر تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی جیسے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ لیکن ایک سینئر صحافی کی نظر سے دیکھا جائے تو ’’محبت کی کہانی‘‘ اس معاملے کا اصل موضوع نہیں بلکہ صرف وہ ذریعہ ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر ایک بڑے امتحانی کھیل کا پردہ فاش ہوا۔ اصل کہانی MPSC کے سوالنامے کی راز داری اور اس راز داری کو برقرار رکھنے والے پورے نظام کی ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کی تحقیقات کے مطابق MPSC کے ایک اہلکار کو ماہرین کی جانب سے تیار کردہ سوالات کے خفیہ مجموعے، یعنی میٹا سیٹ، تک رسائی حاصل تھی۔ پولیس کا الزام ہے کہ مذکورہ اہلکار نے 294 سوالات اپنے لیپ ٹاپ میں منتقل کیے، جس کے بعد یہ مواد کمیشن کے دیگر اہلکاروں، ایک کوچنگ کلاس کے ڈائریکٹر اور پھر ایک امیدوار کے خاندان تک پہنچا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان 294 مبینہ طور پر پہلے سے دستیاب سوالات میں سے 77 سوالات اصل امتحانی پرچے میں شامل تھے۔77 سوالات کا اصل امتحانی پرچے میں شامل ہونا اس معاملے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ اگر پولیس کے یہ دعوے تحقیقات اور عدالتی کارروائی میں ثبوت کے طور پر قائم رہتے ہیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ محض کسی ایک سوال کے اتفاقاً باہر آنے کا نہیں تھا بلکہ امتحانی سوالات کے انتہائی حساس ذخیرے تک مبینہ غیر مجاز رسائی کا تھا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک دعویٰ یہ ہے کہ جس امیدوار تک مبینہ طور پر سوالات پہلے پہنچے، اسے تمام سوالات کے درست جواب دینے کے بجائے دس سوالات کے جواب جان بوجھ کر غلط دینے کا مشورہ دیا گیا، تاکہ اس کی غیر معمولی کارکردگی سے کسی کو شبہ نہ ہو۔ پولیس کے مطابق، اس امیدوار نے 91 سوالات درست کیے اور عارضی میرٹ لسٹ میں ساتویں نمبر پر رہی۔
77 سوالات کا اصل امتحانی پرچے میں شامل ہونا اس معاملے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ اگر پولیس کے یہ دعوے تحقیقات اور عدالتی کارروائی میں ثبوت کے طور پر قائم رہتے ہیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ محض کسی ایک سوال کے اتفاقاً باہر آنے کا نہیں تھا بلکہ امتحانی سوالات کے انتہائی حساس ذخیرے تک مبینہ غیر مجاز رسائی کا تھا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک دعویٰ یہ ہے کہ جس امیدوار تک مبینہ طور پر سوالات پہلے پہنچے، اسے تمام سوالات کے درست جواب دینے کے بجائے دس سوالات کے جواب جان بوجھ کر غلط دینے کا مشورہ دیا گیا، تاکہ اس کی غیر معمولی کارکردگی سے کسی کو شبہ نہ ہو۔ پولیس کے مطابق، اس امیدوار نے 91 سوالات درست کیے اور عارضی میرٹ لسٹ میں ساتویں نمبر پر رہی۔
اگر یہ الزامات عدالت میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ کسی عام پیپر لیک سے کہیں زیادہ منظم اور منصوبہ بند طریقہ کار کی طرف اشارہ کریں گے۔ یعنی مقصد صرف سوالنامہ حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ مبینہ طور پر اسے اس انداز میں استعمال کرنا بھی تھا کہ امیدوار کی کارکردگی غیر معمولی دکھائی نہ دے اور یہ پورا معاملہ پکڑے جانے سے بچ جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معاملہ ایک فرد کی بدعنوانی سے نکل کر ادارہ جاتی ناکامی کا سوال بن جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق، سوالات کی مبینہ زنجیر MPSC کے اندر سے شروع ہو کر کوچنگ کلاس تک پہنچی اور پھر امیدوار کے خاندان تک گئی۔ سوال یہ ہے کہ ایک حساس سرکاری امتحان کے سوالات ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتے رہے اور کسی مرحلے پر حفاظتی نظام نے خطرے کی گھنٹی کیوں نہیں بجائی؟ اگر ہر سطح پر رسائی کا ریکارڈ موجود تھا تو مبینہ لیک اتنی دور تک کیسے پہنچا؟ اور اگر رسائی کا کوئی مؤثر ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا تو پھر امتحانی نظام کی سیکیورٹی کس بنیاد پر قائم تھی؟ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب محض چند گرفتاریوں سے نہیں مل سکتے۔
