الکٹورل بانڈس سے ووٹر لسٹ کی صفائی تک: انتخابی دھاندلی کے نئے انداز
انتخابات میں شکست و فتح کسی بھی جمہوری نظام کا قدرتی حصہ ہے۔ 4؍ مئی 2026 کو بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آئے اور غیر متوقع طور پر بی جے پی دو سو سے زائد نشستیں حاصل کر کے پہلی مرتبہ اقتدار میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی، اس کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کے پندر سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا مگر اگلے دو مہینوں میں بنگال کی سیاست میں جو پیش رفت ہوئی وہ بھارتی جمہوریت کے لیے انتہائی حیران کن تھی۔ ممتا بنرجی، جن کی شخصیت خود ایک مقبول ترین ووٹ بینک کا برانڈ تھی، ان کے منتخب ارکانِ اسمبلی کا ایک بڑا گروپ جس میں ساٹھ سے زائد اراکین شامل تھے، ممتا بنرجی کی بلائی گئی میٹنگ میں شریک نہیں ہوا۔ اس گروپ نے اپنا الگ دھڑا بنانے کا اعلان کر دیا اور بنگال اسمبلی کے اسپیکر نے اسے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کا درجہ دیتے ہوئے اس کے ایک رہنما کو قائدِ حزبِ اختلاف تسلیم کر لیا۔ یہ معاملہ اس وقت کلکتہ ہائی کورٹ میں زیرِ غور ہے۔
دوسری طرف ترنمول کانگریس کے اٹھائیس اراکینِ پارلیمنٹ میں سے بیس اراکین کے ایک گروپ نے ممتا بنرجی کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ایک ایسی غیر معروف اور گمنام سیاسی جماعت—این سی پی آئی (NCPI)—میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جس نے نہ کبھی لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور نہ ہی اسمبلی انتخابات میں۔ اس نئی جماعت میں شامل ہونے سے قبل ان رہنماؤں کی ملاقات بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے ہوئی تھی، جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔ ایک طرف جہاں ترنمول کانگریس کے اراکینِ اسمبلی کے بڑے دھڑے نے خود کو ’اصل ترنمول کانگریس‘ قرار دے کر ممتا بنرجی کے خلاف محاذ کھولا، وہیں دوسری طرف اراکینِ پارلیمنٹ نے ’اصل یا نقلی ترنمول‘ کی بحث میں الجھے بغیر ایک بالکل غیر فعال اور گمنام جماعت کا رخ کیا۔ یہاں تک کہ اس غیر معروف پارٹی کی اپنی قیادت کو بھی یہ خبر نہیں تھی کہ بیس اراکینِ پارلیمنٹ ان کی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ اگرچہ کہ بعد میں انہیں راضی کر لیا گیا۔ ان اراکین کا معاملہ بھی اس وقت سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔
بھارت کی سیاست میں سیاسی جماعتوں میں بغاوت اور تقسیم کی تاریخ پرانی ہے اور گزشتہ چند سالوں میں جس طرح پارٹی کے بانیوں سے ہی پوری پارٹی چھیننے کا رواج شروع ہوا ہے وہ بذاتِ خود تشویشناک تھا۔ مگر ترنمول کانگریس کی یہ حالیہ تقسیم بھارتی سیاست کا بد ترین اور بے مثال لمحہ ہے۔ ایک ہی پارٹی کے باغی اراکینِ اسمبلی بی جے پی کے خلاف اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کرتے ہیں، جبکہ باغی اراکینِ پارلیمنٹ مرکز میں این ڈی اے (NDA) کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ترنمول کانگریس کی اس سیاسی پیش رفت کو بی بی سی (BBC) کی اس تازہ رپورٹ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے جس میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی کانگریس سمیت قومی جماعتوں کے مجموعی فنڈز کے مقابلے میں چھ ایسی غیر فعال اور گمنام جماعتوں نے کہیں زیادہ چندہ حاصل کیا جن کا کوئی سیاسی وجود ہی نہیں۔ اس طرح تو تصویر بالکل صاف ہو جاتی ہے اور یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ بھارتی جمہوریت کے اندرونِ خانہ کیا کھیل جاری ہے اور اقوامِ متحدہ نیز، دیگر بین الاقوامی ادارے بھارت میں جمہوریت کے مستقبل کو لے کر کیوں اس قدر فکر مند ہیں اور یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں جمہوریت مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔
نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کمیٹی (CERD) نے 2007 کے بعد بھارت کے اپنے پہلے جائزے میں کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والی انتظامیہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی خلاف ورزیوں کی رپورٹوں پر شدید تشویش میں مبتلا ہے ’’۔ کمیٹی نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی توسیعی نظرِ ثانی (Special Intensive Revision) کے تحت بڑی تعداد میں ووٹروں —بالخصوص مسلمانوں —کے نام خارج کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت بھارتی جمہوریت کے عمل سے ایک بڑے طبقے کو باہر کیا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی CERD کی یہ تنقید سویڈن کی یونیورسٹی آف گوتھنبرگ (University of Gothenburg) کے ’ورائٹیز آف ڈیموکریسی‘ (V-Dem) انسٹیٹیوٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مشاہدات سے بھی میل کھاتی ہے۔ یہ انسٹیٹیوٹ جمہوریت کے تصور کی پیمائش کے لیے ایک کثیر جہتی طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ بھارت ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو اپنے جمہوری اداروں کے منظم خاتمے کے ساتھ آہستہ آہستہ ’’انتخابی آمریت‘‘ (Autocratising) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کی عکاسی انسٹیٹیوٹ کے ’الیکٹورل ڈیموکریسی انڈیکس‘ میں ہوتی ہے۔ اگرچہ 2009 کے بعد سے بھارت کی درجہ بندی میں تدریجی کمی آئی ہے لیکن تازہ ترین انڈیکس اسکور 1975 کی ایمرجنسی کے بعد کا سب سے کم ترین اسکور ہے۔
ویسے تو V-Dem نے بھارت کو 2018 میں ہی ’’انتخابی آمریت‘‘ (Electoral Autocracy) والے ممالک میں درج کر دیا تھا لیکن اپنی حالیہ رپورٹ میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت دنیا میں جمہوریت کو ختم یا کمزور کرنے والے بدترین ممالک میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ 2025 کی رپورٹ کے مطابق، بھارت 179 ممالک میں ’لبرل ڈیموکریسی انڈیکس‘ پر سوویں نمبر پر اور ’الیکٹورل ڈیموکریسی انڈیکس‘ پر 106ویں نمبر پر آ چکا ہے، جو ایمرجنسی کے بعد کی پست ترین سطح ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے: "ہندوستان میں آمریت کا عمل سست لیکن منظم طریقے سے جمہوری اداروں کو لوکھلا کر رہا ہے، جبکہ حکم راں ہندو قوم پرست پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔‘
بھارت میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض روایتی انتخابی دھاندلی نہیں ہے بلکہ یہ ’کارپوریٹ-ہندوتوا-پارٹی سٹیٹ‘ (Corporate-Hindutva Party State) کا ایک ایسا خطرناک سنگم ہے جو جمہوریت کی اصل روح—یعنی آزادانہ انتخاب، شہری آزادی اور اقلیتوں کے مساوی حقوق—کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اگرچہ بھارتی حکومت ہمیشہ کی طرح ان بین الاقوامی رپورٹس کو لغو اور یکطرفہ قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جن خدشات اور حقائق کا اظہار عالمی سطح پر ہو رہا ہے کیا وہ ہماری داخلی سطح پر موجود نہیں ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) واقعی ایک خود مختار اور آزادانہ ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے؟ وہ کمیشن جس کا بنیادی آئینی فرض آزادانہ و منصفانہ انتخابات کرانا تھا، کیا اس وقت اپنے طرزِ عمل اور طریقہ کار کی وجہ سے خود شدید سوالات کی زد میں نہیں ہے؟ اپوزیشن جماعتیں کھلے عام الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں اور اس مایوس کن صورتِ حال کا ذمہ دار کافی حد تک خود الیکشن کمیشن کا رویہ ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی غیر فعال، نام نہاد یا غیر تسلیم شدہ (Inoperative/Unrecognized) سیاسی جماعتوں کو، جو نہ کبھی الیکشن لڑتی ہیں اور نہ جن کا کوئی عوامی وجود ہے، اربوں روپے کا چندہ اور الیکٹورل بانڈز وصول کرنے کی اجازت کیسے ملی؟ یہ صرف چندہ خوری نہیں بلکہ کارپوریٹ فنڈز کو سفید کرنے (Tax Evasion & Money Laundering) اور پردے کے پیچھے سے مخصوص سیاسی طاقتوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے کا ایک منظم طریقہ ہے۔ جب ایسی شیل پارٹیوں کے کھاتوں کے ذریعے اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے اور آئینی و تحقیقاتی ادارے آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں تو انتخابات میں تمام فریقین کے لیے ’’برابر کے موقع‘‘ (Level Playing Field) کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے فروری 2024 میں الیکٹورل بانڈز اسکیم کو غیر آئینی قرار دیا۔ یہ بانڈز 2018 میں متعارف کرائے گئے تھے اور بظاہر سیاسی فنڈنگ میں شفافیت لانے کا نام دیا گیا تھا لیکن اس کی قانونی باریکیاں دراصل ”گمنام بدعنوانی“ (Anonymous Corruption) کو تحفظ دینے کا ذریعہ بنیں۔ جیسا کہ گمنام اور غیر فعال سیاسی جماعتوں کے معاملے میں سامنے آیا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد جو ڈیٹا ظاہر ہوا، اس نے ثابت کر دیا کہ سب سے بڑی پارٹی کو سب سے بڑا کارپوریٹ چندہ ملا۔ ناقدین بجا طور پر کہتے ہیں کہ یہ چندہ نہیں بلکہ ایک سرمایہ کاری ہے، جس کا ریٹرن پالیسیوں میں ترمیم کی شکل میں ملتا ہے۔
آج ہوائی اڈے، بندرگاہیں، بجلی، سیمنٹ اور میڈیا—سب کچھ چند بڑے صنعتی گھرانوں کے ہاتھ میں ہے اور معاشی طاقت کا ارتکاز بڑھ رہا ہے۔ جب معیشت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے تو میڈیا اور اجتماعی بیانیہ بھی وہیں جھک جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کمپنیوں کے لیے منافع کی حد (سابقہ حد: 7.5 فیصد خالص منافع) کی شرط کو ختم کر دیا گیا جس نے شیل کمپنیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن کارپوریٹ کمپنیوں پر ای ڈی (ED) سی بی آئی (CBI) اور انکم ٹیکس کے چھاپے پڑے، ان میں سے متعدد نے ان چھاپوں کے فوراً بعد حاکم جماعت کو اربوں روپے کے الیکٹورل بانڈز دیے —جو قانون کے ذریعے ”بھتہ خوری“ اور پالیسیوں کی خریداری (Policy Capture) کا واضح ثبوت ہے۔
معروف سیاسی مفکر پرتاپ بھانو مہتا کے مطابق، ہندوتوا کا سیاسی منصوبہ ”معلومات کے نظام“ (Information Order) پر مکمل کنٹرول قائم کیے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا۔ بھارت میں میڈیا کی آزادی جس خوفناک رفتار سے زوال پذیر ہوئی ہے، اس کی عالمی سطح پر کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ملک کا اہم براڈکاسٹ اور پرنٹ میڈیا اب چند ایسے صنعتی گھرانوں کے ہاتھ میں ہے جو اقتدار کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ آزاد صحافت کی گنجائش کو مالی دباؤ، اشتہارات کی بندش اور خریدارانہ تسلط کے ذریعے کچل دیا گیا ہے۔ ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (RSF) کی رپورٹ کے مطابق بھارت ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نچلی ترین سطح (180 ممالک میں 150 سے 160 کے درمیان) پر آ چکا ہے۔ سڈیشن (بغاوت) کے قوانین، یو اے پی اے (UAPA) اور آئی ٹی رولز کے تحت آزاد صحافیوں، یوٹیوبرز اور تنقیدی ڈیجیٹل پورٹلز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ حکومت کے موافق بیانیے کے سوا ہر سچی آواز کو دبا دیا جائے۔
