تمام مضامین

تازہ ترین

کربلا کا پیغام: رسمی ما تم نہیں، زندہ شعور کی بیداری

کربلا ہمیں بتاتا ہے کہ شہادت شکست نہیں، بلکہ ایمان کی معراج ہے؛ حق کی حمایت میں تنہا کھڑا ہونا حسینی کردار ہے اور ہر دور میں، ظلم کے خلاف حسینی استقلال چراغِ راہ ہے۔حسینؓ اور اہلِ بیت کی قربانیاں صرف یاد اور ماتم کرنے کے لیے نہیں بلکہ زندہ شعور، استقامت اور مزاحمت کی روح کے طور پر اپنے وجود کا حصہ بنانے کی مستحق ہیں ۔

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

!شہادتِ حسینؓ :سیاسی معرکہ یا دین کا تقاضا

اسلامی معاشرے اور ریاست کے صحیح راستے پر چلنے کا انحصار اس بات پر تھاکہ لوگوں کے ضمیر اور ان کی زبانیں آزاد ہوں، وہ ہر غلط کام پر بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کہہ سکیں۔ خلافت راشدہؓ میں صرف یہی نہیں کہ لوگوں کا یہ حق پوری طرح محفوظ تھا، بلکہ خلفائے راشدینؓ اسے ان کافرض سمجھتے تھے اور اس فرض کے ادا کرنے میں ان کی ہمت افزائی کرتے تھے۔ ان کی مجلس شوریٰ کے ممبروں ہی کو نہیں ، قوم کے ہر شخص کو بولنے اور ٹوکنے اور خود خلیفہ سے باز پُرس کرنے کی مکمل آزادی تھی ، جس کے استعمال پر یہ ل

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

مکافاتِ عمل : فطرت کا غیر مرئی قانون

انسان دن میں کئی بار آئینے میں خود کو دیکھتا ہے، بال سنوارتا ہے، چہرے کے زاویے ناپتا ہے، مگر کاش وہ کبھی اپنے اعمال کے آئینے میں بھی جھانک کر دیکھے کہ وقت اس کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہا ہے۔زندگی کی پچیس یا تیس سال کی مدت بظاہر طویل لگتی ہے، لیکن حقیقت میں پلک جھپکتے گزر جاتی ہے، اور پھر وہ دن بھی آتا ہے جب انسان عمر کی اس ڈھلان پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے اگلا پڑاؤ یا تو اولڈ ایج ہوم ہوتا ہے یا سیدھا قبر کی تنہائی۔کیا یہ خیال کافی نہیں کہ انسان اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرے؟

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

ما بعد جنگ کے عالم گیر اثرات۔صرف ایرانی حملے سے 5کھرب روپے کا نقصان

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی محض وقتی وقفہ ہے نہ کہ دیرپا امن؟ کیونکہ نہ تو بنیادی سیاسی مسائل حل ہوئے ہیں نہ ہی ایران کی جوہری صلاحیت ختم ہوئی ہے۔ اسرائیل اقتصادی و سفارتی طور پر کمزور ہوا ہے، اور اب خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ معیشت، سیاست اور سفارت کاری کے میدان میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں

دعوت نیوز10 جولائی 2025
تازہ ترین

محمد مسلمؒ : ’دعوت‘ کا معمار، شعور کا پاسبان

محمد مسلمؒ صرف ایک صحافی نہ تھے؛ وہ صلح جو طبیعت، عملی مزاج اور فکری بلندی کے حسین امتزاج کی حامل شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت میں اردو کے باوقار صحافی اور تحریک کے باشعور کارکن کا ایسا توازن تھا جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ جماعت کی دیگر مصروفیات نے انہیں یکسوئی کے ساتھ تصنیف و تالیف کا وقت کم دیا، پھر بھی ان کی جو تحریریں منظر عام پر آئیں، وہ اس قدر مکمل اور مربوط ہوتی تھیں کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ قلم کو اپنا کُل وقت دے رہے ہوں۔

دعوت نیوز10 جولائی 2025