اس معاملے میں ایک اور اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پولیس نے MPSC کے ایک اہلکار سے منسوب لیپ ٹاپ نوی ممبئی کی ایک کھاڑی سے برآمد کیا۔ پولیس کے مطابق، یہ وہی لیپ ٹاپ ہو سکتا ہے جس میں 294 سوالات اور ان کے اختیارات درج کیے گئے تھے اور جسے مبینہ طور پر ثبوت مٹانے کی کوشش میں توڑ کر پانی میں پھینک دیا گیا تھا۔ اب سائبر فرانزک ماہرین اس میں سے مٹایا گیا ڈیٹا اور دیگر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر اس ڈیوائس سے فائلیں، وقت کا ریکارڈ، ڈیجیٹل سرگرمی یا دیگر قابلِ اعتماد شواہد حاصل ہو جاتے ہیں تو تحقیقات کے لیے یہ انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
اس اسکینڈل کا ایک غیر معمولی پہلو یہ بھی ہے کہ مبینہ طور پر شکایت کنندہ شخص خود اس معاملے کا ایک کردار تھا۔ تحقیقات کے مطابق، امیدوار رتوجا پاٹل نے مبینہ طور پر سوالات اپنے سابق بوائے فرینڈ گورو پاٹل کے ساتھ شیئر کیے تھے۔ بعد میں دونوں کے تعلقات خراب ہوئے اور گورو کی جانب سے MPSC کو شکایت بھیجی گئی۔ بعد ازاں اس نے شکایت واپس لینے کی کوشش کی لیکن تب تک معاملہ کمیشن اور پولیس کی نگاہ میں آ چکا تھا۔
یہاں ایک تلخ سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ذاتی تعلقات خراب نہ ہوتے تو کیا یہ مبینہ پیپر لیک سامنے آتا؟ اس سوال کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں، لیکن یہ واقعہ ہمارے امتحانی نظام کی ایک بڑی کمزوری ضرور ظاہر کرتا ہے۔ کسی حساس امتحان کی نگرانی کا انحصار اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ کسی مبینہ شریکِ جرم کا اپنے ساتھی سے جھگڑا ہو جائے اور راز افشا ہو جائے۔ ایک مضبوط نظام میں آڈٹ، نگرانی، ڈیجیٹل ریکارڈ اور داخلی احتساب کا ایسا مؤثر انتظام ہونا چاہیے جو خود مشکوک سرگرمیوں کا سراغ لگا سکے۔اس معاملے میں اب تک سات افراد کی گرفتاری کی اطلاع ہے، جن میں MPSC کے تین اہلکار، ایک کوچنگ کلاس کا ڈائریکٹر، امیدوار کا باپ، اس کا سابق بوائے فرینڈ اور خود امیدوار شامل ہے۔ ایک اور شخص، مایور ٹھاکرے کی تلاش جاری ہے۔ لیکن گرفتاری کسی مقدمے کا اختتام نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ سوالات تک غیر مجاز رسائی کس سطح پر ہوئی، کس نے کس کو مواد پہنچایا، مالی لین دین کہاں اور کن افراد کے درمیان ہوا، اور کیا یہ معاملہ صرف اسی امتحان تک محدود تھا یا ماضی کے دیگر MPSC امتحانات تک بھی اس کے اثرات پہنچتے ہیں؟ پولیس اس امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ مبینہ کوچنگ نیٹ ورک نے ماضی کے دیگر امتحانات میں بھی اسی طرح کا کوئی کردار ادا کیا تھا۔
رقم کے معاملے میں بھی میڈیا رپورٹس میں مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات میں امیدوار کے والد کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کی مبینہ ادائیگی اور تقریباً بارہ لاکھ روپے کے مجموعی مالی لین دین کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ ایک WhatsApp چیٹ میں پچاس لاکھ روپے ادا کیے جانے کا دعویٰ بھی رپورٹ ہوا ہے۔ لیکن صحافت کا تقاضا یہی ہے کہ ان اعداد کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ جب تک پولیس یا عدالت کسی رقم کی حتمی تصدیق نہیں کرتی، انہیں تحقیقات میں سامنے آنے والے الزامات یا دعووں کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح گرفتار کیے گئے تمام افراد اس وقت ملزم ہیں، مجرم نہیں؛ جرم ثابت کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔
اس معاملے نے MPSC کی انتظامی ذمہ داری اور سیاسی جواب دہی کا سوال بھی پیدا کر دیا ہے۔ MPSC کے چیئرمین وویک بھیمانور کا کہنا ہے کہ مبینہ پیپر لیک جنوری 2026 میں ہوا، جبکہ انہوں نے 18؍ فروری کو چیئرمین کا حلف لیا اور 3؍ مارچ کو عہدہ سنبھالا۔ ان کا مؤقف ہے کہ واقعہ ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے کا ہے۔ دوسری جانب این سی پی-ایس پی کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر جنوری میں پیپر لیک ہو گیا تھا تو 22؍ مارچ کو امتحان کیوں لیا گیا؟
اس سیاسی تنازع کو بھی جذبات سے ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی ادارے کی ذمہ داری صرف اس افسر کی مدتِ کار سے متعین نہیں ہوتی جو واقعے کے وقت اس عہدے پر موجود ہو۔ اگر واقعی جنوری میں کوئی حساس مواد غیر قانونی طور پر باہر گیا تھا تو بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کا پتہ کب چلا؟ اگر مارچ تک کسی کو معلوم نہیں تھا تو حفاظتی نظام کہاں ناکام ہوا؟ اور اگر کسی مرحلے پر شبہ پیدا ہو گیا تھا تو امتحان کیوں جاری رکھا گیا؟ ان سوالات کے جوابات کسی ایک فرد کے دفاع یا استعفے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
اس اسکینڈل کا سب سے بڑا نقصان ان تقریباً 40 ہزار امیدواروں کو ہوا ہے جن کا اس مبینہ کھیل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے مہینوں کی تیاری کی، امتحان دیا، نتیجے کا انتظار کیا، سینکڑوں امیدوار انٹرویو تک پہنچے اور پھر پوری بھرتی منسوخ کر دی گئی۔ ان امیدواروں کے لیے یہ محض ایک امتحان منسوخ ہونے کی خبر نہیں بلکہ ان کی محنت، وقت اور مستقبل پر پڑنے والا ایک بڑا اثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے معاملے کو صرف چند افراد کی مبینہ بدعنوانی یا گرفتاریوں تک محدود کرکے دیکھنا کافی نہیں ہوگا؛ اصل ضرورت اس نظام کی تہہ تک پہنچنے کی ہے جس نے ایک حساس سرکاری امتحان کے سوالنامے کو مبینہ طور پر غیر مجاز ہاتھوں تک پہنچنے کا موقع دیا۔ MPSC نے دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے اور پہلے درخواست دینے والے امیدواروں کو نہ دوبارہ درخواست دینی ہوگی اور نہ ہی اضافی فیس ادا کرنی ہوگی۔ یہ فیصلہ ضروری ہے، لیکن کیا صرف اتنا کافی ہے؟ شاید نہیں۔ کیونکہ امیدواروں کا نقصان صرف امتحانی فیس تک محدود نہیں ہے۔ بہت سے امیدواروں نے اپنی زندگی کے قیمتی مہینے اس امتحان کی تیاری میں صرف کیے، کچھ امیدوار عمر کی مقررہ حد کے اندر اپنی آخری کوشش کے طور پر اس امتحان میں شریک ہوئے تھے، جبکہ بعض نے ممکنہ طور پر دوسری ملازمتوں یا مواقع کو بھی نظر انداز کیا ہوگا۔ ایسے میں صرف ’’دوبارہ امتحان‘‘ کا اعلان امیدواروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ملازمت کے امتحانات میں نوجوان اپنی محنت کے ساتھ ایک بنیادی اعتماد بھی لے کر امتحانی مرکز پہنچتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ امتحان کا پرچہ ان کی محنت سے پہلے کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہوگا، یہ کہ میرٹ کا فیصلہ امتحانی ہال میں ہوگا، نہ کہ کسی بند کمرے میں ہونے والے مبینہ مالی لین دین سے؟ جب یہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو نقصان صرف ایک بھرتی کا نہیں ہوتا بلکہ ’’میرٹ‘‘ کے پورے تصور کو دھکا پہنچتا ہے۔ مہاراشٹر میں لاکھوں نوجوان برسوں سے مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ کوچنگ، کتابوں، سفر، رہائش اور دیگر ضروریات پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ ان کی امید یہ ہوتی ہے کہ ریاستی نظام بالآخر ان کی قابلیت اور محنت کو تسلیم کرے گا۔ اگر انہیں یہ محسوس ہونے لگے کہ محنت سے زیادہ پیسہ، تعلقات یا مبینہ طور پر پہلے سے دستیاب سوالنامہ کامیابی کا راستہ بن سکتا ہے تو اس سے نوجوانوں میں صرف مایوسی ہی پیدا نہیں ہوگی بلکہ پورے نظام کے بارے میں بداعتمادی بھی بڑھ سکتی ہے۔