ہندوتوا قوم پرستی اب محض ایک نظریاتی بیانیہ نہیں رہی بلکہ اس نے ریاست (Rajya) اور قوم (Rashtra) کی تمام حدود کو مٹا کر ریاستی طاقت کو اپنے متعصبانہ ایجنڈے کے لیے ہتھیار بنا لیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا، سی بی آئی اور ای ڈی کا استعمال اب نہ صرف اپوزیشن کو توڑنے اور باغی اراکین کو رام کرنے کے لیے ہو رہا ہے، بلکہ انتخابی قواعد و ضوابط کو اس ڈھنگ سے موڑا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کے لیے الیکشن لڑنا ممکن ہی نہ رہے۔
اس کی سب سے بھیانک مثال خصوصی اسپیشل نظرِ ثانی (Special Intensive Revision - SIR) جیسی انتظامی مشق ہے، اس کے ذریعے اقلیتوں (بالخصوص مسلمانوں) کو ووٹر لسٹوں سے خارج کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی کمیٹی (CERD) اور V-Dem انسٹیٹیوٹ نے اسے جمہوری اداروں کی منظم تباہی سے تعبیر کیا ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی اپنے ایک مضمون میں ووٹر فہرستوں کی اس ’ایس آئی آر‘ کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طنزاً لکھتے ہیں کہ جو کام دہائیوں کی آبادیاتی پالیسیاں نہ کر سکیں، وہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے ذریعے چند مہینوں میں کر دکھایا ہے یعنی ووٹر لسٹوں سے کروڑوں نام خارج کر کے آبادی کو کاغذوں میں کم کر دیا ہے۔
قریشی کے مطابق ایس آئی آر کے تحت اکیلے دہلی کے تقریباً 33 فیصد (48 لاکھ)، مہاراشٹر کے دو کروڑ اور کرناٹک کے ایک کروڑ سے زائد نام ڈرافٹ لسٹوں سے خارج کیے گئے اور ملک گیر سطح پر یہ تعداد تیرہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب الیکشن کمیشن کا عملہ سالانہ بنیادوں پر لسٹیں اپ ڈیٹ کرتا ہے تو اچانک اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کا غیر اہل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو پچھلے انتخابات کی فہرستیں سراسر ناقابلِ اعتماد تھیں یا موجودہ مشق شدید نقائص اور بدنیتی سے پُر ہے۔ وہ اس مشق کو آسام کے این آر سی سے تشبیہ دیتے ہیں جہاں سالہا سال کی محنت کے بعد انیس لاکھ لوگ باہر ہوئے تھے، لیکن اس سے ایک نیا سیاسی و انتظامی بحران پیدا ہو گیا تھا۔ ایس آئی آر بھی دستاویزی پیچیدگیوں کی وجہ سے عام شہریوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ کسی شہری کا گھر پر نہ ملنا یا پرانی دستاویزات کا فوری طور پر پیش نہ کر پانا اس کی شہریت یا ووٹ کے حق کو ختم نہیں کر سکتا۔ ریاست کا کام لوگوں کی سہولت کے لیے رجسٹر بنانا ہے، نہ کہ لوگوں کو ان رجسٹروں کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کرنا؟ ایس آئی آر کے اس پورے عمل کو ایک گھوٹالہ کہنا بالکل بجا ہے۔
