احوالِ وطنملک گیر لاک ڈاؤن: مرکز کا کہنا ہے کہ کاشتکاری، منڈیاں اور دیگر زرعی سرگرمیاں اس سے مستثنیٰ ہیں
حکومت نے کہا کہ یہ استثنیٰ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ بلا تعطل غذائی اجناس کی فراہمی ہو۔\r\n
دعوت نیوز29 مارچ 2020
احوالِ وطنحکومت نے کہا کہ یہ استثنیٰ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ بلا تعطل غذائی اجناس کی فراہمی ہو۔\r\n
احوالِ وطنمدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والا 39 سالہ نوجوان دہلی کے ایک ریسٹورنٹ کے لیے کام کرتا تھا، جو کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے بند ہوگیا۔
ایٹرنل فلیم فالس جھرنا (Eternal Flame Falls)
مسجد کی سماجی و تعلیمی خدمات کا ایک عملی نمونہ طلبا کااسٹیڈی سنٹر
لاک ڈاؤن کے معاشرے پر مفید اور مضر اثرات
ملک میں ’جنتا کرفیو‘ ، افراد ِ خاندان گھروں میں بند
بہ الفاظ دیگر ’’حقوق رکھنے کا حق‘‘ کو شہریت کے مسئلے میں اتفاق کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ایسا عہد حکومت جس میں شہریت کے خلاف پہلے سے کوئی مفروضہ موجود ہو، غیرملکیوں سے متعلق قانون ہم میں سے کمزور ترین افراد کو حقوق رکھنے کے اس حق سے بھی محروم کردیتا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کے ساتھ غیر مساوی انسانوں جیسا برتاؤ کرتا ہے۔
ہفت روزہ دعوتعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا کشن گنج سنٹر سیاست کا شکار
ہر خوشی اور غم میں مسلمانوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب ان کے جذبات نے بیرون ملک کے لیے اپنے لٹے پٹے اور لہولہان بھائیوں کو راحت پہونچانے کے لیے انسانی دوستی اور رحم دلی کے اس اقدام کی شکل اختیار کی ہے۔ اس حقیقت کی اخلاقی قدر و قیمت سے کسی بھی طرح صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ \r\nمحمد علی جوہر\r\nHL2\r\nیہ ’میڈیکل مشن‘ ہندوستان سے روانہ ہونے سے پہلے دہلی میں تھا۔ اس مشن کو الوداع کہنے کے لیے دہلی کے جامع مسجد سے لے کر ریلوے اسٹیشن تک 10 ہزار ہند
حفظان صحت کے اُصول نبویؐ ہدایات کی روشنی میں
ایک درباری کو مِلّی حق کا ساتھ دینے کی سزا!!\nوہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اَب بھی ہے!
انٹرنیٹ استعمال کرنے والے گوگل کے بغیر اب مشکل سے ہی رہ سکتے ہیں ۔ اپنی نت نئی مصنوعات یا سافٹ ویئرز کی سہولیات کی وجہ سے گوگل اپنے انٹرنیٹ صارفین میں بے حد مقبول ہے ۔ یہ مصنوعات یا سافٹ وئیرز نہ صرف نئے خیالات پر مبنی ہوتی ہیں بلکہ صارفین کی زندگی پر گہرا اثر بھی ڈالتی ہیں ۔
خدا کی ذات پر کامل یقین سے ہی مسائل کا حل ممکن
ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں 20 کروڑلوگ خالی پیٹ سوتے ہیں، اگر اللہ نے آپ کو ایک ٹھیک ٹھاک نوکری ، رہنے کے لیے گھر اور ایک عدد بائک عطا ء فرمائی ہے تو یہ بھی خوش رہنے اور شکر ادا کرنے کے لیے کافی ہے\nHL2\nآپ جس چیز پر توجہ زیادہ دیں گے وہ بڑھ جاتی ہیں آپ اپنی محرومیوں پر زیادہ توجہ دیں گے تو محرومیاں بڑھیںگی اسکے برعکس اگر آپ نعمتوں پر توجہ دیں گے تو نعمتیں بڑھیں گی۔
\" آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے\"
