احوالِ وطنفرقہ واریت: ہندوؤں کی دکانوں پر بھگوا جھنڈا لگانے کے لیے بجرنگ دل کے اراکین کے خلاف ایف آئی آر درج
فرقہ واریت: ہندوؤں کی دکانوں پر بھگوا جھنڈا لگانے کے لیے بجرنگ دل کے اراکین کے خلاف ایف آئی آر درج
دعوت نیوز27 اپریل 2020
احوالِ وطنفرقہ واریت: ہندوؤں کی دکانوں پر بھگوا جھنڈا لگانے کے لیے بجرنگ دل کے اراکین کے خلاف ایف آئی آر درج
احوالِ وطنکچھ لوگوں کے اقدامات کی وجہ سے پوری برادری کو غلط قرار دینا درست نہیں: موہن بھاگوت
احوالِ وطنہندوستان میں کوویڈ 19 متاثرین کی تعداد بڑھ کر 27،892 ہوگئی، 872 ہلاکتیں
تازہ ترینمختصر مختصر: کورونا متاثرین کی تعداد 2600 سے زائد، رہائشی علاقوں میں دکانوں کو کھولنے کی اجازت، دیگر اہم خبریں
شمارہ 26 اپریل تا 2 مئی 2020 – ہفت روزہ دعوت
دیگر سوشل ایپس کی طرح انسٹاگرام بھی بذات خود نہ مفید ہے نہ ہی مضر، بلکہ یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس کا صحیح استعمال کرکے اسے اپنی دنیا و آخرت کے لیے مفید بناتا ہے یا غلط استعمال کرکے اسے اپنی اور دوسروں کی بربادی کا ذریعہ بناتا ہے
آزادی کا جذبہ اچھا ہے مگر اسی حد تک کہ اپنے کردار اور چال چلن پر حرف نہ آئے لیکن اگر آزادی یا بے پردگی سے اپنی آبرو خراب ہوتی ہے یا اپنا وقار گرتا ہے اور دین کو نقصان پہنچتا ہو تو ایسی آزادی کو دور سے سلام کرنا چاہیے۔
زیادہ تر مورخین اس بات کو مانتے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی میں خلافت تحریک اور اس کے نتیجے میں شروع ہوئے عدم تعاون تحریک کا سب سے اہم رول رہا ہے۔
ٹویٹر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم میں سب سے اہم ترین اور قابل توجہ میدان ہے جس کے ذریعے حکومتوں تک آواز پہنچائی جاتی ہے ایسے میں کسی خاص طبقہ کے لیے نفرت انگیز اور اس کے خلاف افواہوں کے گردش کرنے کے باوجود حکومت تک بات پہنچتی نہیں ہے یا پھر اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ بھی ایک سوال ہے۔
کویت کے عبدالرحمن النصار نے کویڈ 19 کے متاثرین کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا ’’کویت میں ہندوستانی برادری، کورونا کے اعدادوشمار میں سب سے اوپر ہے اور ملک کے بہترین ہسپتالوں میں زیر علاج ہے ۔کویت میں ، بیماروں کے مذاہب اور قومیتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔یہی دراصل انصاف ہے! !
زکوٰۃ کی اہمیت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہوگا کہ یہ اسلام کے اُن پانچ ستونوں میں سے ایک ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ قرآن کریم میں جس کثرت اور توارد کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا ساتھ ساتھ ذکر ہے کسی اور کا حکم اتنا نہیں ملتا۔ دل کو دہلا دینے والے عذاب کا ذکر بھی ہے۔
اگر آج ہم مسجد نہیں جا پا رہے ہیں تو اس محرومی پر رونے اور خوب گڑگڑانے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری بے حسی ہمیں سجدوں سے بھی محروم کر دے۔
’’زمینوں آسمانوں میں موجود ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘ کے حوالے سے کہا کہ اس آیت کے تناظر میں بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ موبائل بھی اللہ کی تسبیح کر رہا ہے اس لیے موبائل پر خراب چیزیں دیکھنا گناہ ہے ۔اسی طرح بچوں نے موبائل کا صحیح اور اچھا استعمال کرنا سیکھ لیا۔
ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ ایسی ٹسٹ کٹ تیار کی جائے جو آسان، سستی اور جلد نتیجہ دینے والی ہو چنانچہ یہ ٹسٹ کٹ صرف 15 منٹ میں نتیجہ دیتی ہے۔
پونے شہر کے مومن پورہ علاقے کے رہائشی عثمان شیخ نے اپنا گھر پسماندہ طبقات کی لڑکیوں کے اسکول کے لیے جوتی با پھلے کے حوالے کر دیا تھا، آج اس جگہ کو پھلے واڑہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پھلے واڑہ میں عثمان شیخ اور فاطمہ شیخ کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں یادگار تعمیر کی جائے، جوتی با پھلے کے یوم وفات پر سماجی تنظیموں کا مطالبہ ہے۔
احوالِ وطنہیلتھ انسپکٹر جے ایس ٹرنر کے مطابق اس فلو کا وائرس دبے پاؤں کسی چور کی طرح داخل ہوا تھا اور تیزی سے پھیل گیا تھا۔ اس انفلوئنزا کی وجہ سے قریب پونے دو کروڑ ہندوستانیوں کی موت ہوئی، جو عالمی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اس وقت ہندوستان نے اپنی آبادی کا چھ فیصدی حصہ اس بیماری میں کھو دیا۔
افواہوں کی بازگشت کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔نیزچند ایسے ناقدین کی ضرورت ہوتی ہے جو معاشرہ کے لیے نقصان دہ افواہوں کا نوٹس لیں کیونکہ بیشتر افواہیں خود ان گروہوں کے لیے مجروح کن ہوتی ہیں۔ جمہوریت پسند اور منتخب قائدین کو بھی اس سلسلے میں چوکس رہنا ہوگا اور ان افواہوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔
غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تبلیغی جماعت کے ذمہ داران خود آگے کیوں نہیں آئے؟\nتہذیب و ثقافت کا ثبوت دیں، احتیاطی تدابیر اختیار کریں، لاک ڈاؤن کا پاس و لحاظ رکھیں!
رمضان المبارک دراصل مالک حقیقی سے اپنے ربط وتعلق کو مستحکم کرنے اور عہد بندگی کو تازہ کرنے کا مہینہ ہے۔ امت کے حالات یقیناً بدلیں گے اگر وہ اس ماہ انقلاب کے پیام پر عامل ہو جائے۔ اس ضمن میں افرادِ امت کو انفرادی طور پر اور امت کے اداروں، جماعتوں، تنظیموں اور مدارس و جامعات کو اجتماعی طور پر اپنا احتساب کرنے اور ایک لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ امت کی سرخ روئی کا کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں ہے بلکہ اسے الٰہی ہدایات کی روشنی میں داعی امت کی صفات اپنے اندر پی