اس گھوٹالے اور گہرے سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے ’انڈین ایکسپریس‘، ’دی رپورٹر کلیکٹیو‘ اور دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس نے انکشاف کیا ہے کہ اتراکھنڈ، اوڈیشا، جھاڑ کھنڈ، بنگال اور بہار میں بی جے پی کے کارکنان اور رہنما باقاعدہ طور پر فارم-7 کے ذریعے مسلم ووٹروں کے نام خارج کرنے کی ہزاروں درخواستیں دے رہے ہیں۔ الیکٹرز رجسٹریشن رولز 1960 کے تحت فارم-7 کا مقصد غلطیوں کی درستگی یا اعتراض کا حق دینا تھا، لیکن بی جے پی کارکنوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر یہ درخواستیں دینا ضابطے کی صریح خلاف ورزی اور اقلیتی ووٹروں کو ہدف بنا کر ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ خارج کیے جانے کے لیے نشان زد کیے گئے بہت سے ایسے لوگ تھے جن کے پاس تمام مطلوبہ دستاویزات موجود تھیں جو نسلوں سے ایک ہی گھر میں رہ رہے تھے، یا جن کے نام 2002 کی فہرستوں سے جڑے ہوئے تھے۔ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کا مقصد فہرستوں کو صاف کرنا نہیں بلکہ اقلیتوں کو ہراساں کرنا اور غیر محفوظ ووٹر کو رائے دہی کے حق سے محروم کرنا ہے۔
ملک گیر سطح پر تیرہ کروڑ ناموں کا اخراج اس بات کا غماز ہے کہ اس مشق نے ثبوت فراہم کرنے کا سارا بوجھ غریب اور عام ووٹر پر ڈال دیا ہے، ایسی دستاویزات کا مطالبہ کیا ہے جن تک رسائی ناممکن ہوتی ہے اور غیر حقیقی مہلتیں مقرر کر کے اس عمل کو خود ایک سزا بنا دیا ہے۔ بدقسمتی سے اس کی ذمہ داری نہ صرف موجودہ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر عائد ہوتی ہے بلکہ تمام تر احترام کے ساتھ سپریم کورٹ آف انڈیا پر بھی آتی ہے۔ عدالت نے اگرچہ بہار کے معاملے میں کچھ ریلیف دیا—جیسے آدھار کو قبول کرنے کی ہدایت—لیکن مجموعی طور پر عدالت نے اس عمل میں وہ سخت سوالات نہیں پوچھے جو ایک بحران کے وقت پوچھے جانے چاہئیں تھے۔ ماضی میں الیکشن کمیشن کی خود مختاری کی حفاظت کا عدالت کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، مگر اس بار ادارہ جاتی احترام نے ایک طرح کی غیر ضروری دستبرداری (Judicial Abdication) کی شکل اختیار کر لی ہے۔
مغربی بنگال جیسے حساس صوبے میں مائیکرو آبزروروں، جوڈیشل آفیسروں، اور 19 اپیلٹ ٹریبیونلوں کی تاخیر سے اور بے ضابطہ تعیناتی نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بنگال میں اپیل کا یہ عمل انتخابات ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور جن لوگوں کے نام خارج کیے گئے ہیں وہ اندھیرے میں ہیں کہ نہ جانے ان کا مستقبل کیا ہوگا—کیا یہ حراست ہوگی، ملک بدری، سرکاری مراعات سے محرومی، یا زندگی بھر کی طویل مقدمہ بازی؟
ووٹر لسٹوں کو اپ ڈیٹ کرنا ایک روایتی انتظامی عمل ہے لیکن تصحیح کو کبھی بھی شہریت کا خفیہ امتحان نہیں بننا چاہیے، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں ’’گھس پیٹھیے‘‘ کا سیاسی خوف عام ہو چکا ہے۔ ایس آئی آر آج یہی کچھ بن چکا ہے۔ ایک ایسی مشق جس کا مقصد ووٹر کی توثیق کرنا تھا اس نے ہر شہری بالخصوص اقلیتوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ الیکشن کمیشن اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کو خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا ہوگا کہ کیا وہ اس شدید خام برتاؤ اور جانبدارانہ عمل کو اپنے تاریخی ورثے پر ہمیشہ کے لیے ایک بدنما داغ بننے دیں گے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کے اس مشکل دور میں سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور عوام بیدار ہوں۔ اگر ووٹر کی بنیادی شناخت ہی مٹا دی جائے گی تو پھر انتخابی نتائج کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آمرانہ ہتھکنڈے وقتی طور پر تو طاقتور محسوس ہوتے ہیں مگر عوامی شعور اور آئین کی روح ان تمام حصاروں کو توڑ کر بالآخر اپنا راستہ بنا ہی لیتی ہے۔


