خواتین کی معاشرتی صورتحال:اصلاح کیسے؟
خواتین کے مختلف مسائل کا باریکی سے جائزہ لے کر اس کی وجوہات کو جاننا اور ان کا حل پیش کرنا چاہیے۔ اسلامی شریعت کے تحت اگر مسلمان عمل کرنے لگیں تو بہت ساری معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔
دعوت نیوز28 مارچ 2020
خواتین کے مختلف مسائل کا باریکی سے جائزہ لے کر اس کی وجوہات کو جاننا اور ان کا حل پیش کرنا چاہیے۔ اسلامی شریعت کے تحت اگر مسلمان عمل کرنے لگیں تو بہت ساری معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔
اردو بک ریویو نے اردو زبان و ادب میں تاریخی دستاویز تیار کرنے کا جو کام پچیس برس قبل شروع کیا ،اُس سے اردو ادب کی عصری تاریخ مرتب کرنے میں یقینی طور سے مدد ملے گی ۔اب اگر اردو بک ریویو کی اشاعت کا یہ سلسلہ کسی وجہ سے منقطع ہوتا ہے تو یقین جانیے کہ یہ اردو دنیا کے لیے کسی سانحہ عظیم سے کم نہ ہوگا ۔
کورونا وائرس سے نہیں ڈیٹینشن کیمپ سے ڈر لگتا ہے!
کوروناسے بھارت کے پہلے جاں بحق محمدحسین صدیقی کی افسوسناک داستان
کرناٹک میں تعزیتی نشست ۔ رفقاء کا اظہارِ تعزیت
کورونا وائرس کے باعث اخلاقی اقدار کی واپسی نے عوام کو ان کے خالق سے ملا دیا ہے۔ اس نے نائٹ کلبوں، کوٹھوں اور جوئے خانوں کو بند کرادیا ہے۔ عرب ممالک نے شیشہ (تمباکو) پر پابندی عائد کر دی اور لوگوں کو مردہ اور حرام جانور کھانے سے روک دیا۔ یہ شرح سود میں کمی کا سبب بنا نیز فوجی اخراجات کا ایک تہائی حصہ صحت کی عامہ پر منتقل کر دیا (یہ بات مصر کے حوالے سے ہے)۔ اس سے آمروں کے اختیارات مجروح ہوئے۔ یہ حکام کی توجہ جیلوں اور قیدیوں کی جانب مبذول کر رہا ہے۔ اس نے انسانوں کو چھینک اور کھانسی کا نبوی ﷺطریق
دین اسلام جو کہ انسانیت کے لیے رحمت اور انسانی مصالح کا محافظ ہے،اس وبائی فضا میں لوگوں کے لیے کیا رہ نمائی فراہم کرتا ہے اور کیا ہدایات دیتا ہے اس سے عوام کو روشناس کریں۔ اس موقع پراگر ہم نے شریعتِ اسلامیہ کی زمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت کو دلائل سے ثابت نہیں کیا اور اپنی تنگ نظری پر اصرار کرتے رہے تو نعوذ بااللہ ہماری کم علمی اور تنگ نظری کوشریعت اسلامیہ کی ضیق وتنگی پر محمول کیا جائے گا۔
ملک کی تقسیم نے فرقہ پرستوں کا کام بڑا اسان بنا دیا۔ ملک کی تقسیم کے لیے بھارت میں مسلم لیگ (مسلمان) کو قصور وار قرار دے دیا گیا۔ اس پروپگنڈے کو پھیلانے میں سیکولر جماعت کانگریس آگے تھی کیونکہ اس سے اس کی کمیاں ڈھکی جا سکتی تھیں۔ یہ وہی گوشہ تھا جہاں سیکولر اور کمیونل کا فرق مٹ جاتا تھا۔ بعد کے دنوں میں سرکاری پروپگنڈے سے ان باتوں کو درسی نصابوں سے لے کر عوام کے ذہنوں تک پھیلا دیا گیا۔ مگر اس کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ رائے عامہ میں مسلمانوں کی شبیہ مسخ کر دی گئی اور آج تک ان کی ملک کے تئیں وفا
خواتین معاشرے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: رحمت النساء
• اجتماعی عبادت کا م نظر متاثر کن تھا ۔۔ کلاسیکرن \n• ہر ایک کا مقدر صرف چھ گز کی قبر ہے۔۔ \nطالب علم راکیش\n• مسلمانوں میں اتحاد بہت پسند آیا۔۔۔ جیا سوریہ \n• مسجد کے سامنے گزرتا تو دیکھنے کی خواہش ہوتی تھی۔۔آکاش \n• اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں \nدور ہوئیں ۔۔ ٹیچر روزیری\nHL 2\nنماز کی صف بندی کے دوران امیر و غریب کاایک ہی قطار میں کندھوں سے کندھا لگائے کھڑے ہونا بہت پسند آیا۔ مسلمانوں کی قبروںکا کچھ اور تصور تھا مثلاً ہر ایک شخص اور خاندان والوں کی مخصوص قبر یں ہوںگی اور ہر ای
خالد سیفی کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے!!
تنہا جسٹس گوگوئی نے عدلیہ جیسے اہم ادارے کو جو نقصان پہنچایا ہے اس سے پہلے شاید ہی کسی ایک فرد نے یہ کام کیا ہوگا۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی سربراہی کرتے ہوئے، گوگوئی نے ایودھیا، رافیل بدعنوانی اسکینڈل، آسام این آر سی جیسے انتہائی اہم اور فیصلہ کن مقدمات کا فیصلہ سنایا ہے۔ انہی کے فیصلوں نے سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خوفناک مثلث کا راستہ ہموار کیا۔ جموں وکشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ اور وہاں کے رہنماوں اور عوام کی قید بھی انہی کے فیصلے کا نتیجہ ہے۔
شہریت قانون کے خلاف صرف قراردادیں کافی نہیں
کوروناوائرس کامردم شماری اور این پی آر پر بھی اثر
اس وائرس کے تباہ کن اثر نے سرمایہ کاروں میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا سرمایہ واپس نکالنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ سرمایہ نکالنے کا یہ عمل ملک کے معاشی بحران کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس لیے حکومت اس وائرس سے نمٹنے کے لیے مناسب حکمت عملی اپنائے اور درآمد کے نئے قوانین وضع کرکے چین پر انحصار کم سے کم کرے۔