اسی لیے MPSC کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج صرف دوبارہ امتحان کرانا نہیں بلکہ امتحانی نظام کی ساکھ دوبارہ قائم کرنا ہے۔ سوالنامہ تیار کرنے سے لے کر امتحان شروع ہونے تک ہر مرحلے پر رسائی کا مکمل اور ایسا ریکارڈ ہونا چاہیے جس میں بعد میں ردوبدل نہ کیا جا سکے۔ کسی ایک افسر کو مکمل سوالاتی مواد تک غیر ضروری رسائی نہیں ہونی چاہیے۔ سوالات کو ذاتی یا غیر مجاز ڈیوائس میں منتقل کرنے کا امکان ختم کیا جانا چاہیے۔ ہر پرنٹ، منتقلی اور رسائی کا ڈیجیٹل اور تحریری ریکارڈ موجود ہونا چاہیے۔ امتحان سے پہلے کسی مشتبہ لیک کی اطلاع ملنے پر فوری آزادانہ تحقیقات اور ضرورت پڑنے پر امتحان ملتوی کرنے کا واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ امتحان کے بعد غیر معمولی نتائج یا مشکوک کارکردگی کی فرانزک یعنی سائنسی جانچ بھی نظام کا مستقل حصہ بننی چاہیے۔سب سے بڑھ کر ایسے افسران اور ملازمین کے لیے مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا نظام ہونا چاہیے جنہیں سوالنامے تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ان افراد کو تحفظ بھی ملنا چاہیے جو ادارے کے اندر ہونے والی بے ضابطگیوں کی اطلاع دیتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی ادارے کی اصل مضبوطی صرف اس بات میں نہیں ہوتی کہ وہ جرم کے بعد کتنے لوگوں کو گرفتار کرتا ہے، بلکہ اس میں ہوتی ہے کہ وہ جرم ہونے سے پہلے کتنی مضبوط حفاظتی دیواریں کھڑی کرتا ہے۔ MPSC ڈرگ انسپکٹر امتحان کا نیا پرچہ تیار ہو جائے گا، نئی تاریخ مقرر ہوگی اور امیدوار دوبارہ امتحانی مراکز میں پہنچیں گے۔ لیکن اس مرتبہ صرف امیدواروں کا امتحان نہیں ہوگا، اصل امتحان MPSC کا ہوگا۔ امیدوار دیکھیں گے کہ کیا سوالنامہ واقعی محفوظ ہے، کیا میرٹ واقعی محفوظ ہے اور کیا کمیشن نے ماضی کی خامیوں سے کوئی سبق سیکھا ہے۔اس پورے معاملے میں محبت، رنجش، WhatsApp چیٹس، رقم، گرفتاریاں اور کھاڑی سے برآمد ہونے والا لیپ ٹاپ بلاشبہ کہانی کے اہم کردار ہیں، لیکن ان سب کے پیچھے چھپا بنیادی سوال اس سے کہیں بڑا ہے: ایک ریاستی مسابقتی امتحان کا سوالنامہ آخر اس مقام تک کیسے پہنچا جہاں ایک امیدوار کو امتحان سے دو دن پہلے اس سے مبینہ طور پر فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا؟
اگر تحقیقات میں سامنے آنے والے الزامات عدالت میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف چند افراد کی بدعنوانی نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسے نظام کی ناکامی بھی ہوگی جس پر لاکھوں نوجوان بھروسا کرتے ہیں۔ اور اگر الزامات کا کوئی حصہ غلط ثابت ہوتا ہے تو وہ بھی اتنا ہی اہم ہوگا، کیونکہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ کسی شخص کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے مجرم نہ بنایا جائے۔لیکن ایک حقیقت اس پورے واقعے سے بہرحال سامنے آچکی ہے: امتحان منسوخ کرکے دوبارہ لیا جاسکتا ہے، مگر ٹوٹا ہوا اعتماد صرف نئے پرچے سے بحال نہیں ہوتا۔ اسی لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ پیپر کس نے لیک کیا؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا نظام کیوں موجود تھا جس میں پیپر لیک ہوسکا؟‘‘ اور جب تک اس سوال کا شفاف، دستاویزی اور قابل اعتماد جواب نہیں ملتا، MPSC کا یہ واقعہ مہاراشٹر کے مسابقتی امتحانی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنا رہے گا۔ یہ واقعہ نوجوانوں کو بار بار یہ سوچنے پر مجبور کرے گا کہ آیا سرکاری ملازمت تک پہنچنے کا راستہ واقعی محنت اور میرٹ سے گزرتا ہے یا نظام کے اندر کوئی ایسا دروازہ بھی موجود ہے جو عام امیدوار کو دکھائی نہیں دیتا؟
مہاراشٹر میں ایم پی ایس سی کے ایک اور پیپرلیک معاملہ کا انکشاف

294 میں سے 77 سوالات مشترک، 40 ہزار امیدوار متاثر؛ شفافیت پر سنگین سوالات

